Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
103 - 176
غنیہ میں قولِ اوّل کی تعلیل کی:
لتنجس الماء شیئا فشیئا ۲؎۔
کیونکہ پانی تھوڑا تھوڑا کرکے نجس ہوتا جاتا ہے۔ (ت(
 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۰۱)
اور دوم کی:
لکونہ کبیرا فصار کما لوکان ممتلئا فوقعت فیہ النجاسات ۳؎۔
کیونکہ یہ بڑا حوض ہے تو یہ اسی حکم میں ہوگا کہ پہلے وہ بھر گیا ہو پھر اس میں نجاستیں واقع ہوئی ہوں۔ (ت(
 (؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۰۱)
حلیہ میں ذخیرہ کا نص یوں ذکر کیا:
وفی نظم الزند ولیسی اذا کان الحوض کبیرا وفیہ نجاسات فدخل الماء فامتلاء قال اھل بلخ وابو سھل الکبیر البخاری ھو نجس وقال الفقیہ ابوجعفر البلخی والفقیہ اسمٰعیل وابن الحسن الزاھدی البخاری الکل طاھر وبہ اخذ کثیر من فقہاء بخارٰی وھکذا افتی عبدالواحد مرارا وھکذا کان یفتی الفقیہ ابو بکر العیاضی وکان یقول الماء الکثیر فیحکم الماء الجاری انتھیٰ ۱؎۔
اور نظم زند ویسی میں ہے کہ جب حوض بڑا ہو اور اس میں نجاسات ہوں، پھر پانی داخل ہو کر اس کو بھر دے تو بلخ والوں اور ابو سہیل کبیر بخاری کا قول ہے کہ یہ نجس ہے اور فقیہ ابو جعفر البلخی، فقیہ اسمٰعیل اور ابن الحسن الزاہدی البخاری نے کہا کہ سب پاک ہے اور اس قول کو بخارا کے کثیر فقہاء نے اختیار کیا ہے، اور عبدالواحد نے بھی اس پر کئی بار فتوٰی دیا اور ابو بکر عیاضی بھی اسی طرح فتوٰی دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ کثیر پانی جاری پانی کے حکم میں ہے انتہی۔ (ت(
 (۱؎ حلیہ)
پھر فرمایا:
ونقل الزاھدی عن یوسف الترجمانی فی انہ قال وبہ یفتی ۲؎۔
زاہدی نے یوسف الترجمانی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا اور اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت(
 (۲؎ حلیہ)
بزازیہ میں ہے:تنجس الحوض ثم دخل فیہ ماء کثیر وخرج منہ ایضا قیل طھر الحوض وان قل الخارج وقیل لاحتی یخرج مثل مافیہ وقیل مثلاہ اوثلثۃ امثالہ وقیل یطھر وان لم یخرج شیئ قال ابو یوسف الترجمانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی وبہ یفتی ۳؎ اھ
حوض ناپاک ہوگیا پھر اس میں بہت سا پانی داخل ہوگیا اور نکل گیا تو ایک قول ہے کہ حوض پاک ہوگیا خواہ نکلنے والا پانی کم ہی ہو اور ایک قول یہ ہے کہ جب تک اتنا پانی نہ نکلے جتنا کہ حوض میں تھا پاک نہ ہوگا جبکہ ایک قول یہ ہے کہ جب تک حوض کا دوگنا یا تین گنا پانی نہ نکلے پاک نہ ہوگا اور ایک قول یہ ہے کہ پاک ہو جائے گا خواہ کچھ بھی نہ نکلے، یوسف الترجمانی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت(
 (۳؎ بزازیہ علی الھندیۃ    نوع فی الحیض    نورانی کتب خانہ پشاور     ۴/۸)
اقول تفرد(۱) بشیئین احدھما قید الکثیر فی الماء الداخل وھم قاطبۃ ارسلوہ وقال ش وان قل الداخل ۴؎ اھ وکانہ واللّٰہ تعالٰی اعلم رعایۃ للقول الاخیر اذ یختص بالحوض الکبیر فدل علی کبرہ بدخول الماء الکثیر والاٰخر زیادۃ مثلیہ وانما یذکرون مثلا وثلاثا فالثانی لتثلیث الغسل والاول قیاسا علی البئر فان نزح مافیھا لھا تطہیر افادہ فی البدائع اما التثنیۃ فلا وجہ لھا ھذا،
میں کہتا ہوں وہ دو چیزوں میں متفرد ہیں ایک تو داخل ہونے والے پانی میں کثرت کی قید لگانے میں، جبکہ تمام فقہاء نے یہ قید نہیں لگائی ہے اور ''ش'' نے فرمایا اگرچہ داخل ہونے والا پانی قلیل ہو اھ اور گو یا واللہ تعالٰی اعلم آخری قول کی رعایت ہے کیونکہ یہ بڑے حوض کے ساتھ خاص ہے تو کثیر پانی کا داخل ہونا حوض کی بڑائی پر دلالت کرے گا، اور دوسری چیز دگنا ہونے کی زیادتی، اور دوسرے فقہا ایک گنا اور تین گنا کا ذکر کرتے ہیں، تو دوسرا دھونے میں تثلیث کے لئے ہے اور پہلا کنویں پر قیاس کرتے ہوئے ہے، کیونکہ کنویں میں جو کچھ ہے وہ اگر نکال لیا جائے تو کنواں پاک ہوجائیگا، بدائع میں یہی ہے، اور دُگنا ہونے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں، ہذا۔
 (۴؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۸)
ثم قال فی الحلیۃ لکن فی الذخیرۃ قبل ھذہ المسألۃ وفی فتاوٰی اھل سمر قند غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب (فذکر ماقدمنا عن الخانیۃ وغیرھا عشرۃ کتب فی الاصل الثامن) قال فعلی قیاس الجواب فی ھذہ المسألۃ یکون الجواب ایضا فی المسألۃ التی ذکرھا المصنف ان کان الماء الذی یدخل اولا یدخل علی ماء نجس اومکان نجس فھو نجس وان کان یدخل علی طاھر ویستقر فیہ حتی یصیر عشرا فی عشر ثم یتصل بالنجس فھو طاھر قال فھذا قول ثالث فی المسألۃ المذکورۃ تخریجا کما یمکن ان یتأتی القولان المذکوران فیھا نصا فی ھذہ المسألۃ التی ذکرناھا نحن عن الذخیرۃ ایضا تخریجا ۱؎ اھ
پھر حلیہ میں فرمایا اور لیکن ذخیرہ میں اس مسئلہ سے قبل اور اہل سمرقند کے فتاوٰی میں ہے کہ اگر کوئی بڑا تالاب ایسا ہو جو گرمیوں میں سُوکھ جاتا ہو اور اس میں انسان اور چو پائے بول وبراز کرتے ہوں (تو اس کا حکم وہ بیان کیا جو ہم نے آٹھویں اصل میں خانیہ وغیرہا دس کتب سے نقل کیا) فرمایا اس مسئلہ کے جواب پر قیاس کرتے ہوئے مصنّف نے جو مسئلہ ذکر کیا ہے اس کا بھی جواب ہوگا، اور وہ یہ کہ اگر داخل ہونے والا پانی پہلے نجس پانی پر داخل ہوتا ہے یا نجس جگہ پر تو وہ نجس ہے اور اگر پاک پر داخل ہوتا ہے اور اس میں ٹھہرتا ہے یہاں تک کہ دہ در دہ ہوجائے پھر نجس سے متصل ہو تو وہ پاک ہے فرمایا یہ مسئلہ مذکورہ بطور تخریج تیسرا قول ہے اور دو مذکور قول اس میں بطور نص ہیں جس کو ہم نے ذخیرہ سے بطور تخریج نقل کیا ہے۔ اھ (ت(
 (۱؎ حلیہ)
اقول رحم اللّٰہ المحقق لاتثلیث ولا تخریج اما(۱) الثانی فظاھر فان المسألۃ المذکورۃ مسألۃ المتن حوض کبیر وفیہ نجاسات فامتلأ والتی اوردتموھا عن الذخیرۃ غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب وای فرق بینہما الا فی اللفظ فلا قیاس ولا تخریج بل القولان المذکوران فی المتن منصوص علیھما فی مسألۃ الذخیرۃ والتفصیل المذکور فیھا منصوص علیہ فی مسألۃ المتن،
میں کہتا ہوں اللہ محقق پر رحم کرے نہ توتثلیث ہے اور نہ تخریج، دوسرا تو ظاہر ہے کیونکہ مسئلہ مذکورہ متن کا مسئلہ 

ہے تثلیث کہ ایک بڑا حوض ہو جس میں نجاستیں ہوں اور بھر جائے، اور جس کو تم نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے یعنی بڑا تالاب جو گرمیوں میں خشک ہوجاتا ہے اور اس میں انسان اور جانور بول وبراز کرتے ہوں، ان دونوں میں لفظی فرق کے علاوہ اور کیا فرق ہے، تو نہ قیاس ٹھیک ہے اور نہ تخریج درست ہے بلکہ دونوں قول جو متن میں مذکور ہیں اور ان کو ذخیرہ میں صراحت سے ذکر کیا ہے اور اس میں جو تفصیل ہے وہ متن میں منصوص ہے ،
واما(۲) الاول فلانہ لیس لاحد ان یقول الماء وان کثر فی بطن الحوض قبل وصولہ الی النجس یتنجس حین یصل الیہ وکیف یتنجس وقد فرض کثیرا ھذا خلاف الاجماع فالتفصیل المذکور فی الذخیرۃ ھو المراد قطعا فی القول الاول وانما طووا ذکرہ للعلم بہ کما قلتم ھھنا ان من المعلوم حیث قلنا فی ھذہ المسألۃ اوامثالھا ان الماء طاھر فھو مشروط بکونہ لااثر للنجاسۃ فیہ فترک التقیید بہ فی ذلک للعلم بہ وایاک والذھول عنہ فیذھبن بک الوھم الی تخطئتھم فی ذلک وھم من ذلک ۱؎ براء اھ، فھل(۳) یسوغ لاحد ان یجعل التقیید بعدم ظھور الاثر قولا رابعا فی المسألۃ وقد اشرنا الیہ بعد ذکر الضابط الثالث فما ثم الا قولان التفصیل المذکور فی الکتب العشرۃ واطلاق الطھارۃ وباللّٰہ التوفیق۔
لیکن پہلا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا جبکہ پانی حوض میں کثیر ہو نجس تک پہنچنے سے پہلے، تو وہ نجس ہوجائیگا جب وہ نجاست تک پہنچے گا، اور نجس کیسے ہوگا حالانکہ اس کو کثیر فرض کیا گیا ہے یہ اجماع کے خلاف ہے جو تفصیل ذخیرہ میں ہے وہی قطعاً مراد ہے پہلے قول میں اور اس کو ذکر اس لئے نہیں کیا کہ وہ پہلے ہی معلوم ہے، جیسا کہ تم نے یہاں کہا ہے کہ یہ بات معلوم ہے جبکہ ہم نے اس مسئلہ میں اور اس جیسے مسائل میں کہا کہ پانی پاک ہے، مگر اس میں یہ شرط ہے کہ نجاست کا اثر اس میں ظاہر نہ ہو تو اس قید کو معلوم ہونے کی بنا پر چھوڑ دیا گیا ہے، اس سے آپ غافل نہ ہوں ورنہ آپ ان کو خطاکار قرار دیں گے حالانکہ وہ بے قصور ہیں اھ تو کیا کوئی اثر کے ظاہر نہ ہونے کی قید لگانے کو چوتھا قول قرار دے سکتا ہے ۔ اور ہم نے تیسرے ضابطہ کے بعد اس کی طرف اشارہ کیا ہے، تو وہاں صرف دو ہی قول ہیں مذکورہ تفصیل دسوں کتب میں ہے اور طہارت کا اطلاق ہے۔ (ت(
 (۱؎ حلیہ)
Flag Counter