Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
85 - 120
مسئلہ ۲۱۵: از بنگالہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی مقدمہ کے اندر گرفتار ہوکر کے کسی دوسرے شخص سے اپنی حالت کے واسطے دعا کروائے، اور بھی اس دعاخواں کو کچھ روپیہ چاہئے یانہیں؟ اور ان کو روپیہ لینا حلاال ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: حلال ہے اگر کچھ نہ دینے کا ذکر آیا، نہ عرف ورواج کی راہ سے معاوضہ ثابت تھا، او ریونہی بطور حسن سلوک اسے کچھ دے دیا جب تو خود ظاہر کہ اسے لینے میں اصلا حرج نہیں یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی نمازی کو نماز عمدہ طور پر پڑھتے دیکھے اس کا دل خوش ہو کچھ روپیہ بطور نذریا ہدیہ یا انعام کے اسے دے، تو اس کے لینے میں کچھ مضائقہ نہیں، کہ یہ اُجرت سے اصلا تعلق نہیں رکھتا، اور اگرباہم قرارداد ہولیا کہ ہمارے مقدمہ کے لئے فلاں ختم پڑھواوروقت واُجرت وغیرہ کی صحیح تعین کردی جس سے اجارہ میں جہالت نہ رہے تو یہاں یہ بھی حلال ہے کہ اس صورت میں ثواب مقصود نہیں بلکہ قضائے حاجت کی تدبیر وعلاج، تویہ اس طرح ہوا جیسے مریض پر پڑھ کر پھونکنے کی اجرت لے، اس کا جواز صحیح حدیث سے ثابت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم ایک گاؤں میں ٹھہرے، وہاں کے لوگوں نے برخلاف عادت عرب مہمانی نہ دی، رئیس دیہہ کو سانپ نے کاٹہ، لوگ ان کے پاس آئے، انھوں نے سو دنبے ٹھرالیئے، سورہ فاتحہ شریف پڑھ کر دم کردی، اچھا ہوگیا، پھر صحابہ کو خیال آیا کہ کہیں قرآن مجید پر اُجرت لینا نہ ہوگیا ہو، ان بکرویوں کو نہ کھایا، جب مدینہ طیبہ حاضر ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حال عرض کیا، حضور نے اجازت دی اور فرمایا:
ان احق مااخذتم علیہ اجرا کتاب اﷲ ۱؎ رواہ البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جس چیز پر اجرت لو اس میں سب سے زیادہ حق کتاب اللہ کو ہے۔ اس کو بخاری نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الطب با ب الشرط فی الروایۃ بقطیع من الغنم    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۸۵۴)

(صحیح البخاری      کتاب فضائل القرآن ۲/ ۷۴۹،    کتاب الاجارۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۳۵۴)
ردمحتار میں ہے:
ان المتقدمین المانعین الاستیجار مطلقا، جوزوالرقیۃ، بالاجرۃ ولو بالقرآن کما ذکرہ الطحطاوی لانہا لیست عبادۃ محضۃ بل من التداوی ۲؎۔
متقدمین جو اُجرت لینا منع فرماتے ہیں انھوں نے بھی دم کرنے پراُجرت لینا جائز کہا ہے خواہ یہ دم قرآن کے ساتھ ہو، جیسا کہ طحطاوی نے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ خالص عبادت نہیں بلکہ ایک علاج ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار    کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۶)
ہاں اگر خالی دعا بغیر کسی ختم یاعمل کے ہو تو اس پر اجارہ ٹھہرانے کے کوئی معنی نہیں کہ اتنے کہنے میں اس کا کیا صرف ہوتا ہے کہ الٰہی فلاں کی حاجت برلا، جس پر اجرت لے گا نہ اس پر اجارہ معہود ہے۔
والاجارۃ انما جوزت استحسانا علی خلاف القیاس لدفع حاجات الناس فمالیس من اجاراتہم لم یکن من حاجاتہم
اور اجارہ کا جواز خلاف قیاس لوگوں کی ضروریات کی وجہ سے اور لوگوں میں جو اجارہ مروج نہیں وہ لوگوں کی حاجت نہیں ہے۔ (ت)

ہندیہ میں ذخیرہ سے ہے :
اذا استاجر موضعا معلوما من الارض لیتدفیہا الاوتادیصلح بہا الغذل کی ینسج جاز لانہ من اجارات االناس، ولو استاجر حائطا لیتدفیہا الاوتاد یصلح علیہا ابریسم لیسنج بہ شعرا اودیباجا لایجوز کذا ذکرہ بعض مشائخنا رحمہم الﷲ تعالٰی لان ھذا لیس من اجارات الناس فی عرف دیارنا ینبغی ان یجوز کذا ذکرہ بعض مشائخنا لان االناس تعاملوا ذٰلک فی فصلین جمیعا۔ ۱؎۔
جب کوئی معین جگہ اجرت پر لی کہ وہاں کیلے گاڑکر سوت کو کپڑا بننے کے لئے درست کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ اجارہ لوگوں کی عادت ہے اور اگر کوئی دیوار کرایہ پر لیا کہ وہاں کیلے گاڑ کر بننے کے لئے ریشم درست کرکے یا اونی یا دیبا جی کپڑا بنائے تو یہ جائز نہیں، ہمارے بعض مشائخ نے یوں ذ کر فرمایا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے عادی اجار ہ نہیں ہے او رہمارے علاقہ کے عرف میں جائز ہونا چاہئے کیونکہ یہاں دونوں چیزوں میں لوگوں کا تعامل ہے، بعض ہمارے مشائخ نے یوں ذکر فرمایاہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ  بحوالہ الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الاجارہ الباب الخامس عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۴۴۲)
خانیہ وکبرٰی وعالمگیریہ میں ہے:
وللفظ لہذہ قال للدلال اعرض ضیعتی وبعہا علی انک اذا بعتہا فلک من لاجرکذا فلم یقدرالدلال علی اتمام لامر ثم باعہا دلال اٰخر قال ابولقاسم لوعرضہا الاول وصرف فیہ روزجارا یعتد بہ فاجر مثلہ لہ واجب بقدر عنائہ وعملہ، قال ابوللیث رحمہ اﷲ تعالٰی ھذا ھوالقیاس، ولایجب لہ استحسانا اذا ترکہ وبہ ناخذ وھو موافق قولہ یعقوب اذ اترکہ وبہ ناخذ وھو موافق قول یعقوب رحمہ اﷲ تعالٰی ھوالمختار ۱؎۔
عالمگیریہ کے الفاظ میں ہے، دلال کو کہا کہ میر زمین کو فروخت پر لگا جب تو فروخت کرے تو اتنی اجرت دوں گا تو دلال یہ کام مکمل نہ کرسکا پھر دوسرے دلال نے فروخت کردی، ابوالقاسم نے فرمایا اگر پہلے دلال نے فروخت پر لگائی اور اس نے اس پر روزانہ محنت کی ہو تو اس کا اعتبار کرتے ہوئے اس کو مثلی اجرت ا س کی محنت اور کام کے مطابق دینی ضروری ہے حضرت ابواللیث رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا قیاس یہی ہے لیکن جب پہلے نے عمل تر ک کردیا تو اجرت واجب نہ ہوگی ہمارایہی موقف ہے، اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے قول کے یہی موافق ہے، یہی مختار ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاجارۃ    البا ب الاخامس عشر الفصل الرابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۴۵۱)
اسی میں تبیین سے ہے :
منہا (ای من شرائط صحۃ الاجارۃ) ان تکون المنفعۃ مقصودۃ معتاداستیفائہا بعقد الاجارۃ ولایجری بہا التعامل بین الناس فلا یجوز استیجار الاشجار لتجفیف الثیاب علیہا ۲؎۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
ان میں بعض اجارہ کی صحت شرائط میں کہ مقصود منافع وہ ہوں جن کو عقد اجارہ میں حاصل کرنا لوگوں کی عادت ہو اور لوگوں کا اس پر تعامل نہ ہو  اسی لئے کپڑے خشک کرنے کے لئے درخت کرایہ پر لیناد رست نہیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ   کتاب الاجارۃ    الباب الاول     نورانی کتب خانہ پشاور   ۴/ ۴۱۱)
مسئلہ ۲۱۶ عہ: از ضلع بارہ بنکی مرسلہ منشی کریم الدین ضلعدار کورٹ علاقہ سورج پور تمام ہتہونڈہ ضلع بارہ بنکی ۱۹ محرم ۱۳۲۲ھ
عہ:  ثلثہ مسائل کانت منثورات فی جلد سابع۔ عبدالمنان اعظمی (یہ تین مسائل ساتویں جلد میں متفرق تھے۔ ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بموجب قاعدہ مجریہ صاحبان بورڈ مال ممالک متحدہ آگرہ واودھ، ملازمان محکمہ کورٹ آف وارڈ مین کی تنخواہ ماہانہ سے فی رواپیہ ۱/ وضع ہوتاہے۔ اور اس وضع شدہ رقم کی نصف تعداد ریاست متلقہ سے لی جاتی ہے۔ مثلا (؂)کے تنخواہ دار سے (۴/عہ) وضع کیا گیا۔ اور( ۱۰/) ریاست سے لیا گیا کل (۴ /عہ) وصول ہوکر سیونگ بینک ڈاکخانہ میں جمع کیا جاتاہے۔ اور اس بینک مذکورہ کے قاعدہ سے سود لگایا جاتاہے۔ جب ملازمت ختم ہوجائے تو یہ کل زراصل وسود بجائے پنشن کے ملازم کو دیا جائے گا۔ آیااس رقم کا لینا ملازم کو جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:  ملازمت جائزہ کی تنخواہ ماہ بماہ خواہ اس کا کوئی جز جمع ہوکر بعدختم ملازمت دیا جائے، ہر طرح وہ اس ملازم کی ملک ہے، اور جو تنخواہ گورنمنٹ سے مقرر ہوا س کا (۱/۳۲ )کہ حسب قرارداد معروف و معہود ریاست متعلقہ کے ذمہ ہوتااور ملازم کے لئے جمع کیا جاتاہے۔ وہ بھی حقیقۃ اسی تنخواہ کا جز ہے۔ (عہ/)کا ملازم واقع میں برائے قاعدہ مقررہ (عہ/۱۰ ) ماہوار کا ملازم ہے جسے (عہ/ )گورنمنٹ اور( ۱۰/ )ریاست سے ملیں گے اگر چہ ماہ بماہ سہ (عہ ۱۲/ ) پائے گا، اور( ۲عہ/) گورنمنٹ کا اور( ۱۰/ ) ریاست کا جملہ (۴ ۱عہ/) تنخواہ معینہ سے جمع ہوتے رہیں گے، شرعا اگر چہ یہ صورت اجارہ فاسدہ ہے کہ ایک جزواجرت ایک مدت مجہولہ کے لئے مؤجل کیا گیا، کیا معلوم کہ ختم ملازمت کب ہو، اور اجل مجہول سے مؤجل کرنا مفسد بیع واجارہ ہے جس کے سبب عقد فاسد وگناہ ہوجاتاہے۔
Flag Counter