Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
105 - 176
فانھما اذا جریا مختلطین کان بعض الجاری طاھرا وبعضہ نجسا فیطھر الاول الاٰخر بخلاف مااذا لم یجر النجس وقد یمکن ان یستأنس للثانی بما قدمنا فی الاصل الرابع عن الحلیۃ عن المحیط الرضوی ان الماء الجاری لما اتصل بہ صار فی الحکم جاریا ۳؎ اھ۔ لکنہ ذکرہ فی اشتراط الخروج من الجانب الاٰخر وان قل فالمراد الاتصال فی الجریان ومعلوم ان الجاری بعضہ لاکل مافیہ ویحکم بطھارۃ الکل فلذا قال صارفی الحکم جاریا فافھم۔
کیونکہ وہ دونوں جب مل کر بہیں تو بعض جاری پاک اور بعض نجس ہوگا تو پہلا دُوسرے کو پاک کر دیگا بخلاف اس صورت کے جبکہ نجس جاری نہ ہو اور دوسرے کیلئے جو ہم نے چوتھی اصل میں حلیہ سے محیط رضوی سے نقل کیا ہے استدلال ہوسکتا ہے کہ جب جاری پانی اس میں مل گیا تو جاری کے حکم میں ہوگا اھ لیکن اس کا تذکرہ انہوں نے وہاں کیا ہے جہاں دوسری جانب سے نکل جانے کی شرط لگائی ہے خواہ کم ہی ہو تو مراد جاری ہونے میں اتصال ہے اور یہ معلوم ہے کہ جاری بعض ہی ہے کل نہیں ہے۔ اور حکم کل کی طہارت کا لگایا جائیگا اور اسی لئے فرمایا کہ یہ جاری کے حکم میں ہوگیا۔ (ت(
 (۳؎ حلیہ)
فقیر کے نزدیک منشاء اختلاف یہی ہے اُن بعض نے جبکہ دیکھا کہ نیا آنے والا پانی بہتا ہوا اس آب نجس سے ملا اس کی طہارت کا حکم دیا پھر اگر نجاست غیر مرئیہ ہے یا مرئیہ تھی اور نکال دی گئی جب تو ظاہر ہے کہ ان کے طور پر سب پانی پاک رہنا چاہئے اگرچہ حوض صغیر ہو کہ جاری میں کثیر کی شرط نہیں اور آب جاری جب نجاست غیر مرئیہ پر وارد ہو اُسے فنا کر دیتا ہے کما حققناہ فی الاصل العاشر (جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اصل عاشر میں کی ہے۔ ت) تو بعد وقوف اگرچہ محل قلیل میں ٹھہرا نجاست ہی معدوم ہے ہاں نجاست مرئیہ باقیہ میں ضرور کبر محل درکار کہ وقت وقوف بوجہ کثرت عود نجاست نہ ہوسکے اور جمہور نے یہ نظر فرمائی کہ آب داخل اگرچہ جاری ہو مگر آب نجس کو جاری نہ کیا کہ بطنِ حوض میں رُکا ہوا تھا اور اُس کا رُکنا ہی دلیل واضح تھا کہ اُسے آگے بڑھنے کو جگہ نہیں تو آب داخل اُسے آگے نہ بڑھائے گا بلکہ اوپر چڑھائیگا تو اُس کا اجرانہ ہوگا جو اُس کی طہارت کو درکار ہے مگر یہ کہ حوض بھر جائے اُس وقت تک تو سب ناپاک ہے اب جو اُبلے گا پاک ہوجائیگا کہ اب آگے بڑھنے اور منحدر میں اُترنے کو جگہ وسیع ہے اگر کہیے مانا کہ بطن حوض میں آب نجس کا اجرا نہ ہوگا مگر غسل یعنی دھونا تو ہوجائیگا کہ آب جاری بہتا ہوا آکر اُس کے تمام اجزا پر چھا گیا۔

اقول اولاً پانی کو دھونا شرع سے معہود نہیں مگر وہی طاہر سے ملا کر اُس کا اجرا۔

ثانیاً: غسل ہوگا تو فقط سطح بالائے آب نجس کا اور وہ کوئی جامد(۱) شیئ نہیں کہ ضرورۃً غسل سطح قائم مقام غسل کل ہو،
وھذہ فائدۃ استنبطھا الفقیر مما فی فتح القدیر فی بیان مذھب الصاحبین ان کانت(۲) الانفحۃ جامدۃ تطھر بالغسل ۱؎ اھ ای اذا اخذت من بطن جدی میت لتنجسہا عندھما بوعائھا المتنجس بالموت واستظھرہ فی مواھب الرحمٰن وذکر طہارتھا جامدۃ بالغسل کالفتح وعند الامام طاھرۃ لانہ لااثر للتنجس شرعا مادامت فی الباطن النجاسۃ فضلا عن غیرھا فتح وھو الراجح دروالانفحۃ اللبن فی بطن الجدی الراضع۔
یہ فائدہ خود فقیر نے جہاں صاحبین کا مذہب فتح القدیر میں بیان ہوا ہے میں نے مستنبط کیا ہے، اگر دُودھ خشک ہو تو دھونے سے پاک ہوجائیگا اھ یعنی مُردہ بکری کے بچّہ کے پیٹ سے نکالے گئے ہوں کیونکہ صاحبین کے نزدیک وہ ظرف کے ناپاک ہونے کی وجہ سے نجس ہوجائیں گے کیونکہ اس کا ظرف موت کی وجہ سے ناپاک ہوگیا، اور مواہب الرحمن میں اس پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خشک ہوں (یعنی دودھ جم جائے) تو دھونے سے پاک ہوجائیں گے، جیسا کہ فتح میں ہے اور امام صاحب کے نزدیک پاک ہیں کیونکہ جب باطن میں کوئی نجاست ہو تو شرعاً وہ نجاست نہیں چہ جائیکہ اور کوئی چیز ہو فتح، اور یہی راجح ہے در، اور انفحہ اس دُودھ کو کہتے ہیں جو بکری کے شیر خوار بچّے کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر    الماء الذی یجوزبہ الوضوء    سکھّر    ۱/۸۴)
ثالثاً علی التسلیم (غَسل (دھونا) اگر تسلیم کر بھی لیا جائے تو۔ ت) غسل(۱) کیلئے تثلیث درکار ہوتی یا ذہاب نجاست پر غلبہ ظن۔ بہرحال مائے غاسل کا مغسول پر سے زوال ضرور کہ جب تک جُدا نہ ہوا مغسول سے زوال نجاست نہ ہوا تو حکم طہارت نہ ہوا۔ یوں بھی خروج لازم ہوگیا ظاہر ان وجوہ سے جمہور نے حکمِ نجاست دیا۔

اقول مگر جس طرح قول دوم پر بحث دوم وارد ہوئی یونہی قول اوّل پر بحث اول وارد ہوگی۔ ان اکابر نے بطن حوض میں سَیلان آب کو جریان ہی نہ ٹھہرا یا شرط خروج کی تصریحات وتصحیحات کہ جوابِ دوم میں غنیہ(۱) وظہیریہ(۲) اور جواب پنجم اصل دوم میں ملک العلماء(۳) وفقیہ ہندوانی(۴) وفقیہ سمرقندی(۵) اور اصل سوم میں تبیین(۶) وفتح(۷) وبحر(۸) ومحیط(۹) وتوشیح(۱۰) وامام حسام شہید(۱۱) وتاتارخانیہ(۱۲) وظہیریہ(۱۳) وہندیہ(۱۴) اور اصل چہارم میں مبتغی(۱۵) ومحیط(۱۶) رضوی وحلیہ(۱۷) وخلاصہ(۱۸) وردالمحتار(۱۹) ودو(۲۰) عبارت ظہیریہ(۲۱) وامام(۲۲) ابو بکر اعمش(۲۳) وغیرہ اور اصل ششم میں شرح(۲۴) ہدیہ ومنحہ(۲۵) سے گزریں ان کی تویہ توجیہ واضح ہے کہ جو نجس پانی حوض میں تھا اس کے جریان وتطہیر کیلئے خروج ضرور ہے تازہ پانی کہ اُوپر سے آیا ان سے اس کے جریان کی نفی نہیں ہوتی مگر ان نصوص کثیر کا کیا جواب جو صراحۃً اس آب داخل ہی کے جریان کا ابطال کرتے ہیں اگرچہ بطنِ حوض میں کتنی ہی دُور حرکت کرتا جائے مثلاً:

اولاً وہ تصریحیں کہ پانی اگر بطنِ حوض میں دہ در دہ ہونے سے پہلے نجاست سے ملے گا جتنا آتا جائیگا ناپاک ہوتا جائے گا جیسا کہ جواب چہارم میں امام (۱) صفار سے گزرا امام(۲) ملک العلماء نے اُسے مقرر رکھا اصل ہشتم فتاوٰی(۳) امام قاضی خان وجواہر(۴) اخلاطی سے اور ایسا ہی خزانۃ(۵) المفتین وفتاوٰی(۶) ذخیرہ میں ہے حلیہ(۷) میں اُس پر تقریر ہے غنیہ(۸) میں اس کے معنے ہیں اگر جاری مانا جاتا وہ دہ در دہ ہونا کیا شرط ہوتا کہ جاری کتنا ہی قلیل ہو ناپاک نہیں ہوسکتا جب تک نجاست سے اس کا کوئی وصف نہ بدلے لوٹے کی دھار کا مسئلہ اصل ۹ میں گزرا۔

ثانیا یہ تعلیل وشرط نہ بھی ہوتی تو اس مسئلہ دوّارہ کا نفس حکم کہ کتبِ معتمدہ جماہیر مشاہیر میں دائر وسائر ہے خود اُسے جاری نہ ماننے پر برہان ظاہر ہے جواب چہارم میں منیہ(۹) وبدائع(۱۰) وصفار(۱۱) وحلیہ(۱۲) اور پنجم میں حلیہ(۱۳) وغنیہ(۱۴) اور اس کی اصل ہشتم میں خانیہ(۱۵) وخزانۃ(۱۶) المفتین ومحیط(۱۷) وحلیہ(۱۸) وخلاصہ(۱۹) وفتح(۲۰) وفتاوٰی(۲۱) سمرقند وبحر(۲۲) وہندیہ(۲۳) وغیاثیہ(۲۴) وذخیرہ(۲۵) وفرع(۲۶) آخر قاضی خان وجواہر(۲۷) الاخلاطی سے تصریحیں اور تصحیحیں گزریں کہ حوض کتنا ہی کبیر ہو جب اس میں قلیل پانی ناپاک تھا پھر پانی آیا اور لبالب بھر گیا ناپاک ہی رہا۔ بھلا جب تک حد قلت میں تھا یہ کہہ سکتے تھے کہ آنے والا پانی اگرچہ اپنے داخل ہونے سے دوسری جانب پہنچنے تک جاری رہا مگر وہاں جاکر تو رُک گیا اور ہے قلیل اور نجاست یا آب نجس سے متصل تو اب ناپاک ہوجائیگا اسی طرح جو پانی آتا جائے گا حدِ قلت تک یہی حکم پائیگا وھم انما قالوا کل مادخل صار نجسا لاکما دخل تنجس مگر حوض تو کبیر ہے جب حدِ قلت سے آگے بڑھے گا کیا کہا جائے گا۔ آیا بہتا ہوا اور ٹھہرا کثیر ہو کر تو کسی وقت قابلِ قبول نجاست نہ ہوا پھر یہ حکم کیوں ہے کہ لبالب بھرنے پر بھی سب ناپاک۔ بلکہ لازم تھا کہ یا تو حصہ بالا کو جہاں سے حدِ کثرت ہے (اور ممکن ہے کہ حوضِ کبیر کا معظم حصہ وہی ہو) پاک کہیں اور حدِ قلت سے نیچے تک ناپاک یا نظر برآں کہ حصّہ زیریں ممتاز صورت نہ رکھنے کے باعث بالا کا تابع ہے سب پاک۔

اقول اور ظاہرا یہی اقیس ہوتا آخر نہ دیکھا کہ حوض کتنا ہی(۱) عمیق ہو بلکہ گہرے سے گہرا کنواں اگر لبالب بھر کر اُبل جائے اوپر سے نیچے تک سب پاک ہوگیا کہ آب جاری ہوگیا حالانکہ یقیناً حرکت جریانی صرف اوپر کے قلیل حصہ کو پہنچے گی آنے والا پانی جہاں تک کے پانی کو دبا کر ساتھ بہا کر اُبلے اُبالے گا اُتنے ہی پر جریان واقع ہوگا نیچے گزوں تک کے پانی کو خبر بھی نہ ہوگی اور ٹھہرا سب پاک۔ اُسی لئے کہ صورت واحدہ وشیئ واحد ہے، یوں(۲) ہی آبِ کثیر کی صورت واحدہ رکھتا اور اوپر قلیل حصہ کثیر اور نیچے سب قلیل ہے اور نجاست راسبہ پڑی کہ تہ تک پہنچی سب پاک رہے گا روئے آب کی کثرت وطہارت تہ تک عمل کرے گی کذا ھذا۔
Flag Counter