| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
کتاب المنٰی والدررلمن عمدمنی اٰرڈر (۱۳۱۱ھ) (خواہشات اورموتیوں کی فراہمی اس کےلئے جس نے منی آرڈر کا قصد کیا)
مسئلہ ۲۲۸: از کیمپ میرٹھ بازارلال کورتی مرسلہ جناب مولوی عبدالسمیع صاحب ۲۰ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ بخدمت شریف مخدوم ومکرم محقق و مدقق جناب مولانا محمد احمد رضاخاں صاحب ادام اللہ فیوضہ وبرکاتہ وضاعف اجورہ وحسناتہ۔ بعد اتحاف ہدیہ سلام مرفرع رائے خورشید انجلاء باداس مسئلہ میں آپ کی رائے دریافت کی جاتی ہے یہاں سے بعوض مساکین کے تنخواہ کسی کے دو رپے، کسی کے تین روپے معین ہے، ان میں سے پانچ چار آدمیوں نے مجھ سے کہا کہ ہم کودوروپے کے واسطے سفر کرکے آنا دشوار ہے او ریہ دقت کہ اس قدر تنخواہ ہے اورا س قدرکرایہ لگ جائے گا، تم ہم کو منی آرڈر کرکے روانہ کردیا کرو، میں نے یہ دیکھاکہ صیغہ منی آرڈر جابجا جاری ہے مدارس وغیرہ میں، پس ان بیچاروں شکستہ دلوں کا کام کرکے بہترہے کہ ثواب حاصل کروں جب نظر جواز وعدم جواز پرگئی تو بنظر سرسری یہ دیکھ لیا کہ ہم جو کچھ زیادہ دیتے ہیں وہ اجرت دیتے ہیں، اس بات کےلئے ڈاک والوں نے مرسل الیہ کے گھرروپیہ پہنچا کر اس کے دستخط کرائے پھر وہ رسید اس سے وصول کرکے ہم تک پہنچائی، بناءً علیہ یہ رباء نہیں، برسوں سے لوگوں کی کارروائی اسی طرح ہوتی رہی اب بعض (عہ) علماء نے فتوٰی حرمت منی آرڈر کا چھاپ دیا ہے کہ ربا ہے اور حرام میں نے جو تاویل اپنے نزدیک سمجھی تھی اگر یہ درست ہے یاآپ اپنی رائے سے اس میں اور کوئی وجہ شرعی پیدا کرسکیں اس سے مطلع فرمائیں کہ بعض مساکین کا نہایت درجہ حرج ہے، والسلام
عہ: یعنی رشید احمد گنگوہی ۱۲
الجواب: جناب مولانا وبالفضل اولٰنا زید مجدکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، فقیر چار مہینہ سے اس قریہ میں ہے نامہ نامی بریلی ہوکریہاں آیا، جواب حسب فہم قاصر حاضر رسید بریلی ارسال فرمائیں، والسلام وہ فتوٰی مطبوعہ فقیر غفراللہ تعالٰی لہ کی نظر سے گزراہے۔ اس میں مفتی صاحب فرماتے ہیں۔ یہ ربا ہے دوآنے دس کے عوض دس ملتے ہیں مگریہ بات وہی کہہ سکتاہے کہ جسے اتنی خبر نہیں کہ دو آنے کاہے کے دئے جاتے ہیں، شاید انھیں معلوم نہیں کہ ڈاکخانہ ایک اجیر مشترک کی دکان ہے جو بغرض تحصیل اُجرت کھولی گئی ہے، دوآنے قطعا وہاں جانے اور روپیہ دینے اور واپس آنے اور رسید لانے ہی کی اجرت ہیں جیسے لفافہ پر اور پارسل پر ۴/ وغیرہ ذلک اس کو تو کوئی عاقل رباخیال ہی نہیں کرسکتا یہ ہر گز نہ اس کا معاوضہ نہ زنہار دینے والوں میں کسی کو اس روپیہ کے معاوضہ میں کمی بیشی مقصود ۔
وھذا من البدیہات التی لایتوقف فیہا الاامثال المفتین الذین لابصرلہم فی الدین۔
یہ ان بدیہیات میں سے جس میں دینی بصیرت نہ رکھنے والے مفتیوں کے سوا کسی کو توقف نہیں ہے۔ (ت) ان بزرگوں کے اکثر فتاوٰی فقیر نے ایسے ہی عجائب پر مشتمل پائے، ابھی قریب زمانے میں ان کا ایک فتوٰی دربارہ جواز شہادت ہلال بذریعہ تاربرقی نظر سے گزرا جس میں تار کو خط پر قیاس کیا، جامع یہ کہ لکھنا لکھنا ایک سا، قلم سے لکھا خواہ بانس طویل سے گویا حضرت کے نزدیک تار کا طریقہ یہ ہے کہ کسی لمبے بانس سے لکھ دیتے ہیں، پھر لطف یہ کہ خود اصل مقیس علیہ میں حکم غلط، علماء تصریح فرماچکے، ایسے امور شرعیہ میں خطوط کا اعتبارنہیں، ظلم پر ظلم یہ کہ وہ بانس طویل ہی کی تحریر سہی تار بھیجنے والا بیچارہ اس لمبے بانس سے خود نہیں لکھتا بلکہ تار بابو سے کہتا ہے وہ ایک واسطہ ہوا جہاں کو تار دیا گیا وہ دوسرا واسطہ بیچ میں تار موصول نہ ہوا تو وسائط کی گنتی ہی کیا، اور یہ اکثر کفار وفساق ومجہول الحال ہوتے ہیں، اس نفیس سند سے جو خبر آئے اس پرامور شرعیہ کی بناء کرنی ان مفتیوں کا ادنٰی اجتہاد ہے۔ فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ نے بے اعتباری میں ایک مفصل فتوٰی لکھا جس میں سے اس مسئلہ کی تحقیق تام
یہ ان بدیہیات میں سے جس میں دینی بصیرت نہ رکھنے والے مفتیوں کے سوا کسی کو توقف نہیں ہے۔ (ت) ان بزرگوں کے اکثر فتاوٰی فقیر نے ایسے ہی عجائب پر مشتمل پائے، ابھی قریب زمانے میں ان کا ایک فتوٰی دربارہ جواز شہادت ہلال بذریعہ تاربرقی نظر سے گزرا جس میں تار کو خط پر قیاس کیا، جامع یہ کہ لکھنا لکھنا ایک سا، قلم سے لکھا خواہ بانس طویل سے گویا حضرت کے نزدیک تار کا طریقہ یہ ہے کہ کسی لمبے بانس سے لکھ دیتے ہیں، پھر لطف یہ کہ خود اصل مقیس علیہ میں حکم غلط، علماء تصریح فرماچکے، ایسے امور شرعیہ میں خطوط کا اعتبارنہیں، ظلم پر ظلم یہ کہ وہ بانس طویل ہی کی تحریر سہی تار بھیجنے والا بیچارہ اس لمبے بانس سے خود نہیں لکھتا بلکہ تار بابو سے کہتا ہے وہ ایک واسطہ ہوا جہاں کو تار دیا گیا وہ دوسرا واسطہ بیچ میں تار موصول نہ ہوا تو وسائط کی گنتی ہی کیا، اور یہ اکثر کفار وفساق ومجہول الحال ہوتے ہیں، اس نفیس سند سے جو خبر آئے اس پرامور شرعیہ کی بناء کرنی ان مفتیوں کا ادنٰی اجتہاد ہے۔ فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ نے بے اعتباری میں ایک مفصل فتوٰی لکھا جس میں سے اس مسئلہ کی تحقیق تام کما ینبغی منکشف ہوسکتی ہے، خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ، مسئلہ دائرہ کی طرف رجوع کروں، اور توفیق الہٰی مساعدت فرمائے تو حقیقت منی آرڈر ایسی روشن وجہ پر بیان میں آئے جس سے ان صاحبوں کا شبہ باذنہٖ تعالٰی مستاصل ہوجائے۔ فاقول: وباللہ التوفیق منشاء غلط منی آرڈر کو قرض محض بے عقد اجارہ سمجھناہے، متبوع نے اجمالاً اس کا دعوٰی کیا، تابع نے اس پر دودلیلیں قائم کیں مگر حقیقت امر سے بیگانگی رہی، بات یہ ہے کہ منی آرڈر کرنے میں دو قسم کے دام دئے جاتے ہیں، ایک وہ رقم جو مرسل الیہ کو ملنی منظور ہے، دوسرا محصول مثلا دس روپے دو آنے اور جس طرح ہر عاقل فقیہ پر واضح کہ یہ پہلے دام اگر بعینہٖ پہنچائے جاتے جیسے پارسل میں تویہ خاص اجارہ ہوتا یا یوں ہوتا کہ مرسل بعینہٖ انھیں کاپہنچانا چاہتا اور ڈاک والے ان داموں کے یہاں رکھ لینے اور وہاں ان کی نظیر دینے کا ضابطہ مقررنہ کرلیتے بلکہ کبھی بعینہٖ انھیں کو پہنچاتے۔ کبھی بطور خود انھیں یہاں رکھ کر مرسل الیہ کو وہاں کے خزانے سے دیتے تو بھی محض اجارہ رہتا اور صورت خلاف میں ان اجیروں کافعل ناجائز ہوتا جس کا الزام مستاجر پرکچھ نہ تھا، ہاں اتنا ہوتاکہ وہ بوجہ تصرف امانت غاصب ٹھہر کر مستحق اجرنہ رہتے۔
کما فی الہندیۃ عن التتارخانیۃ لواستاجر لیحمل ھذہ الدراہم الی فلان فانفقہا فی نصف الطریق ثم دفع مثلہا الی فلان فلا اجرلہ لانہ ملکہا باداء الضمان ۱؎۔
جیسا کہ ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہے کہ اگر کسی دوسرے تک معینہ دراہم پہنچانے کے لیے اجیر بنایا تو اس نے آدھے راستے میں وہ دراہم خرچ کرلیے اور مرسل الیہ کو ان دراہم کی مثل اور دے دئے تو وہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا کیونکہ خرچہ کردہ دراہم کا ضمان دے کر وہ ان کا خود مالک بن گیا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارہ باب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۵۰۲)
مگر جبکہ یہ امساک عین ودفع مثل ضابطہ معلومہ معہودہ ہے کہ واضعان قانون ڈاک نے اپنی آسانی کے لئے وضع کیا اگرچہ مرسل کو اس سے کچھ غرض نہ تھی اس کا مطلب بعینہٖ روپیہ بھیجنے میں بھی بداہۃً حاصل تھا تاہم بوجہ ضابطہ وتعارف جبکہ عاقدین کو وصول بدل معلوم تو یہاں تحقق معنٰی قرض ماننا غلط نہیں اگرچہ عاقدین بلفظ قرض تعبیر نہ کریں۔
فان العبرۃ للمعانی والمعہود عرفا کالمذکور لفظا ۔
کیونکہ معا نی کا اعتبار ہے اور عرف میں معین معلوم چیز لفظوں میں مذکور کی طرح ہے۔ (ت) یونہی ہر ذی عقل نبیہ پریہ بھی روشن ہے کہ یہ دوسرے دام اگر کسی کام کے عوض نہ دئے جاتے تو یہ عقد خالص قرض اور یہ زیادت بیشک ربا ہوتی یایوں ہوتاکہ جس کا م کے عوض دئے جاتے وہ کوئی منفعت مقصودہ صالح ورود عقد اجارہ نہ ہوتا تو بھی محض قرض رہتا مگر حاشایہاں ہر گز ایسا نہیں بلکہ وہ مثل سائر کا رروائیہائے ڈاکخانہ کے یقینا اجرت میں دینے والے اجرت ہی سمجھ کردیتے، لینے والے اجرت ہی جان کرلیتے ہیں ہر گز کسی کے خواب میں بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ ۲/سود کے ہیں جو الٹا مدیون دائن سے لیتا ہے ڈاکخانے کی اصل وضع ہی اس قسم کی اجارات کے لیے ہے، تویہاں عقد اجارہ کا تحقق اور ان داموں کا اُجرت ہونا اصلا محل تردد نہیں، اگر کہے کا ہے کی اجرت ہاں مرسل الیہ کے گھر تک جانے اور اسے روپیہ دینے اور وہاں سے واپس آنے اور اس سے رسید لانے کی کیا یہ منفعت مقصودہ مباحہ نہیں جس پر شرعا ایراد وعقد اجارہ کی اجاز ت ہو، او ر جب ہے بیشک ہے تو عجب عجب ہزار عجب کہ عاقدین ایک منفعت مقصودہ جائزہ پر قصد اجارہ کریں عوض منفعت جو کچھ دیں اور اسے اجرت ہی کہیں اجرت ہی سمجھیں او رخواہی نخواہی ان کے قصد جائز کو باطل کرکے اس اجرت کو معاوضہ قرض وربا قرار دیں شرع مطہر میں معاذاللہ اس حکم کی کوئی نظیر ہے، حاشاللہ بلکہ شرع میں مہما امکن تصحیح کلام وعقود پر نظر رہتی ہے
کما لایخفی علی من خدم الفقہ
(جیسا کہ فقہ کی خدمت کرنیوالے پر مخفی نہیں ہے۔ ت) نہ کہ زبردستی ابطال وافساد وایقاع فی الفساد، پرکہ صراحۃً عکس مراد شرع ہے ایک ہلکی سی مثال پیش پاافتادہ یہی ہے کہ دس روپے دوآنے کے عوض دو روپے دس آنے خریدیں تو مالیت میں کھلا تفاضل اور جنس کو جنس سے ملائے تو وہ عین ربا مگر شرع مطہر جنس کو خلاف جنس کے طرف صرف فرماکرربا سے بچاتی ہے
کما نصوا علیہ قاطبۃ
(جیسا کہ سب نے اس پر نص فرمائی ہے۔ ت) پس ثابت ہوا کہ صورت منی آرڈر میں اگرچہ اجارہ محضہ نہیں مگر زنہار وزنہار قرض محض بھی نہیں جیسا کہ ان مفتی صاحبان نے توہم کیا او ر اسی بناء پر فیس کو اجرت سے نکال کر ربا کردیا بلکہ یہاں حقیقۃً دونوں متحقق ہیں، اب شبہات حضرات تویکسر حل ہوگئے، وہ ۲/ ربا کا خیال بدیہی الضلال صرف اسی توہم پر مبنی تھا کہ یہ قرض محض ہے، جب ثابت ہوا کہ ایسانہیں بلکہ یہاں اجارہ بھی ہے اور یہ ۲/اُجرت ہیں نہ فضل خالی عن العوض، تو انھیں ربا کہنا محض جہالت، بحمداللہ اتنی ہی تقریر سے وہ دو دلیلیں بھی کہ یہاں تابع نے انتفائے اجارہ پر قائم کیں منتفی ہوگئیں: دلیل اول : روپیہ تلف ہوجائے تو بھیجنے والا طالب ضمان اور انگریز ذمہ دار، تو ثابت ہوا کہ اجارہ نہیں کہ محصول کو اجرت پر محمول کیاجائے۔ اقول اولا: کیاوجوب ضمان مطلق نافی اجارہ ہے، کتب فقہ کا مطالعہ کیجئے صدہا صورتوں میں اجیر پر ایجاب ضمان کا حکم ہے، اور خاص ید ضمان کی ضرورت ہو تو ذرا اجیر مشترک میں اقوال ائمہ واختلاف فتوٰی ازمہ پر نظر ہو۔ ثانیا : اطلاق نفی ضمان ہی مانئے تو غایت یہ ہے کہ طلب ضمان ناجائز ہو اور انگریزوں کا ذمہ بری، اس سے اصل عقد کیوں بدل گیا، بہت لوگ عاریت پر تاوان لیتے اور جاہل مستعیر ذمہ دار بنتے ہیں، کیا اس سے نفس عاریت منتفی ہوجائے گی، ہاں شاید یہ خیال کیا ہوکہ کلام مسلم حتی الامکان وجہ صحیح پر حمل کرنا چاہئے، جبکہ ہم نے اجارہ میں مطلقا ضمان بحالت ہلاکت طالب ضمان نہ مانی تو یہ طلب خلاف شرع ہوگی لہذا اجارہ نہ ٹھہرا نا چاہئے، مگر سبحان اللہ مسلمانوں کی اور طرفہ طرفداری کی کہ اسی خیال سے کہ صورت ہلاک میں جو بشدت نادرہے، کہیں طلب ضمان نہ کر بیٹھیں جو ایک مختلف فیہ ممنوع ہے، لہذا اصل عقد ہی ربا لازم ودائم مان کر مسلمانوں کو مرتکب حرام اجماعی ٹھہرا دیجئے، یعنی کشتن باید تاتپ نباید فرمن المطر ووقف تحت المیزاب (بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوا۔ ت) ثالثا: کس نے کہاکہ اجارہ محضہ ہے معنی قرض یقینا متحقق اور رد مثل ا س کا خاص حکم ، تویہ تضمین بربنائے اجارہ نہ ہو، بربنائے قرض سہی، اب اسے اجارہ سے کیا تنافی رہی۔ دلیل دوم: اجارہ ہو تو بعینہٖ اسی روپے کا پہنچانا لازم ہو، لیکن یہ امر نہ بھیجنے والا ضرورخیال کرتاہے۔ نہ ڈاک والے کرتے ہیں۔ اقول: قطع نظر اس سے کہ یہ قیاس استثنائی کس اعلٰی درجہ نفاست پر ہے، تالی لزوم نفس الامری اور استثناء رفع خیال لزوم یارفع عمل کیا اگر عاقدین کسی حکم واقعی عقد کو اپنے ذہن میں لازم نہ سمجھیں، یا اس پر عمل نہ کریں تو اس سے وہ عقدعقد ہی نہ رہے گاعدم حکم مستلزم عدم عقد ہے یا عدم اعتقاد وعمل، اصل کلام وہی ہے کہ بیشک لازم ہوتا۔ اگر اجارہ محضہ ہوتا یہاں تو ڈاکخانہ فلاں جگہ جاکر ادائے زر اور وہاں سے لاکر ایصال رسید پر اجیر اور زر داخل کردہ کا مستقرض ومدیون ہے تو جو چیز وہاں دے گا عین نہیں دین کا بعینہ پہنچانا کیونکر متصور اور اس کا لزوم کہاں کا حکم ، بالجملہ ان داموں کی اجرت ہونے سے انکار کرنا اور عوض قراردے کر ربا ٹھہرانا یونہی صحیح تھا کہ اسے قرض محض خالی عن الاجارہ ثابت کرتے اور دونوں دلیلیں بغرض تمامی صرف اس قدر پر دال کہ وہ اجارہ محضہ نہیں، تو دلیل کو دعوٰی سےاصلا مس نہیں۔