Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
96 - 120
اسی میں ہے :
وقف المنقول مقصود فان کان کرادعا اوسلاحا یجوز ہ فیما سوی، ذٰلک ان کان شیئا لم یجر التعارف بوقفہ کالثیاب والحیوان لایجوز عندنا وان کان متعارفا کا لفأس والقدوم والجنازۃ وثیاب الجنازۃ ومایحتاج الیہ من الاوانی والقدورفی غسل الموتی و المصاحف قال محمد یجوز الیہ ذھب عامۃ المشائخ منہم الامام السرخسی کذا فی الخلاصۃ وھو المختار والفتوٰی علی قول محمد کذا قال شمس الائمۃ الحلوانی کذا فی مختار الفتاوٰی ۳؎۔
اگر منقول بامقصد چیز کووقف کیااگر وہ سواری یاہتھیار ہوتو جائز ہے ان کے علاوہ اگر کوئی چیزایسی ہو جس کو وقف کرنا عرف میں مروج نہیں جیسے عام کپڑے اورحیوانات، توہمارے نزدیک جائز نہیں اور وہ متعارف ہو جیسے کلہاڑی اور تیشہ اور جنازہ کی چارپائی اور اس کا کپڑا اور میت کو غسل میں کام آنے والے برتن اور قرآن مجید ، تو امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا یہ جائز ہے۔ اسی کو عام مشائخ جیسے امام سرخسی وغیرہ نے اپنایا ہے۔ خلاصہ میں ایسے ہی ہے، وہی مختار ہے اور فتوٰی امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے قول پر ہے۔ امام شمس الائمہ حلوانی نے یوں فرمایا اور فتوٰی کے لئے یہی مختار ہے۔ (ت)
 (۳؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف  الباب الثانی  نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۳۶۱)
خزانۃ المفتین میں فتاوٰی کبرٰی سے فصل وقف المنقول میں ہے :
جعل فی المسجدبواری اوغلق باب اوحصیر لم یکن لہ ان یرجع وکذٰلک لو علق فیہ سلسلۃ اوحبلا للقندیل لان ھذا یترک فی المسجد دائما عادۃ فیکون للمسجد ۱؎۔
مسجد میں بچھونا، دروازے کا تالا، چٹائی دی تو واپس لینے کا حق نہیں، اوریونہی اگر قندیل کی زنجیر یارسی دی ہو کیونکہ عادتا یہ چیزیں دائمی طو رپر مسجد میں رکھی جاتی ہے، لہذا یہ مسجد کے لئے مختص ہوجائیں گی۔ (ت)
 (۱؎ خزانۃ المفتین     کتاب الوقف فصل فی المشاع    قلمی نسخہ    ۱/ ۲۱۷)
غرر ودرر میں ہے :
 (عن محمد صحتہ فی المتعارف وقفیتہ) کالفأس والمروالقدوم والمنشار والجنازۃ وثیابہا والقدور والمراجل اذ اوقف علی المسجد جاز واما وقف الکتب فکان نصیر بن یحیی یجیزہ والفقیہ ابوجعفر یجیزہ وبہ ناخذ خلاصہ ۲؎ اھ ملخصا۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک کلہاڑی، پھاوڑی ، تیشہ، آرہ، جنازہ کی چارپائی، اس کا کپڑا، ہنڈیا، دیگ مسجدکےلئے وقف کئے تو جائز ہے، ولیکن کتابوں کووقف کرنا اسے نصیر بن یحیٰی اور فقیہ ابوجعفر جائز کہتے ہیں اور ہمارا یہی موقف ہے خلاصہ، اھ ملخصا۔ (ت)
 (۲؎ الدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الوقف    میر محمد کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۷۔ ۱۳۶)
غنیہ علامہ شرنبلالی میں برہان سے ہے :
زادمحمدماتعورف وقفہ کالمصاحف والکتب والقدور و المقدوم والفأس والمنشار والجنازۃ وثیابہا ومایحتاج الیہ من الاوانی فی غسل الموتی و علیہ عامۃ المشائخ وبہ یفتی ۳؎۔
جن چیزوں کے وقف پر تعارف ہے ان میں امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید ، کتب ، ہنڈیا، تیشہ، کلہاڑی، آرہ، جنازہ کی چارپائی، اس کا کپڑا او رمیت کے غسل میں ضروری برتن کا اضافہ فرمایاہے، عام مشائخ کایہی موقف ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا۔ (ت)
 (۳؎ غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ دررالحکام   کتاب الوقف   میر محمد کتب خانہ کراچی  ۲/ ۱۳۶)
نقایہ وشرح علامہ برجندی میں ہے :
صح عند (محمد وقف منقول فیہ تعامل کالمصحف ونحوہ) من الکتب والطشت والقدوم والقیاس ان لایجوز وھو قول ابی حنیفۃ لانہا مما لایتأبد لکن القیاس یترک بالتعامل (وعلیہ الفتوٰی) ۱؎اھ ملتقطا۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے جن منقولہ چیزوں کے وقف میں تعامل ہے جیسے قرآن مجید وغیرہ کتب اور طشت، تیشہ کے وقف کوجائز قراردیاہے اور قیاس یہ ہےکہ جائز نہیں، یہی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ کیونکہ یہ دائمی چیزیں نہیں ہیں لیکن تعامل کی وجہ سے قیاس متروک ہوگیا، اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اھ ملتقطا۔ (ت)
 (۱؎ مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایہ    کتاب الوقف     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۳۹)

(شرح النقایۃ للبرجندی    فصل الوقف   نولکشور لکھنؤ     ۳/ ۱۷۲)
ردالمحتارمیں ہے:
قال المصنف فی المنح لماجری التعامل فی زماننافی البلاد الرومیۃ فی وقف الدراھم والدنانیر دخلت تحت قول محمدن المفتٰی بہ فی وقف کل منقولہ فیہ تعامل کما لایخفی وقد افتی مولانا صاحب البحر بجواز وقفہا ولم یحک خلافا اھ ولا شک فی کونہا من المنقول فحیث جرٰی فیہا تعامل دخلت فیما اجازہ محمد ولہذا لمامثل محمد باشیاء جری فیہا التعامل فی زمانہ قال فی الفتح ان بعض المشائخ زادوا اشیاء من المنقول علی ماذکرہ محمد لمارأوا جریان التعامل فیہا وذکر منہما مسئلۃ البقرۃ ومسئلۃ الدراھم والمکیل حیث قال ففی الخلاصۃ وقف بقرۃ علی ان مایخرج من لبنہا وسمنہا یعطی لابناء السبیل قال ان کان ذٰلک فی موضع غلب ذٰلک فی اوقافہم رجوت (عہ) ان یکون جائزا، قال فعلی ھذا القیاس اذ ا وقف کرا من الحنطۃ علی شرط ان یقرض للفقراء ثم یؤخذ منہم ثم یقرض لغیرھم ان یکون جائزا وقال ومثل ھذا کثیر فی الری وناحیۃ دماوند  اھ وبہذا ظہر صحۃ ماذکرہ المص من الحاقہا بالمنقول المتعارف علی قول محمد المفتی بہ وانما خصوھا بالنقل عن زفر لانہا لم تکن متعارفۃ اذا ذاک، قال فی النہر ومقتضی مامر عن محمد وعدم جواز ذاک ای وقف الحنطۃ فی الاقطار المصریۃ لعدم تعارفہ بالکلیۃ نعم وقف الدراھم والدنانیرتعورف فی الدیار الرومیۃ اھ قولہ لان التعامل یترک بہ القیاس فی البحر عن التحریر ھوالاکثر استعمالا وفی شرح البیری عن المبسوط ان الثابت بالعرف کالثابت بالنص اھ فظاھر ماقدمناہ اٰنفامن زیادۃ بعض المشائخ اشیاء جری التعامل فیہا وعلی ھذا فالظاہر اعتبارالعرف فی الموضع اوالزمان الذی اشترہ فیہ دون غیر ہ فوقف الدراھم متعارف فی بلاد الروم دون بلادناووقف الفأس والقدوم کان متعارفا فی زمن المتقدمین ولم نسمع بہ فی زماننا فالظاھر انہ لایصح الآن ولئن وجدنا دارا لایعتبر لما علمت من ان التعامل ھوا الاکثر استعمالا فتامل ۱؎اھ ملخصا۔
مصنف نے منح میں فرمایا رومی علاقہ میں ہمارے زمانہ میں دراہم ودنانیر کاوقف عرف میں جاری ہے تویہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی عنہ کے مفتی بہ قول جس میں منقول کا وقف جائز ہے میں داخل ہوگاجیسا کہ مخفی نہیں ہے اور مولانا صاحب بحرنے اس کے جوا زکا فتوٰی دیا او رکوئی مخالف قول نقل نہ فرمایا اھ اوراس منقول میں تعامل کے جاری ہونے میں شک نہیں ہے تو یہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے جواز میں داخل ہوگا، اسی لئے جب امام محمدر حمہ اللہ تعالٰی نے اپنے زمانہ میں تعامل والی اشیاء کی مثال بیان فرمائی تو فتح میں کہا کہ بعض مشائخ نے امام محمدرحمہ اللہ تعالٰی کی ذکر کردہ اشیاء پر کچھ او رچیزوں  کا اضافہ کیا جن میں تعامل دیکھا انہی چیزوں میں گائے دراہم اورکیلی چیز کے مسئلہ کو ذکر فرمایا اورکہا خلاصہ میں ہے کہ گائے وقف کی کہ اس کا دودھ اور گھی مسافروں کودیا جائے ، اور فرمایا کہ اگر کسی مقام میں لوگوں نے وقف میں تعامل بنایاہو تو مجھے امید ہےکہ یہ جائز ہوگا۔ اور فرمایااس پر قیاس ہوگا جب کوئی شخص گندم کاکُر (پیمانہ) اس شرط پر وقف کرے کہ ضرورتمند فقیر کویہ قرض دیا جائے اور پھر واپس ملنے پر  دوسرے فقیر کو قرض دیا جائے تولازما جائز ہوگا اور کہا کہ رے اور دماوند کے علاقہ میں اس قسم کا کثیر رواج ہے اھ اس سے مصنف کا مذکورہ کو امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے متعارف مفتی بہ کے ساتھ الحاق کی صحت معلوم ہوگئی، امام زفر رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول کے ساتھ گندم مذکور کے مسئلہ کو وقہاء کا مختص کرنا اس لیے ہوا کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے زمانہ میں یہ معاملہ متعارف نہ ہواتھا اور نہر میں فرمایا کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول شدہ کا مقتضی اسگندم کو وقف کرنے کا عدم جوا ز ہے کیونکہ مصری علاقہ میں ابھی اس کا بالکل تعارف نہیں ہے ہاں دراہم ودنانیر کے وقف رومی علاقہ میں موجود ہے، اھ اس کا قول کہ کیونکہ تعامل کی وجہ سے قیاس متروک ہوجاتاہے بحر میں تحریر سے منقول ہے کہ یہ استعمال کثیر ہے اور شرح بیری میں مبسوط سے منقول ہے کہ عرف سے ثابت شدہ نص کی طرح ہے اھ، تو اس سے ابھی ہمارا بیان کردہ ظاہرہوا کہ مشائخ کا بعض چیزوں کو شامل کرنا تعامل کی بناء پر ہے اور اس بنیاد پر ظاہرہوا کہ جس علاقہ یا زمانہ میں عرف مشہور ہوا وہی معتبر ہے دوسروں کے لئے معتبرنہیں تو دراہم کا وقف روم کے علاقہ میں متعارف ہے ہمارے علاقہ میں یہ معروف نہیں ہے اورکلہاڑی اور تیشہ کا وقف متقدمین کے زمانہ میں تھا اپنے زمانہ میں ہم نے یہ نہیں سنا تو ظاہر یہ ہے کہ اب یہ جائز نہیں اگر کہیں نادر طورپر موجود ہو تو معتبر نہ ہوگا کیونکہ تو معلوم کر چکا ہے کہ تعامل وہ ہوتاہے جس کا استعمال زیادہ ہو، تو غور کرو، اھ ملخصا۔ (ت)
عہ:  قلت ھذہ نسخۃ کتبہافی نسختی الخلاصۃ علی الہامش والذی فی متنہا جاز ان کان تعارفوا ذٰلک کما فی النقایۃ اھ کما ھو عبارتۃ الظہیریۃ لاٰتیۃ ۱۲ منہ
میں کہتاہوں یہ نسخہ میرے پاس خلاصہ کے نسخہ کے حاشیہ میں لکھا ہے اور اس کے متن میں ہے کہ اگر لوگوں کااس پر تعارف ہو تو جائز ہے جیساکہ نقایہ میں ہے اھ جیسا کہ ظہیریہ کی آئندہ عبارت میں ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الوقف     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۷۵۔ ۳۷۴)
اسی میں تتارخانیہ سے ہے:
عن ابی یوسف یجوز بیع الدقیق و استقراضہ وزنااذا تعارف الناس ذٰلک استحسن فیہ ۲؎۔
امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ آٹے کی بیع اور اس کو قرض بطور وزن دینا اگر عرف بن جائے تو استحسانا جائز ہوگا (ت) 

اسی میں بحوالہ طحطاوی فتاوٰی غیاثیہ سے ہے:
وعلیہ الفتوٰی ۳؎
 (اور اسی پر فتوٰی ہے۔ ت)
 (۲؎ و ۳؎ ردالمحتار     کتاب البیوع باب الربا     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴/ ۱۸۲)
تنویر ودر میں ہے :
(یستقرض الخبز وزنا وعددا) عنہ محمد وعلیہ الفتوٰی ابن الملک واستحسنہ الکمال واختارہ المصنف تیسیرا، اختیار  ۱؎۔
روٹی کو گنتی اور وزن دونوں طرح قرض دینا لینا امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک جائز ہے۔ اور اسی پر فتوٰی ابن مالک ہے۔ اس کو کمال نے پسند کیا او رمصنف نے آسانی کی وجہ سے اس کو اختیار کیا۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار  کتاب البیوع    باب الربا   مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۴۳)
اختیار پھر طحطاوی پھر ردالمحتارمیں ہے:
ھوالمختار لتعامل الناس وحاجاتہم الیہ ۲؎۔
لوگوں کی ضرورت اور تعامل کی بناء پر بھی مختار ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار         کتاب البیوع  داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۷)

(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار      کتاب البیوع    دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۱۱۲)
درمختارمیں ہے:
 (مانص )الشارع (علی کونہ کیلیا) کَبُرِّ وشعیر اوتمر وملح (اووزنا) کذھب وفضۃ (فہو کذلک) لایتغیر (ابدافلم یصح بیع حنطہ بحنطۃ وزنا کما لو باع ذھبا بذھب اوفضۃ بفضۃ کیلا) ولو (مع التساوی) لان النص اقوٰی من العرف فلایترک الاقوٰی بالادنٰی (وما لم ینص علیہ حمل علی العرف) وعن الثانی اعتبارا لعرف مطلقا ورجحہ الکمال (وخرج علیہ سعدی آفندی استقراض الدراھم عدد ااوبیع الدقیق وزنا فی زماننا یعنی بمثلہ وفی الکافی الفتوی علی عادۃ الناس بحر وا قرہ المنصف ۱؎ اھ ونقلہ عن العلامۃ سعدی فی النہر واقرہ۔
شارع نے جس چیز کے کیلی ہونے پر نص فرمائی مثلا گندم، جو، کجھور اور نمک وہ کیلی اور جس کے وزنی ہونے پر نص فرمائی وہ وزنی ہوگی جیسے سونا اور چاندی۔ یہ تبدیل نہ ہوسکیں گی، تو گندم کی خریدو فروخت وزن کے طور پر اور سونے چاندی کی کیل کے طور پر جائز نہ ہوگی، اگرچہ ہم جنس کے ساتھ مساوی لین دین ہو، کیونکہ نص اقوی ہے عرف سے تو اقوٰی کو ادنی کی وجہ سے ترک نہ کیا جائے گا اور وہ اشیاء جن پر نص وارد نہ ہوئی ان کو عرف پر محمول کیا جائے گا اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک عرف کا مطلقا اعتبار ہوگا۔ اس کو کمال نے ترجیح دی ہے۔ اور اسی پر سعدی آفندی نےدراہم کو عددکے طورپر قرض لینا اورآٹے کو وزن کے ساتھ ہم جنس سے لین دین کرنا متفرع کیا ہے اور کافی میں ہے کہ فتوٰی لوگ کی عادت پرہوگا۔ بحر، اور مصنف نے اسے ثابت مانا ہے اھ اور اس کو انھوں نے علامہ سعدی آفندی سے نہر میں نقل کیا ہے اور ثابت رکھا۔ (ت)
 (درمختار  کتاب البیوع باب الرباء  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۴۱)
Flag Counter