فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
97 - 120
ذخیرہ امام برہان الدین محمود کتاب البیوع فصل سادس میں ہے:
اذا شتری ثمار بستان وبعضہا قد خرج وبعضہا لم یخرج فہل یجوز ھذا البیع، ظاھرالمذھب انہ لا یجوز وکان شمس الائمۃ الحلوانی یفتی بجوازہ فی الثمار والباذنجان والبطیخ وغیرہ ذٰلک وکان یزعم انہ مروی عن اصحابنا ۲؎۔
جب باغ اس حالت میں خریدا کہ اس کا کچھ پھل ظاہر ہوا اور کچھ نہ ظاہر ہوا تویہ کیا یہ جائز ہوگا۔ تو ظاہر مذہب یہ ہے کہ ناجائز ہے۔ حالانکہ شمس الائمہ حلوانی پھلوں، بینگن، تربوز وغیرہا میں اس کے جواز کا فتوٰی دیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا یہ جواز ہمارے اصحاب سے مروی ہے۔ (ت)
(۲؎ نشرالعرف بحوالہ الذخیرۃ البرہانۃ رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۴۰۔ ۱۳۹)
بحرالرائق میں امام جلیل ابوبکر محمد بن فضل فضلی سے ہے :
استحسن فیہ لتعامل الناس فانہم تعاطو بیع ثمار الکرم بھذہ ا الصفۃ ولہم فی ذٰلک عادۃ ظاھرۃ وفی نزع الناس عن عاداتہم حرج ۳؎۔
انھوں نے اس کو پسند کیا لوگوں کے تعامل کی وجہ سے کیونکہ وہ انگوروں کے پھل کا اسی حالت میں لین دین کرتے ہیں اور لوگوں کی یہ عادت معروف ہے جبکہ لوگوں کی عادت چھڑاناحرج کی بات ہے۔ (ت)
(۳؎ بحرالرائق کتاب البیوع فصل یدخل البناء والمفاتیح فی بیع الدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۳۰۱)
فتح القدیر میں ہے :
قدرأیت روایۃ فی نحوھذا عن محمد فی بیع الورودعلی الاشجار فان الورود متلاحق ثم جوز البیع فی الکل وھو قول مالک ۱؎۔
میں نے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے اس طرح کی روایت پودوں پر گلاب کے بارے میں دیکھی ہے حالانکہ گلاب یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتے ہیں پھر انھوں نے تمام گلابوں میں بیع جائز فرمایا، اوریہی امام مالک کا قول ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع فصل لماذکر ماینعقد بہ البیع الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۹۲)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الزیلعی قال شمس الائمۃ السرخسی والاصح انہ لایجوز لان المصیر الی مثل ھذہ الطریقۃ عند تحقق الضرورۃ ولا ضرورۃ ھنا لانہ یمکنہ ان یبیع الاصول اویؤخر العقد فی الباقی الی وجودہ او یبیح لہ الاتنفاع بما یحدث فلاضرورۃ الی تجویز العقدفی المعدوم مصادما للنص اھ قلت لکن لایخفی تحقق الضرورۃ فی زماننا لاسیما فی مثل دمشق الشام کثیرۃ الاشجار والثمار فانہ لغلبۃ الجہل علی الناس لایمکن الزامہم بالتخلص باحدا لطرق المذکورۃ وان امکی بالنسبۃ الی بعض افراد الناس لایمکن بالنسبۃ الی عامتہم وفی نزعھم عن عادتھم حرج کما علمت ویلزم تحریم اکل الثمار فی ھذہ البلدان اذ الاتباع الا کذٰلک والنبی صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم انما رخص فی السلم للضرورۃ مع انہ بیع المعدوم فحیث تحققت ھنا ایضا امکن الحاقۃ بطریق الدلالۃ فلم یکن مصادما للنص فلذا جعلوہ من الاستحسان وظاھرکلام الفتح المیل الی الجواز ولذا اوردلہ الروایۃ عن محمد بل تقدم ان الحوانی رواہ عن اصحابنا وماضاق الامر الا اتسع ولا یخفی ان ھذا مسوغ اللعدول عن ظاھر الروایۃ ۱؎ اھ بتلخیص۔
زیلعی نے کہا کہ امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا اصح یہ ہے کہ جائزنہیں ہے کیونکہ ایسی صورت کو ضرورت کی بناء پر اختیار کیا جاتا ہے جبکہ اس میں کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پودا خریدنا لینا یاباقی گلاب کی بیع کو ان کے ظاہر ہوجانے تک موخر کردیا جائے یا آئندہ ظاہر ہونے والے گلاب سے انتفاع کو مباح کردے اس گنجائش کے باوجود معدوم گلام کی بیع کو جائزکرنا نص سے متصادم ہوگا اھ، میں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں اس ضرورت کا تحقق مخفی نہیں خصوصا دمشق کے علاقہ میں جو کثیر باغات اور پھلوں کا علاقہ ہے تو لوگوں پر جہالت کے غلبے کی وجہ سے ان کو مذکورہ طرق پر پابند کرنا اگرچہ بعض لوگوں کو ممکن ہے لیکن عوام کے لئے یہ ممکن نہیں جبکہ ان کو عادت چھڑانے پر حرج لاحق ہوگاجیسا کہ تجھے معلوم ہوچکا ہے، اور لازم آئے گا کہ اس علاقہ باغات کے پھل فروخت کرنے کا وہاں یہی رواج ہے حلانکہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایک ضرورت کے تحت معدوم چیز کی بیع کو بیع سلم کےطور پر جائز فرمایا تو جب یہاں بھی یہ ضرورت متحقق ہے تو اس کو بھی بیع سلم کے ساتھ بطریقہ دلالۃ النص ملحق کرنا ممکن ہے تو اس طرح یہ نص سے متصادم نہ ہوگا۔ فقہاء کرام نے استحسان میں اس لئے اس کواختیارفرمایا اور فتح کا ظاہر کلام جواز کی طرف ماہل ہے اسی لئے انھوں نے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے یہاں روایت نقل فرمائی بلکہ پہلے گزراکہ امام حلوانی نے یہ بات ہمارے اصحاب سے نقل فرمائی اور جب معاملہ میں تنگی آتی ہے تو صرف وسعت ہی لاتی ہے۔تو مخفی نہ رہا کہ ظاہرروایت سے عدول کا یہ جواز ہے اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی البیع الفاسد داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۴/ ۳۹)
یہ سردست تیس کتابوں سے تیس مسئلے ہیں۔ کتب : قدوری، ہدایہ، فتح القدیر، ردالمحتار، وجیز کردری، فتاوٰی امام قاضیخاں، منح الغفار، ہندیہ، تاتارخانیہ، محیط، امام برہان الاسلام سرخسی، فتاوٰی امام ظہیر الدین مرغینانی، تنویر الابصار، درمختار، خلاصہ ، مختار الفتاوٰی، خزانۃ المفتین، فتاوٰی کبرٰی، دررالحکام، غنیہ ذوی الاحکام، برہان شرح مواہب الرحمن، متن نقایہ، شرح برجندی، بحرالرائق، نہرا الفائق، طحطاوی، فتاوٰی غیاثیہ، جامع المضمرات، شرح نقایہ للقہستانی، شرح المجمع لابن فرشتہ، اختیار شرح مختار۔
مسائل : بیع نعل اس شرط پر کہ دوسری اس کے ساتھ کی بنادے، س میں تسمہ لگادے، بیع چرم بشرطیکہ جوتاسی دے،کھڑاؤں کی بیع میں پھٹے دینے کی شرط، بنی ہوئی اور ان کی بیع بایں شرط کہ اس کی ٹوپی کردے، ٹوپی اس شرط سے بیچے کہ استر اپنے پاس سے لگائے، پھٹے پرانے موزے یا کپڑے کی بیع میں پیوند کی شرط، کھال اس شرط پر بیچے کہ اس کا موزہ بنادے، جنازے کے لئے چارپائی، چادروں غسل میت کے لئے گھڑوں لوٹوں کا وقف، اہل حاجت کے لئےکلہاڑی بسوے آرے، پھاوڑے کا وقف، مسافروں کے لئے طشت، ہانڈی ، بڑی دیگ کا وقف، مساجد کے لئے قندیل کی رسی ، زنجیر کا وقف، قرآن مجید وکتب وغلہ وگاؤ ودراہم ونانیر کا وقف آٹے سے آٹا تول کو بیچنا نہ کہ ناپ سے، تول پر اٹا قرض لینا، روٹیوں کی بیع سلم گنتی سے، روٹیوں کا گن کو قرض لینا اموال ستہ ربویہ میں کیل ووزن کا عرف بدلنے پر امام ابویوسف کا اعتبار فرمانا پیڑوں میں کچھ پھل آئے کچھ آنے کو ہیں ایسی حالت میں موجودہ وآئندہ کل بہار کی بیع کو امام حلوانی وامام فضل وغیرہما کا جائز فرمانا اور خود شمار کتب کا محل ہی کیا ہے۔ قطع نظر اورمسائل سے یہی مسئلے اگر دیکھیں تو مذہب کے عامہ متون وشروح وفتاوئے سے کوئی کتاب ان سے خالی نہ پائیے یہ اور ان کے امثال کثیرہ جن کے خرمن سے خوشہ ابحاث آتیہ بھی ان شاء اللہ العزیز آتاہے سب برخلاف اصل وقیاس ہیں جنھیں ائمہ کرام وعلمائے اعلام نے تعامل وعرف پر مبنی فرمایا اب کیا کوئی ثابت کرسکتاہے کہ ان باتوں کا تعامل زمانہ اقدس حضور پرنور سید عالم صلی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے :
حاشا ﷲ ثم حاشا ﷲ وان طلب کل طلب لاعیاہ۔
ہر گز ہرگز نہیں اگر چہ پوری محنت سے طلب کرے عاجز رہے گا۔ (ت)
بھلا کھڑاؤں کا پہننا ہی زمانہ اقدس سے ثابت کرے مصحف وکتب کہاں تھیں کہ وقف ہوتے آٹے میں تول کب تھی اور مساجد میں قندیلیں لٹکانے کی زنجیریں کب تھیں۔
تبدیل کیل ووزن توخود عرف حادث ہی میں کلام آئےء جس کا غیر ستہ میں اعتبار تو مجمع علیہ اور ستہ میں امام ثانی کےنزدیک جسے محقق علی الطلاق نے ترجیح دی اور دربارہ مسائل اوقاف تو عبارات مذکورہ درمختار، وخلاصۃ وفتح القدیر وعالمگیریہ وفتاوٰی ظہیریہ ونہر الفائق ومنح الغفار وغیرہ نص صریح ہیں کہ سب عرف حادث ہیں، یہاں تک کہ ان میں بہت باتیں زمانہ امام محمد کے بعد پید اہوئیں ، بالجملہ ان جزئیات میں دلیل قائم ہے تو حدوث پر قدم توکوئی ثابت کرہی نہیں سکتا۔
ومن ادعٰی فعلیہ البیان وعلینا ردہ بابین تبیان ان شاء اﷲ العزیز المنان۔
اور جو دعوٰی کرے اس پر بیان لازم ہے اور ہم پر اس کا رد بہت واضح اندا زپر لازم ہے ان شاء اللہ العزیز المنان۔ (ت)
بحث ثالث: کیا ضروت ہے کہ وہ عرف تمام جہان کے تمام مسلمانوں کومحیط وشامل ہو ، اقول بعض علماء کے کلام میں ایسا مترشح لیجعلہ من باب الاجماع (تاکہ اجماع کے باب میں داخل کرے) مگر حق یہ ہے کہ نہ یہ اصلا لازم نہ کلمات سائر ائمہ کرام سلف خلف علمائے اعلام اس کے ملائم بلکہ صراحۃ اسکے خلاف پر قاضی وحاکم۔
اولا ابھی تحریر الاصول امام ابن الہمام وبحرالرائق وردالمحتارسے گزرا:
التعامل ھوالاکثر استعمالا ۱؎
(تعامل وہ ہے جس کا استعمال کثیر ہو۔ ت)
(۱؎ رالمحتار بحوالہ البحرالرائق کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۵)
الاشباہ والنظائر میں ہے:
انما تعتبر العادۃ اذا اطردت اوغلبت ۲؎۔
عادت وہ معتبر ہے جب وہ عام اور غالب ہوجائے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۸)