فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
95 - 120
بحث ثانی: کیا لازم ہےکہ وہ عرف زمان اقدس حضور پر نور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے واقع ہو، اقول: بعض علماء کی تقریر میں ایسا واقع ہوالیجعلہ من تقریرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (تاکہ عرف اس کو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تقریر و تائید بنادے۔ت ) مگر حق یہ کہ یہ ہرگز ضرور نہیں ہزارہا فروع مذہب وصدہا کلمات ائمہ اس کے خلاف پر شاہد ہیں۔
امام برہان الدین ہدایہ اورمحقق علی الاطلاق ا س کی شرح فتح میں فرماتے ہیں:
(من اشتری نعلا علی ان یحذوھا البائع) المراد اشتری ادیما علی ان یجعلہ البائع نعلالہ ویمکن ان یراد حقیقتہ ای نعل رجل واحدۃ علی ان یحذوھا ای یجعل لہ شراکافلا بد ان یراد حقیقۃ النعل (فالبیع فاسد) قال المص (ماذکرہ) یعنی القدوری (جواب القیاس) ووجہہ مابیناہ من انہشرط لایقضیہ العقد وفیہ نفع لاحد المتعاقدین وفی الاستحسان یجوز البیع ویلزم الشرط (للتعامل ) کذٰلک ومثلہ فی دیارنا شراء القبقاب علی ھذا الوجہ ای علی ان یسمرلہ سیرا ومن انواعہ شراء الصوف المنسوج علی ان یجعلہ البائع قلنسوۃ اوقلنسوۃ بشرط ان یبطن لہا البائع بطانۃ من عندہ ۱؎ اھ مختصرا۔
جس نے اس شرط پر جوتا خریدا کہ اس کوبائع سلائی کرکے بنائے اس سے مراد یہ ہے کہ خریدار نے چمڑا خریدا کہ اس کا جوتا سلائی کرکے بنادے، اور ممکن ہے حقیقت مراد لے کر ایک پاؤں کا جوتا کہ ایک ہی پاؤں کی پیمائش کے مطابق تسمہ لگادے اس صورت میں حقیتا ایک ہی مراد ہوگا تو بیع فاسد ہوگی، مصنف نے فرمایا کہ قدوری نے جوذکر کیا ہے وہ قیاس پر مبنی جواب ہے اور اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسی شرط ہے کہ جو مقتضی عقد نہیں ہے اور اس شرط میں ایک فریق کا فائدہ بھی ہے اور جبکہ استحسان کے طور پریہ جائز ہے اورتعامل کی وجہ سے سلائی کی شرط لازم ہوجائیگی اور اسی طرح ہمارے علاقہ میں کھڑائیں اسی شرط پر خریدنا یعنی ان کو پٹے لگادے گا اور اسی قسم سے ہے بنی ہوئی اون ٹوپی بنانے کی شرط پر یا ٹوپی خریدنا استراپنے پاس سے لگانے کی شرط پر اھ مختصرا۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۷۵)
ردالمحتارمیں اس کا بعض نقل کرکے فرمایا :
وفی البزازیۃ اشتری ثوبا اوخفا خلقا علی ان یرقعہ البائع ویسلمہ صح اھ ومثلہ فی الخانیۃ قال فی النہر بخلاف خیاطۃ الثوب العدم لتعارف اھ قال فی المنح فان قلت نہی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع وشرط فیلزم ان یکون العرف قاضیا علی الحدیث قلت لیس بقاج علیہ بل علی القیاس لان الحدیث معلول بوقوع النزاع المخرج للعقد عن المقصود بہ وھو قطع المنازعۃ والعرف ینفی النزاع فکان موافقا لمعنی الحدیث فلم یبق من الموانع الاالقیاس والعرف قاض علیہ اھ قلت وتدل عبارۃ البزازیۃ والخانیۃ وکذا مسئلۃ القبقاب علی اعتبار العرف الحادث ومقتضی ہذا انہ لوحدث عرف فی شرط غیرالشرط فی النعل و الثوب والقبقاب ان یکون معتبرا اذا لم یؤد الی المنازعۃ ۱؎۔
بزازیہ میں ہےکہ کپڑا یاپرانےموزے اس شرط پر خریدے کہ بائع مرمت کرکے دے تو صحیح ہے، اور اسی کی مثل خانیہ میں ہے، نہر میں فرمایا بخلاف کپڑے کی سلائی ، کیونکہ اس میں تعارف نہیں، اھ منح میں فرمایا کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے بیع اور اس کے ساتھ شرط لگانے سے منح فرمایا ہے تو اس سے لازم آجائیگا کہ عرف حدیث پر غالب ہے۔ میں کہتاہوں عرف حدیث پر غالب نہیں بلکہ عرف قیاس پر غالب ہے کیونکہ حدیث میں منع کی علت جھگڑا ہے جس کی وجہ سے عقد بے مقصد بن جاتاہے جبکہ عقد کا مقصد جھگڑے کو ختم کرنا ہوتاہے اور عرف اس جھگڑے کو ختم کرتا ہے تو اس طرح عرف حدیث کے موافق ہوا تو اب صرف قیاس مانع ہے جس پر عرف غالب ہوا اھ۔ میں کہتاہوں اس پر بزازیہ اور خانیہ کی عبارت دال ہے، اور یونہی کھڑاؤں کا مسئلہ جدید عرف پرمبنی ہے تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ اگر جوتے، کپڑے اور کھڑاؤں میں مذکورہ شرط کے علاوہ کوئی اور شرط عرف میں جاری ہوجائے تو وہ بھی معتبر ہوگی بشرطیکہ وہ جھگڑے کا باعث نہ ہو۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب فی البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۳)
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
ان اشترط صرما علی ان یخرز البائع لہ خفااوقلنسوۃ بشرط ان یبطن لہ البائع من عندہ فالبیع بہذا الشرط جائز للتعامل ۲؎۔
اگر چمڑے کا ٹکڑا جوتا بنادینے کی شرط پر خریدایا ٹوپی استرلگادینے کی شرط پر خریدی کہ بائع اپنے پاس سے لگائے تو تعامل کی وجہ سے اس شرط پر بیع جائز ہوگی (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۳)
اسی میں محیط مام سرخسی سے ہے:
وکذا لو اشترٰی خفابہ خرق علی ان یخرز البائع وثوبا من خلقانی وبہ خرق علی ان یخیطہ ویجعل علیہ الرقعۃ ۱؎۔
اوریونہی اگر پٹھا ہوا موزہ خریدا اس شرط پر کہ بائع پیوند لگا کردے یا پرانا پھٹا کپڑا پیوند لگانے کی شرط پر خریدا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۴)
اسی میں فتاوٰی ظہیریہ سے ہے:
لو اشتری کرباسا بشرط القطع والخیاطۃ لایجوز لعدم العرف ۲؎۔
اگرنیا کپڑا کٹائی اور سلائی کی شرط پر خریدا تو عرف نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۴)
تنویر الابصارودرمختارمیں ہے:
صح وقف کل (منقول فی تعامل) للناس کفأس وقدوم ودراھم ودنانیر وقدرو جنازۃ وثیابہا ومصحف وکتب لان التعامل یترک بہ القیاس لحدیث ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن'' بخلاف مالاتعامل فیہ کثیاب متاع وھذا قول محمد وعلیہ الفتوی اختیار ۳؎۔ (باختصار)
ایسی منقولہ چیز کا وقف جائز ہے جس میں عرف ایسا ہو مثلا کلہاڑی ، تیشہ، دراہم، دنانیر، ہانڈی، جنازہ کی چارپائی، اس کا کپڑا، قرآن مجید اور کتب، کیونکہ تعامل کی وجہ سے قیاس کو ترک کیاجائے گا اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ جس چیز کو مسلمان پسند کریں توہ عنداللہ پسندیدہ ہے بخلاف اس کے جس میں تعامل نہ ہو، مثلا سامان والے کپڑے، یہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اختیار (بالاختصار) (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰)
اسی میں خلاصہ سے ہے:
وقف کرا علی شرط ان یقرضہ لمن لابذرلہ لیزرعہ لنفسہ فاذا ادرک اخذ مقدارہ ثم اقرضہ لغیرہ وھکذا جاز، وقف بقرہ علی ماخرج من لبنہا اوسمنھا للفقراء ان اعتادوا ذٰلک رجوت ان یجوز ۱؎۔
گندم ایک کُر (پیمانہ) وقف کی جس کے پاس بیچ نہ ہو اس کوقرض دی جائے تاکہ وہ اپنی زراعت کرلے اور جب گندم کی فصل اترے تو اتنی مقدار واپس کردے، پھر وہ اسی طرح دوسرے کو قرض دی جائے، او ر یوں ہی گائے وقف کی جائے کہ اس کا دودھ یا گھی فقراء کو دیا جائے اگر لوگ یہ عادت بنالیں تو مجھے امید ہے کہ جائز ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰)
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے :
رجل وقف بقرۃ علی ان مایخرج من لبنہا وسمنہا وشیرازھا یعطی ابناء السبیل ان کان ذٰلک فی موضع تعارفوا ذٰلک جاز کما یجوز ماء السقایۃ ۲؎۔
کسی شخص نے گائے وقف کی کہ اس کا دودھ یا گھی اور دہی مسافروں کو دیا جائے اگر کسی علاقہ میں یہ تعارف ہو تو جائز ہے جیسے مشکیزے کا پانی۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۶۲۔ ۳۶۱)