وھو عندی محمل مافی الحلیۃ عن الامام محمد قال اجتمع رأیی ورأی ابی یوسف علی ان ماء البئر فی حکم الماء الجاری لانہ ینبع من اسفل ویؤخذ من اعلاہ فلا یتنجس بوقوع النجاسۃ فیہ ۲؎ اھ
اور میرے نزدیک یہ اس چیز کا محمل ہے جو حلیہ میں امام محمد سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا میری اور ابو یوسف کی یہ رائے ہے کہ کنویں کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے کیونکہ وہ نیچے سے نکلتا ہے اور اوپر سے لے لیا جاتا ہے تو اس میں نجاست کے گرنے سے نجس نہ ہوگا اھ
(۲؎ بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۵)
ونقلہ فی العنایۃ بلفظ قال محمد۔۔۔الخ ثم رأیت الامام ملک العلماء نقلہ فی البدائع بعین لفظ الحلیۃ وذکر تمامہ کحوض الحمام اذا کان یصب الماء فیہ من جانب ویغترف من جانب اٰخر انہ لاینجس بادخال الید النجسۃ فیہ ۱؎ اھ وکذلک فی الفتح الی قولہ کحوض الحمام ۲؎ اھ فاکد ذلک ماذکرتہ من المحمل۔
اور عنایہ میں اس کو ''قال محمد'' کے لفظ سے ذکر کیا الخ پھر بدائع میں اس کو بعینہٖ انہی الفاظ میں ذکر کیا جو حلیہ کے ہیں فرمایاجیسے حمام کا حوض کہ اس میں ایک جانب سے پانی ڈالا جائے اور دوسری جانب سے چُلّو کے ذریعہ نکالا جائے تو ناپاک ہاتھ کے ڈالے جانے سے نجس نہ ہوگا اھ اور اسی طرح فتح میں ''کحوض الحمام'' تک ہے اھ تو اِس نے تاکید کردی اُس محمل کی جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ (ت(
(۱؎ بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۵)
(۲؎ فتح القدیر فصل فی البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱/۸۶)
اقول: وعند ھذا فھو فرع جید مقبول ولا(۱) وجہ لردہ کما یعطیہ کلام الحلیۃ تبعا للبدائع انہ کان القیاس فی البئر ان لاتتنجس اصلا کما نقل عن محمد اولا تطھرا بدا کما قالہ بشر المریسی الا ان اصحابنا ترکوا القیاسین بالاٰثار ھذا حاصل مافیھا حملا منھما ایاہ علی الاطلاق ولیس الاولی بنا ان نرد ما جاء عن الائمۃ مع وجود محمل لہ صحیح فقد تظافرت(۲) کلماتھم علی قبول ھذا المعنی فی الحوض الصغیر فلم لایقبل فی البئر ولا تخالفہ الا فی حیأۃ ولامدخل لھا فی الحکم فکل صغیر سواء او ان الماء یدخل فیہ من اعلاہ وفیھا من اسفلھا ولا یختلف بہ الحکم فقد قال فی الفتح(۳) لوتنجست بئرفاجری ماؤھا بان حفرلھا منفذ فصار الماء یخرج منہ حتی خرج بعضہ طھرت لوجود سبب الطھارۃ وھو جریان الماء وصار کالحوض اذا تنجس فاجری فیہ الماء حتی خرج بعضہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں اور اس وقت یہ اچھی فرع ہے مقبول ہے، اور اس کے رد کی کوئی وجہ نہیں جیسا کہ حلیہ میں بدائع کی تبعیت میں ہے کہ کنویں میں قیاس یہ تھا کہ کبھی ناپاک نہ ہو جیسا کہ محمد سے منقول ہے یا یہ کبھی پاک نہ ہو جیسا کہ بشر مریسی سے منقول ہے، مگر ہمارے اصحاب نے دونوں قیاسوں کو آثار کی وجہ سے ترک کردیا، یہ اُن دونوں کتابوں کا حاصل ہے کہ انہوں نے اس کو اطلاق پر محمول کیا ہے، اور جو چیز ائمہ سے منقول ہے اور اس کا مناسب محمل بھی موجود ہو تو اس کو رَد کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ چھوٹے حوض میں وہ اس حکم کو قبول کرتے ہیں تو پھر اس کو کنویں میں کیوں نہ قبول کیا جائے حالانکہ کنواں چھوٹے حوض سے صرف صورت میں مختلف ہے یا صورت کا حکم میں کیا دخل ہے؟ ہر چھوٹا برابر ہے، اور یہ کہ حوض میں پانی اوپر سے آتا ہے اور اس میں نیچے سے آتا ہے، تو اس سے حکم مختلف نہ ہوگا، چنانچہ فتح میں فرمایا کہ اگر کنواں ناپاک ہوجائے اور اس کا پانی جاری کیا جائے مثلاً اس میں کوئی سوراخ کر دیا جس سے کنویں کا کچھ پانی نکل گیا تو کنواں پاک ہوگیا، کیونکہ سببِ طہارت پایا گیا اور وہ پانی کا جاری ہونا ہے اور یہ حوض کی طرح ہوا کہ ناپاک ہوجائے اور اس میں پانی جاری کیا جائے یہاں تک کہ کچھ پانی نکل جائے ا ھ
(۱؎ فتح القدیر آخر فصل فی البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱/۹۳)
واغترف منہ فی البحر واقرہ وفی الدر یکفی نزح ماوجد وان قل وجریان بعضہ ۲؎ اھ
اس کو بحر میں ذکر کیا اور برقرار رکھا اور دُر میں ہے کہ جو پانی اس میں ہے اس کا نکال دینا کافی ہے خواہ کم ہی ہو اور جاری ہونا بعض کا اھ
(۲؎ الدرالمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱/۹۳)
قال ش بان حفرلھا منفذ یخرج منہ بعض الماء کما فی الفتح ۳؎ اھ
''ش'' نے کہا کہ مثلاً کنویں میں کوئی سوراخ کردیا جس سے کچھ پانی نکال دیا جیسا کہ فتح میں ہے اھ
(۳؎ ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱/۱۶۰)
وقدمنا فی الاصل الثالث عن البحر فی مسألۃ جریان الحوض الصغیر بدخول ماء اٰخر فیہ وخروج البعض منہ حال دخولہ قال السراج الھندی وکذا البئر ۴؎ اھ ومثلہ فی البزازیۃ وقدمناہ عن الخلاصۃ فلولا انھم اعتبروا نبع الماء من اسفلہ لم یکن لہ معنی فان الجریان دافع لارافع فالنجس لایطھر بہ ابدا مالم یجرمع الطاھر ھذا(۱)
اور ہم نے تیسری اصل میں بحر سے چھوٹے حوض کے جاری ہونے کے مسئلہ میں بیان کیا کہ اس میں نیا پانی داخل ہو اور اس کے داخل ہوتے وقت کچھ اس سے خارج ہو، سراج ہندی نے کہا کہ اس طرح کنویں کا حال ہے اھ اور اسی کی مثل بزازیہ میں ہے اور ہم نے اس کو پہلے خلاصہ سے نقل کردیا ہے تو اگر وہ پانی کے نیچے سے پُھوٹنے کا اعتبار نہ کرتے تو یہ بے معنی بات ہوتی کیونکہ جاری ہونا دافع ہے رافع نہیں تو جب تک وہ نجس طاہر کے ساتھ جاری نہ ہو کبھی بھی پاک ہونے کا نہیں، اس کو اچھی طرح سمجھئے۔
(۴؎ بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۸)
وبالجملۃ کل ماالحق بالجاری علی ھذا المنوال اعنی اقامۃ الاخراج مقام الخروج فقد زید فیہ قید اٰخرو ھو توالی الاخراج واستمرار تحرکہ بہ حتی لوسکن لم یلتحق وذلک لان لازم الجریان شیاٰن تعاقب الاجزاء یزول منہ جزء فیخلفہ اٰخر وعدم الاستقرار بدوام التحرک فاذا دخل الماء فی الحوض والبئر من جانب واخرج من اٰخر بالغرف والاستقاء وجد الاول واذا استمر ذلک حصل الثانی فتم الشبہ فساغ الالتحاق ولذا اعتبروا تدارک الغرفات بان لایسکن وجہ الماء بین الغرفتین لا الموالاۃ الحقیقیۃ اذ بھذا القدر یحصل دوام التحرک المحصل للشبہ ھذا ما عندی واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
خلاصہ یہ کہ ہر وہ پانی جس کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے اور اس میں اخراج کو خروج گردانا گیا ہے تو اس میں ایک اور قید کا اضافہ کیا گیا ہے اور وہ تسلسل کے ساتھ اخراج کی قید ہے اور اس کی وجہ سے اس کا مسلسل متحرک رہنا، اور اگر وہ ٹھہر گیا تو جاری کے حکم میں نہ ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جاری ہونے کو دو چیزیں لازم ہیں ایک تو اجزاء کا تعاقب کہ ایک جزء زائل ہو اور دوسرا جُزء اس کے پیچھے آئے، اور مسلسل حرکت کی وجہ سے ایک جگہ نہ ٹھہرتا، تو جب حوض اور کُنویں میں پانی ایک طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے چُلّوؤں اور ڈولوں یا نالیوں کے ذریعہ نکالا جائے تو پہلی چیز حاصل ہوگی اور یہ سلسلہ جاری رہے تو دوسری چیز حاصل ہوگی اور مشابہت مکمل ہوجائیگی اور اس کا لاحق کیا جانا جائز ہوگا اور اس کیلئے چُلّوؤں کا پے درپے ہونا معتبر ہوگا، اور پے درپے کا مطلب ہے کہ دو چُلّوؤں کے درمیان پانی میں ٹھہراؤ نہ آئے حقیقی موالات مراد نہیں ہیں کیونکہ اس مقدار سے تحرک کا دوام حاصل ہوجاتا ہے جس سے مشابہت پوری ہوتی ہے ھذا ماعندی واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت(
اس تقریر(۱) سے واضح ہوا کہ ندی(۱) کا پانی جس کا مینڈھا اوپر سے باندھ دیا ہو اور (۲) گلا ہوا برف کہ زمین پر بہ رہا ہو اور(۳) مینہ کا پانی کہ بارش تھمنے پر ہنوز رواں ہو اور(۴) دو پانیوں کی دھار جو ہوا میں مل کر اُتر رہی ہے یا(۵) زمین پر ایک ہو کر بہ رہی ہے اور(۶) انگور کا شیرہ کہ ابھی رواں ہے اگرچہ ان کی مدد منقطع ہوگئی ہو جب تک کسی ایسی شے تک نہ پہنچیں جو آگے مرور کو مانع ہو سب جاری ہیں تو لوٹے کی دھار کہ ابھی ہاتھ تک نہ پہنچی بدرجہ اولیٰ اور دخول وخروج دونوں کی شرط اُس مائع میں ہے جو کسی جوف میں رُکا ہوا ہے اور پانی ایک طرف سے آنا اور دوسری طرف سے جلد جلد کھینچا جانا کہ جنبش تھمنے نہ پائے یہ ملحق بہ آب جاری میں ہے
تجدید النظر بوجہ اٰخر، وابانۃ ماھو احلی وازھر، واجلی واظھر۔
اللھم لک الحمد، والیک الصمد، ارعبیدک الصواب ، وقہ التباب، فی کل باب، یاوھاب، وصلّ وسلّم وبارک علی السید الاواب، الذی تحکی نفحۃ من کرمہ الریح المرسلۃ ورشحۃ من فیضہ ھامر السحاب، وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ خیر حزب واٰل واصحاب، اٰمین۔
ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی، اور عمدہ، روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت:
اے اللہ تیرے لئے یہ حمد ہے اور تُو بے نیاز ہے، اے وہاب! اپنے بندوں پر ہر معاملہ میں اچھا راستہ کھول او رہلاکت سے بچا، اور صلوٰۃ وسلام اور برکتیں ہوں رجوع لانے والے آقا پر جس کے کرم کا ایک جھونکا، چلتی ہوئی ہوا کے مشابہ ہے اور جس کے فیض کا ایک چھینٹا بہت برسنے والے بادل کی طرح ہے اور آپ کی آل، اصحاب، اولاد اور گروہ سب پر سلامتی ہو. آمین۔ (ت(
جماہیر مشاہیر کتب معتمدہ متدا ولہ مستندہ کی تصریحات واضحہ وتلویحات لائحہ کا یہی مفاد کہ جو پانی یا مائع کسی جوف میں ہو تازہ آمد کتنی ہی ہو اُسے جاری نہ کرے گی جب تک بھر کر نہ اُبلے حوض وغیرہ کے بطن میں پانی کا بہنا اُس کے پانی کے لئے جریان نہیں کتب کثیرہ سے فروع متکاثرہ وتصریحاتِ متوافرہ اس معنی پر جوابات سابقہ میں گزریں، جواب سوم کے بعض احکام اور آخر چہارم کی تقریر اور پنجم کے اکثر مباحث اسی پر مبنی تھے اور اصل سوم تو خود یہی تھی اور یہی اصل پنجم کی تمہید اور ششم کا حصہ اولین اور نہم کا اوّل واخیر پھر تفریعات میں جو کچھ ان پر متفرع ہے لیکن یہاں ایک قول یہ ہے کہ جریان کیلئے خروج شرط نہیں، حوض کبیر جس کی تہہ میں نجاستیں یا نجس پانی تھا مجرد بھر جانے سے پاک ہوجائیگا منیہ(۱) میں اگرچہ اس قول کو بصیغہ ضعف نقل کیا کہ وقیل لایصیر نجسا (اور ایک قول یہ ہے کہ نجس نہیں ہوگا۔ت) اور حلیہ(۲) میں اُس کا ضعف اور مسجّل کردیا کہ اس کی کچھ وجہ ظاہر نہیں غنیہ(۳) میں اس کے خلاف کی تصریح تصحیح کی امام ابو القاسم صفار(۴) وامام فقیہ ابو جعفر(۵) وامام فقیہ ابو اللیث(۶) وامام صدر الشہید(۷) وامام ابو بکر اعمش(۸) وامام علی سغدی (۹)وامام نصیر بن یحییٰ (۱۰) وامام خلف بن ایوب (۱۱) وغیرہم اجلّہ اکابر قدست اسرارہم ورحمنا اللہ تعالٰی بہم فی الدارین کے ارشادات واختیارات اور ظہیریہ (۱۲) ومبتغی(۱۳) ومحیط(۱۴) وبرہانی ورضوی(۱۵) وغنیہ کی تصحیحا ت اس کے خلاف پر ہیں ان کتابوں اور ان کے سوا بدائع(۱۶) وفتح القدیر(۱۷) وتبیین(۱۸) وتوشیح(۱۹) وبحر(۲۰) وتاتارخانیہ(۲۱) وخانیہ(۲۲) وخلاصہ(۲۳) وذخیرہ(۲۴) وفتاوٰی اہل سمرقند (۲۵) وغیاثیہ(۲۶) وعالمگیریہ(۲۷) وخزانۃ المفتین(۲۸) وجواہر اخلاطی(۲۹) وشرح ہدیہ ابن العماد (۳۰) وغیرہا عامہ کتب جلیلہ نے فروع کثیرہ وافرہ میں اصلاً اس کی طرف التفات بھی نہ کیا یہ امور بتاتے ہیں کہ وہ قول مہجور جمہور ونامقبول ونامنصور ہے ولہٰذا ہم نے بھی باتباع ائمہ اُس کی طرف میل نہ کیا مگر انصافاً(۱) وہ ساقط محض نہیں بجائے خود ایک قوت رکھتا ہے متعدد مشائخ اور کثیر یا اکثر فقہائے بخارا وبعض ائمہ بلخ نے اُسے اختیار کیا اور امام یوسف ترجمانی نے اسے بہ یفتی کہا۔ امام کردری نے وجیز میں اسے مقرر رکھا اور یہ آکد الفاظ فتوٰی سے ہے منیہ کی عبارت کہ ابھی مذکور ہوئی اس کے متصل ہی ہے:
حوض کبیر جس کی تہہ میں نجاستیں ہوں پھر وہ بھر جائے تو ایک قول کے مطابق نجس ہے اور ایک قول یہ ہے کہ نجس نہیں بخارا کے اکثر مشائخ (اللہ ان پر رحم کرے) نے اسی کو اختیار کیا ہے اس کو ذخیرہ میں ذکر کیا ہے۔ (ت(