Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
89 - 120
مسئلہ ۲۲۲: از شہر کہنہ نوادہ مرسلہ شیخ محمد حسین ولد حافظ اکرام اللہ ۱۳ رجب ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی حقیت زمینداری کا ٹھیکہ تین سال کے واسطے اس شرط سے دیتاہے کہ آمدنی حقیت میں سے بعد ادائے مالگزاری سرکار بیس روپے سالانہ ٹھیکہ دار لیا کرے۔ اور سوروپے سالانہ زید مالک زمینداری کو دیا کرے۔ اورتین سال کا زر توفیر زید اپنے ٹھیکہ دار سے پیشگی لیتاہے۔ تو ا س صورت میں ٹھیکہ دار کو بیس روپے سالانہ لینا شرعا جائز ہوگا یانہیں؟ اگرنہیں تو اس کے جواز کی کیا صورت شرعا ممکن ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : یہ صورت ناجائز وحرام ہے۔
کما حققناہ فی فتاوٰنا ونص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار وغیرہا من الاسفار۔
جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے اور فتاوٰی خیریہ، عقود الدریہ، درمختار اور ردالمحتار وغیرہ کتبھ میں اس پر نص ہے۔ (ت)

ہاں جواز یوں ہوسکتا ہے کہ زید کو یہ شخص تین سو روپے بلا سود دست گرداں دے دے، اور زید اسے اپنی حقیت کی تحصیل تشخیص کے لئے بیس روپے سال پر اجیر مقرر کرے۔ قرض دہندہ دیانت وامانت سے کام کرے، جو منافع خالص ہو اس سے بیس روپے سال اپنی اجرت تحصیل کے لئے اور باقی جس قدر بچے سو روپے ہوں خواہ کم خواہ زائد، وہ سب مالک کو پہنچائے یا اپنے قرض یا مجرالے یہاں تک کہ تین سو روپے ادا ہوجائیں، اس کے بعد جو بچے سب مالک کو دے پھر تحصیل پر اس کے اجیر ہونے کو چاہیں دونوں شخص باقی رکھیں یا فسخ کریں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۳: از ریاست رامپور مرسلہ صاحبزادہ ابراہیم علی خان صاحب خلف صاحبزادہ عباس علی خاں صاحب ۳ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زیدنے ایک موضع کا ٹھیکہ بجمع (معمہ لالع عہؔ) ہندہ کو سات سال کے لئے دیا اور پٹہ میں چند شرائط کیں، ایک یہ کہ اگر کوئی قسط حسب تفصیل مندرج پٹہ ادا نہ ہوگی تو زید کو اختیارفسخ اجارہ وضبطی زر نقد امانت وضمانت کا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ گاؤں میں نکاسی آٹھ ہزار دو سو رپے کی ہے، کٹکنہ دارموضع میں جاکر اسامیاں سے تحقیق کرے اگر اس نکاسی میں کچھ کمی ثابت ہوگی تو کٹکنہ دارکو جمع سے مجرادی جائے، بعدہ زید نے ہندہ کو بے دخل کرکے قبضہ اپنا کرلیا، ہندہ نے نالش کی، مدعا علیہ نے حسب شرط پٹہ بوجہ نادہندی ہندہ اختیار فسخ حاصل ہونے کاعذرکیا، حاکم نے بدیں بنا کہ شرط مجرائی کمی شرط نہیں وعدہ ہے اور عقد میں نہیں بعد عقد پٹے میں ہے، اور بلفظ شرط نہیں بلفظ (اور) ہے۔ اور شرط بھی ہو تو مطابق عرف مستاجران ہے، نیز ملائم عقد ہے کہ سرکار میں دستور ہے، اول رقبہ وتعداد قلبہ قائم کرکے تگد مہ آمدنی دیہہ کا نقشہ میں درج فرماتے ہیں، اسی نقشے کے اطمینان پر مخلوق ٹھیکہ لیتی ہے اگر رقبہ یا شمار قلبہ میں کمی ہوئی تو وقت استغاثہ مستاجر عذر اس کا مقبول ہوکر مستاجر کو زر جمع سے کمی مجرا دلائی جاتی ہے۔ اور قسط میں بدعہدی باعث فسخ اجارہ نہیں ہوسکتی، شرع میں قاعدہ کلیہ ہے کہ مضاف کرنا فسخ کا طرف کسی زمانے کے صحیح ہے۔ اور معلق کرنا عموما جائز نہیں یہ صورت تعلیق کی ہے۔ فیصلہ بحق مدعیہ کیا، دیگر علماء استفتاء ہوا، انھوں نے اس عقد کو بوجہ شرط فاسد کہ قسط نہ دینے سے ضمانت ضبط کرنا شرعا ممنوع ہے۔ اور جبکہ بحال کمی نکاسی مقدار کمی اجرت سے مجرا ہونی ٹھہری تو اجرت میں جہالت ہے۔ اجارہ فاسدقرار دیا، اب علماء دین کی خدمت میں معروض ہے کہ شرعا اس صورت میں حکم محقق کیاہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب : انا ﷲ وانا الیہ راجعون، الی اﷲ المشتکی من قلۃ العلم وذلۃ العلماء ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی رب الارض ورب السماء۔
ہم اللہ تعالٰی کے لئے اوراس کی طرف لوٹنے والے ہیں، اور اللہ تعالٰی کے دربار میں ہی علم کی قلت اور علماء کی غلطی کی شکایت ہے۔ نیکی ک طرف پھرنا اور اس کی قوت زمین و آسمان کے رب اللہ تعالٰی بلند وبالا سے ہے۔ (ت)

صور ت مستفسرہ میں فیصلہ بحق مدعیہ ہونا سراسر ناجائز وواجب الرد ہے۔ اورعقد مذکور شرعا کوئی عقد ہی نہیں، ہر گز نہ اجارہ صحیحہ نہ فاسدہ بلکہ محض باطل ومسترد ہے۔ اس وقت فریقین فتوٰی کے کلام و تحریرات فقیر کے پیش نظر ہیں، اگر ان کے مدارک کی طر ف تنزل کیا جائے تو دونوں باوقعت فریق سے معارک فقہیہ میں بہت کچھ کہناہوگا۔ مگر فضول وبے اصل امر میں اضاعت وقت کی حاجت نہیں صحیح فاسد ہونے میں خودغورو بحث کا موقع تو اس وقت بے شرعا وہ کوئی عقد بھی ہو، یہاں سوا ہو اکے عقد کانام بھی نہیں محض باطل وبے حقیقت ہے۔ تو سرے سے دعوی مدعیہ اصلا قابل سماعت نہیں بلکہ لائق التفات ہی نہیں، فیصلہ اس کے حق میں صادر ہونا کیا معنی۔

اصل یہ ہے کہ دیہات کایہ ٹھیکہ جو آج کل ہندوستان کثیر الجہل والطغیان میں جاری ہےکہ زمین دیہیہ مزارعین کے اجارہ میں رہتی ہے اور توفیر ومحاصل کٹکنہ دار کے اجارہ میں دئے جاتے ہیں اور یہی صورت اس مسئلہ دائرہ میں واقع ہوئی (جس پر پٹے کے الفاظ کہ نکاسی اس قد رہے۔ کٹکنہ دار آسامیوں سے تحقیق کرلے۔ اور تجویز حاکم کے الفاظ کہ سرکار میں دستور ہے۔ اول رقبہ وتعداد قلبہ قائم کرکے الٰی آخرہ  دلیل ورشن ہے محض ناجائز وباطل ہے علماءتصریح فرماتے ہیں کہ اس صورت کے بطلان پر ہمارے علماء کا اجماع ہے۔ اس کا فانی ومعدوم کردینافرض ہے۔ نہ کہ باقی رکھنا، کٹکنہ دار کا قبض فورا ٹھا دینالازم ہے۔ یہ عقد کالعدم ہے محض بے اثر ہے۔

فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ نے اس مسئولہ کی تحقیق روشن اپنے فتاوٰی میں ذکر کی، یہاں چند نصوص علمائے کرام ذکر کروں کہ مولٰی عزوجل چاہے تو تنبیہ غافلین وایقاظ نائمین وہدایت مسلمین ہوں۔
امام علامہ خیر الملۃ والدین رملی اپنے فتاوٰی ''خیریہ لنفع البریہ'' میں فرماتے ہیں :
ان کانت الاجارۃ وقعت علی اتلاف العین قصدا فہی باطلۃ کما صرحت بہ علماؤنا قاطبۃ وصارکمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لاتنعقد فاذ استاجر زید القری والمزارع والحوانیت لاجل تناول خراج المقاسمۃ اوخراج الوظیفۃ فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا والباطل یجب عدامہ لاتقریرہ فترفع یدزید وعمرو عن القری والمزارع والحوانیت ۱؎ (ملخصا)
اجارہ جب قصدا عین چیزکے تلف کرنے پر ہو تو باطل ہے جیسا کہ ہمارے تمام علماء نے تصریح کی ہے اوریہ گائے کو دودھ پینے کے لئے اجارہ پر لینے کی طرح ہوگا جوناجائز ہے تو جب زید دیہات، باغات، زمینوں اور دکانوں کو وہاں سے حاصل ہونے والے ذرائع آمدن کو حاصل کرنے کے لئے ٹھیکہ پر لے تو ہمارے علماء کے مطابق یہ اجارہ باطل ہے جبکہ باطل کو ختم کرنا ضروری ہے نہ کہ ان کو بحال رکھنا لہذا زید وعمرو کا قبضہ ان دیہات اور زمینون اوردکانوں سے ختم کرنا ضروری ہے۔ (ملخصا)۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ   کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت  ۲/ ۱۲۷)
اسی میں ہے:
عقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج بنوعیہ اعنی الخراج الموظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا واذا قلناببطلانہ لزم المستاجر ان یرد جمیع ماتنا ولہ من المزارعین من غلال ونقود وغیرذٰلک ۲؎۔
مذکورہ اجارہ کا انعقاد زمینوں سے زراعت کے انتفاع پر نہیں ہے بلکہ ان سے حاصل ہونےوالی دونوں قسم کی آمدن یعنی مقررہ حصہ اور سرکاری لگان پرا جارہ ہے تو یہ مقررہ رقم پر اجارہ ہمارے ائمہ کے اجماع کے مطابق باطل ہے۔ اورباطل چیز علماء کے اتفاق کے مطابق قابل حکم نہیں ہے اور جب ہم نے اس کو باطل قراردیاہے تو مستاجر پرلازم ہے کہ اس نے مزارع حضرات جوکچھ غلہ یا نقد وغیرہ وصول کیا ہے اس کو واپس کرے۔ (ت)
 (۲؎فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ    دارالمعرفۃ بیروت   ۲/ ۳۶۔ ۱۳۵)
اسی میں ہے:
الاجارۃاذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصداکانت باطلۃ فلا یملک المستاجر ماوجد من تلک الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فیوخذ من یدہ اذا تناولہا ویضمنہا بالاستہلاک لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم ملکہ وذٰلک کاستیجار بقرۃ لیشرب لبنھا او بستان لیأکل ثمرتہ ومثلہ استئجار مافی یدالمزارعین لاکل خراجہ ۱؎ الخ۔
اجارہ جب اتلاف اعیان پرقصدا واقع ہو تو باطل ہوگا اور مستاجران اعیان میں سے کسی چیز کا مالک نہ بنے گا بلکہ اجارہ سے قبل حالت پر باقی رہیں گے لہذ مستاجر کے قبضہ سے واپس لئے جائیں گے اورہلاک کردئے تو ان کا ضمان وصول کیا جائے گا کیونکہ باطل چیز کچھ اثر نہیں رکھتی اس لئے ملک نہ ہونے کی وجہ سے اس کا تصرف حرام ہوگااور یہ ایسے ہوگا جیسے گائے دودھ پینے کے لئے یاباغ پھل کھانے کے لئے اجارہ پر لیا ہو، اور اسی طرح اگر اس نے مزارعین میں سے محاصل کو اپنے کھانے کے لئے ٹھیکہ پر لیاہو تو باطل ہے۔ الخ
(۱؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۱۹)
مغنی المستفتی عن السوال المفتی میں ہے:
سئل فی تیماری اٰجر المتحصل من تیمارہ الاجر وقبض المستاجر قد را معلوما من متحصل تیمارہ فہل تکون الاجارۃ المزبورۃ غیر صحیحۃ اجاب نعم وقدافتی بذٰلک الخیر الرملی مرار اکما ھو مذکور فی فتاواہ من الاجارۃ ونقولہا کثیرۃ محصلہا انہا اجارۃ وقعت علی استہلاک الاعیان وھی باطلۃ ۲؎۔
ان سے سوال ہوا کھجور کے باغ والے نے اپنے باغ کی آمدن کو دوسرے کے پاس ٹھیکہ پر دیا اور مستاجر نے اس باغ کی آمدن کی کوئی مقررہ مقدار حاصل کی ہو تو کیا یہ اجارہ صحیح ہے یانہیں؟ توانھوں نے جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں ہے اس پر متعدد بار خیر الدین رملی رحمہ اللہ تعالی نے فتوٰی دیا ہےجیسا کہ ان کے فتاوٰی کے باب الاجارہ میں مذکور ہے جس کی کثیر نقول موجود ہیں، ان فتاوٰی کا حاصل یہ ہے کہ یہ اجارہ عین چیز کو تلف کرنے پر ہے اوریہ اجارہ باطل ہے۔ (ت)
 (۲؎مغنی المستفتی عن سوال المفتی)
عقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ میں ہے :
لایجوز استیجار الارض لذٰلک لانہ استیجار علی استھلاک العین والاجارۃ انما تنعقد علی استہلاک المنافع ۳؎
استہلاک عین پر اجارہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اجارہ منافع حاصل کرنے پر ہوتاہے۔ الخ (ت)
(۳؎ العقودالدریۃ     کتاب الاجارۃ    ارگ بازار قندہار افغانستان    ۲/ ۱۳۲)
ردالمحتارمیں ہے :
الواقع فی زماننا ان المستاجر یستاجر ہا لاجل اخراجہا لاللزراعۃ ویسمی ذٰلک التراما و ھو غیر صحیح کما افتی بہ الخیر الرملی فی عدۃ مواضع ۱؎۔
ہمارے زمانہ میں مروج ہے کہ مستاجر زمینوں کو زراعت کی بجائے ان کے محاصل کو مزارعین سے وصول کرنے کے لئے اجارہ پرلیتے ہیں اس طریقہ کارکو وہ ''التزام'' کہتے ہیں اور یہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ خیرالدین رملی رحمہ اللہ تعالٰی عنہ متعدد مواقع پر یہ فتوٰی دیاہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار   باب العشروالخروج  داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۶۶)
اسی میں ہے:
اماما یفعلونہ فی ھذہ الازمان حیث یضمنہا من لہ ولایتھا لرجل بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطل۔ اذ لایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعا لانہ معدوم کما بینہ فی الخیریۃ ۲؎۔
وہ جو ہمارے زمانہ میں لوگ التزام کا عمل کرتے ہیں کہ مختار کا مقررہ رقم زمینوں کی وصولیوں کو ٹھیکہ پردیتاہے تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ اجارہ نہیں اس لئے کہ یہ عین چیز کو تلف کرنے پر قصدا واقع ہوا ہے اور بیع بھی نہیں ہے کیونکہ وہ چیز معدوم ہے جیساکہ فتاوٰی خیریہ میں یہ بیان ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار    کتاب الاجارۃ مسائل شتی فی الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت   ۵/ ۵۷)
یہاں نقول میں کثرت ہے اور قدر مذکور میں کفایت، شرعا، وہ صورت ممکن تھی کہ لوگ اگر اسے اختیار کرتے ان کا مقصودملتا اور مال حرام وعقد باطل کے وبال وآثام سے محفوظ رہتے مگر اتباع شرع مطہر کی فکرکسے، جب علماء غافل ہوں جہاں سے کیا شکایت، رامپور اسلامی ریاست ہے کیا عجب کہ وہاں اس حق مبین کا اثرہو۔ محوباطل واجرائے طریقہ جائز ہ پرنظر ہو، ارشادات ائمہ کا اسی قدر سننا کارگر ہو، واللہ الہادی وولی الایادی،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter