Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
106 - 176
فان قلت فی الجواب عنھما ان العبرۃ فی الکثرۃ والقلۃ لا وان الوقوع وھذا کان قلیلا عندہ والمستشھد بہ کثیرا فافترقا اما الجریان فمعتبر بنفسہ لالحاظ فیہ لکثرۃ اوقلۃ وقت الوقوع فاذ اجری وجہہ وھو شیئ واحدفقد جری کلہ فلا یقاس علیہ طھارۃ الاعلی لاستقرارہ علی الکثرۃ فانھا غیر الجریان
اگر تم ان دونوں کی طرف سے جواب میں یہ کہو کہ کثرت وقلت میں اعتبار گرنے کے وقت کا ہے اور یہ گرتے وقت قلیل تھا اور جس پر استدلال کیا جارہا ہے وہ کثیر ہے تو دونوں میں فرق ہوگیا، اور جاری ہونا تو وہ بنفسہ معتبر ہے اس میں کثرت وقلت کا کوئی اعتبار نہیں، وقوع کے وقت میں، تو جب وہ جاری ہوا اسکی سطح سے حالانکہ وہ شیئ واحد ہے تو گویا کل جاری ہوا، تو اس پر اوپر والے کی طہارت کو قیاس کرنا درست نہ ہوگا کہ وہ کثرت پر مستقر ہے کیونکہ یہ جریان نہیں ہے۔
اقول اولا اذ احکمنا بطھارۃ الکل لاجل الجریان انقطع حکم وقت الوقوع فاذا وقف فکانما الاٰن وقع وھو حینئذ کثیر اذالعبرۃ للوجہ وما تحتہ تبعہ فما وقع الا فی الکثیر والفضل الاٰن بین الا علی والاسفل بالکثرۃ والقلۃ خروج عن حکم الواحدۃ وعلی ھذا یلزم تنجس الاسفل المستشھدبہ ایضا لان النجس الراسب لم یصل الیہ الاحین قلتہ ھف ۔
میں کہتا ہوں اولاً جب ہم نے کل کی طہارت کا حکم لگایا جاری ہونے کی وجہ سے تو گرنے کے وقت کا حکم منقطع ہوگیا، تو جب ٹھہرا تو گویا وہ ابھی گرا ہے اور اس وقت وہ کثیر ہے کیونکہ اعتبار سطح کا ہے، اور جو اس کے نیچے ہے وہ اُس کے تابع ہے توکثیر ہی میں واقع ہوا اور اعلیٰ اور اسفل میں اب کثرت وقلت کے اعتبار سے فرق کرنا وحدتِ حکم سے خروج ہوگا اور اس بنا پر نیچے والے کا نجس ہونا لازم آئیگا جس سے استشہاد بھی کیا گیا ہے کیونکہ نجاست راسبہ اس تک نہیں پہنچی ہے مگر قلت کے وقت یہ خلاف مفروض ہے۔
وثانیا لئن سلم فھذا مضر سیعود نافعا فان الماء الداخل حیث کان جاریا حتی الوصول الی المنتھی والصورۃ واحدۃ فقد جری الکل فانتفت النجاسۃ رأسا ان کانت غیر مرئیۃ وکذا لومرئیۃ وقد اخرجت فلا معنی لعودھا حین استقرارہ ولو علی القلۃ وانتقلت الی الاعلی الکثیر لو باقیۃ طافیۃ فلم یتنجس اذا استقر کثیرا وقد طھر ماتحتہ بالجریان فلا یبقی الا ما اذا کانت مرئیۃ باقیۃ راسبۃ وکلامھم مطلق حاو للصور قاطبۃ۔
اور ثانیاً اگر تسلیم کر لیا جائے تو یہ ہمارے لئے مضر ہے اور عنقریب نافع ہوجائیگا، کیونکہ داخل ہونے والا پانی جاری تھا یہاں تک کہ وہ اپنی انتہا کو پہنچا اور صورتِ واحدہ ہے تو کل جاری ہوگیا اور نجاست اگر غیر مرئیہ ہو اور اس طرح اگر مرئیہ نکال دی گئی ہو تو سرے سے ختم ہوجائیگی تو اس کے لوٹنے کے کوئی معنی نہیں جب کہ پانی ٹھہرا ہوا ہو اگرچہ کم ہی ہو اور وہ نجاست اوپر والے کثیر پانی کی طرف منتقل ہوگئی، اگرچہ وہ اوپر تیر رہی ہو، تو جب کثیر پانی ٹھہرا ہو تو وہ ناپاک نہ ہوگا اور اس کا نچلا حصہ پانی کے جاری ہونے کی وجہ سے پاک ہوگیا تو باقی نہ رہے گا مگر جو مرئی اور تہ میں باقی ہو اور ان کا کلام مطلق ہے اور تمام صورتوں کو شامل ہے۔ (ت(

ثالثا جواب چہارم میں عبارت(۲۸) فتح القدیر دربارہ حوضِ صغیر کہ بھرکر بھی ناپاک رہے گا اُسی عدم تسلیم جریان پر دال ور نہ نجاست غیر مرئیہ یا مرئیہ کہ نکال دی ضرور زائل ہوجاتی۔

رابعا تنبیہ جلیل میں منیہ(۲۹) ومحیط(۳۰) وحلیہ(۳۱) وخانیہ(۳۲) وہندیہ(۳۳) وذخیرہ(۳۴) کی عبارات ائمہ اجلہ علی سغدی(۳۵) ونصیر(۳۶) بن یحییٰ وخلف(۳۷) بن ایوب رحمہم اللہ تعالٰی کے ارشادات کہ ایک حوض سے دوسرے میں انتقال آب کے جریان ہونے کو اُن میں کچھ مسافت ہونا ضرور ورنہ اس میں سے نکل کر اُس کے جوف میں جاتے ہوئے اُس میں وضو کیا جائے تو وضو نہ ہوگا اگر بطن میں حرکت کو جریان مانتے تو جس وقت پانی اول سے دوم میں گر رہا اور یہاں سے منتہی تک بہ رہا ہے اُس میں وضو ضرور آبِ جاری میں وضو ہوتا بیچ میں فاصلہ مسافت کی ضرورت نہ ہوتی کما اشرنا الیہ ثمہ ان ۳۷ عبارتوں سے روشن کہ جمہور اس سیلان کو خود اُس آب داخل ہی کا جریان نہیں مانتے اور یہ اُنہیں وجوہ سے کہ بحث اول میں گزریں اشکال سے خالی نہیں۔اگر کہیے آبِ راکد کے کثیر وناقابل نجاست ہونے کے لئے صرف مساحت سطحِ آب یا طول وعرض دہ در دہ کافی نہیں بلکہ اتنا عمق(۱) بھی درکار ہے کہ اس میں سے پانی ہاتھ سے لیں تو زمین کھُل نہ جائے یہی صحیح ہے ہدایہ وغیرہا کتب کثیرہ اسی پر فتوٰی ہے ظہیرہ خلاصہ درایہ جوہرہ وغیرہا ولہٰذا(۲) فتاوی امام اجل قاضی خان پھر ہندیہ وغنیہ میں فرمایا: واللفظ لھا یعنی الفاظ غنیہ کے ہیں:
ان علا الماء من ثقب الجمد وانبسط علی وجہ الجمد وکان عشرا فی عشر فان کان بحیث لوغرف منہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد لم(عہ۱) یفسد بوقوع المفسد وان کان ینحسر اوکان دون عشر فی عشر یفسد ۱؎ بہ۔
جب پانی برف کے سوراخ سے اوپر چڑھے اور پھیل جائے برف کی سطح پر اور پانی دہ در دہ ہو اس طور پر کہ اگر کسی نے چُلّو بھر کر اس سے پانی لیا اور اس کے نیچے برف نہ کھلی تو مفسد کے گرنے سے فاسد نہ ہوگا اور اگر نیچے والی برف کھل گئی یا وہ پانی دہ در دہ نہ تھا تو وہ پانی فاسد ہوجائیگا۔ (ت(
 (عہ۱) ولفظ الاولین جاز فیہ الوضوء والافلا اھ فلیتنبہ فستأتیک فائدتہ فی الرسالۃ الاٰتیۃ ان شاء اللّٰہ تعالی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(

پہلی دو کتابوں کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں وضو جائز ہے ورنہ نہیں اھ خبردار اس کا فائدہ آئندہ رسالہ میں آئے گا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت(
 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    بحث عشر فی عشر    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۰۰)
Flag Counter