Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
86 - 120
اختیار شرح مختار وخزانتہ المفتین میں ہے :
کل جہالۃ تفسد البیع تضد الاجارۃ ۱؎
ہر وہ جہالت جو بیع کو فاسد کرتی ہے اجارہ کو بھی فاسد کرتی ہے۔ (ت)
(۱؎ خزانۃ المفتین     کتاب الاجارۃ     قلمی نسخہ    ۲/ ۱۶۵)
فتاوٰی سراجیہ میں ہے :
جل جہالۃ تؤثر فی البیع تؤثر فی الاجارۃ ۲؎
جو جہالت بیع میں مؤثر ہے وہ اجارہ میں بھی مؤثر ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی سراجیہ    کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ     نولکشور لکھنؤ    ص۱۱۳)
درمختارمیں ہے:
کل ماافسد البیع یفسدھا ۳؎۔
جو بیع کو فاسد کرے وہ اجارہ کو بھی فاسد کرتی ہے۔ (ت)
(۳؎ درمختار         کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۷۷)
اسی میں ہے:
لایصح البیع بثمن مؤجل الی الحصاد للزرع والدیاس للحب والقطاف للعنب، لانہا تتقدم وتتاخر ۱؎ (ملخصا)۔
وہ بیع جس کے ثمن کے لئے فصل کی کٹائی یا گہائی یا انگور کی اترائی کو میعاد بنایا گیا ہو صحیح نہیں کیونکہ یہ امور آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔ (ملخصا) (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۷)
ردالمحتارمیں ہے :
فی الزاھدی باعہ بثمن نصفہ نقد ونصفہ اذا رجع من بلد کذا فھو فاسد ۲؎۔
زاہدی میں ہے کسی چیزکو یوں فروخت کرنا کہ اس کی نصف قیمت نقد اور نصف فلاں شہر سے واپسی پر دوں گا تو وہ فاسد ہوگی۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار    کتاب البیوع        داراحیاء التراث لعربی بیروت    ۴/ ۱۱۹)
مگر اجارہ فاسدہ میں بھی بعد استیفائے منفعت اُجرت، کہ یہاں وہی اجر مثل ہے، واجب ہوجاتی ہے۔ ا ور وہ اجیر کی ملک ہے۔ 

درمختارمیں ہے:
حکم الفاسد وجوب اجر المثل بالاستعمال۳؎۔
فاسد اجارہ کا حکم یہ ہے کہ استعمال کرلینے پر مثل اجرت واجب ہوتی ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب الاجارۃ   باب الاجارۃ الفاسدۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۷۷)
بلکہ منیہ وقنیہ وجامع الرموز و محیط غرر الافکار وغیرہا کی رو سے اس ملک میں خبیث بھی نہیں ہوتا۔ اجیر کے لئے طیب ہوتی ہے اگرچہ اصل عقد گناہ وفاسد تھا۔ 

ردالمحتارمیں ہے:
الاجر یطیب وان کان السبب حراما کذا فی المنیۃ قہستانی ۴؎ اھ الخ ونقل منہ مثلہ السید الحموی فی غمز العیون عن القنیۃ ثم عقبہ بقولہ لم یذکر وجہہ فلینظر ۵؎ اھ وذکر الشامی عن منح الغفار الاشمس الائمۃ الحلوائی قال تطیب الاجرۃ فی الاجارۃ الفاسدۃ اذا کان اجر المثل وذکر فی المسئلۃ قولین واحدھما اصح فراجع نسخۃ صحیحۃ ۶؎ اھ۔
اجرت حلال ہے اگرچہ سبب حرام ہو، جیسا کہ منیہ میں ہے، قہستائی الخ، اور سید حموی نے غمز العیون میں قنیہ سے ا س کی مثل نقل کیا ہے، اور پھر اس کے بعد ذکر کیاکہ انھوں نے اس کی وجہ ذکر نہ کی توغور کرناچاہئے اھ، علامہ شامی نے منح الغفار سے نقل کیا ہے کہ شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا ہے کہ اجارہ فاسدہ میں اجرت حلال ہے جب وہ مثلی اجر ت کے برابر ہوں اور انھوں نے مسئلہ میں دو قول ذکرکئے اور دونوں میں ایک اصح ہے تو صحیح نسخہ کی مراجعت چاہئے۔ اھ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار   کتاب الاجارۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۸)

(۵؎ غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب الاجارات    ادارۃ القرآن کراچی        ۲/ ۶۱)

(۶؎ ردالمحتار    کتاب لاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۸)
بہر حال اس میں شک نہیں کہ یہ رقم اصل جو گورنمنٹ وریاست سے لے کر بنک میں بنام ملازم جمع ہوتی ملک ملازم ہے۔ وہی وہ زیادت کہ ڈاکخانہ بنام سوددیتاہے اسے بہ نیت سودلینا ہر گز جائز نہیں۔

قال اﷲ تعالٰی
واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کوحرام کیا۔ (ت)
(۱؎القرآن الکریم        ۲/ ۲۷۵)
اور خودیہ نیت نہ کرے بلکہ مال گورنمنٹ سے برضائے گورنمنٹ ایک رقم جائز بحال استحقاق خود اپنے لئے ورنہ اپنے بھائیوں فقراء ومساکین ودیگر اہل استحقاق کے لئے بیت المال سے لینا سمجھے تو حرج نہیں، اگرچہ دینے والے اسے کسی لفظ سے تعبیر کریں یا اپنے نزدیک کچھ سمجھیں۔
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۲؎ وقد فصلنا القول فی ہذا لمرام فی فتاوٰینا بما لامزید علیہ۔
اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت پر ملے گی، اور ہم نے اس مقصد میں تفصیلی قول اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ جس پر زائد کی گنجائش نہیں۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری  باب کیف کان بدء الوحی    قدیمی کتب خانہ  کراچی    ۱/ ۲)
اصل یہ ہے کہ بیت المال اسلامی ہو خواہ اسلامی نہ ہو، جب اتنظامات شرعیہ کا اتباع نہ کرے تو اہل استحقاق مثلا طلبہ علم دین وعلمائے دین کہ اپنا وقت خدمات دینیہ مثلا درس وتدریس ووعظ و افتاد تصنیف میں صرف کررہے ہوں اگر چہ لکھو کھاروپے کے، مالک اغنیا کثیر المال ہوں اور بیوہ، یتیم، لنجے، اندھے، فقراء، مساکین، جو کچھ اس میں سے برضائے سلطنت بے عذر وفتنہ وارتکاب جرائم پائیں ان کےلئے جائز ہے، اگر چہ دینے والا کسی دوسری وجہ ناجائز کے نام سے دے۔
فانہم انمایأخذون وینوون ماھولہم فلا باس علیہم ممانوی غیرہم
کیونکہ وہ لوگ لیتے ہیں اور اپنی نیت پر فائدہ پاتے ہیں تو غیر کی نیت کا ان پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔ (ت)

درمختار میں ہے:
من لہ حظ فی بیت المال وظفر بما ہو موجہ لہ لہ اٰخذہ دیانۃ، وللمودع صرف ودیعۃ مات ربہا ولاوارث  لنفسہ اوغیرہ من المصارف ۱؎۔
جس کا بیت المال میں جتنا حق ہے اس کے مطابق خود لے لینے میں دیانۃ جائز ہے۔ اور جس کے پاس امانت ہے اگر امانت رکھنے والا فوت ہوجائے تو اور اس کا کوئی وارث نہ مصرف ہے تو امانتدار کہ صرف کرنا جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الزکوٰۃ    باب العشر        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۴۰)
وجیز کردری وغیرہ میں ہے :
فاذا کان من اہلہ صرفہ الی نفسہ وان لم یکن من المصارف صرفہ الی المصرف ۲؎۔
جب امانتدار خود صرف کااہل ہے یعنی مصرف ہے تو خود صرف کرسکتاہے اگر خود مصرف نہ ہو تو مصرف صرف کرے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی الہندیہ الفصل الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۸۹)

اسی طرح تنویر الابصار مسائل شتی وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے۔ اور جب لینے والے کا دینے والے پر کوئی مطالبہ شرعیہ آتاہو کہ وجہ صحیح کے نام سے نہ مل سکتا جب تو یہ مسئلہ غایت تو سیع پاتاہے۔ جس میں گورنمنٹ وغیر گورنمنٹ ومسلمان وغیر مسلمان کسی کا فرق نہیں رہتا۔ مثلا زید نے عمرو کے سو روپے چرالئے، عمرو کے پاس ثبوت قانونی نہیں، اپنا مال یوں لینے عاجز ہے تو جائز ہے کہ سوروپے تک عمرو سے کسی وجہ جائز قانون کے نام سے وصول کرلے، اگر چہ شرعا وہ نام ناجائز ہو،  

درمختارمیں ہے:
لوامتنع والمدیون مدیدہ واخذہا لکونہ ظفر بجنس حقہ ۳؎ اھ ، والتفصیل الجیمل فی فتاونٰا بتوفیق اﷲ تعالٰی واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب قرضدارقرض کی ادائیگی نہ کرے تو قرض خواہ اپنے حق کی جنس پر قبضہ میں کامیاب ہوجائے تو لے سکتاہے اھ، اور بہترین تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎درمختار    کتاب الزکوٰۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۳۰)
Flag Counter