Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
94 - 120
ہندیہ میں کافی اور ردالمحتارمیں کفایہ سے ہے:
واللفظ للشامی صورتہا ان یدفع الی تاجر مالاقرضا لیدفعہ الی صدیقہ وانما یدفعہ قرضا لا امانۃ لیستفید بہ سقوط خطر الطریق ۱؎۔
شامی کے الفاظ میں ہے کہ اس کی صورت یہ ہے کہ تاجر کوقرض دیا کہ وہ یہ قرض میرے دوست کو پہنچا دے اور رقم امانت کی بجائے قرض کی صورت میں د ی تاکہ راہ کے خطرہ سے محفوظ رہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الحوالہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۹۵)
بخلاف ڈاک خانہ کہ اجیر مشترک کی دکان ہے اور اس کی وضع ہی اجیر بننے کے لئے جو فیس دی جاتی ہے یقینا اجرت ہے اور اقرار ذمہ داری اور ان اقوال مفتٰی بہا کی بنا پر حکم شرعی وصحیح ومقبول ہی لزوم ضمان کے لئے کافی ووافی، مرسل کی غرض نفس عقد اجارہ سے حاصل ، اور صرف اسی قدر افادہ سقوط خطر کے لئے متکفل، قرض دینے سے اس کی کوئی غرض اصلا متعلق نہیں، نہ اس کافائدہ اس کی طرف راجع، فرض کیجئے اگر ڈاکخانہ زر منی آرڈر بعینہٖ بھیجا کرتا تو اس کا کیا حرج تھا کہ اسے تو روپیہ بھیجنے سے کام ہے اوراگروہ راہ میں جاتا رہتا تو اس کا کیا نقصان تھا کہ بحکم قرارداد یہ ضمان کا مستحق ہوچکا ، بلکہ یہ ضابطہ تو بعض اوقات بھیجنے والوں کو الٹا نقصان دیتاہے، کہ مصرو عرب وشام وغیرہ ممالک کو روپیہ بھیجے تو یہاں سے لندن جاکر ازانجا کہ وہاں سکہ سیم نہیں سکہ زر سے تبدیل کیا جاتا اور اس پر بہت کچھ بٹالیا جاتاہے، غرض اس فرض قرض میں مرسلوں کا کوئی نفع نہیں ہاں اُجرایعنی ابالی ڈاک نے اپنے آسائش وتحفظ کے لئے یہ ضابطہ وضع کیا، ذمہ داری بیمہ ومنی آرڈر دونوں میں تھی، مگر پارسل کا بند مال مہر میں لگا ہوا قابلیت تبدیل نہ رکھتا تھا،روپے میں یہ صورت میسر تھی اور شک نہیں کہ مال بھیجنے سے کاغذ بھیجنا آسان اور اس میں ان ذمہ داروں کے لئے خطر طریق سے امان، لہذ ایہ ٹھہرالیا کہ زرداخل کردہ یہیں رکھ کر وہاں لکھ بھیجیں گے، اگر بفرض غلط اس صورت میں ڈاک خانہ کو مستقرض مانا جائے تو اس میں مستقرض نے استقراض سے نفع اٹھایا نہ کہ مقرض نے اقراض سے، اور مستقرض انتفاع بالقرض سے ممنوع نہیں تو یہاں
یدفعہ قرضا یستفید بہ
(کسی فائدہ کے حصول کے لئے قرض دیا۔ ت) صادق نہیں بلکہ
یاخذ قرضا یستفید بہ، ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق
(قرض فائدہ کے لئے لیتا ہے، تحقیق یوں چاہئے، اور توفیق کا مالک اللہ تعالٰی ہی ہے۔ (ت)

بالجملہ یہ وجوہ تو جوازمنی ارڈر پر کچھ اثر نہیں ڈال سکتیں، ہاں یہاں ایک اور امر قابل نظر و غور تھا اذہان مفتیان اگر اس طرف جاتے توکہا جاتا کہ طرف فقہی پر کلام کیا وہ یہ کہ بلا شبہہ یہ عقد عقد اجارہ اور فیس اجرت عمل۔ اور قرض تنہا پر نفع مستقرض اور سفاتج پر قیاس مختل، مگر جبکہ یہ قرض مفروض و داخل ضابطہ ہے تو اجارہ ایسی شرط پر ہوا جس میں احدالعاقدین کا نفع ہے اور مقتضائے عقد نہیں، اسی قدر منع وفساد عقد کے لئے بس ہے
ولکنی اقول وبحول اﷲ تعالٰی اجول
(لیکن میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں اور اللہ تعالٰی کی دی ہوئی طاقت سے لکھتاہوں ۔ ت)

ہنوز بلوغ شرط تاحدافساد میں اور شرط باقی ہے کہ عرف ناس اس شرط کے ساتھ جاری نہ ہو، ورنہ بحکم تعارف جائز رہے گی اور صحت جواز عقد میں کچھ خلل نہ ڈالے گی، منی آرڈر کا نہ صرف تمام بلاد وامصار واقطار ہندیہ بلکہ دیگرممالک اسلامیہ میں بھی دائر وسائر ہونا تو محتاج بیان نہیں، مگر فقیر وہ کلمات علماء چند ابحاث میں ایراد کرے جو اس مسئلہ شرط کو واضح کرکے بعونہ تعالٰی مانحن فیہ کا حکم روشن کردیں، بحث اول شرط سے اصل نہیں منصوص دربارہ بیع وارد کہ:
نہی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من بیع الشرط،رواہ ابوحنیفۃ قال حدثنی عمر وبن شعیب عن جدہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎ ومن طریق الامام رواہ الطبرانی فی معجمعہ الاوسط ۲؎ والحاکم فی علوم الحدیث ومن جہتہ ذکرہ عبدالحق فی احکامہ وسکت عنہ قال ابن القطان (وھو علی بن محمد الحموی الفاسی ذاک المتاخر المیت ۶۲۸؁ ثمان وعشرین وستماۃ) فی کتاب الوھم والایہام (ولااری ھذا الاسم الابالہام فانہ قدوہم فیہ واوہم فی کثیر من المقام) بعد ماذکر الحدیث المذکور من کتاب الاحکام علتہ ضعف ابی حنیفۃ فی الحدیث ۳؎ اھ اقول عفااﷲ عنک یاابن القطان الست ذٰلک المعروف المشہور بالتعنت فی الرجال حتی اخذت تلین ذٰلک الجبل الشامخ ہشام بن عروۃ  ولو اجتمعت انت ومؤن من امثالک وامثال شیوخک وشیوخ مشایخک لم تبلغوا جمیعا قوۃ ابی حنیفۃ ولاقوۃ غلمانہ ولاقوۃ ہشام ولااقرانہ فی العلم والحدیث ولکن علتکم انتم ایہا الناس التعنت والتقشف وقلۃ الدرایۃ لمسالک التعرف وھذا ابومحمد عبدالحق کان اعرف منک بالحق حیث صح الحدیث بایرادہ فی الاحکام والسکوت عنہ۔
حضور نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شرط والی بیع سے منع فرمایا، اس کو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روایت کیا، انھوں نے فرمایا مجھے یہ حدیث عمرو بن شعیب نے اپنے دادا سے انھوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بیان کی اور امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کے طریقہ سے اس کو طبرانی نے معجم الاوسط اور حاکم نے علوم حدیث میں اور امام صاحب کے طریقہ سے اس کوعبدالحق نے اپنے احکام میں ذکر کیا اور جرح نہ کی، ابن قطان (اور وہ علی بن محمد حمیر ی فاسی متاخرین میں ہیں ان کی وفات ۶۲۸ ھ میں ہوئی ہے) نے اپنی کتاب ''الوہم والایہام'' میں کہا (میری رائے میں کتاب کایہ نام الہامی ہے کیونکہ ان کو اسی کتاب میں بہت سے وہم لاحق ہوئے اور کئی مقامات پر اس نے وہم پیدا کئے ہیں) اس نے اس کتاب میں اس حدیث کو ''کتاب الاحکام'' سے نقل کرکے کہا کہ اس حدیث میں کمزوری یہ ہے کہ اس کے روای ابوحنیفہ حدیث میں ضعیف ہیں اھ اقول (میں کہتاہوں) ابن قطان تجھے اللہ تعالٰی معاف فرمائے کیا آپ وہی نہیں جو رجال حدیث کے متعلق ہٹ دھرمی میں مصروف ہیں۔ تو نے ایک بلند پہاڑ (ہشام بن عروہ) پر طعن شروع کردیا ہے اور تو اور تیرے جیسے سیکڑوں اور تیرے مشائخ اور مشائخ المشائخ جیسے سیکڑوں بھی جمع ہوجائیں تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کی قوت درکنار، ان کے غلاموں اور ہشام اور ان کی ہم مثل علم اور حدیث والوں کونہیں پہنچ سکتے، لیکن تم نے اپنی ہٹ دھرمی اور پراگندگی اور معرفت درایت کے راستوں کی کم علمی کی وجہ کو ذریعہ طعن بنالیا ہے حالانکہ صاحب کتاب الاحکام عبدالحق یہ تجھ سے حق کو بہتر جانتے ہیں جنھوں نے اس حدیث کو ذکر کرکے اس پر سکوت سے اس کی صحت بتادی۔ (ت)
 (۱؎ جامع المسانید    الباب التاسع الفصل الثانی        دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲/ ۲۲)

(۲؎ المعجم الاوسط        حدیث ۴۳۵۸        مکتبۃ المعارف ریاض    ۵/ ۱۸۴)

(۳؎ بیان الوہم والایہام فی کتاب الاحکام     حدیث ۱۳۰۱        درطیبہ مکہ المکرمہ    ۳/ ۵۲۷)
ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے اجارہ کو اس پر قیاس فرمایا۔

 ہدایہ میں ہے:
الاجارۃ تفسدھا الشروط کما تفسد البیع لانہ بمزلتہ الاترٰی انہ عقد یقال ویفسخ ۱؎۔
اجارہ کو شرطیں فاسد کردیتی ہیں جیسے بیع کوفاسد کرتی ہے کیونکہ یہ بیع کی طرح ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے عقد کو اقالہ اور فسخ لاحق ہوتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ  مطبع یوسفی لکھنؤ  ۳/ ۲۹۹)
غایۃ البیان میں ہے:
قال القدوری فی مختصرہ وذٰلک لانہا عقد معاوضۃ محضۃ تقال وتفسخ فکانت کالبیع وکل افسد البیع افسدہا ۲؎۔
قدوری نے اپنی مختصر میں فرمایا: یہ اس لئے کہ خالص عقد معاوضہ ہے جو اقالہ اور فسخ کے قابل ہوتاہے تویہ بیع کی طرح ہے جو چیز بیع کو فاسدکرتی ہے وہ اس کو بھی فاسد کرے گی (ت)
 (۲؎ غایۃ البیان)
اور بیع میں شرط افسادیاشرط عدم تعارف شرط ہے ۔

 ہدایہ میں ہے:
کل شرط لایقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لاحد المتعاقدین اوللمعقود علیہ وھو من اہل الاستحقاق یفسدہ الا ان یکون متعارفالان العرف قاض علی القیاس ۱؎۔
ایسی شرط جس میں فریقین میں سےکسی ایک یا مبیع اگر فائدہ کااہل ہے تو اس کا فائدہ شرط کیا جائے تو وہ بیع کو فاسد کردے گی بشرطیکہ عرف میں وہ شرط معروف نہ ہوکیونکہ قیاس پر عرف غالب ہوتاہے۔ (ت)
 (۱؎ الہدایۃ      کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۶۲)
تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
الاصل الجامع فی فسادالعقد بسبب شرط (لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحدھما او لمبیع من اہل الاستحقاق ولم یجز العرف بہ ولم یردالشرع بجوازہ) امالو جری العرف بہ کبیع نعل مع شرط تشریکہ او وردالشرع بہ کخیار شرط فلا فساد ۲؎۔
کسی شرط کی وجہ سے عقد کے فساد کا سبب قاعدہ کی رو سے ایسی شرط ہے جس کونہ توعقد قبول کرے اورنہ ہی وہ عقد کے مناسب ہو اور اس شرط میں فریقین یا نفع کا مستحق ہو تو مبیع کا فائدہ ہوبشرطیکہ اس شرط پر عرف قائم نہ ہو اور نہ ہی شریعت نے اس کے جواز کو بیان کیا ہو لیکن اگر عرف میں اس کا جواز مروج ہو جیسے پیشگی آرڈر پر جو تاسلوانا یا اس شرط کے جواز پر شریعت وارد ہوجیسا کہ شرط خیار ، تو فساد نہ ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب البیوع    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۷)
مسئلہ ظاہر ہے اور تمام کتب مذہب میں دائر، اور مقیس کی طرف وہی حکم متعدی ہوگا جو اصل مقیس علیہ میں تھا نہ کہ زائد،

 لاجرم متن غرر میں فرمایا:
تفسد بالشرط المفسد للبیع ۳؎۔
اجارہ، بیع کی فاسد شرطوں سے فاسد ہوجاتاہے۔ (ت)
 (۳؎ الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ     میر محمد کارخانہ کراچی    ۲/ ۲۳۰)
متن نقایہ میں فرمایا :
یفسدھا شروط تفسد البیع ۴؎
 ( بیع کو فاسد کرنیوالی شرطیں اجارہ کو فاسد کردیتی ہے۔ ت)
 (۴؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ  کتاب الاجارۃ        نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۲۔ ۱۱۱)
متن اصلاح میں تھا۔
الشرط یفسدھا ۵؎
(مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے ۔ ت) شرح ایضاح میں فرمایا:
المراد شرط یفسد البیع ۶؎
(مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ ت)
(۵؎ اصلاح )       (۶؎ شرح ایضاح)
Flag Counter