Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
101 - 176
ثم اقول اولا ھذہ الفروع متوزعۃ علی انحاء منھا ماھو مؤید ولا شک وھی مسألۃ نھر سد من فوق والتی زدت ومنھا مالا تائید فیہ اصلا وھما المسألتان الاولیان ولا ادری کیف اتفق الفریقان علی جعلھما مما لامدد لہ فانہ انما یتوضؤ(۱) فی النھر بین الحوضین اوفی المیزاب(۲) ولا شک ان الحوض الاعلی والاداوۃ یمدان ماء ھما الا(۳) تری کیف اتفقوا علی الحاق حوض الحمام بالماء الجاری اذاکان الماء من الانبوب نازلا والغرف متدارکا۔
پھر میں کہتا ہوں اوّلا یہ فروع کئی قسم کی ہیں، بعض تو وہ ہیں جن کی تائید موجود ہے اور جس میں شک نہیں، اس میں وہ فرع ہے جس میں ایسی نہر کا ذکر ہے جس کو اوپر سے بند کر دیا گیا ہواور اس کے ساتھ وہ اضافے جو میں نے کئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کی تائید بالکل نہیں ملتی ہے اور یہ پہلے دو مسئلے ہیں، اور میں نہیں سمجھتا کہ دونوں فریق ان دونوں مسئلوں کو مدد نہ ملنے والے پانی سے بنا دینے پر کیونکر متفق ہوگئے ہیں؟ کیونکہ وضو کرنے والا یا تو نہر میں وضو کرے گا جو دو حوضوں کے درمیان ہے یا پرنالہ سے کرے گا اور اس میں شک نہیں کہ اوپر والا حوض اور برتن دونوں پانی کو مدد پہنچاتے ہیں، پھر مقامِ غور ہے کہ وہ حمّام کے حوض کو جاری پانی سے لاحق کرنے پر کیوں راضی ہوئے جبکہ پانی نالی کے ذریعہ اوپر سے اُتر رہا ہو اور چُلّو سے مسلسل پانی لیا جارہا ہو،
وقد(۴) جزم بہ فی الفتح ھھنا کما رأیت ونظیرہ ماقدمنا عن العلامۃ ش فی الاصل الرابع ان طھارۃ الدلو اذا افرغ فیہ ماء حتی سال مبنی علی عدم اشتراط المدد ومنھا ماللنزاع فیہ مجال وفی ÷ وان اومی الی التائید فمن طرف خفی، فان الماء(۵) الممتزج فی الھواء اوالجاری(۶) علی الارض فی الخامسۃ والسادسۃ یمدہ الصب(۷) بل وکذلک فی السابعۃ وان کان لفظ الذخیرۃ صب علیھا الماء فجری قدر ذراع لا حتی جری کی یدل ظاھرا علی عدم انقطاع الصب الی ھذہ الغایۃ فان الفاء وان لم یدل دلالۃ حتی غیر انھا لا تدل ایضا علی الانقطاع والاحتمال یقطع الاستدلال وکذلک(۸) فرع العصیر فان لہ مدد ا ما دام العصر قائما ،
اور فتح نے یہا ں جزم کیا جیسا کہ آپ نے دیکھا اور اس کی نظیر وہ ہے جو ہم نے علّامہ ''ش'' سے چوتھی اصل میں نقل کی کہ ڈول کی پاکی جب اس میں پانی بہایا جائے یہاں تک کہ اس کے اوپر سے بہہ نکلے مدد کے شرط نہ ہونے پر مبنی ہے اور ان فروع میں سے بعض وہ ہیں جن میں نزاع کی گنجائش کافی ہے اور اس میں تائید کی طرف ہلکا سا اشارہ ہے کیونکہ ہوا میں مِلا ہوا پانی، یا زمین پر جاری پانچویں چھٹی صورت میں اس کو بہانا مدد دیتا ہے بلکہ ساتویں میں بھی ایسا ہی ہے اگرچہ ذخیرہ کے الفاظ ''صب علیھا الماء فجری قدر ذراع'' الخ ہیں، نہ کہ حتی جری، اگر حتی کہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ بہانا اس غایت تک منقطع نہیں ہوا، کیونکہ ''فا'' اگرچہ ''حتی'' کے مفہوم پر دلالت نہیں کرتی تاہم وہ انقطاع پر بھی دلالت نہیں کرتی اور جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال ختم ہوجاتا ہے اور اسی طرح عصیر کی فرع کیونکہ اس کو اس وقت تک مدد ملتی رہتی ہے جب تک نچوڑنا برقرار رہتا ہے،
فانقلت المسألۃ مرسلۃ فیشمل مااذا انقطع العصر قلت قالوا فیھا والعصیر لیسیل فالاستشھاد بھا یتوقف علی کون السیلان الباقی بعد انقطاع المدد جریانا وھو اول الکلام فانقلت نعم ھو جریان بالاتفاق الم تسمع مانقل فی الفتح والتوشیح عن شارط المدد ان الماء الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد زاد السراج اما اذا لم یکن لہ مدد یصیر مستعملا ۱؎ اھ فقد سماہ جاریا قلت جعلہ فی حکم الراکد والمقصود الحکم فلا شک ان المراد لیسیلان العصیر وجریان الماء مالا یقبل بہ اثر النجاسۃ ویطھر بعضہ بعضًا نعم قد یقال فی الخامسۃ والسادسۃ ان الامتزاج فی الھواء اوعلی الارض انما یکون بعد الصب فقدر ما یخرج بالصب یمتزج فیحصل المزج الاخیر بعد تمام الصب فلولم یبق جاریا بعدہ نجس الممتزج الاخیر کلہ۔
اگر یہ کہا جائے کہ مسئلہ تو مطلق ہے یہ اُس صورت کو بھی شامل ہے جبکہ نچوڑنا ختم ہوجائے، اس کے جواب میں میں کہوں گا کہ اس میں فقہاء نے فرمایا ہے اور عصیر بہہ رہا ہو تو اس سے استدلال اس امر پر موقوف ہے کہ باقی کا بہنا انقطاع مدد کے بعد جاری ہو اور یہی پہلی بات ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہاں یہ تو بالاتفاق جاری ہوتا ہے، کیا تم نے وہ نقل نہیں سُنی جو فتح اور توشیح میں مدد کے شرط کرنے والے سے منقول ہے کہ جاری پانی اس وقت مستعمل نہ ہوگا جبکہ اس کیلئے مدد ہو سراج نے اتنا اور اضافہ کیا کہ اگر اس کیلئے مدد نہ ہوئی تو وہ مستعمل ہوجائیگا اھ تو اس کو انہوں نے جاری ہی کہا، میں کہتا ہوں انہوں نے اس کو ٹھہرے ہوئے کے حکم میں کیا ہے اور مقصود حکم ہے تو اس میں شک نہیں کہ عصیر کے بہنے اور پانی کے جاری ہونے سے مراد وہ ہے جو اثر نجاست کو قبول نہ کرے اور جس کا بعض حصہ بعض کو پاک کر دے، ہاں پانچویں چھٹی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ ہوا میں ملنا یا زمین پر جاری ہونا بہنے کے بعد ہی ہوگا تو جس قدر بہانا ہوگا وہ مل جائے گا اور آخری ملنا مکمل بہانے کے بعد ہی متحقق ہوگا تو اگر وہ جاری نہ رہا اس کے بعد تو آخری ملنے والا مکمل طور پر نجس ہوجائے گا۔ (ت(
وثانیا الاشھر فی حد الجاری مایذھب بتبنۃ والاظھر ما یعد جاریا کما فی الدر وھو الاصح کما فی البدائع والتبیین والبحر والنھر ولا شک انھما صادقان علی نھر سد من فوقہ فانہ یذھب بحزمۃ فضلا عن تبنۃ ولا یسوغ لاحد اھل العرف ان یقول انہ راکد فمن العجب(۱) بعد ذکرہ اختیار اشتراط المدد الا ان یقال ان الوضوء بغمس الاعضاء انما یکون فیما بعد السد منفصلا عنہ لا فی الاجزاء الملاصقۃ لہ وما انفصل عن السد فلہ من فوقہ مدد تأمل۔
اور ثانیا، جاری کی جو مشہور تعریف ہے وہ یہ ہے کہ جاری پانی وہ ہے جو تنکا بہا کر لے جائے اور اظہر یہ ہے کہ جس کو جاری سمجھا جائے جیسا کہ دُر میں ہے اور وہ ہی صحیح ہے جیسا کہ بدائع، تبیین، بحر اور نہر میں ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ دونوں تعریفات اُس نہر پر صادق ہیں جو اوپر سے بند کردی گئی ہو کیونکہ یہ تو پورا ایک گھٹا بہر کر لے جائے گی چہ جائیکہ تنکا اور اہلِ عرف میں سے کسی کو روا نہیں کہ وہ اس پانی کو ٹھہرا ہوا کہے، تعجب ہے کہ یہ بات ذکر کرنے کے بعد انہوں نے مدد کے شرط ہونے کو اختیار کیا ہے، تاہم یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اعضاء ڈبو کر وضو اسی پانی سے ہوسکتا ہے جو بندش کے بعد اس سے جدا ہو، اس پانی میں نہیں ہوسکتا جس کے اجزاء بندش کے ساتھ ملے ہوئے ہوں اور جو بندش سے جدا ہے اس کو اوپر سے مدد مل رہی ہے تأمل
وثالثا یظھر(۲) لی واللّٰہ تعالٰی اعلم ان لیس جریان(۳) الماء الا حرکتہ بطبعہ فی فضاء وبقاؤہ جاریا علی محل واحد ھو الذی یحتاج الی المدد لان الجاری لایقف فلولم یمد لاخلی المحل وبالمدد یتجدد علیہ امثالہ فیستمر جاریا علیہ مادام المدد غیران الجریان دافع لاثرالنجاسۃ عن الماء ما استمر جاریا لارافع لہ عنہ فلوجری(۴) الماء المتنجس بنفسہ بان کان فی صبب سد مجراہ ففتح ففاض لم یطھر ابدا بل لابد للطھارۃ من جریانہ مع الطاھر فجریان الطاھر لایحتاج الی المدد کنھر سد من فوقہ وکما تری اذا اشتد المطر ووقف لایزال الماء الواقع علی الارض والسطوح جاریا مدۃ بعدہ ولا یصح لاحد ان یقول وقف الواقع فور وقوف المطر وجریان النجس المطھرلہ یحتاج الی مدد من طاھر فلیکن محمل القولین وباللّٰہ التوفیق۔
اور ثالثا، جو اللہ کے فضل سے مجھ پر منکشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کے جاری ہونے سے فضا میں اس کی طبعی حرکت مراد ہے اور اس کا محل واحد پر جاری رہنا مدد کا محتاج ہے کیونکہ جو جاری ہے وہ ٹھہرے گا نہیں، تو اگر اس کو مدد نہ ملے تو وہ جگہ خالی ہوجائے گی اور مدد کی وجہ سے اس پر اس کے امثال کا تجدد ہوگا تو وہ اس پر جاری رہے گا جب تک مدد ملتی رہے گی، البتہ جریان پانی سے نجاست کے اثر کو دفع کرنے والا ہے جب تک کہ وہ جاری ہے اس سے رفع کرنے ولا نہیں ہے تو اگر ناپاک پانی ازخود جاری ہوا مثلاً کسی ڈھلوان میں تھا جو بند تھا پھر اس کو کھولا گیا تو وہ پانی جاری ہوگیا تو اس طرح وہ کبھی پاک نہ ہوگا بلکہ پاکی کیلئے ضروری ہے کہ وہ پاک پانی کے ساتھ جاری ہو، تو پاک کا جاری ہونا مدد کا محتاج نہیں جیسے کوئی نہر کہ اوپر سے بند کردی جائے، اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ شدیدبارش کے بعد چھتوں وغیرہ پر جمع شدہ پانی بہت دیر تک بہتا رہتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ گرنے والا پانی بارش کے ٹھہرنے کے فوراً بعد ٹھہر گیا اور ناپاک پانی کا بہنا جو اس کو پاک کردے، پاک پانی کی مدد کا محتاج ہے تو دونوں قولوں کا یہ محمل ہے وباللہ التوفیق۔ (ت(
ثم اقول ھذا(۱) اذا کان الماء فی فضاء اما اذا کان فی جوف کحوض اوظرف فلا بد مع ذلک من خروجہ عنہ لان الماء کان واقفا فیہ والماء لایقف ماصادف منحدرا فدل وقوفہ علی عدمہ فاذا دخلہ ماء اٰخر فلا یدفعہ الی منحدر بل یعلیہ الی فوق فلا یکون جاریا الی ان یقطع العوائق بامتلاء المحل فیجد متسعا فینحدر فعند ذلک یصیر جاریا فمن اجل ھذا شرط فیہ مع الدخول الخروج فاذا(۲) کان حوض فی حوض والماء وراء الصغیر اوماؤہ کان واقفا فیہ لانعدام المنحدر فلا یجری مالم یخرج من الاعلی لما علمت اما اذا لم یکن الا فی الصغیر ووراء ہ مسیل فدخل الطاھر وملأہ وجعل الماء یخرج منہ ویسیل فقد جری الی ان یصل الی مایحاذیہ من سطح الکبیر فیقف لانعدام المنحدر فما یدخل الیہ بعدہ لایجریہ بل یعلیہ الی ان یملأ الا علی ثم یفیض۔
پھر میں کہتا ہوں یہ اُس صورت میں ہے جبکہ پانی فضا میں ہو، لیکن پانی اگر کسی تہ میں ہے جیسے حوض یا برتن تو ضروری ہے کہ وہ اس برتن سے خارج بھی ہو کیونکہ پانی اس میں ٹھہرا ہوا تھا اور پانی اترتی ہوئی چیز سے متصل ہونے کے وقت ٹھہر نہیں سکتا ہے، تو اس کا ٹھہرنا اس کے عدم کی دلیل ہے تو اب جب اس میں دوسرا پانی داخل ہوا تو اس کو ڈھلوان کی طرف دھکا نہیں دے گا بلکہ اس کو اوپر کی طرف بلند کرے گا تو وہ اس وقت تک جاری نہ ہوگا جب تک کہ وہ رکاوٹوں کو محل کے پُر کرنے سے دُور نہ کردے، پھر وہ کشادگی پائیگا اور اُترے گا اُس وقت وہ جاری ہوگا، اسی وجہ سے اس میں دخول کے ساتھ ہی خروج کی شرط بھی رکھی گئی ہے، تو جب ایک حوض دوسرے حوض میں ہو اور پانی چھوٹے حوض کے پیچھے ہو یا اس کا پانی ٹھہرا ہوا ہو کیونکہ اس میں ڈھلوان موجود نہیں تو جب تک اوپر سے خارج نہ ہو جاری نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے جانا اور اگر پانی صرف چھوٹے میں ہو اور اس کے پیچھے پانی کے بہنے کا راستہ ہو اور پاک اس میں داخل ہوگیا ہو اور اس کو بھر دیا ہو یہاں تک کہ پانی اُس میں سے بہہ کر نکل رہا ہو تو اب جاری ہوگا یہاں تک کہ بڑے حوض کی مقابل سطح تک جا پہنچے، اب ٹھہر جائیگا کیونکہ ڈھلوان موجود نہیں ہے تو اب اس کے بعد جو آئے گا وہ اس کو جاری نہ کرے گا بلکہ اس کو بلند کرے گا یہاں تک کہ اُوپر والے کو بھر دے گا پھر بہے گا۔ (ت(
ثم اقول: ھذا کلہ فی الجریان الحقیقی اما ما الحقوا بہ کحوض صغیر للحمام اوللوضوء یدخل فیہ الماء من الانابیب والمیازیب ویخرج بالغرف المتدارک والبئر ینبع(۱) فیھا الماء من تحت ویخرج بالاستقاء المتوالی او بفتح منفذ فیھا ان امکن کمامر(عہ۱) عن الھندیۃ عن الظھیریۃ وعن المنحۃ عن الخیر الرملی وفی البحر عن البدائع عن الامام الحسن بن زیاد عند تکرار النزح ینبع الماء من اسفلہ ویؤخذ من اعلاہ فیکون ۱؎ کالجاری اھ
پھر میں کہتا ہوں یہ سب بحث جریان حقیقی میں ہے، لیکن فقہاء نے اس کے ساتھ جس کو لاحق کیا ہے جیسے چھوٹا حوض نہانے کیلئے یا وضو کیلئے جس میں پانی نلوں یا پرنالوں سے آتا ہے اور مسلسل چُلّو بھرنے سے نکلتا ہے، اور یا وہ کنواں جس میں نیچے پانی کے سوتے ہیں، اور مسلسل بھرنے سے وہ پانی نکلتا رہتا ہے یا اس میں کوئی سوراخ کھول دیا گیا ہے اگر ممکن ہو، جیسا کہ ہندیہ سے ظہیریہ سے اور منحہ سے خیر رملی سے گزرا، اور بحر میں بدائع سے امام حسن بن زیاد سے منقول ہے کہ پانی بار بار نکالا جائے تو نیچے سے نکلتا رہے اور اوپر سے لے لیا جاتا ہے، تو یہ مثل جاری کے ہوگا اھ
 (عہ۱) نشر علی ترتیب اللف ۱۲ (م(

اجمال کی ترتیب پر تفصیل ہے۔ (ت(
 (۱؎ بحوالہ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)
Flag Counter