فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
93 - 120
شرح کنز ملامسکین میں ہے:
قیل اذا شرط الضمان علی الاجیر المشترک یصح عند ابی حنیفۃ وصار کان الاجر فی مقابلۃ العمل والحفظ جمیعا۔
بعض نے کہا کہ مشترک اجیر پر ضمان کی شرط لگائی تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک صحیح ہے یوں وہ عمل اور حفاظت دونوں پر اجیر قرار پائے گا۔
کذا فی شرح الوقایۃ وھو قول الفقیۃ ابی بکر والفقیۃ ابواللیث یفتی بانہ لو شرط علیہ الضمان لایصح ۱؎۔
شرح وقایہ میں یوں ہے، اور یہ ابوبکر کا قول ہے۔ اور فقیہ ابواللیث کا فتوٰی یہ ہے کہ اگر اس پر ضمان کی شرط لگائی تو صحیح نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح الکنز لمنلا مسکین مع فتح المعین کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۲۵۲)
وجیز امام کردری نوع فی الحمامی میں نوازل سے ہے:
دخل الحمام وقال للحمامی احفظ ہذہ الثیاب فخرج ولم یجدھا ان شرط علیہ الضمان یضمن اجماعا ان سرق اوضاع والالا ۲؎۔
حمام میں داخل ہوا اور حمام والے کو کہاان کپڑوں کی حفاظت کرنا وہ حمام سے نکلا تو کپڑوں کو غیب پایااگر اس نے حمام والے پر ضمان کی شرط لگائی تھی تو بالاتفاق ضامن ہوگا اس نے چوری یا ضائع کئے ہوں ورنہ نہیں (ت)
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الاجارات الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۹۱)
اس کے بعد خود فرمایا:
وقد ذکرنا انہ لاتاثیرللشرط وتاویلہ انہ لما شرط علیہ الضمان فقد قابل الاجر بہما فیکون علی الخلاف فی المشترک ۳؎۔
ہم نے ذکر کردیا ہے کہ شرط کا کوئی اثر نہیں ہے تو اس کی تاویل یوں ہوگی کہ اگر اس نے شرط قبول کرلی تو گویا اس نے دو چیزوں پر اس کو اجیر بنالیا لہذا یہ مشترک اجیر کی صورت کے خلاف معاملہ ہوا۔ (ت)
(۳؎فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الاجارات الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۹۱)
ذخیر ہ وخلاصہ وعمادیہ وغمز العیون وغیرہ میں ہے:
وھذا اللفظ للذخیرۃ کان الفقیہ ابوبکر یقول ضمن الحمامی اجماعا وکان یقول انما لا یضمن الاجیر المشترک عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن وکان الفقیہ ابوجعفر یستوی بین شرط الضمان وعدم الشرط وکان یقول بعدم الضمان قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالٰی وبہ ناخذ ونحن نفتی بہ ۱؎ اھ، قلت ومعنی ہذا الکلام ان الفقیہ ابا جعفر کان یستوی بینہما علی قول الامام وکان یقول لایضمن عندہ وان شرط اماھو بنفسہ فقد کان یمیل الی قولہما کما قدمنا عن الخانیۃ عن الفقیہ ابی اللیث۔
ذخیرہ کے الفاظ میں ہے کہ ابوبکر فقیہ ، حمام والے کو بالاجماع ضامن قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک مشترک اجیر پر جب شرط ضمان نہ لگائی تو وہ ضامن نہ ہوگا لیکن اگر شرط لگادی تو ضامن ہوگا اور فقیہ ابوجعفر شرط اور عدم شرط کو مساوی قرار دیتے تھے اور ضمان(عہ) اور ضمان کا قول نہ کرتے، اور فقیہ ابواللیث نے فرمایا ہمارایہی موقف ہے ،اور ہم یہی فتوٰی دیں گے۔اھ میں کہتاہوں اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ فقیہ ابوجعفر فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے قول پر دونوں صورتیں مساوی ہیں اگر چہ شرط بھی لگائی ہو ضامن نہ ہوگا، لیکن ان کا اپنا رجحان صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ ہم نے خانیہ سے ابواللیث کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ (ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارات الفصل السادس الجنس الرابع مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۳۷)
قنیہ واشباہ میں ہے:
محلہ عندعدم اشتراط الضمان علیہ امامعہ فیضمن اتفاقا ۲؎۔
اس کا محل ضمان کی عوم شرط ہے لیکن شرط کی صورت میں بالاتفاق ضامن ہوگا۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر کتاب الاجارات الفن الثانی ادراۃ القرآن کراچی ۲/ ۶۲)
جمہورا ئمہ متاخرین نے ائمہ مذہب وصحابہ وتابعین رضی اللہ تعالٰی عنہم کے اختلافات دیکھ کر وہ قول فیصل اختیار فرمایا کہ اجیر اگر صلحائے متقین سے ہے تو قول امام مختار یا اس کے خلاف ہے تو قول صاحبین وایجاب ضمان اور مستور الحال ہے تو دونوں قول کے لحاظ سے نصف ضمان واجب نصف ساقط ، اور شک نہیں کہ یہ قول جامع الاقوال ومراعی احوال وارفق بالناس واحفظ للاموال ہے کہ تغیر حالات زمانہ اس پر حامل ہو اور اس میں ارفق واحتیاط دونوں پہلو کا لحاظ رہا، امید کی جاتی ہے کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے یونہی حکم فرماتے۔
فتاوٰی خیریہ وفتاوٰی اسعدیہ میں ہے:
مسئلۃ الاجیر المشترک فیہا ثلثۃ اقوال بل اربعۃ عدم الضمان مطلقا و الضمان مطلقا والصلح علی النصف جبرا عملا بالقولین وفی جامع الفصولین رامزا لفوائد صاحب المحیط لوکان الاجیر صالحا یبرأ بیمینہ ولوکان بخلافہ یضمن، ولو کان مستورا یؤمر بالصلح فہذہ اربعۃ اقوال کلہا مصححۃ مفتی بہا وامااحسن التفصیل الاخیر ۱؎ اھ مختصرا۔
مشترک اجیر کے مسئلہ میں تین بلکہ چار قول ہیں، مطلقا عدم ضمان ، مطلقا ضمان، نصف نقصان پر جبراً ضمان تاکہ دونوں اقوال پر عمل ہو،اور جامع الفصولین میں صاحب محیط کے فوائد کا اشارہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اجیر صالح شخص ہے تو قسم لے کر بری کیا جائے گا۔ اور غیر صالح ہو تو ضمان لیا جائے اور مستورالحال ہو تو صلح کا فیصلہ دیا جائے تو یہ چارقول ہوئے،اور تمام کے تمام پر فتوٰی صحیح ہے اور آخری تفصیل کیا اچھی ہے اھ مختصرا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۲/ ۱۴۱)
(الفتاوٰی الاسعدیۃ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ المخربۃ مصر ۲/ ۲۷۶)
فتاوٰی حامدیہ میں ہے:
اختارابوجعفر وابواللیث رحمہما اللہ تعالٰی فیہ ان کان صالحا یبرء بیمینہ وان کان مستورا یؤمر بالصلح وافتی بذٰلک کثیر من المتاخرین وھو اولٰی من غیرہ واسلم وبمثلہ افتی الخیر الرملی ۲؎۔
ابو جعفر اور ابواللیث کا مختار یہ ہے کہ اگر وہ صالح شخص ہو تو قسم لے کر بری کردیا جائے، اور اگر وہ مستور الحال ہو تو صلح کا فیصلہ کیا جائے اس پر بہت سے متاخرین نے فتوٰی دیا ہے اور یہ قول دوسروں کی نسبت اولٰی ہے اور خیر الدین رملی نے اسی طرح فتوٰی دیا ہے۔ (ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۳)
بالجملہ چار قول مفتٰی بہ سے دو قول پر بیمہ ومنی آرڈر وغیرہما میں ڈاکخانہ سے یہ قرارداد ضمان جائز وصحیح ومقبول ہے اور انسان کو عمل ونجات کے لئے ایک ہی قول مفتٰی بہ کافی نہ کہ متعدد نہ کہ جب وہی ارفق وہی استحسان ہونے کے علاوہ حالت زمانہ اسی کے داعی اور وہی حفظ اموال ناس کا مراعی ہوباوصف ان شدتوں سختیوں کے جو قوانین ڈاک میں ضیاع مال بیمہ ومنی آڈر پر رکھی ہیں کہ نوکریاں جائیں قیدیں اٹھائیں سزائیں پائیں، پھر بھی خائنوں بددیانتوں کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں عدم ذمہ داری کی حالت میں ظاہر ہے جو کچھ ہوتاہے تو فقیہ نبیہ اس شرط پر ضمان کے جواز میں اصلا ترددنہ کرے گا۔ وباللہ التوفیق
ثم اقول: وبہ استعین۔ ان مفتیان زمانہ کے خیالات تو محض اباطیل مہملہ ومہملات باطلہ جن کی حاجت بھی نہ تھی مگر اس تقریر منیر سے بحمداللہ سبحنہ وتعالٰی وہ شبہ بھی حل ہوگیا جسے نظر فقہی سے علاقہ ہے اور بادی النظر میں خادم فقہ کا ذہن اس طرف جاسکتا ہے یعنی سفاتج پر منی آرڈر کا قیاس، ہمارے علمائے کرام نے سفتیجہ یعنی ہنڈوی کو ناجائز رکھا کہ ہر مقرض اس قرض دینے سے سقوط خطرطریق کا استفادہ کرتاہے اور وہ فضل خالی عن العوض ہے کہ بربنائے قرض اس نے حاصل کیا
وکل قرض جرمنفعۃ فہور با
(جو قرض نفع مند ہو وہ ربا ہے۔ ت) بظاہر منی آرڈر وہنڈوی دونوں دوسری جگہ روپیہ بھیجنے کے طریق ہیں جس کے باعث نظر دھوکا کھاتی ہے دونوں کا حال ایک ہے حالانکہ اگر ذرا تامل کو کام میں لائے تو آفتاب روشن کی طرح متجلی ہوکہ ان میں باہم زمین وآسمان کا فرق ہے۔ ہنڈوی محض قرض ہے اور اس میں قرض دینا خاص مرسل کی غرض اور اس کے ذریعہ سے اسے سقوط خطر کی منفعت حاصل، تو قرض جرمنفعۃ فہو ربا بلا شبہ صادق، ہنڈوی کرنے والوں کی کوٹھیاں دادوستد ہی کے لئے موضوع ہیں، نہ اجیر بننے کے لئے مرسل اگر مال قرض نہ دیتا امانت رہتا اور بحال ہلاک تاوان نہ پاتا فلہذا قرض دیتا ہے اور اس سے یہ نفع حاصل کرتا ہے، علماء نے سفتیجہ کی تفسیر ہی یہی فرمائی،