فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
98 - 120
ثانیا انھیں مسائل مذکورہ کو دیکھئے جن میں علمائے مذہب محل عرف وتعامل مانا کیا کوئی ثابت کرسکتاہے کہ تمام بلاد کے تمام عباد کایہی عرف ہے۔ بھلا کھڑاؤں کہاں کہاں پہنچی جاتی ہے، پٹھے دار کہاں کہاں ہوتی ہے، اون کی ٹوپی کہاں کہاں بنی جاتی ہے، ایک دے کر دوسری اس کے ساتھ کی کہاں کہاں بنی ہے، کلہاڑی، بسولا، آرا، پھاوڑا، چارپائی، گھڑے، لوٹے، دیگ، دیگچی، طشت، دودھ، دہی کے لئے گائے بیچ لےکے غلہ قرض کے لئے روپیہ کہاں کہاں وقف ہوئے ہیں الی غیر ذٰلک ممالایخفی۔
ثالثا حاشاللہ یہ اگر عرف وتعامل حقیقتا اجماع کل مسلمانان ہند درکنار اتفاق اکثر مومنین جمیع بلاد ہی مراد علماءہوتا تو مسئلہ کالمستحیل ہوجاتا اور اس کی بناء پر حکم ناممکن رہتا۔ زمانہ مشائخ کرام میں بحمداللہ تعالٰی الام مغارب ارض سے مشارق تک پھیل چکا تھا، مسلمان اقطاروآفاق میں آباد تھے کوئی شخص ان بلاد وقرٰی وشعاب وجبال کی گنتی بھی نہ بتا سکتا جہاں جہاں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پکارا جاتا تھا جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، چہ جائے آنکہ مسلمانوں کا شمار چہ جائے آنکہ ان سے کے عمل وعرف پر اطلاع اور بغیر اس کے کسی کام میں حکم لگانا کہ عامہ بقاع کے جمہور مسلمین کا عرف یوں ہے قطعا محال تو کسی مسئلہ کو عرف وتعامل پر بنا کرناہی ممتنع ہوتا، دورکیوں جائیے اب تو ریل بھی آگبوٹ بھی ہے تار بھی ہے، اخبار بھی ہے، ڈاک کے سلسلہ بھی منظم ہیں۔ مہینوں کی راہیں دنوں میں طے ہوتی ہیں، گھر بیٹھے اقطار وامصار کی جھوٹی سچی خبریں ملتی ہیں، مدتہا مدت سے جغرافیہ کے عظیم اہتمام ہیں کروڑوں روپے کے صرف مشرق ومغرب کی پیمائش ہوتی ہے۔ بلادوبقاع کے طول وعرض جانچے جاتے ہیں، آئے دن تازہ تازہ اطلسیں بنتی رہتی ہیں، غرض جس قدر دین کا انحطاط وتنزل ہےاسی قدر دنیوی ترقیاں ہیں جسے دنیا پرست عبید النفس ترقی گارہے ہیں زمانہ مشائخ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں ان آسانیوں سے ایک بھی نہ تھی، اب اس تیسر اسباب وتفتح ابواب ہی کے زمانے میں کوئی شخص ٹھیک ٹھیک طور پر بتادے کہ آفاق واقطار ، شرق وغرب وجنوب وشمال کے بلاد وقری و صحارٰی وجزائر وجبال میں حقیقی مسلمان جن کا عرف شرعا ملحوظ ومقصود ہو نہ نیچیری وغیرہم کفار مدعیان اسلام کہ ان جیسے کروڑوں کا تعامل ہو تو مطلقا مردود ہوں کہاں کہاں آباد ہیں ہرجگہ کے سچے مسلمانوں کی صحیح مردم شماری کیا ہے کسی معاملہ خاص میں ان میں ہر ایک کا عرف وعمل کس طور پر رہا ہے ،حصر بلاد وشمار عباد جوکچھ بیان کرے اس پر دلیل معقول قابل قبول دکھائے، نہ یہ کہ فلاں سال کی مردم شماری میں اسی قدر معدود فلاں اطلس میں اتنے ہی موجود کہ اس حصر اور اس کے جامع ومانع ہونے کی جوقعت ہے ہر ذی عقل وانصاف کو معلوم ومشہود، مردم شماری تو محض مہمل ومختل اٹکل ہے، اطلسیں جن کے محکمے مقررہیں اور بڑے بڑے انتظام کروڑوں کے صرف ہیں اور ہزاروں اہتمام حصروشمار بقاع درکنار جو آنکھوں دیکھی اور قواعد مضبوطہ ہیات پر مبنی ہے یعنی عرض وطول بلاد اس میں اختلاف دیکھئے، کبھی دو اطلسیں متفق نہ پائے گا ع
ہرکہ آمد عمارت نوساخت
(ہر آنے والا نئی عمارت تعمیر کرتاہے۔ ت)
سبحان اللہ ! اجماع شرعی جس میں اتفاق ائمہ مجتہدین پر نظر تھی، علماء نے تصریح فرمائی کہ بوجہ شیوع وانتشار علماء فی البلاد دوصدی کے بعد اس کے او راک کی کوئی راہ نہ رہی مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے:
(قال الامام احمد من ادعی الاجماع) علی امر (فہو کاذب والجواب انہ محمول علی حدوثہ الاٰن) فان کثرۃ العلماء والتفرق فی البلاد الغیر المعروفین مریب فی نقل اتفاقہم ۱؎۔
امام حمد رحمہ اللہ نے فرمایا جو کسی معاملہ میں اجماع کا دعوٰی کرے تو جھوٹا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی بات موجود دور کے واقعہ یہ ہے کہ محمول ہے کیونکہ علماء کی کثرت اور غیر معروف علاقوں میں ان کا متفرق ہوجانا ان کے اتفاق کو نقل کرنے میں شہبہ پیدا ہوتاہے۔ (ت)
(فواتیح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی الاصل الثالث الاجماع منشورات الشریف الرضی قیم ایران ۲/ ۲۱۲)
نیز فواتح میں ہے :
تحقیق المقام ان فی القرون الثلثۃ لاسیما القرن الاول قرن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کان المجتہدون معلومین باسمائہم واعیانہم وامکنتہم خصوصا بعد وفاۃ رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زمانا قلیلا ویمکن معرفۃ اقوالہم واحوالہم للجادفی الطلب۔ نعم لا یمکن معرفۃ الاجماع ولاالنقل الآن لتفرق العلماء شرقا وغربا ولایحیط بہم علم احد ۱؎ اھ ملخصین۔
مقام کی تحقیق یہ ہے کہ پہلے تین قرن خصوصا صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قرن (زمانہ) جو اول قرن ہے اس میں مجتہدین حضرات اپنے ناموں، ذاتوں اور مقامات کے اعتبار سے خصوصا حضو رعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے وصال شریف کے بعد قلیل زمانہ تک معروف تھے اور ان کے اقوال واحوال کی معرفت کے لئے جدوجہد کرنا ممکن تھا، ہاں آج اجماع کی معرفت ممکن نہیں اور نہ ہی اس کونقل کرنا ممکن رہا کیونکہ علماء کرام شرقا غربا متفرق ہوچکے ہیں جن کو کسی ایک شخص کا علم احاطہ نہیں کرسکتا، اھ مذکور دونوں عبارتیں ملخص ہیں (ت)
(۱؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی الاصل الثالث الاجماع منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲/ ۱۳۔ ۲۱۲)
جب صر ف مجہتدین کا اتفاق معلوم نہیں ہوسکتا تو عرف وتعامل جس میں اجتہاد درکنار علم بھی درکنار نہیں، علماء وجہلاء سب کا علمدرآمد ملحوظ ہے۔ اس میں اتفاق کل کیا معنی، اتفاق اکثر کا علم بھی بدرجہ اولٰی محال وناممکن ہے کہ آخر اکثر کل کل علماء سے ضرور اکثر ہے۔
رابعا کیاکوئی ایک بارکا بھی نشان دے سکتاہے کہ ائمہ کرام ومشائخ اعلام نے جب ایک امر میں بربنائے عرف وتعامل حکم فرمانا چاہا ہو تو تمام بلاد وبقاع عالم کے تمام مسلمین کے عرف وعمل کی خبر معلوم فرمالی، ہر ہر شہر وقریہ ودرہ کوہ وجزیرہ وبادیہ میں تحقیق تعارف کے لئے شہود عدل بھیجے ہوں، تمام اسلامی جہاں کی مردم شماری مفتح کی ہو پھر بعد ثبوت حصر وشمار بلحاظ کل نہیں بلحاظ اکثر ہی حکم دیا ہو۔ یا بلا تفتیش خودہی پیش از حکم ان تمام امور کے پرچے ان کی خدمات عالیہ میں گزرتے ہوں،حاشا اللہ ہر گز نہیں نہ کبھی اس کا قصد فرمایا نہ اصلا اس کی طرف راہ تھی، نہ یہ امور تعامل مسائل عقائدتھے جن پر سواد اعظم کااتفاق دلائل وبراہین شرع سے خود ہی معلمو ہے۔ نہ یہ حسن عدل ، قبح ظلم وتقدیم قاطع علی المظنون کی طرح امور ضروریہ ہیں۔ جن پر اتفاق عقلاء کی عقل خود شہادت دے، نہ ایسے مسائل نزاعیہ تھے جن کی نفی واثبات ورد واحقاق میں فرقے بن گئے ہوں، نہ سالہاسال تحصیل فتاوٰی فقہائے امصار وعلمائے اقطار میں سخت وبلیغ کوششیں ہوئی ہوں، بعد مرور دہور وکرعصور قرائن خارجیہ سے اتفاق اکثرکا علم حاصل ہولیا، اس کے بعد ائمہ نے بربنائے تعامل فتوٰی دیا ہو، ہمیشہ لاجرم اپنے ہی قطرکے بلاد کثیرہ میں عمل غالب کا نام عرف وتعامل رکھا اور اسی کو مبنائے احکام قرار دیا ہے۔ انصاف کیجئے تو امر واضح ہے اور انکار مکابرہ او رشکوک بے معنی کی راہ کب بند، مگر عنداللہ انصاف جب صبح مسفر ہوتو تشکک ناپسند،
واﷲیقول الحق وھو یھدی السبیل
(اللہ تعالٰی کا قول ہی حق ہے اوروہی راستہ بتاتاہے۔ ت)
خامسا ایں وآں پرکیوں نظرکیجئے خود حضرات علمائے کرام ہی سے نہ پوچھ لیجئے کہ عرف و تعامل سے مراد حضرات کیاہوتی ہے صدہا جگہ علمائے مستدلین استدلال بالعرف کے ساتھ تصریح فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے دیار کا عرف ہے یہ فلاں بلا دکا تعامل ہے انھیں مسائل مذکورہ میں دیکھیں محقق حیث اطلق مسئلہ سوم میں فرماتے ہیں:
مثلہ فی دیارنا شراء القبقاب ۱؎۔
اسی طرح ہمارے علاقہ میں کھڑاؤں کو خریدنا۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۸۵)
حاوی (عہ) پھر خلاصہ پھر فتح پھر ردالمحتار مسئلہ بست ودوم میں:
مثل ھذا کثیر فی الری وناحیۃ دماوند ۲؎
(رے اور دماوند کے علاقہ میں ایسا کثیر ہے۔ ت)
عہ: ذکر مسألۃ وقف الکروالاکسیۃ نقلہا سند مونی فی الخلاصۃ ثم قال المسائل الثلث فی الحاوی وانما لم نعدہ فیما مرلان الشامی نقلہا عن الفتح والفتح عنہا ولم یذکر العزوللحاوی ۱۲۔
پیمانہ کُر اور کپڑوں کے وقف کا مسئلہ سند مونی نے خلاصہ میں ذکر کیا ہے پھر کہا تینوں مسائل حاوی میں ہیں اورمیں نے گزشتہ مقام پر اس کو صرف اسی لئے شمار نہ کیا کیونکہ علامہ شامی نے فتح سے اور اس میں خلاصہ سے نقل کیا ہے اور انھوں نے حاوی کی طرف منسوب نہ کیا (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۴)
ظہیریہ وہندیہ بست وسوم میں،
ان کان ذلک بہ فی موضع تعارفوا ۱؎
(اگریہ ایسے مقام میں ہے جہاں اس پر تعارف ہو۔ ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۶۱)
امام طاہرین عبدالرشید پھر امام ابن الہمام پھر علامہ شامی
ان کان ذٰلک فی موضع غلب ذٰلک فی اوقافہم ۲؎
(اگریہ ایسے مقام میں ہوں جہاں لوگوں میں اس کا وقف مروج ہو۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۴)
علامہ عمر بن نجیم مسئلہ بست وچہارم میں
تعورف فی الدیار الرومیۃ ۳؎
(روم کے علاقہ میں یہ متعارف ہے۔ ت)
(۳؎ ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۴)
افندی ابن عابدین:
دون بلادنا ۴؎
(ہمارے علاقہ میں نہیں۔ ت) خادم فقہ ادنی تتبع میں اس کے نظائر غریرہ نکال سکتاہے۔
(۴؎ ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۵)
ثم اقول: وباللہ التوفیق سب سے قطع نظر کرکے علمائے کرام کا وہ نفس کلام جو مسئلہ اعتبارات عرف میں ذکر فرمایا بنظر نبیہ مطالعہ کیجئے تو خود ہی شاہد عدل وحجت فصل ہے کہ عرف عام سے ان کی مراد نہ ہرگز مستمر من زمن رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے، نہ عرف محیط اجماعی، نہ عرف اکثر مسلمین جملہ بلاد عالم کہ اول قطعا مثل نص رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے۔
لکونہ تقریر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وتقریرہ کقولہ اوجب من فعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لان الفعل یحتمل ان یکون خصوصیۃ لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
کیونکہ یہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تقریر (تائید) ہے اور آپ کی تقریر آپ کے عمل سے زیادہ موجب ہے کیونکہ عمل میں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصوصیت کا احتمال ہے۔ (ت)
تو اگر نص اسکے خلاف پایا جائے ضرور صالح تعارض ہوگا اور بحال تاریخ اسے فسخ کردے گا نہ یہ کہ قول اقدس کے مطابق تقریر اقدس کو مطلقا رد کردیں۔ علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فتاوٰی فصول البدائع فی اصول الشرائع بیان ضرورت میں فرماتے ہیں :
اقسام اربعۃ (۱) ماھو فی حکم النطوق لزومہ منہ عرفا (۲) مابینہ حال الساکت القادر کسکوت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن تغییر مایعاینہ من قول اوفعل من مسلم حتی لو سکت عما سبق نہیہ کان نسخا لان تقریرہ علی منکر منکر ۱؎۔
اس کی چارقسمیں ہیں: (۱) وہ جو عرفا لزوم میں منطوق کے حکم میں ہے (۲) وہ جس کو سکوت کرنے والے کا حال بیان کرے حالانکہ وہ بیان پر قادرتھا، جیسے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کسی مسلمان کا قول یا فعل دیکھ کر اس کو تبدیل کرنے سے خاموشی اختیار فرمائیں حتی کہ ایسی چیز جس پر پہلے نہی وارد ہوچکی ہو تو یہ خاموشی اس کے لئے ناسخ قرار پائے گی کیونکہ برائی پر خاموشی خودبرائی ہے۔ (ت)
(۱؎ فصول البدائع فی اصول الشرائع)
علامہ اجل مولٰی خسروصاحب درروغرر مرأۃ الاصول شرح مرقاۃ الوصول میں فرماتے ہیں :
(ماقررہ) صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (ان کان مماعلم انکارہ کذھاب کافر الی کنیسۃ فلا اثر لسکوتہ والادل علی الجواز) ای جواز ذٰلک الفعل من فاعلہ ومن غیرہ اذاثبت ان حکمہ علی الواحدحکمہ علی الجماعۃ فان کان مماسبق تحریمہ فھذا نسخ لتحریمہ ۲؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے جس چیز پر تقریر فرمائی اگر وہ چیز ایسی ہے جس کا بُرا ہونا یقینی طورپر معلوم ہو جیسے کافر کااپنے عبادت خانہ میں جانا تویہ تقریر وخاموشی موثر نہ ہوگی ورنہ وہ خاموشی اور تقریر اس چیز کے جواز پر دال ہوگی خواہ وہی فاعل کرے یا کوئی اور کرے بشرطیکہ وہاں ایک پرحکم سب کے طور پر ثابت ہو تو اگر وہ چیز ایسی ہو کہ اس کی تحریر پہلے ہوچکی ہو تو یہ تقریر اس حرمت کے لئے ناسخ ہوگی۔ (ت)
(۲؎ مرأۃ الاصول شرح مرقاۃالوصول)
فاضل محمد ازمیری اس کے حاشیہ میں شرح مختصر الاصول للعلامۃ اکمل الدین سے ناقل:
اذا علم رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعل مکلف ولم ینکرہ قادرا علیہ فان کان الفعل قابلا للنسخ فان لم یسبق تحریمہ دل سکوتہ علی جوازہ وان سبق کان سکوتہ ناسخا لتحریمہ ۱؎ اھ مختصرات۔
جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کسی مسلمان مکلف کا عمل دیکھیں اور آپ منع پر قدرت کے باوجود منع نہ فرمائیں تو اگر وہ فعل قابل نسخ ہوجس کی تحریم پہلے نہ ہوچکی ہو تو آپ کا سکوت اس عمل کے جوازپر دال ہوگا اور اگر پہلے اس عمل کی تحریم ہوچکی ہو توآپ کایہ سکوت اس تحریم کے لئے ناسخ قرارپائے گا۔ اھ مختصرات۔ (ت)