فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
84 - 120
مسئلہ ۲۱۲ عہ: از احمد آباد گجرات محلہ جمال پورہ متصل مسجد کارنج مرسلہ مولانا عبدالرحیم صاحب ۱۶ شوال ۱۳۲۵ھ
عہ: ھذہ الفتوٰی وثلثۃ بعدہ کانت متفرقۃ فی ابواب شتٰی ماعد اباب الاجارۃ فی الجلد الثامن ۱۲ عبدالمنان اعظمی
آٹھویں جلد (قدیم، جدید ۱۹) میں یہ او اس کے بعد کے تین فتوے مختلف ابواب میں متفرق تھے ان کو اجارہ میں یہاں منتقل کیا گیا ہے۔ عبدالمنان اعظمی (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یہاں شہر احمد آباد میں بعض ''حافظ القرآن'' حضرات اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر سوم وچہم منانے جاتے ہیں، اور ''کلام مجید'' پڑھ کر اموات کی خدمت میں ایصال ثواب کرتے ہیں اور وہاں سے اجرت لیتے ہیں اور اس میں جُہلاء بہت ثواب سمجھتے ہیں، آیا یہ ایصال ثواب کرکے اُجرت لنا جائز ہے یا حرام ہے۔
اُجرت لے کر ایصال ثواب کرے تو اموات کی خدمات میں ثواب پہنچتاہے یانہیں؟
اور جو حافظ القرآن اُجرت لے کر ثواب کرنے کے لئے احباب اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر تشریف لے جاتے ہیں ان کے پیچھے نمازی پڑھنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: اُجرت پر کلام اللہ شریف بغرض ایصال ثواب پڑھنا پڑھوانا دونوں ناجائز ہے، اور پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گنہ گار۔ اور اس میں میت کے لئے کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کی مرضی وصیت سے ہوتو وہ بھی وبال میں گرفتار۔
قال اﷲ تعالٰی
لا تشترواباٰیتی ثمنا قلیلا ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اورمیری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۴۱)
اور یہ کہنا کہ ہم اللہ کے لئے پڑھتے ہیں اور دینے والے بھی ہمیں اللہ کے لئے دیتے ہیں محض جھوٹ ہے۔ اگریہ نہ پڑھیں تو وہ ایک حبہ ان کو نہ دیں، اور اگر وہ نہ دیں تو یہ ایک صفحہ نہ پڑھیں، اور شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ المعروف کالمشروط ۲؎ (معروف مشروط کی طرح ہے۔ ت)
(۲؎درمختار کتاب الاجارہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۲)
(الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۳۱)
بلکہ اس ظاہری شرط نہ کرنے سے ایک اور خباثت بڑھ جاتی ہے اجارہ جو امر جائز پر ہو وہ بھی اگر بے تعین اجرت ہو تو بوجہ جہالت اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہے، نہ کہ وہ اجارہ کو خودناجائز تھا، وہ تو حرام درحرام ہوگیا، یہ حاوی جس میں یہ بیہودہ حکم ۴۵ درم والا لکھا ہے، حاوی قدسی نہیں، حاوی زاہذی ہے،
کما فی ردالمحتار ۱؎
(جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے۔ت) اور یہ زاہدی ایک معتزلی بدمذہب تھا،
کما فی الردالمحتار فی الاسفار ۲؎
(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ کتب میں ہے۔ ت) اور اس کا یہ حکم قوانین شرع سے محض جُدا، او ر یہ تجدیدشرع مطہر پر صریح افتراء ہے۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۶)
(۲؎ ردالمحتار)
جو حافظ اس کا پیشہ رکھے فاسق معلن ہے، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی، کہ اسے امام بنانا گناہ اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی ہو اس کا پھیرنا واجب، ہاں اگر اس کی حلت چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے یہ پڑھوانے والے وقت معین کے ساتھ مثلا روزانہ صبح کے ۷بجے سے ۱۰ بجے تک اور شام ۲ بجے سے ۴ بجے تک، یا جو وقت مقرر کریں، ایک اجرت معینہ پر مثلا ۴ روز یا جو قرار پائے، ان حافظوں کو اپنے کار خدمت کے لئے نوکررکھیں، اس وقت معین کے لئے یہ ان کے ملازم ہوگئے انھوں اختیار ہے جو کام چاہیں لیں، ازاں جملہ یہ کہ فلاں میت کے لئے قرآن عظیم پڑھو، اب یہ حلال ہے، دینا واجب اور لینا روا، کہ اب یہ اجارہ قرآن خوانی پر نہیں، بلکہ ان حافظوں کے منافع نفس پر ہے، یہاں تک کہ اگر یہ اس وقت مقرر پر پابندی کے ساتھ حاضر رہیں اور مستاجرین ان سے کچھ کام نہ لیں، جب بھی تنخواہ واجب ہوگی۔
لان المستحق علیہم انما کان تسلیم النفس وقد حصل کما ھو حکم ''اجیر الواحد''۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔کیونکہ وہ پابندتھے کہ اپنے نفس کو سونپ دیں، اور یہ کام ہوگیا جیسا کہ اجیر خاص کا حکم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۱۳: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ مولوی امیر اللہ صاحب ۲۶ ذوالحجہ ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص ۵ روپیہ ماہوار کا نوکر تھا اس نے خود نوکری ترک کردی، رقعہ کے ذریعہ سے بقیہ تنخواہ مانگی، ذیقعدہ سنہ حال کی ۲۸ سے چھوڑی، چنانچہ عبارات اس کی بلفظہٖ درج ہے: ''میں نے ۲۸ ذیقعدہ بروز پنچشبنہ کو کام چھوڑا، اسی ماہ مذکور کی تنخواہ چاہی ہے'' چونکہ یہ ذیقعدہ ۳۰ کا ہوا تو ۲۸، ۲۹، ۳۰ تین دن کی تنخواہ منہا ہونی چاہئے یا یک دن ہفتہ کی، جمعہ کی تعطیل تھی، ترک توروزگار کے بعد بھی تعطیل جمعہ وجمعرات ملنا چاہئے، یا ۲۷ یو م کی واجب ہے ؟ اتنے دن کی تنخواہ مجموع آٹھ آنہ ہوئے، ایک دن کی ۰۲/۲ پائی ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں ۰۲/۲ پائی کا ٹو اور دو دن تعطیل کے مجھے ملناچاہئے، آیا یہ قاعدہ شرعی یا عرفی وغیرہ ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : ایام تعطیل کی تنخوہ بحال ملازمت ملتی ہے۔ شرعا عرفا یہی قاعدہ ہے، اگر ترک ملازمت تاریخ ۲۸ سے ہوا تو تین دن کی تنخواہ کا وہ مستحق نہیں،
فان البطالۃ ترفیۃ عما علیہ من الاشتغال وبعد ترک الاجارۃ لاشغل علیہ فلا ترفیۃ فلا اجرۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کیونکہ تعطیل لازمی مشغولیت سے آرام کے لئے ہوتی ہے تو اجارہ ختم ہونے کے بعد کوئی مشغولیت نہ رہی توآرام کا ہے کا تو اجرت کا استحقاق نہ رہا واللہ تعالٰی اعل وعلمہ جل مجدہ واتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۲۱۴:مسئولہ احمد حنس بنگالی طالب علم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ واعظ یا حافظ نے وعظ یا قرآن ختم کیا اور بغیر طلب کے اگر کسی نے کچھ دیا تو اس کے لئے جائز ہے یانہیں؟
الجواب: جائز ہے اگر نہ مشروط ہو نہ معروف، ورنہ واعظ کے لئے علی الاختلاف جائز، اور قرآن خوانی پر بالاتفاق ممنوع
علی مانقلہ ''ط'' حققہ علامۃ الشامی فی ردالمحتار ۱؎
(طحطاوی کی نقل پر جس کو علامہ شامی نے ردالمحتار میں ثابت رکھاہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۴)