Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
100 - 176
اقول حوض یکری منہ نھر فیجری فیہ ماء فیجتمع فی مکان اٰخر کیف یتصور ھذا من دون مسافۃ بینہما نعم یمکن فی الحفرتین ان تکونا متجاورتین یکون خروج الماء من احدھما دخولہ فی الاخری۔
میں کہتا ہوں ایک ایسا حوض جس سے نہر نکالی جائے اور اس میں پانی چھوڑ دیا جائے، پھر وہ پانی دوسری جگہ جمع ہوجائے، یہ عمل دونوں میں مسافت کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ ہاں دونوں گڑھوں میں اس امر کا امکان ہے کہ قریب قریب ہوں، کہ ایک سے پانی نکلتے ہی دوسرے میں داخل ہوتا ہو۔ (ت(
فان قلت المراد مسافۃ فوق مایغمس فیھا المتوضیئ اعضائہ لیتحرک علی الارض بعد انفصالہ من اعضائہ فیأتی علیہ ماء اٰخر قبل دخولہ فی المکان الثانی۔
اگر یہ کہا جائے کہ مسافت سے مراد ایسی مسافت ہے کہ جو وضو کرنے والے کے اعضاء کے ڈوبنے سے زائد ہوتا کہ پانی اس کے اعضاء سے جُدا ہونے کے بعد حرکت کرے، اور اس کے دوسری جگہ داخل ہونے سے پہلے دوسرا پانی اس پر آجائے۔ (ت(
اقول اذھو جار فلا یتاثر ولا یفتاق الی ان یجریہ جار اٰخر فلو اجتمع من فورہ فی المکان الثانی لکان طھورا فالوجہ ان لا(۱) یجعل ھذا تقییدا ولا(۲) تاویلا بل بیانا لفائدۃ التصویر بکری النھر ویوجہ بانہ لولا ذلک لانقطع جریانہ بدخولہ فی بطن الثانی کما قدمنا تحقیقہ ان الحرکۃ فی البطن سیلان لاجریان فیقع الوضوءفی الراکد فیفسد ثم البناء(۳) علی مسألۃ فرق الملاقی کما فعلنا فلا حاجۃ الی البناء علی مھجور لکن صاحب الحلیۃ مال الی التسویۃ ثم ذکر السراج مسألۃ المیزاب وعزاھا للشیخ الزاھد ابی الحسن الرستغفنی وقال فیھا وھو یتوضؤ فیہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں چونکہ وہ جاری ہے اس لئے متاثر نہ ہوگا اور نہ محتاج ہوگا اس بات کا کہ اس کو کوئی دوسرا جاری پانی جاری کرے اب اگر وہ فوراً ہی دُوسری جگہ جمع ہوجائے تو طہور ہوگا تو وجہ یہ ہے کہ اس کو قید نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس کو تاویل قرار دیا جائے بلکہ وہ نہر کھودنے کے فائدے کا بیان ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کا جاری ہونا دوسرے بطن میں داخل ہونے کے سبب منقطع ہوجاتا، جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے کہ حرکت بطن میں سیلان کہلاتی ہے نہ کہ جریان، اور اس طرح وضو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوگا اور پانی فاسد ہوجائیگا، پھر ملاقی کے فرق کے مسئلہ پر اس کی بنا ہے جیسا کہ ہم نے کیا ہے، تو کسی مہجور ومتروک چیز پر بنا کی حاجت نہیں، لیکن صاحبِ حلیہ کا میلان برابری کی طرف ہے، پھر سراج نے پرنالہ کا مسئلہ بیان کیا اور اس کو شیخ زاہد ابو الحسن الرستغفنی کی طرف منسوب کیا اور اس میں کہا ''اور حالانکہ وہ اس میں وضو کررہا ہے اھ (ت(
 (۱؎ بحوالہ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)
اقول ای بالغمس وبہ یتضح مااجملہ فی الفتح قال لان استعمالہ حصل حال جریانہ والماء الجاری لایصیر مستعملا باستعمالہ ثم قال السراج ومن المشائخ من انکر ھذا القول وقال الماء الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر قال والصحیح القول الاول بدلیل مسألۃ واقعات الناطفی فذکر مسألۃ سد النھر ممن فوق قال فان ھناک لم یبق للماء مدد ومع ھذا یجوز التوضؤ بہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں یعنی وہ اعضاء کو ڈبو کر وضو کر رہا ہے اور اسی سے وہ چیز واضح ہوتی ہے جس کا انہوں نے فتح میں اجمال کیا ہے۔ فرمایا کہ اس کا استعمال پانی کے جاری رہنے کی صورت میں ہوا ہے اور جاری پانی کسی کے استعمال سے مستعمل نہیں ہوتا ہے، پھر سراج نے فرمایا :اور بعض مشائخ نے اس قول کا انکار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جاری پانی اس وقت مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس کا سوتا ہو جیسے چشمہ یا نہر، فرمایا اور صحیح پہلا قول ہے، اس پر دلیل واقعات الناطفی کی عبارت ہے، پھر انہوں نے نہر کو بند کرنے کا مسئلہ ذکر کیا کہ اس صورت میں پانی کی مدد باقی نہ رہی لیکن اس کے باوجود اس سے وضو جائز ہے۔ (ت(
 (۱؎ بحوالہ بحرالرائق    بحث الماء جاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)
اقول ولا تنس ماقدمناہ
 (ہم نے جو پہلے ذکر کیا ہے اُسے نہ بُھولیے۔ ت) علامہ نے ردالمحتار میں اور مسائل سے اس قول دوم کی تائید کی
فقال ویؤیدہ ایضا مامر من انہ لوسال(۱) دم رجلہ مع العصیر لاینجس خلافا لمحمد ۲؎
 (فرمایا اور اس کی تائید یہ عبارت کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کا خون پھلوں کے رس کے ساتھ جاری ہوا تو نجس نہ ہوگا، اس میں محمد کا خلاف ہے اھ۔ ت(
 (۲؎ ردالمحتار        باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)
قلت المسألۃ فی الدرعن الشمنی وغیرہ وفی المنیۃ عن المحیط وفی الحلیۃ عن المجتبیٰ وعن مختارات النوازل وھی مقیدۃ بأن کان العصیر لیسیل ولم یظھر فیہ اثر الدم کما نصوا علیہ قال وفی الخزانۃ (فذکر ماقدمنا فی الاصل العاشر من مسألۃ اختلاط ماء الانائین فی الھواء اواجرائہ فی الارض قال ونظمھا المصنف فی تحفۃ الاقران قال وفی الذخیرۃ فذکر مامر فی العاشر عن الحسن بن ابی مطیع۔
میں کہتا ہوں مسئلہ دُر میں شمنی وغیرہ سے اور منیہ میں محیط اور حلیہ میں مجتبٰی سے اور مختارات النوازل سے ہے، اور یہ اس امر سے مقید ہے کہ عصیربہہ رہا ہو اور اس میں خون کا اثر ظاہر نہ ہو، جیسا کہ علماء نے صراحت کی ہے فرمایا، اور خزانہ میں ہے پھر اُنہوں نے وہ عبارت نقل کی جو ہم نے اصل عاشر میں ذکر کی یعنی دو برتنوں کا پانی جو ہوا میں آپس میں مل گیا یا زمین پر جاری کیا، فرمایا مصنّف نے اس کو تحفۃ الاقران میں ذکر کیا فرمایا اور ذخیرہ میں ہے پھر وہ ذکر کیا جو فصل عاشر میں حسن ابن ابی مطیع سے ہے۔ (ت(
یہاں تک تائید قول دوم میں سات مسئلے ہوئے:

۱۔ حوض صغیر میں سے نہر کھود کر پانی بہا کر اُس میں وضو۔

۲۔ پر نالے میں پانی ڈلوا کر اس میں وضو۔

۳۔ نہر کہ اوپر سے اُس کا مینڈھا باندھ دیا ہے اُس میں وضو۔

۴۔ شیرہ انگور نچوڑ رہا ہے اور وہ جاری ہے کُچھ خون اُس میں ٹپک گیا جس کا اثر ظاہر نہ ہوا نجس نہ ہوگا۔

۵۔ پاک ناپاک برتنوں کے پانی ہوا میں ملا کر چھوڑے۔

۶۔ یا زمین میں بہائے دونوں پاک ہوگئے۔

۷۔ ناپاک زمین پر پانی بہایا ہاتھ بھر بہ گیا زمین بھی پاک پانی بھی پاک

اقول ان سب سے صاف تر وہ مسئلہ ہے کہ برف پگھلا اور ایسے راستہ پر بہا جس میں گوبر وغیرہ نجاسات ہیں اگر نجاسات کا اثر اس میں ظاہر نہ ہوا اس سے وضو ہوسکتا ہے،
وھو ماقدمناہ فی الاصل العاشر عن المنحۃ عن الھدیۃ عن الخزانۃ وعن البزازیۃ وعن الخلاصۃ عن الفتاوٰی۔
یہ وہ ہے جو پہلے اصل عاشر میں ذکر کر آئے ہیں منحہ سے، ہدیہ سے، خزانہ سے، بزازیہ سے، خلاصہ سے اور فتاوٰی سے۔ (ت(
شرح ہدیہ میں فرمایا:ھذا مبنی علی عدم اشتراط المدد فی الماء الجاری ۱؎ اھ۔
یہ اس بناء پر ہے کہ جاری پانی میں مدد کی شرط نہ ہو۔ (ت(
 (۱؎ بحوالہ منحۃ الخالق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۵)
Flag Counter