Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
104 - 176
ثم اقول وبہ استعین (اللہ سے مدد چاہتے ہوئے میں کہتا ہوں) یہاں دو بحثیں ہیں:

بحث اوّل ہم اوپر بیان کر آئے کہ جریان آب نہیں مگر فضا میں اس کا اپنے میل طبعی سے رواں ہونا اور فضائے غیر محدود غیر مقصود اور محدود بطن حوض میں بھی موجود بارش یا سیل وغیرہ کا پانی کہ اوپر سے بہتا ہوا آیا اور بطنِ حوض میں داخل ہوا وہ قطعاً اب بھی بہ رہا ہے جب تک کنارہ مقابل پر جاکر رک نہ جائے۔

اولاً جاری کی دونوں تعریفیں اشہر واظہر اس پر صادق ہیں وہ ایک تنکا کیا ایک گھٹا بہالے جائیگا اور بے شک جب تک اُس کا بہاؤ نہ ٹھہرے بہتا ہی کہا جائیگا اہل عرف میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سیلاب حوض کے کنارے تک پہنچتے ہی تھم گیا اب اس میں روانی نہ رہی جب تک بھر کر اُبال نہ دے پہلے کنارے پر تھم جائے تو حوض کو بھرے کون اور اُبالے کیوں کر۔

ثانیاً نہر جاری میں سیلاب کی دھار آکر گری اب چاہئے کہ وہ نہر جاری نہ رہے جب تک بھر کر اُبل نہ جائے کہ اعتبار وئے آب کا ہے اور اب روئے آب یہ سیلاب ہے جسے جوفِ نہر میں داخل ہوتے ہی ساکن مان لیا گیا۔

ثالثاً مینہ کاپانی(۱) کہ چھت پر بہتا پر نالوں سے گرتا صحنِ خانہ میں رواں ہو قطعاً آب جاری ہے اگرچہ ابھی مکان کی نالی سے بھی نہ نکلے مکان کو چھت تک لبریز کرکے دیواروں پر سے اُبال دینا تو قیامت ہے،
بدائع میں ہے:ان کانت الانجاس متفرقۃ علی السطح ولم تکن عند المیزاب ذکرعیسٰی بن ابان (ای تلمیذ محمد رحمہما اللّٰہ تعالی) انہ لایصیر نجسا مالم یتغیر وحکمہ حکم الماء الجاری وقال محمد ان کانت النجاسۃ فی جانب من السطح اوجانبین لاینجس الماء ویجوز التوضوء بہ وان کانت فی ثلٰثۃ جوانب ینجس اعتباراللغالب ۱؎ اھ
اگر نجاستیں چھت پر پرا گندہ ہوں اور یہ پرنالہ کے پاس نہ ہوں، تو عیسیٰ بن ابان نے ذکر کیا (یعنی محمد کے شاگرد نے) کہ وہ نجس نہ ہوگا جب تک کہ متغیر نہ ہو اور اس کا حکم جاری پانی کی طرح ہے اور محمد نے فرمایا کہ اگر نجاست چھت کی ایک جانب یا دو جانب ہو تو پانی ناپاک نہ ہوگا اور اس سے وضو جائز ہے اور اگر نجاست تین کناروں پر ہو تو غالب کا اعتبار کرتے ہوئے پانی ناپاک ہوجائیگا اھ (ت(
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان المقدار    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)
ہندیہ میں ہے:لوکان علی السطح عذرۃ فوقع علیہ المطر فسال المیزاب ان کانت النجاسۃ عند المیزاب وکان الماء کلہ یلاقی العذرۃ اواکثرہ اونصفہ فھو نجس والا فھو طاھر وان کانت العذرۃ علی السطح فی مواضع متفرقۃ ولم تکن علی رأس المیزاب لایکون نجسا وحکمہ حکم الماء الجاری کذا فی السراج الوھاج،
اگر چھت پر پاخانہ پڑا ہو اور بارش ہوجائے پھر پرنالہ بہے تو اگر نجاست پرنالہ کے پاس ہو اور کل پانی پاخانہ سے لگ کر آرہا ہو یا اکثر یا نصف تو وہ ناپاک ہے ورنہ پاک ہے اور اگر نجاست چھت پر متفرق جگہوں پر ہو اور پرنالہ کے سر پر نہ ہو تو ناپاک نہ ہوگا اور اس کا حکم جاری پانی کا سا ہے۔ اسی طرح سراج الوہاج میں ہے،
وفی بعض(۱) الفتاوٰی قال مشائخنا المطر مادام یمطر فلہ حکم الجریان حتی لواصاب العذرات علی السطح ثم اصاب ثوبا لایتنجس الا ان یتغیر(۲) المطر اذا اصاب السقف وفی السقف نجاسۃ فوکف واصاب الماء ثوبا فالصحیح انہ اذا کان المطر لم ینقطع بعد فما سال من السقف طاھر ھکذا فی المحیط وفی العتابیۃ اذا لم یکن متغیرا کذا فی التاتارخانیۃ واما(۳) اذا انقطع المطر وسال من السقف شیئ فما سال فھو نجس کذا فی المحیط وفی النوازل قال مشائخنا المتأخرون ھو المختار کذا فی التتارخانیۃ ۱؎ اھ
اور بعض فتاوٰی میں ہے کہ ہمارے مشائخ نے فرمایا اگر بارش ہورہی ہو تو جاری پانی کے حکم میں ہے یہاں تک کہ اگر یہ پانی چھت پر پڑے ہوئے پاخانہ سے لگ کر بھی آئے اور پھر کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہ ہوں گے، ہاں اگر بارش متغیر ہوجائے جبکہ چھت پر پہنچے اور چھت پر نجاست ہو اور پھر چھت ٹپکنے لگے اور یہ پانی کسی کپڑے پر لگ جائے تو صحیح یہ ہے کہ اگر بارش ابھی منقطع نہیں ہوئی ہے تو جو پانی چھت سے بہا وہ پاک ہے ھکذا فی المحیط۔ اور عتابیہ میں ہے کہ جبکہ متغیر نہ ہو، اور اسی طرح تاتار خانیہ میں ہے اور اگر بارش بند ہونے کے بعد چھت سے پانی ٹپکے تو جو بہا ہے وہ ناپاک ہے کذا فی المحیط، اور نوازل میں ہے کہ ہمارے متأخر مشائخ نے فرمایا یہی مختار ہے کذا فی التتارخانیہ اھ (ت(
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوز        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۷)
اقول سال من السقف ای وکف کما قدم اما السائل من المیزاب فجار قطعا وان وقف المطر کما قدمنا۔
میں کہتا ہوں چھت سے بہنے کا مطلب چھت سے ٹپکنا ہے جیسا کہ گزرا اور جو پرنالے سے بہتا ہے وہ قطعاً جاری ہے خواہ بارش ٹھہری ہوئی ہو۔ (ت(

بالجملہ آنے والے پانی کے بطن حوض میں جاری ہونے سے انکار ظاہر نہیں، ہاں جب حد مقابل پر پہنچے جہاں جاکر رک جائیگا یا تحریک پہنچی تو آگے نہ بڑھے گا بلکہ اُوپر چڑھے گا یہ حرکت طبعی نہ ہوگی بلکہ قسری خلاف طبع تو اُس وقت بیشک جریان جاتا رہے گا۔

بحث دوم: آب نجس کی تطہیر کو آبِ طاہر سے مل کر اُس کا جاری ہونا درکار ہے یا آب طاہر جاری کا اُس پر آنا کافی اول نص محرر المذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے،
فی ردالمحتار عن جامع الرموز عن التمرتاشی عن محمد المائع کالماء والد بس وغیرھما طہارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ ۲؎۔
اور ردالمحتار میں جامع الرموز سے تمرتاشی سے محمد سے ہے۔ کہ بہنے والا جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ اس کی طہارت اس کو اسی کی جنس کے ساتھ ملا کر جاری کر دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار        مطلب یطہر الحوض بمجرد الجریان    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۴)
اقول اور اسی کے مؤید ہے اُسے قول
دائر وسائر الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا
 (کہ بعض جاری پانی بعض دوسرے پانی کو پاک کر دیتا ہے۔ ت) کے تحت میں لانا،
Flag Counter