فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
88 - 120
اب نفس جزئیہ کی تصریح کلمات علمائے کرام سے لیجئے، امام خیر الملۃ والدین رملی استاذ فاضل مدقق صاحب درمختار رحمہ اللہ تعالٰی علیہما فتاوٰی خیریہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
ان کانت الاجارۃ وقعت علی اتلاف العین قصدا فہی باطلۃکما صرحت بہ علماؤنا قاطبۃ، وصار کمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لاتنعقد فاذا استاجر زید القری والمزارع والحوانیت لا جل تناول خراج المقاسمۃ او خراج الوظیفۃ اوما یجب علی المتقبلین من اجرۃ الحوانیت اولا جل تناول ثمرۃ الاشجار من بساتین القرٰی وحصۃ الوقف من الزرع الخارج فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا لافرق بین زید وبکر فی ذٰلک لانہا باطلۃ والحال ھذہ والباطل یجب اعدامہ لاتقریرہ فترفع ید زیدوعمرو عن القوی والمزارع زید وعمرو عن القری والمزارع والحوانیت ۱؎۔
اگر اجارہ عین چیز کے اتلاف پر مقصود ہو توباطل ہوگاجیسا کہ تمام علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ اورجیسے گائے کہ دودھ کےلئے اجارہ پر ہوجائے گا جومنعقد نہ ہوگا تو جب زید نے دیہات زمین اور دکانیں اجارہ پر حاصل کیں تاکہ حصہ کی آمدنی یا مقررہ کرایہ وصول کرے یا دکانوں کا کرایہ حاصل کرے یا دیہاتوں کے باغات کے پھل کھائے یا اوقاف کی زمینوں کا فصلانہ وصول کرنے کے لئے اجارہ پر لے تو اجارہ باجماع علماء باطل ہے اس میں زیدوبکر کا
کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ یہ باطل ہے جب یہ صورت ہے تو اس باطل کا ازالہ ضروری ہے۔ نہ کہ اس کو بحال رکھنا جائز توزید عمرو کا قبضہ ان سے ختم کرنا ضروری ہے۔ (ت)
(۱؎فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۶)
اسی میں ہے :
سئل فی الالتزام والمقاطعۃ علی مایتحصل من قریۃ الوقف من خراج مقاسمۃ وغیر ذٰلک بمال معلوم من احدالنقدین یدفعہ الملتزم ویکون لہ مایتحصل منہا قلیلا کان اوکثیراھل یجوز ام لا، اجاب، الواقع علیہ فی المقاطعۃ المشروحۃ اعیان لامنانفع فہی باطلۃ المشروحۃ اعیان لامنافع فہی باطلۃ بالاجماع، واذا وقعت باطلۃ کانت کالعدم ۲ ؎ الخ ملخصا۔
آپ سے سوال ہوا کہ وقف گاؤں کے حصہ کی وصول کاٹھیکہ وغیرہ مقررہ مال کے بدلے حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں ٹھیکہ قلیل ماہو یا کثیر ہو، توجواب دیا کہ یہ ٹھیکہ عین اشیاء پر ہے منافع پر نہیں لہذا یہ بالاجماع باطل ہے تو جب باطل ہے تو کالعدم ہے۔ الخ ملخصا (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۶۲۷)
اسی میں ہے :
سئل ایضا فی تیماری اٰجر المتحصل من تیمارہ لاخر بمبلغ معلوم ھل تصح ام لا، اجاب لا تصح وعلی کل وحد منہا ردماتناولہ ۳؎ الخ۔
کجھور کے باغ والے نے حاصل ہونے والے پھل کا مقررہ نقد پر دوسرے کو ٹھیکہ دیا کیا یہ صحیح ہے یانہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں ہے اورفریقین پر لازم ہے کہ جوکچھ دیا ہے واپس کریں۔ الخ۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۸)
اسی میں ہے :
المقرر فی کلام مشائخنا باجمعہم ان الاجارۃ تملیک نفع بعوض وانہا اذا وقعت علی استھلاک الاعیان فہی باطلۃ ومماصرحوا بہ ان من استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا اوکرما لیاکل ثمرتہ فہو باطل ومما یقطع الشغب قولہم ''جعل العین منفعۃ غیر متصور'' فاذا علم ان الاجارۃ اذا وقعت علی استہلاک الاعیان قصدا وقعت باطلۃ فعقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج بنوعیہ اعنی الخراج الموظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا واذا قلنا ببطلانہ لزوم المستاجران یرد جمیع ماتناول من المزاعین من غلال ونقود وغیر ذٰلک ۱؎۔
ہمارے تمام مشائخ کے کلام میں ہے کہ اجارہ منافع کا عوض کے بدلے مالک بننے کانام ہے اور اگریہ عین چیز کو ہلاک کرنے پر منعقد ہو تو باطل ہوگا، اوران کی تصریحات میں ہے کہ جو شخص گائے کو دودھ پینے کے لئے یاانگور کا درخت پھل کھانے کئے لئے اجارہ پرلے تو یہ باطل ہے۔اور اس عمل کے غلط ہونے پر ان کا یہ قول قطعی ہے کہ عین چیز کو اجارہ قصدا عین چیز کو ہلاک کرنے پر واقع ہواہے تو باطل ہوگا تواجارہ مذکورہ جب زمین سے انتفاع پر نہیں بلکہ زمین سے حاصل آمدن کو وصول کرنے پر دو طرح سے ہے یعنی مقررہ حصہ کی وصولی اور درختوں کے پھل کی وصولی کے عوض مقررہ دراہم، تویہ ہمارے ائمہ کے اجماع کے مطابق باطل ہے او باطل چیز کاہمارے علماء کے اتفاق کے مطابق کوئی حکم نہیں ہے اور جب ہم نے باطل کہہ دیا تو مستاجر پر لازم ہے کہ اس نے جو کچھ مزارعین سے غلہ یا نقد وصول کیا واپس کرے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارہ درالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۶۔ ۱۳۵)
اسی میں ہے :
اعلم ان الاجارۃ اذ اوقعت علی اتلاف الاعیان قصدا کانت باطلہ فلایملک المستاجر ماوجد من تلک الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فتؤخذ من یدہ اذا تناولہا ویضمنہا بالاستہلاک لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم ملکہ وذٰلک کاستئجار بقرۃ لیشرب لبنہا اوبستان لیأکل ثمرتہ ومثلہ استئجار مافی یدالمزاعین لاکل خراجہ الذی یحصل بالمقاسدۃ فانہ عین وقع علیہا الاستیجار قصدا ومثلہ باطل کما علمت ۱؎۔
معلوم ہونا چاہئے کہ کہ جب اجارہ قصدا عین چیز کو تلف کرنے پر ہو تو وہ باطل ہوگامستاجر جو کچھ بھی ان اعیان چیزوں میں سے حاصل کرے وہ اس کا مالک نہ بنے گا یہ اجارہ سے قبل کی حالت پر ہوں گی لہذا مستاجرکے قبضہ سے واپس لی جائیں گی اور اگر وہ ان کو ہلاکر کرچکا ہو تو ان کا ضمان اس سے وصول کیا جائیگا کیونکہ کسی چیز میں باطل موثر نہیں ہوتا اس لئےاس پر ان میں تصرف حرام ہوگا کیونکہ وہ ان کا مالک نہیں ہے اور یہ گائے کے دودھ یا باغ کو پھل کھانے کے لئے اجارہ پرلینے کی طرح ہوگا اور اسی کی مثل مزارعین سے مقررہ حصہ کی وصولی کا مالک بننے کےلئے ٹھیکہ لینا ہے کیونکہ یہ بھی عین چیز پر قصدا اجارہ ہے اور ایسی صورت باطل ہے جیسا کہ تو معلوم کرچکاہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتا ب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۹)
اسی میں ہے :
الاجارۃ المذکورۃ باطلۃ غیر منعقدۃ لما صرحرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولا تفید شیئا من احکام الاجارۃ فاذا علم ذٰلک فلیس للمستاجر ان یتناول شیئا من الغلال اھ ۲؎۔
مذکورہ اجارہ باطل ہے اور غیر منعقد ہے جیسا کہ تمام علماء تصریح کرچکے ہیں کہ جب اجارہ قصدا عین چیز کو تلف کرنے کے لئے ہو تو وہ منعقد نہیں ہوتا او راجارہ کے احکام کے لئے مفید نہیں ہوتا۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو مستاجر کو حق نہیں کہ وہ کوئی آمدن وصول کرے اھ (ت)
(۲؎فتاوٰی خیریہ کتا ب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۷)
ردالمحتارمیں ہے:
امامایفعلونہ فی ھذا الازمان حیث یضمنہا من لہ ولایتہالرجل بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطل، اذ لایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا و لابیعا لانہ معدوم ۱؎ اھ، قلت وھکذا افصح بہ الفاضل المحقق مولٰنا امین الملۃ والدین محمد بن عابدین الشامی الدین رحمہ اﷲ تعالٰی صاحب ردالمحتار علی ردالمختار فی کتابہ النفیس الجلیل الحری بان یکتب علی الحناجر ولو بالخناجر المسمی ''بالعقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ'' وغیرہ فی غیرہ والعبد الضعیف الاٰن فی قریۃ بعیدۃ عن وطنی لیس عندی ھٰہنا من الکتب الفقہیۃ الاردالمحتار و الخیریۃ لو لاذٰلک لاثبت بتصریحات جلیلۃ اخری تفتح اعین الغافلین وفیما اورد ناکفایۃ للعاقدین والحمد اﷲ رب العالمین۔
لیکن ووہ عمل جو اس زمانہ میں کیا جارہاہے کہ کارمختار کسی مقررہ معاوضہ پر زمینوں کےحصہ کی وصولی کو ٹھیکہ وغیر ہ پر دے دیتاہے تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ اجارہ درست نہیں اس لئے کہ یہ عین چیز کو فنا کرنے پر اجارہ اور بیع بھی نہیں کیونکہ وہ قابل وصول حصہ ابھی معدوم ہے اھ میں کہتاہوں اور یونہی فاضل محقق مولانا امین الملۃ والدین محمد بن عابدین شامی رحمہ اللہ تعالٰی صاحب ردالمحتار حاشیۃ درمختار نے اپنی کتاب جو کہ نفیس جلیل اس قابل ہےکہ اس کوحلقوموں پر لکھاجائے اگرچہ خنجروں سے لکھا جاسکے جس کا نام ''العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیہ'' ہے اور دیگر علماء نے دیگر کتب میں فرمایا اور یہ ناتواں بندہ اس وقت اپنے وطن سے دور ایک قریہ میں ہے میرے پاس سوائے ردالمحتار اور خیریہ کوئی بھی فقہ کی کتاب نہیں ہے اگر یہ عذر ہ ہوتا تومیں ایسی مزید تصریحات جلیلہ کو بیان کرتا جو غافل حضرات کی آنکھوں کو کھول دیتیں اور جو کچھ میں نے ذکر کردیا ہے وہ عقل والوں کے لئے کافی ہے۔ والحمداللہ رب العالمین۔ (ت)
ان نصوص صریحہ کے بعد بھی حکم میں کچھ خفا باقی ہے؟ اوریہیں ظاہر ہوگیا وہ فرق جس سے سائل سوال کرتاہے کہ مزارعوں کو زمین بغرض زراعت دی جاتی ہے، وہاں اجارہ بونے جوتنے پر وارد ہوتاہے کہ وہ منفعت ہے نہ کسی عین کے استہلاک پرفافترقا،
اسی لئے امام خیرالدین نے ارشاد فرمایا:
عقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل اخذ المتحصل ۱؎ الخ کما اسمعناک نصہ۔
مذکورہ عقد اجارہ زمین سے زراعت کے انتفاع وغیرہ پر واقع نہیں بلکہ متحصل کی وصولی پر ہوتاہے الک جیساکہ ہم نے ان کو نص آپ کوسنادی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۵)
معہذا کچھ فرق نہ سہی جب شرع مطہرسے اس کی حلت اور اس کی حرمت ثابت، پھر مجال مقال کیاہے۔
قالواانما البیع مثل الربٰوا واحل البیع وحرم الربٰو ۲؎،
انھوں نے کہا کہ بیع بھی ربا کی طرح ہی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالٰی نے بیع کوحلال اور ربا کوحرام فرمایا ہے۔ اور اللہ تعالٰی سے ہی امت مرحومہ کی اصلاح کے لئے سوال ہے۔ بھلائی کی طرف پھرنا اورنیکی کی قوت صرف اللہ بلند وعظیم سے ہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
ہوایہ کہ جن لوگوں نے کسی وجہ سے اپنے دیہات کا کام خود نہ کرنا چاہااور دوسرے کو بطورکار پر دازی بتقرر تنخواہ سپرد کرینے میں غبن کثیر و محنت قلیل وبے پرواہی کا رندگان کا احتمال قوی سمجھا۔
جیساکہ بہت سے اہل زمانہ میں یہ مشاہدہ ہے۔ ہاں اللہ تعالٰی جس کو محفوظ فرمائے، اور وہ قولیل لوگ ہیں۔ (ت)
بخلاف اس صورت کے جب ایک شخص کے ذمہ رقم محدود باندھ دی جائے اور یہ قرار پائے کہ جہاں سے جانے اسے پورا کرے۔ یہاں تک کہ اس پر ضما نتیں یا ایک سال کی توفیر پیشگی لی جاتی ہے تو احتمال غبن کے تو کچھ معنی ہی نہ رہے۔ کوشش دلسوزی اول توکیونکر نہ کرے گا، او رنہ بھی کرے تو اپنا کیا نقصان اس قسم کی باتیں ذہن میں جماکر یہ عقد باطل عاطل ایجاد کیا حالانکہ ان کی نادانی کا نتیجہ تھا، کاش ! اگر حضرات علماء لاخلاء الکون عنہم وکثر اﷲ فی بلادہ امثالہم (کائنات ان سے خالی نہیں ہے اللہ تعالٰی نے ان جیسوں کی کثرت اپنے تمام بلاد میں فرمائے ہیں۔ ت) کی طرف رجوع لائے تو ایسی صورت نکلنا ممکن تھی جس میں ان کا اطمینان بھی رہتا، ٹھیک دار کے سر رقم معین ہوجاتی غبن وغیرہ کے خدشوں سے نجات ہاتھ آئی، او رمؤجر ومستاجر دونوں اٰکل حلال کھاتے نافرمانی ملک جبار سے امان پاتے ہیں مگر کم ہیں وہ پاک مبارک بندے جنھیں اپنے دین کا اہتمام ہے، الٰہی ! اس اذل وارذل کو اپنے ان محبوبوں کا خاکپابنا اور امت مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اصلاح احوال فرما
مسئلہ ۲۲۱:از شاہجہانپور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ شیخ بشیر الدین صاحب ۲۵ شعبان ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید کا ایک موضع ہے جس میں قدیم الایام سے ایک بت خانہ اور اس کے چڑھاوہ میں قریب تین سو روپیہ سالانہ کے رقم آتی ہے۔ زید بورجہ قدامت کے بت خانہ کو دفع نہیں کرسکتا۔ اور نہ اس کی پرستش کو بندکرسکتاہے اصل رقم آمدنی موضع مذکور کی دو سوروپیہ سالانہ ہے، ایک ہندوٹھیکہ دار موضع مذکور کاچار سوروپیہ پر لینا چاہتاہے۔ ظاہر ہے کہ اصلی آمدنی کی موضع مذکور کی صرف دو سوروپیہ سالانہ ہے۔ ٹھیکہ دار رقم چڑھاوہ کے خیال سے دو سوررپیہ اصل آمدنی پر بڑھاتاہے مگر زید کوئی تفصیل آمدنی موضع او رآمدنی چڑھاوہ کی نہیں کرتا ہے بلکہ یہی کہتاہے کہ میں ٹھیکہ موضع کا دیتاہوں تو زید کا چارسو روپیہ سالانہ پر موضع مذکور کا ٹھیکہ دینا ہندوکوجائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: سرے سے دیہات کا یہ ٹھیکہ ہی جس طرح آج کل رائج ہے کہ زمین زراعت پر مزارعین کے پاس رہتی ہے اور ٹھیکہ دار رتوفیر کا ٹھیکہ لیتاہے بالاتفاق حرام ہے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
سئل فی تیماری اٰجر المتحصل من تیمارہ لاٰخر بمبلغ معلوم ھل تصح ام لااجاب لاتصح، وعلی کل واحد منہما ردماتناولہ ۱؎۔
ان سے سوال کیاہوا ایک نے اپنے کھجور کے باغ سے حاصل ہونے والے پھل کو دوسرے کو مقررہ رقم سے ٹھیکہ پر دیا۔ کیایہ صحیح ہے یا نہیں؟ جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں۔ اور فریقین پر لازم ہے کہ وہ لین دین واپس کریں۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۸)
اسی میں ہے :
قد اتفقت علماؤنا علی ان الاجارۃ اذا وقعت علی تناول الاعیان اواتلافہا فہی باطلۃ فاذا علم ذٰلک علم الحکم فی اجارۃ القری لتناول الخراج مقاسمۃ کان اووظیفۃ وانہ باطل وقد افتیت بذٰلک مرارا وصورۃ مارفع الی فی قریۃ اٰجرھا المتکلم علیہا الاٰخر لینا ول مایتحصل من خراجہا ورسوم انکحتھا وزکوٰۃ مواشیہا ھل یجوز فاجبت فانہا باطلۃ لاتجوز ۱؎ الخ۔
ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ جب اجارہ عین چیز کو کھانے یا تلف کرنے پر ہو تو باطل ہوگا جب یہ معلوم ہوگیا تو اس سے دیہات کی آمدن یا وہاں سے حاصل ہونے والے حصہ کو ٹھیکہ پر دینے کا حکم معلوم ہوگیا کہ یہ باطل ہے۔ اور اس پر متعدد بار فتوٰی دے چکا ہوں اور میرے پاس مسئلہ کی جو صورت پیش ہوئی وہ یہ تھی کہ ایک قریہ کے مختار نے وہاں سے حاصل ہونے والی آمدن وہاں ہونے والے نکاحوں کے مروجہ عطیات اور جانوروں کی زکوٰۃ کاٹھیکہ دوسرے شخص کو مقررہ رقم پر دے دیا تو کیا یہ جائزہے، تومیں نے جواب دیا کہ یہ ناجائز اورباطل ہے۔ الخ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۰۔ ۱۲۹)
ردالمحتارمیں ہے :
امام مایفعلونہ فی ھذا الایمان حیث یضمنہا من لہ ولا یتہا الرجل بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطل اذ لایصح اجارۃ لو قوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعا الانہ معدوم کما بینہ فی الخیریۃ ۲؎۔
لیکن وہ عمل جو آج کل لوگ کرتے ہیں کہ توقریہ سے حاصل ہونے والی آمدن کے حصے کو مختار کار شخص دوسرے کو ٹھیکہ پر دے دیتاہے تو یہ باطل ہےکیونکہ عین چیز کو تلف کرنے پر یہ قصدا اجارہ ہے بیع نہیں ہے کیونکہ محصولات ابھی معدوم ہیں جیسا کہ خیریہ میں اس کا بیان ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الاجارہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۷)
بلکہ جواز کی یہ صورت ہے کہ جس سے ٹھیکہ دے سال تمام پر خیال کرے کہ کتنے مزارعوں کا پٹہ ہنوز باقی ہے۔ جس جس کا ہوان سے اجازت لے کہ اب ہم یہ ساراگاؤں یا اس کی فلاں پٹی یا فلاں فلاں معین نمبر تمام وکمال فلاں شخص کوزراعت کرنے کے لئے ٹھیکہ پر دیتے ہیں تم اجازت دے دو (اور انھیں سمجھادے کہ یہ زمیں ہمیشہ تامیعاد پٹہ تمھارے ہی پاس رہے گی، ہم اپنے ایک مسئلہ شرعی کے لحاظ سے یہ امر کرتے ہیں) جب وہ اجازت دے دیں تو مستاجر سے کہے اس سارے گاؤں یا اس میں فلاں پٹی یا فلاں فلاں معین نمبر کی زمین اس قدر روپے سالانہ پر زراعت کے لئے ہم نے تیرے اجارہ میں دی کہ تجھے اختیار ہے جو چاہے بوئے قبول کرلے، اب اجارہ صحیح ہوگیا، اور جو روپیہ قرار پایا مالک کو لینا حلال ہوگیا خواہ مستاجر خود زراعت کرے یا دوسروں کو اٹھادے۔
غرض زبانی عقد یوں کرلیا جائے کہ شرع میں اسی کا اعتبار ہے، دستاویز میں اگریوں لکھا جانا انگریزی طو ر پر کچھ خلل انداز ہو تو اختیار کہ تحریر ٹھیکہ اسی قاعدہ پر کرے کہ شرعا وہ تحریر خلاف تقریر کوئی چیز نہیں۔
خیریہ میں ہے :
لیکن محکمہ میں آرڈر اور رجسٹروں میں اندراج شرعا کوئی شرط نہیں صرف لفظی عقد ہی کافی ہے اس سے زائد کی ضرورت نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃبیروت ۱/ ۲۱۶)
اسی میں ہے:
العبرۃ بما تلفظ لالما کتب الکاتب ۲؎ اھ ملخصین،
تلفظ کا اعتبار ہے نہ کہ کاتب کے لکھے ہوئے کا اھ، دونوں عبارتیں ملخص ہیں۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃبیروت ۱/ ۴۰۔ ۱۳۹)
رہا یہ کہ مستاجر کو اس پرنفع لینا مثلا سوروپے سال پر ٹھیکہ لے، اب اپنی طرف سے ایک سو یاسوا سوپر اٹھا دینا کسی حالت میں روا ہوگا۔ اس کی صورتیں جداہیں جن کے ذکر کی یہاں حاجت نہیں کہ وہ صورت مستفسرہ میں کافر ہے اسے احکام شرعیہ کی کیا پرواہ، نہ ہمیں کوئی ضرورت کہ اس کے لئے اکل حلال کی تدبیر کریں،
الخبیث للخبیثین والخبیثون للخبیث ۳؎۔
خبیث چیزیں خبیث لوگوں کےلئے اور خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۲۶)
اس طور پر اصل اجارہ بھی جائز ہوگیا۔ اور وہ مندر کا خدشہ بھی دفع ہوا کہ اس نے تو زمین زراعت کے لئے ٹھیکہ پر دی ہے۔ آگے جو نافرمانیاں ناحفاظیاں ٹھیکہ دار کرے اس کے سر ہیں، اس سے کوئی تعلق نہیں۔
مسئلہ اجارہ دیہات کی تمام تحققیق فقیر غفر اللہ تعالٰی لہ نے اپنے رسالہ''اجود القرٰی لطالب الصحۃ فی اجارۃ القرٰی'' میں ذکر کی جس کی ضرورت نہایت اشد کہ آج کل ایک زمانہ اس سے غافل،ا ور صحیح وجائز طریقہ ملتے ہوئے صرف جہالت کے سبب گناہ عظیم واکل حرام میں مبتلا، نسأل اللہ العفو والعافیۃ۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔