فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
87 - 120
مسئلہ ۲۱۷: ازاروہ بنگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں ۲۸ شوال ۱۳۳۶ھ
بھنگ اور افیون کا گورنمنٹ سے ٹھیکہ لے کر دکان کرے تو بھنک لینا اور دکانداری کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
الجواب: بھنگ اور افیون بقدر نشہ کھانا پینا حرام ہے۔ اور خارجی استعمال نیز کسی دوا میں قدر قلیل جز و ہو کہ روز کے قدر شربت میں قابل تفتیر نہ ہو، اندرونی بھی جائز، تو وہ معصیت کےلئے متعین نہیں،تو ان کی بیع حرام نہیں، مگر اس کے ہاتھ کہ معصیت کے لئے اسے خریدے، لیکن اکثر وہی ہیں تو ان کی تجارت میں احتیاط سخت دشوار اور اسلم احتراز، اور ٹھیکہ یہاں غالبا بایں معنٰی ہے کہ گورنمنٹ سے ان کو اجازت دی جاتی ہے، دوسرا نہیں بیچ سکتا، یہ ایک قانونی بات ہے جس کا ان پرالزام نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸: از شہر ڈونگر پور ملک میواڑ راجپوتانہ برمکان جمعدار سمندرخان مسئولہ عبدالرؤف خاں ۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
اگر مسجد کے احاطہ میں کوئی درخت پھولوں کا ہو اور وہ ٹھیکہ کسی ہندو کو دیا جائے اور وہ پھول بُتوں پرچڑھائے جائیں، اور اس کا پیسہ عمارت مسجدمیں لگانا، روشنی وغیرہ میں صرف کرنا درست ہے یانہیں؟
الجواب: ٹھیکہ دینا حرام ہے اور اس کا روپیہ حرام، پھر بتوں پر چڑھانے کے نیت سے ہو تو اور سخت، اور اگریہ نہیں بلکہ ہندو کا مال اس کی رضاسے ایک نام عقد کے حیلہ سے حاصل کرنا ہو، اور ان پھولوں کے توڑنے کے لئے کافر کا مسجد میں آنا جانا نہ ہو تو حرج نہیں، اور وہ روپیہ مسجد میں لگاسکتے ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۱۹ عہ: مسئولہ محمد محمود از قصبہ باندہ ضلع شاسٹی متصل بمبئی ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
عہ: مسئلتان من مجلدات سوٰی ماذکرت ۱۲ عبدالمنان اعظمی (یہ دو مسئلے مختلف جلدوں میں تھے۔ ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ کوئی شخص مقرر کرکے بطور اجرت کے وعظ کرے اور وعظ گوئی کو پیشہ اور سلسلہ معاش جان کر بسر اوقات کرنی اختیار کرے، جائز ہے یاناجائز؟ تفسیر رؤفی والے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں ناجائز اور قریب حرام کے فرماتے ہیں (آیہ کریمہ):
ولاتشتروا باٰیتی ثمنا قلیلا ۱؎
(اور میری آیات کے بدلے حقیر مال نہ لو۔ ت) فقط۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۴۱)
الجواب: اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ درمختار میں اسے یہود ونصارٰی کی ضلالتوں میں سے گنا ۲؎مگر
کم من احکام یختلف باختلاف الزمان، کما فی العلمگیریہ۳؎
(بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔ ت) کلیہ غیر مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالات زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں: امامت، اذان، تعلیم قرآن مجید، تعلیم فقہ، کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں، مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گناوبس،
(۲؎ درمختار الحظروابالاحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳)
(۳؎ ردالمحتار الحظروابالاحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۷)
فقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیں، میں چند چیزوں پر فتوٰی دیتا تھا، اب ان سے رجوع کی، ازانجملہ میں فتوٰی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگراب اجازت دینا ہوں، لہذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰ الف:مسئولہ مولوی عبدالرحیم بخش صاحب مدرس مدرسہ فیض الغرباء ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ فیض الغرباء آرہ شاہ آباد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچہری کی ججی، سب ججی، منصفی، رجسٹراری کی نوکری شرعا جائزبلاکراہت ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: جس نوکری میں خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنا پڑتا ہو ہر گز جا ئز نہیں، اگر چہ سلطنت اسلام کی ہو، ائمہ دین نے تیسری صدی کے آخر میں اپنے زمانہ کے سلاطین اسلام کی نسبت فرمایا:
من قال لسلطان زماننا عادل فقدکفر
(جس نے ہمارے زمانہ کے حاکم کو عادل کہا وہ کافر ہے۔ ت)ان قضاۃ کی نسبت قرآن عظیم میں تین الفاظ ارشاد ہوئے
جب قاضیاں اسلام سلطنت کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فصیلہ کریں، رہی رجسٹراری، اس میں اگر چہ حکم نہیں، مگر وہ دستاویزوں پر شہادت ہے اور انھیں رجسٹرپر چڑھانا،اور ان میں بہت دستاویزیں سو دکی بھی ہوتی ہیں اور صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربٰو ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور اس پر گواہی کرنے والوں پر، اور فرمایا سب برابر ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب البیوع باب الربٰو قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷)
اجودالقرٰی لطالب الصحۃ فی اجارۃ القرٰی (۱۳۰۲ھ)
(دیہات کے ٹھیکہ کی صحت کے طلبگار کے لئے بہترین مہمانی)
مسئلہ ۲۲۰(ب): از بدایون ۷ جمادی الاولٰی ۱۳۰۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ ٹھیکہ دیہات کا جو فی زماننا شائع وذائع ہے، جس کا حاصل یہ ہوتاہے کہ زمین تو مزارعین کے اجارہ میں بدستور ہے، اور توفیر مستاجر کو ٹھیکہ میں دے دی گئی کہ اس قدر توفیر کا گاؤں اتنے میں ٹھیکہ دیا، بحساب اقساط اس قدر بلاعذر کمی وصول وغیرہ ادا کرو، پھر اگر ٹھیکہ دارنے رقم معین سے کسی قدر اگرچہ ایک پیسہ ہو، یا ہزار روپیہ زائد وصول پایا وہ اس کا حق سمجھا جاتاہے اور وصول میں کمی رہے تو اس مقدار کا اپنے گھر سے پورا کرنا پڑتاہے۔ یہ طریقہ شرعاجائز ہے یا نہیں؟ اور برتقدیر بیشی مستاجر کہ قدر زائد اور درصورت کمی مؤجر کو مقدار باقی لینا حلال ہے یا نہیں؟ اوراگر اسے ناجائز کہا جائے تو کیا فرق ہے کہ مزارعین کو زمین ٹھیکہ پر دینا جائز ہے۔ اور یہ صورت ناجائز۔ بینوا توجروا (بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ ت)
الجواب: یہ ٹھیکہ شرعا محض باطل وناجائز ہے ہر گز ہر گز کوئی صورت اس کے جواز وحلت کی نہیں، نہ یہ معاہدہ کسی قسم کا اثر پیدا کرسکے، نہ عاقدین پر اس کی پابندی ضرور، بلکہ فی الفور اس کا ازالہ واجب، نہ مقدار وصول میں ٹھیکہ دار کا کچھ حق، نہ گاؤں سے اس کو کسی قسم کا تعلق۔ اس پر فرض ہے کہ جس جس قدر منافع خالص وصول ہوکوڑی کوڑی مالک کو ادا کرے، خواہ وہ رقم معین سے زائد ہو یا کم، اگر ایک پیسہ اس میں سے رکھ لے گا اس کے لئے حرام ہوگا، نہ مالک کا مقدار وصول سے زیادہ میں کچھ استحقاق، مثلا ہزار کوٹھیکہ دیا نو سو وصول ہوئے، تو اسی قدر مالک کےلئے حلال ہیں نو سوروپے سے کوڑی زائد لے گا تو اس کے لئے حرام محض ہے۔ اور گیارہ سو کی نشست ہوئی تو یہ پورے گیار ہ سو خاص مالک کے ہیں ٹھیکہ دار (عہ) کا ان میں ایک حبہ نہیں یہاں تک کہ اگر ٹھیکہ دار توفیر سے دست بردار ہو کر یہ چاہے کہ حق محنت میں کچھ اجرت ہی پاؤں، تو اس کا بھی مطلق استحقاق نہیں۔
کیونکہ اس نے اپنےلئے کام کیا ہے اور شرعاً باطل چیز باہمی رضامندی سے صحیح نہیں بن سکتی تو دوونوں پر اس سے علیحدگی ضروری ہے تاکہ گناہ کاازالہ ہو سکے جبکہ فقہاء کرام نے فاسد عقود میں فسخ کرنا لازم قرار دیاہے تو باطل عقود میں تیرا کیا خیال ہے۔ (ت)
عہ: فی الاصل ''کٹکنہ دار'' لعلہ زلۃ من الناسخ ۱۲
جن لوگوں کے پاس کسی حقیت دیہی کا چند سال تک ٹھیکہ رہا ہو ان پر فرض ہے کہ تمام برسوں کی واصلباتی بلحاظ تحصیل خام لگا کر ایک دوسرے کے مواخذہ سے پاک ہوجائیں مثلا زید نے عمرو کو اپنا گاؤں بعوض ایک ہزارو رپے کے تین برس تک ٹھیکہ دیا اورتین ہزار روپے وصول پائے اب دیکھا جائے کہ عمرو کو ان برسوں میں کیا وصول ہوا تھا، اگر ہر سال مثلا بارہ سو روپے پائے تھے تو اس پر چھ سو روپے زید کے واجب الادا تھے اور ہر سال آٹھ سو روپے ملے تھے تو چھ سواس کے زید پر رہے، اور ایک سال ہزارپائے تھے، دوسرے سال آٹھ سو۔ تیسرے سال بارہ سو۔ تو دونوں بے باق ہیں، افسوس کہ عام بندے یہاں تک کہ علماء اسی مسئلہ سے سخت غافل ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اصل کلی یہ ہے کہ جس طرح عقد بیع اعیان پر وارد ہوتاہے یونہی اجارہ ایک عقد ہے کہ خالص منافع پر ورود پاتاہے جس کا ثمرہ یہ ہوتاہے کہ ذات شیئ بدستور ملک مالک پر باقی رہے اور مستاجر اس سے نفع حاصل کرے۔ جو اجارہ خاص کسی عین وذات کے استہلاک پر وار دہو، محض باطل ہے اَللّٰہُمَّ اِلاَّ ماَ اسْتَثْنَاہُ الشَّرْعُ کَاِجَارَۃِ الظَّئر للْاِرْضاعِ (ہاں مگر وہ جس کوشرع نے مستثنٰی کردیاہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت کا اجارہ۔ ت) وغیر ذلک، اسی لئے اگر باغ کو بغرض سکونت اجارہ میں لیا جائز، اور پھل کھانے کے لئے ناجائز، کہ سکونت منفعت اور ثمر عین گائے کو لادنے کے لئے اجارہ میں لیا جائز، دودھ پینے کو ناجائز، کہ لادنا منفعت ہے اور دودھ عیں حوض سنگھاڑھے رکھنے کےلئے اجارہ میں لیا جائز، مچھلیاں پکڑنے کو ناجائز، کہ سنگھاڑھے بونا منفعت ہے، مچھلیاں عین۔
فی ردالمحتار عن البزازیۃ الاجارۃ اذا وقعت علی العین لاتصح فلا یجوز استیجار الاٰجام والحیاض لصید السمک اورفع القصب وقطع الحطب اولسقی ارضہا اولغنمہ منہا وکذا اجارۃ المرعی، والحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ، ویبیح الماء والمرعی ۱؎ الخ، وفی الفتاوٰی الخیریۃ لنفع البریۃ قد صرحوا بان عقد الاجارۃ علی اتلاف لاعیان مقصودا کمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا، لاینعقد وکذٰلک لو استاجربستانا الیا کل ثمرتہ، ۲؎ والمسئلۃ مصرح بہافی منح الغفار وکثیر من الکتاب۔
ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے کہ جب اجارہ عین کی ہلاکت پر ہو تو صحیح نہ ہوگا، جیسے پودوں کے ذخیرے اور حوض مچھلی پکڑنے اور ناڑ کاٹنے اور لکڑی کاٹنے یا ان زمینوں کو سیراب یا جانوروں کو پلانے کے لئے اوریونہی چراگاہ اجارہ پر لینا اور ان سب امور کےلئے حیلہ یہ ہے کہ وہاں کوئی معین جگہ جانور رکھنے کے لئے کرایہ پر حاصل کرے، اور پانی اور چارہ کو مالک مباح کردے الخ، اورفتاٰی خیریہ لنفع البیریہ میں ہے کہ فقہاء کرام پر اجارہ منعقد نہ ہوگا، جیسے گائے دودھ کے لئے اور باغ کو اس کاپھل کھانے کے لئے اجارہ پر لینا جبکہ یہ مسئلہ منح الغفار اور بہت سی کتب میں تصریح شدہ ہے۔ (ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۹)
(۲؎فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۹)
اب اسی اجارہ کو دیکھئے تویہ ہرگز کسی منفعت پر واردنہ ہواکہ زمیں بغرض زراعت تو مزارعین کے ٹھیکہ میں ہے۔بلکہ خاص توفیر یعنی زر حاصل یا بٹائی کاغلہ اجارہ میں دیا گیا اور اسی کا استہلاک مفاد عقد ہوا،
اذمن المعلوم ان الحبوب والنقود ولاینتفع بہا الاباتلافہا
(اور ظاہر ہے دانے او رنقد زر سے ان کی ہلاکت کے بغیر نفع حاصل کیا جاسکتاہے۔ ت) اور پر ظاہر کہ زروطعام اعیان سے ہیں نہ منافع سے اگر چہ محاورہ ہندیان میں تمام حاصلات دیہی کو بلفظ منافع تعبیرکیا جاتاہے۔ عین اشیائے قائمہ بالذات کو کہتے ہیں، او رمنفعت معانی حاصلہ فی الغیر عین امور محسوسہ کی جنس سے ہے اور مفنت معنی معقول عین کہ چند زمانے تک بقاہے۔ او رمنفعت ہر آن متجدد۔
فی ردالمحتار المنفعۃ عرض لاتبقی زمانین ۱؎۔
ردالمحتار میں ہے نفع ایک عرض چیزہے جس کا وجود دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳)