فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
99 - 120
اور دوم عین اجماع تو نص آحاد سے اقوی اور قطعا مظہر ناسخ کہ نص غیر منسوخ کے خلاف اجماع محال تو اس کا حقیقتا معارض نص واقع ہونا معقول ہی نہیں۔ اوربظاہر ہو تو ہر گز مردود نہ ہوگا بلکہ وہی مرجح ہوگا اور نص ناسخ کابتانے والا ۔
وھذا معنی قولہم ان الاجماع لاینسخ اماکونہ کاشفا عن ناسخ فاجماع یظہر ذٰلک لمن راجع مطارحاتہم فی المسئلۃ
ان کے قول کہ ''اجماع منسوخ نہیں ہوتا'' کایہی معنی ہے لیکن اجماع کا کسی ناسخ کے لئے کاشف ہونا یہ اتفاقی مسئلہ ہے یہ بات اس شخص پر ظاہر جو اس مسئلہ میں فقہاء کی ابحاث پر مراجعت رکھتاہے۔ (ت)
مسلم وفواتح فصل ترجیح میں ہے :
الاجماع ، یترجع ( علی النص ) ۲؎۔
اجماع نص پر ترجیح پاتاہے۔ (ت)
(۲؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی فصل فی الترجیح منشوارات الرضی قم ایران ۲/ ۲۰۴)
فواتح فصل تعارض میں ہے :
الاجماع مرجح ومقدم علی الکل عند معارضتہ ایاھا لانہ لایکون منسوخا بکتاب اوسنۃ ولایکون باطلافتعین ان یکون الکتاب والسنۃ ولوکانت متواترۃ منسوخۃ والاجماع کاشف عن النسخ ۳؎۔
اجماع تمام دلائل پر ترجیح یافتہ اور مقدم ہوتاہے جس کا ان دلائل سے تعارض ہو، کیونکہ اجماع کتاب یا سنت سے منسوخ نہیں ہوتا اور نہ ہی کتاب وسنت کا مظہر ہے جو کسی کتا ب وسنت کا ناسخ ہے اگر چہ یہ متواتر کیوں نہ ہو۔ (ت)
(۳؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت فصل فی التعارض منشوارات الرضی قم ایران ۲/ ۱۹۱)
اوررسوم کی حجیت مطلقہ تامہ وافیہ پر نصوص صریحہ ناطقہ، تو اس کا اضمحلال معاذاللہ سواداعظم کا وقوع فی الضلال اور وہ شرعا محال ہے۔
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتجتمع اُمتی علی الضلالۃ ۴؎ ، وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یداﷲ علی الجماعۃ ۱؎۔ وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیکم بالجماعۃ والعامۃ ۲؎ وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتبعوا السواد الاعظم ۳؎ الی غیر ذٰلک ممابلغ مجموعہ حدالتواتر وقد سردناھا وتخاریجہا فی رسالتنا ''فیہ السرین بجواب الاسئلۃ العشرین ۱۳۱۱ھ''
حضو ر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ میری امت گمراہی پرمجتمع نہیں ہوسکتی ، اور کہ جماعت پر اللہ کا یَد ہے، اور کہ تم پر جماعت اور عوام کا ساتھ لازم ہے۔ اور یہ کہ سواد اعظم کی پیروی کرو وغیرہ ذٰلک آپ کے ارشادات کا مجموعہ تو اتر کی حد تک ہے۔ ان احادیث اور ان کی تخریج کوہم نے اپنے رسالہ ''فیح السرین بجواب الاسئلۃ العشرین'' میں جمع کردیا ہے۔ (ت)
(۴؎ جامع الترمذی ابواب الفتن باب فی لزوم الجماعۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۹)
(المستدرک للحاکم کتاب العلم لایجتمع اللہ ھذہ الامۃ علی الضلالۃ دارالمفکر بیروت ۱/ ۱۱۵)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الفتن باب فی لزوم الجماعۃ امین کمپنی دہل ۲/ ۳۹)
(ا لمستدرک للحاکم کتاب العلم لایجتمع اللہ ہذہ الامۃ علی الضلالۃ دارالفکر بیروت ۱/ ۱۶۔ ۱۱۵)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن جبل المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۳۳)
(۳؎ المستدرک للحاکم کتاب العلم لایجتمع اللہ ہذہ الامۃ علی الضلالۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۱۱۵)
فصول البدائع میں ہے :
لوندرالمخالف مع کثرۃ المتفقین کان قول الاکثر حجۃ وان لم یکن اجماعا ۴؎.
اگر مخالف میں کوئی نادر قول ہو تو اکثر یت کا قول حجت ہوتاہے اگرچہ وہ اجماع نہ ہو۔ (ت)
(۴؎ فصول البدائع فی اصول الشرائع)
بالجملہ مقابلہ نص میں ثانی تو مطلقا مضمحل نہیں
اعنی الطلاق العدم
(میری عدم کا اطلاق ہے۔ ت) اور اول بھی مطلقا مضمحل نہیں
اعنی عدم الطلاق
(میر مراداطلاق کاعدم ہے۔ ت)اور ثالث
عند التحقیق ملتحق بالثانی وان قیل وقیل
(اگرچہ خلاف میں قیل قال ہے۔ ت) بعض نظائر لیجئے قرآن کریم پر اجرت لینے سے نہی میں ا حادیث کثیرہ وارد، یہاں تک کہ حدیث اقدس میں ہے : تعلیم قرآن پر عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایک کمان بھیجی گئی۔انھوں نے خیال کیایہ کوئی مال نہیں اور جہادمیں کام دے گی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی۔ فرمایا
: ان اردت ان یطوقک اﷲ طوقا من نار فاقبلہا ۱؎۔ رواہ ابوداؤ وابن ماجۃ وفی الباب عن عبدالرحمٰن بن شبل وابی ھریرۃ وعبدالرحمن بن عوف وابی کعب وابن بریدۃ وابی الدرداء وغیرہم رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
گر تو چاہے کہ اللہ تعالٰی تیرے گلے میں آگ کا طوق ڈالے تو اسے لے لے (اسے ابوداؤد اورابن ماجہ نے اور اس باب میں عبدالرحمن بن شبل اور ابوھریرہ اورعبدالرحمن بن عوف اور ابی کعب اور ابن بریدہ اورا بی الدرداء وغیرہم رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے روایت کیا۔ ت)
(۱؎سنن ابی داؤد کتا ب البیوع باب فی کسب العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۲۹)
(سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب الاجر علی تعلیم القرآن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۷)
(مسند احمد بن حنبل حدیث عبادۃ بن الصامت مکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۳۱۵)
اور قیاس بھی اسی پرشاہد۔
لان القربۃ متی حصلت وقعت عن العامل ولہذا یعتبرا ھلیتہ فلایجوزلہ اخذالاجرۃ من غیرہ کالصوم والصلٰوۃ کما فی الہدایۃ۔
کیونکہ قربت جب حاسل ہو توہ عامل سے واقع ہوتی ہے اس لئے عامل کی اہلیت کا اعتبار کیاجاتاہے لہذا اس پر غیر سے اجرت حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ مثلا نماز وروزہ عبادات، جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ (ت)
اورہمارے علماء کرام کامذہب بھی تحریر اور صدر اول میں قطعا رواج معدوم بایں ہمہ عرف حادث و ضرورت کے سبب جواز پر فتوٰی ہوا۔
بستان فقیہ امام ابی اللیث میں ہے :
اما اذاعلم بالاجرۃ فقد اختلف الناس فقال اصحابنا المتقدمون لایجوز اخذ الاجرۃ وقال جماعۃ من العلماء المتاخرین یجوز فالا فضل ان یشارط للحفظ و تعلیم الہجاء، والکتابۃ فلوشرط لتعلیم القراٰن ارجو ان لاباس بہ لان السلمین قدتوارثوا ذٰلک واحتاجواالیہ اھ ۱؎ مختصرا۔
اگر اجرت پر تعلیم دی تواس میں اختلاف ہے ہمارے اصحاب متقدمین نے فرمایا اجرت وصول کرنا جائز نہیں اور متاخرین کی ایک جماعت نے فرمایا جائز ہے۔ تو افضل یہ ہے حفظ قرآن، تلفظ حروف اور لکھائی کی تعلیم پر اجرت کی شرط کرے۔ تو اگر تعلیم قرآن پر اجرت کی شرط کی تو مجھے امید ہے اس پر حرج نہ ہوگا کیونکہ مسلمان اس پر عمل پیرا ہیں اور اس کی ضرورت محسو س کرتے ہیں اھ مختصرا (ت)
(۱؎ بستان العارفین لللامام ابی اللیث سمرقندی علی ہامش تبنیہ الغافلین الباب السابع عشر داراحیاء کتب مصر ص ۲۹۔ ۲۸)
بٹائی پر زمین اٹھانے سے احادیث صحیحہ معتبرہ میں منع وارد، یہاں تک کہ حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما میں ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا :
من لم یذرالمخابرۃ فلیؤذن بحرب من اﷲ ورسولہ ۲؎۔ رواہ ابوداؤد والطحاوی وفی الباب عن رافع بن خدیج وثابت بن الضحاک وزیدبن ثابت وانس بن مالک وابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
جو بٹائی نہ چھوڑے وہ اللہ ورسول سے لڑائی کا اعلان کرے (اسے ابوداؤد اور طحاوی نے روایت کیا ، اور اس باب میں رافع بن خدیج اور ثابت بن ضحاک اور زید بن ثابت اور انس بن مالک اور ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نےروایت کیا ۔ (ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی الخابرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۲۷)
اور قیاس بھی بوجوہ کثیرہ اسی کا مساعد۔ ولہذا ہمارے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ باتباع جماعت صحابہ وتابعین محرمین مانعین حرام وفاسد جانتے ہیں بایں ہمہ صاحبین نے بوجہ تعامل اجازت دی اور اسی پر فتوٰی قرار پایا۔
ہدایہ میں ہے:
قال ابوحنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ المزارعۃ بالثلث والربع باطلۃ و قالاجائزۃ، لہ ماروی انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نہی عن المخابرۃ وھی المزارعۃ ولانہ استیجارببعض مایخرج من عملہ فیکون فی معنی قفیز الطحان ولان الاجر مجہول او معدوم وکل ذٰلک مفسد ومعاملۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اھل خیبر کان خراجہ مقاسمۃ بطریق الامن والصلح وھو جائز، الا ان الفتوی علی قولہما لحاجۃ الناس الیہا ولظہور تعامل الامۃ بہا والقیاس یترک بالتعامل کمافی الاستصناع ۱؎ اھ مختصرا۔
امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ زمین کا تہائی یا چوتھائی بٹائی حصہ پر دینا باطل ہے۔ اور صاحبین رحمہمااللہ تعالٰی نے فرمایا یہ جائز ہے۔ امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مخابرہ یعنی مزارعۃ سے منع فرمایا، اور یہ مزارع کے عمل سے حاصل شدہ کے کچھ حصہ کو اجرت بنانا ہے۔ تویہ آٹاپسائی کی اجرت آٹا کو بنانے کی طرح ہے اور یہ اجرت مجہول یا معدوم ہے اور یہ تمام امور عقد کے لئے مفسد ہیں اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اہل خیبر سے زمین کامعاملہ تو وہ امن کے عوض اخراج کی وصولی تھی جوکہ جائز ہے لیکن اس مسئلہ میں فتوی صاحبین کے قول پر ہے لوگوں کی ضرورت اور امت کا تعامل پایا جانے کی وجہ سے جبکہ قیاس کو تعامل کے مقابلہ میں ترک کیا جاتاہے جیساکہ سائی کی چیز بنوانا اھ مختصرا۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب المزارعۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۲۳۔ ۴۲۲)
غرض ایسے تعاملات ضرور حجج مطلقہ ہیں انھیں مطلقا مقابل نص مردودنہیں کہہ سکتے اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ عرف وتعامل جس میں ان کا کلام ہے معارضہ نص کی اصلا طاقت نہیں رکھتا جب خلاف کرے گا رد کردیا جائے گا۔