Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
92 - 120
ثم اقول:  وباللہ التوفیق۔ وبہ الوصول الی ذری التحقیق
 ( پھر میں کہتاہوں اور اللہ ہی کو طرف سے توفیق ہے۔ اور اسی سے تحققیق کی بلندیوں تک پہنچنا ۔ت) حقیقت امریہ ہے کہ ڈاکخانہ قطعا اجیر مشترک اور اس میں جس قدر فیسیں ہیں سب اجرت عمل پھر ضوابط ڈاک نے ان پر اعمال دوقسم پر منقسم کئے:

ایک وہ جن میں آفس ذمہ دار وضمین قرار پاتاہے۔ جیسے پارسل ، رجسٹری، بیمہ ومنی آرڈر۔

دوسرے وہ جس میں ذمہ ضمان نہیں، جیسے خطوط وپاکٹ بیرنگ وباٹکٹ۔

اوریہیں سے واضح ہوگیا کہ یہ ادائے ضمان بربنائے قرض نہیں بلکہ ضوابط کی اس تقسیم پر مبنی ہے، ولہذا بیمہ میں صرف ضمان دیتے ہیں، حالانکہ وہاں قرض کا اصلا احتمال نہیں بلکہ انصاف کیجئے تو روپیہ لینے والے درکنار عا م روپیہ داخل کرنے والوں کا بھی ذہن اصلا اس طرف نہیں جاتاکہ یہ روپیہ جو ہم دیتے ہیں بوجہ قرار داد امساک عین ودفع مثل ڈاک خانہ کو قرض دے رہے ہیں ڈاکخانہ ہم سے دست گرداں لے رہا ہے بلکہ یقینا لینے دینے والے سب اس عقد کو مثل سائر عقود ڈاکخانہ عقد اجارہ ہی جانتے ہیں، اور خود اسی کےلئے صیغہ ڈاک کی وضع اور فیس کو یقینا اُجرت جان کر دیتے لیتے ، اور در صورت تلف تاوان کو مثل بیمہ وغیرہ اسی شرط ذمہ داری کی بناء پر سمجھتے ہیں، نہ یہ کہ یہ لوگ سمجھیں ہم نے قرض دیا تھا اسے ڈاکخانہ سے لینا ہے ڈاک خانہ سمجھے میں ان کاقرضدا ر تھا مجھے ادا کرناہے۔ ہاں بعد تلف ڈاک خانہ اسی ذمہ داری کے سبب اس وقت سے مدیون سمجھا جاتاہے نہ یہ کہ روپیہ بھیجنے کے لئے داخل کرتے ہی عاقدین اپنے آپ کو دائن ومدیون تصور کرتے ہوں، یہ بدیہات واضحہ سے ہے جس کا انکار مکابرہ تویہ اقرارضمان ہر گز بنائے اقراض واستقراض نہیں بلکہ اجیر مشترک پر شرط ضمان ہے۔ اب یہ مسئلہ مثلثہ بلکہ مربعہ ہے اور سب اقوال مصححہ سب مفتی بہا ۔
قال العلامۃ خیر الدین الرملی فی فتاواہ وانا اقول بل مخمسۃ بل مسدسۃ عدم الضمان مطلقا، الضمان بشرط الصلح علی النصف جواز الصلح جبرا۔ التفصیل بکون الاجیر صالحا فیبرأ، اوغیرہ فیضمن اومستورا فیصالح۔
یہ علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا ہے۔ او رمیں کہتاہوں بلکہ پانچ چھ صورتیں ہیں: مطلقا عدم ضمان ، نصف پر صلح کی شرط پر ضمان، جبرا صلح کا جواز، اور اجیر کے صالح ہونے پر اس کا بری ہونا، یا غیر صالح ہونے پر ضمان ہونا، یا مستور الحال ہونے پر قابل صلح ہونا۔ (ت)

امامین جلیلین صاحبین مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک اجیر مشترک ضامن ہے۔ ولہذا جو کچھ اس کے کام کرنے میں ضائع ہوبالاجماع ا س کا تاوان دے گا اگر چہ شیئ میں اس کی طرف سے کوئی تعدی و تقصیر نہ واقع ہوئی ہو بخلاف اجیر خاص کہ امین ہے۔ ولہذا جب تک تعدی نہ کرے اصلا ضمان نہیں، اگرچہ اس کے فعل سے تلف ہو، یہ مذہب امیر المومنین فاروق اعظم ومرتضائے اکرم رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی اور یہی امام دارالہجرۃ سید نا امام مالک کا مذہب اور امام شافعی کا ایک قول اور امام احمد سے ایک روایت ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین، بدائع وغایۃ البیان وغیرہما میں قول امام عدم ضمان کو قیاس اور اس قول صاحبین کو استحسان قراردیا۔ امام اجل فقیہ ابوجعفر ہندوائی اسی طرف میل فرماتے ۔ امام زیلعی نے تبین الحقائق پھر علامہ طوری نے شرح کنز الدقائق میں اس کو بہ یفتی فرمایا۔ 

جامع الفصولین وخزانۃ المفتین وفتاوٰی انقرویہ وواقعات المفتین میں ہے:
قیل یفتی بقول (ابی حنیفہ) رحمہ اﷲ تعالٰی وقیل قول عطاء وطاؤس وھما من کبار التابعین وقول س وم ابی یوسف ومحمد) رحمہما اﷲ تعالٰی قول عمر و علی رضی اﷲ تعالٰی عنہما احتشاما وصیانۃ لاموال الناس ۱؎۔
بعض نے کہا کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر فتوٰی دیا اور بتایا گیا آپ کے قول کی بنیاد حضرت عطاء اور طاؤس کے قول پر ہے جو کبار تابعین میں سے ہیں، اورامام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ تعالٰی کا قول حضرت عمرفاروق او رعلی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے قول پر مبنی ہے لوگوں کے مال کے احترام اور حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔ (ت)
 (۱؎ جامع الفصولین   الفصل الثالث والثلاثون    اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۷۱)

(فتاوٰی انقرویہ کتاب الاجارۃ            داراشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان    ۲/ ۳۲۳)
شرح ہدایہ علامہ اتقائی میں ہے:
قول ابی حنیفۃ قیاس لان المال امانۃ فی یدہ وہلاک الامانۃ من غیر صنع لایوجب الضمان وقولہما استحسان ووجہہ اثر عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۲؎۔
امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول قیاس پر مبنی ہے کیونکہ اس کے پاس امانت ہے جبکہ بغیر دخل امانت کی ہلاکت موجب ضمان نہیں ہے اور صاحبین رحمہمااللہ تعالٰی کا قول استحسان ہے اور عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی عمل کی وجہ سے۔ (ت)
 (۲؎ غایۃ البیان )
شرح الکنز ملامسکین میں ہے:
المتاع فی یدہ غیر مضمون عندابی حنیفۃ و ھوالقیاس وقالا علیہ الضمان استحسانا ۱؎۔ باختصار۔
اس کے ہاتھ میں سامان امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے موجب ضمان نہیں اور یہی قیاس ہے اور صاحبین رحمہمااللہ تعالٰی نے فرمایا اس پر ضمان ہوگا استحسانا، باختصار۔ (ت)
 (۱؎ شرح الکنز لمنلا مسکین مع فتح المعین    کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۲۵۲)
ردالمحتارمیں ہے:
فی البدائع لایضمن عندہ وھوالقیاس و قالا یضمن الامن حرق غالب اولصوص مکابرین وھو استحسان ۲؎ اھ مختصرین
بدائع میں ہے امام صاحب کے نزدیک اس پر ضمان نہ ہوگا۔ قیاس یہی ہے ۔ صاحبین رحمہما اللہ تعالی نے فرمایا: اس سے ضمان وصول کیا جائے گا الایہ کہ بے قابو آگ یا سرکش ڈاکو سے ضیاع ہوجائے، یہ استحسان ہے اھ دونوں مذکورہ عبارتیں مختصرا(ت)
 (۲؎ ردالمحتار       کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۰)
تبیین میں ہے:
بقولہما یفتی الیوم لتغیر احوال الناس وبہ یحصل صیانۃ اموالہم ۳؎۔
صاحبین کے قول پر آج کل فتوٰی دیا جائے کیونکہ لوگوں کے احوال میں تبدیلی ہوگئی ہے جبکہ اس فتوٰی سے لوگوں کے مال محفوظ ہوں گے۔ (ت)
 (۳؎ تبیین الحقائق    کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر  المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر    ۵/ ۱۳۵)
تکملہ طوری میں ہے:
قد تقدم ان بقولہما یفتی فی ھذا الزمان لتغیر احوال الناس ۴؎۔
یہ گزرا ہے کہ لوگوں کے حالات بد ل جانے کی وجہ سے صاحبین کے قول پر فتوٰی ہے۔ (ت)
 (۴؎ بحرالرائق           کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۸/ ۲۷)
فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:
قال الفقیہ ابوجعفر الضمان علی القصارو قال الفقیہ ابواللیث انما قال لانہ کان یمیل فی الاجیر المشترک الی قول ابی یوسف ومحمد ۱؎۔
ابوجعفر فقیہ نے فرمایا کہ دھوبی پرضمان ہوگا اورفقیہ ابواللیث نے فرمایا انھوں نے یہ بات مشترک اجیر کے متعلق صاحبین کے قول کی طرف میلان کی وجہ سے فرمائی ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخاں    کتاب الاجارات فصل فی القصار    نولکشور لکھنؤ        ۳/ ۴۴۴)
امام اجل ابوبکر بلـخی فرماتے ہیں خلاف اس صورت میں ہے جبکہ اجیر مشترک پر ضمان ٹھہرانہ لی جائے ورنہ اگرپہلے سے شرط ہوجائے جب تو بالاجماع اس پر ضمان لازم۔ جامع الفتاوٰی والنوازل واشباہ والنظائر وغیرہما میں اسی پر جزم فرمایا۔
فتاوٰی خلاصہ میں ہے:
شرط علیہ الضمان اذا ھلک یضمن فی قولہم جمیعا لان الاجیر المشترک انما لایضمن عند ابی حنیفۃ اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن قال الفقیۃ ابواللیث الشرط وعدم الشرط سواء لانہ امین ۲؎۔
ہلاک ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گا کیونکہ مشترکہ اجیر کے متعلق جب شرط نہ لگائی ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک ضمان نہیں لیا جائے گا لیکن شرط لگانے پر ان کے نزدیک بھی ضمان ہوگا۔ فقیہ ابواللیث نے فرمایا شرط لگانانہ لگانا برابر ہے کیونکہ وہ امین ہے۔ (ت)
 (۲؎ خلاصہ الفتاوٰی    کتاب الاجارات    الفصل السادس الجنس الاول     مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ    ۳/ ۱۳۷)
انقرویہ میں شرح مجمع علامہ ابن فرشتہ سے ہے:
ان شرط ان یضمن لوہلک عندہ یضمن اتفاقا کذ ا فی الجامع وذکر فی الخانیۃ و تتمۃ الفتوٰی علی انہ لایضمن ۳؎۔
اگر اس کے پاس ہلاک ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گا ، جامع میں یوں ہے۔ اورخانیہ اور تتمۃ الفتاوٰی میں ہے کہ ضمان نہیں لیا جائے گا۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی انقرویہ    کتا ب الاجارہ فی ضمان الاجیر المشترک         داراشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ۲/ ۳۲۳)
Flag Counter