| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۲۲۴ و ۲۲۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : (۱) دیہات کا ٹھیکہ دینا جائز ہے یانہیں؟ (۲) یہ کہ وزن کشی کا ٹھیکہ جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب (۱) اجارہ دیہات کی سبیل بھی چنداں دشوار نہیں، زراعت کے لئے جیسا ایک کھیت کااجارہ پر دینا جائز یوں ہی سارے گاؤں کا، مگر وقت واحد میں زمین واحد دومستقل مزارعوں کے اجارہ میں نہیں ہوسکتی، لہذا سال تمام پر جن کاشتکاروں کے پٹے کی میعاد ختم ہوگئی وہ تو زمین خالی ہی ہے جن کی میعادباقی ہے ان سے کہہ لیاجائے اور سمجھا دیا جائے کہ ہم جواز شرعی کے لئے ایسا کرتے ہیں، زمین تم سے نکالی نہ جائے گی، بلکہ مستاجر کی طرف سے تمھارے پاس رہے گی، تم میں ہم میں جو معاہدہ تھا جس کے ابھی اتنے سال باقی ہیں، وہ فسخ کرلوکہ ہم سارا گاؤں زراعت کے لئے فلاں کو اجارہ پر دے دیں، فلاں کی طرف سے یہ زمین بدستور تا میعاد پٹہ تمھارے پاس رہے گی، اس صورت میں ٹھیکہ توفیرکا نہ ہوا، جو بالاجماع حرام ہے۔ بلکہ زراعت کے لئے زمین کا جوبالا جماع جائز ہے اور اگر اس صورت میں دقت سمجھی جائے اور ضرور کسانوں خصوصا ہنود عنود کو اس کا سمجھانااور ان کا راضی ہونا خالی از دقت نہیں، تو وہی باغ وبہار والی تدبیر کی جائے، یعنی گاؤں میں چوپال اور مکان سکونت اور افتادہ زمینیں اور کاشت سے خالی کھیت اور وہ کھیت جن کی میعاد پٹہ تمام ہوگئی ،اور بنجرغرض جس قدر اراضی کسی کے اجارہ میں نہیں وہ تمام وکمال مستاجر کو سنین معینہ کے لئے اجرت معینہ پر (جتنا زر ٹھیکہ رکھنا منظورہو) زراعت وسکونت وانتفاع کے لئے مباح کردی جائے اوراراضی مزروعہ مقبوضہ مزارعین کی توفیر نقد خواہ بٹائی جو کچھ ہومستاجر کو اتنے برسوں کے لئے مباح کردی جائے، یوں بھی دونوں کے مطلب حاصل ہیں، غرض ہے یہ کہ
مَنْ یَّتَّقِ اﷲ یَجْعَلْ لَّہ مَخْرَجاً ۱؎
(جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا۔ ت) کوئی دشواری نہیں کہ اس شریعت مطہرہ سمحہ سہلہ غرہ بیضائے نے آسان نہ فرمادی ہو۔ وللہ الحمد۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۲)
(۲) وزن کشی کے ٹھیکہ سے اگر یہ مراد ہے کہ ''تولا'' کچھ روپے زمیندار کو دے کہ اس سال گاؤں بھر کی ''راسیں'' وہی تولے دوسرانہ تولنے پائے، اور وہ ہر کاشت کار سے اپنے تولنے کی اجرت لے تو یہ محض حرام، اور وہ روپیہ زمیندار کو دیا نری رشوت ہے۔ اور دوسرے کو تول سے ممانعت محض ظلم ہے۔ اس کی نظیر اسٹیشن پرسودا بیچنے کا ٹھیکہ ہے۔ کہ بیع تو اس میں اور خریداروں میں ہوگی، یہ ریل والوں کو روپیہ صرف اس بات کا دیتاہے کہ میں ہی بیچوں، دوسرانہ بیچنے پائے، یہ شرعا خالص رشوت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶: مسئولہ نواب صاحب محلہ بہاری پور بریلی عالمان شرع نے کیا حکم ہے اس میں دیا گر کسی نے ٹھیکہ دکانوں کا مالک سے لیا لے کے ٹھیکہ پھر یہ اس نے انتظام اپنا کیا سب دکانوں کا کرایہ اس نے زائد کرلیا پس یہ زائد جو اسے حاصل ہواہے اس سے زر اس کے استعمال میں ہے فائدہ یا کچھ ضرر اگر اس شخص کو ٹھیکہ سے کم آمد ہوئی او رپوری کردی اس نے پاس سے اپنے کمی اس کمی کا لینا کیا مالک کو جائز ہوگیا اس میں جوحکم شریعت ہو مجھے دیجئے بتا
الجواب: جتنی اجرت پر کہ مستاجرنے لی مالک سے شے ا سے زائد پر اٹھانا چاہے تو یہ شکل ہے اپنا کوئی مال جو قابل اجارہ کے ہوئے اس کو اسی شیئ سے ملاکر دونوں کو ایک ساتھ دے یازیادت شیئ میں کردے مثل تعمیر مکان کھونٹیاں کہگل کنواں چونہ مرمت ایں وآں یا بدل دے جنس اجرت جیسے وہاں ٹھہرے روپے اس کے یاں آنے میں گوبدلے میں لے ان کے روپے یا کوئی کام اپنے ذمہ کرلے اس ایجار میں تازیادت اس عمل کے بدلے ہو اقرار میں جیسے جاروب دکان اصلاح اسباب دکاں او رجو خدمت کے ہو شایاں اجرت بے گمان اور اگر یہ کم پہ دیتاہے تو دے مختار ہے مالک اُجرت پوری لے گا اس سے جو اقرار ہے یوہیں خالی ڈال رکھتا جب بھی تو لیتاوہ دام اب کمی سے کیا اسے واللہ اعلم والسلام
مسئلہ ۲۲۷: مرسلہ نجم الحسن صاحب ا ز تحصیل بسواں ضلع سیتاپور ۱۵ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر وعمرو تینوں سنی حنفی پابند صوم وصلوٰۃ ہیں زید زمیندار، بکر تاجر، عمرونوکری پیشہ، زید کا عمرو قرابت دارہے، اور بکر کا دوست، عمرو کی معرفت زید وبکر میں یہ معاملہ ہوا کہ زید نے اپنے دوگاؤں پندرہ سو روے سالانہ پانچ سال کے لئے بکر کو ٹھیکہ دیا، بکر نے پندرہ سو روپے بلا سودی پیشگی زیدکو دئے جس کی ادائیگی سال اخیر میں قرار پائی، بکر نے عمرو کو نوکر رکھ لیا، اور گاؤں کی تحصیل وصول سپرد کردی ،بروقت ٹھیکہ ہونے کے زید وبکر میں یہ حلف ہوا کہ ایک دوسرے کے نقصان کا روادار نہ ہوگا، او ر کبھی کسی مفسد یامخالف کی دراندازی پرفریقین عمل نہ کریں گے، دو سال دونوں گاؤں بکر کے ٹھیکہ میں رہے، اور قریب قریب سات سو روپے کے منافع ہوا، عرصہ کے بعد زید وبکر کو عمرو کی چالاکی وبدنیتی عمرو کے افعال واقوال سے ثابت ہوگئی، دونوں کو یقین ہوگیا کہ عمرو نے ضرور نقصان پہنچایا، اور پہنچائے گا، زید وبکر میں اتفاق ہے، زید سے بکر نے کہا کہ میں گاؤں کاکام نہیں کرسکتا کیونکہ عمرو سے کام نہیں لیناچاہتاہوں عمرو پر اعتبار نہیں رہا، بہتریہ کہ میں ٹھیکہ چھوڑد وں، پیشگی جو پندرہ سو روپیہ میں نے دیا ہے وہ دے دومیں تجارت میں لگادوں، زیدنے کہا کہ میں ٹھیکہ چھڑانا نہیں چاہتا، اور تم جانتے ہو کہ میں نادار ہوں، زرپیشگی بھی یکشمت ادانہیں کرسکتا، زید وبکر دونوں متردد ومشوش تھے، ایک رئیس مسلمان سنی وحنفی نے بطور ثالث یہ فیصلہ تجویز کیا کہ ٹھیکہ چھڑالیا جائے، او رپندرہ سو روپے قسط بندی کرکے چار سال میں ادا کردئے جائیں بکر کے اطمینان کو دستاویز ہوجائے، اور ایک گاؤں مکفول کردیا جائے بجز اس کے کہ اس وقت منافع کا کچھ ذکر بکر نے نہیں کیا، ثالث کی تجویز کو زید وبکر دونوں نے بحلف منظور کرلیا، ہفتہ کے بعد ثالث کے روبرو زید سے بکر نے دستاویز کا مسودہ مانگا۔ اس وقت زید سے بکر نے کہا کہ اگر اس وقت پندرہ سو روپے دو تو میں لے لوں اور تجارت میں لگادوں اور چار سال میں اگر روپیہ ادا ہوا تو منافع لوں گا، زید نے کہا منافع کیساکبھی ا س کا ذکر نہیں ہوا، اور نہ ثالث کے روبرو ذکرآیا، محض پندرہ سو روپے کی ادائیگی ٹھہری، بکر سود خوا ر نہیں ہے، مگر جاہل ہے، مفسدوں نے اس کو سمجھادیا کہ یہ ٹھیکہ کا منافع ہے سو دنہیں ہے، بکر نے کہا کہ قبل ٹھیکہ ہونے کے مبلغ ڈھائی سو روپیہ کو ہم کو چھوٹ دیا گیا ہے۔ زید نے کہا نہیں میں نے ایک گاؤں میں کل (عہ مہ /) چھوٹ دیاہے۔ زید نے بکر سے پوچھا کہ میری تمھاری بالمشافہ گفتگو ہوکر چھوٹ دی گئی ہے۔ بکر نے کہا کہ نہیں مجھ سے عمرو نے کہا ہے، زید نے کہا کہ عمرو کو یقین تھا کہ ٹھیکہ ہوجانے کے بعد میں ضرور نوکر رکھ لیا جاؤں گا، اس طمع پر بکر نے جھوٹ کہہ دیا کہ ڈھائی سو روپے چھوٹ دے کر پندرہ سو روپے ٹھیکہ ہوتاہے۔ زید نے عمرو سے دریافت کیا کہ ڈھائی سو روپے چھوٹ کیونکر دی گئی، عمرو نے جواب صاف نہ دیا، زید نے چھوٹ کا اقبال نہ کیا، بکرنے کہا ہم منافع ضرورلیں گے، زید نے دستاویز لکھ دی، پندرہ سوروپے اصل اور چار سو منافع ٹھیکہ، زید وبکر پابند شریعت ہیں، بدعہدی اور منہیات شرع سے بچنا چاہتے ہیں نیک نیتی سے یہ دریافت کیا جاتاہے کہ پندرہ سو روپے کے علاوہ جو بنام منافع ٹھیکہ چار سوروپیہ جو درج دستاویز ہوا ہے یہ جائز ہے یاسود ہے ؟ شرح وبسط کے ساتھ جواب عنایت ہو، بینوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں وہ منافع قطع سود اور حرام ہیں۔ حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۱؎
قرض سے جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو دہے۔
(۱؎ کنزالعمال حدیث نمبر ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸)
بلکہ اس ٹھیکے کے دو سوبرسوں میں سات سو روپے جو منافع کے بکر کو ملے وہ بھی حرام ہیں کہ دیہات کا ٹھیکہ جس طرح رائج ہے محض حرام ہے۔ جتنے پر ٹھیکہ دیا گیا اگر اس قدر نشست ہوئی اور وہ مالک کو دے دی گئی، تو اس کےلئے حلال ہے کہ اس کی ملک کا نفع ہے۔ اوراگر اس سے کم ہوئی اور مستاجر کو وہ رقم اپنے پاس سے پوری کرنی ہوئی تو یہ زیادت مالک کوحرام ہے، اس کا حق اسی قدر ہے۔ جس قدر نشست ہوئی، مثلا پندرہ سو کو ٹھیکہ اور کسی سال ہزار ہی بیٹھے تویہ ہزارہی مالک کو حلال ہیں، رقم قرارداد پوری کرنے کو پانچ سو اگر اورلے گا وہ حرام ہونگے اور اگر کسی سال دوہزار روپے بیٹھے اور مستاجر مالک کو صرف پندرہ سو دے گا پانسو خودلے گا، یہ پانسو ا س کا حرام ہیں۔
فان ہذہ اجارۃ علی استہلاک العین و ما الاجارۃ شرعا الا تملیک المنافع فکل اجارۃ وردت علی الاعیان فہی باطلۃ وحرام الاماخصہ النص وھوا جارۃ الظئر والمسئلۃ مصرح بہا فی کثیر من الاسفار کالفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ عین چیز کے تلف پر اجارہ ہے جبکہ شرعاً صرف منافع کی تملیک پراجارہ ہوسکتاہے تو ہر ایسا اجارہ جو عین چیز کو تلف کرنے پرواقع ہو وہ باطل اورحرام ہے الاوہ کہ شرع نے اس کوخاص طورپر مشروع کیا ہو جیسے دایہ کو دودھ پلانے کے لئے اجارہ پر رکھنا، اور یہ مسئلہ بہت سی کتب میں تصریح کردہ ہے جیسے فتاوٰی خیریہ، عقود الدریۃ، درمختار اور ردالمحتارمیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)