فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
83 - 120
مسئلہ ۲۱۰: از شہر بریلی محلہ کانکرٹولہ مسئولہ ظہور محمد خاں صاحب ۵ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو وبکر بذریعہ زمینداری ایک جگہ کے مالک ہیں اور زید مہتمم ومنتظم ذریعہ آمدنی زمینداری مذکور کا ہے، اور خالد زید کی طرف سے کارپر داز ہے، منجملہ اراضی مذکورہ کے ایک قطعہ اراضی کی بابت باہم خالد کا رپرداز زید وعبداللہ کے معاہدہ ہوا، کہ ایک مدت تک پاس عبداللہ کرایہ پر رہے گی اور عبداللہ کرایہ ماہ بماہ بحالت خالی رہنے اور کام لانے کی صورت میں زید کو ادا کرے گا اور قبل معاہدہ جو عیب کہ اراضی مذکورہ میں تھا خالد نے عبداللہ پر ظاہر کردیا تھا یعنی عبداللہ سے کہہ دیا تھا کہ سابق میں جو کرایہ دار اس اراضی پربیٹھا تھا اس پر اعتراض محکمہ چنگی کی طرف سے ثابت نہ بیٹھنے اس اراضی پر ہوچکا ہے چنانچہ اس کے جواب میں عبداللہ نے خالد سے کہہ دیا تھا کہ اس معاملہ میں جو کچھ ہوگا میں دیکھ لوں گا، بعد گزرنے تخمینا چار ماہ کے وہ صورت عیب کی جس کو خالد نے عبداللہ پر ظاہرکردیا تھا عبداللہ پر پیش ہوئی اور حاکم وقت کی طرف سے عبداللہ کو جو انتظام کہ اراضی مذکورہ میں عبداللہ کرنا چاہتا تھاا ور کررہا تھا۔نہ کرنے پر مجبور کیا گیا اور عبداللہ پر مقدمہ قائم ہوکر ایک روپیہ جرمانہ ہوا، اس واقعہ کے چند روز کے بعد اراضی مذکورہ کو خالی کردیا، خالد کا رپرداز زیدنے عبداللہ سے کوئی عہد شکنی نہیں کی، اب عبداللہ کو کرایہ خالی اراضی کا دینے میں عذر ہے، بلکہ جنتی مدت عبداللہ کا واقعی قبضہ رہا اس قدر بھی کرایہ دینے پر رضامند نہیں، جرمانہ کا روپیہ اور خرچ مقدمہ میں جوروپیہ صرف ہوا ہے اس کی نسبت کہتے ہیں کہ مالکان اراضی پر ہونا چاہئے، ایسی صورت میں عبداللہ کو بموجب تحریر کرایہ نامہ کے کرایہ ادا کرنا چاہئے یا اراضی خالی کرنے کی تاریخ تک، یا جرمانہ کا ایک روپیہ اور مقدمہ میں جو خرچ ہوا تھا وہ مجرٰی کرکے ادا کرنا چاہئے، اور خالد کو بھی بموجب کرایہ کے وصول کرنا چاہئے یا کس قدر اور عبداللہ وزید وعمرو سب مسلمان بھی ہیں۔
مسئلہ ۲۱۰: از شہر بریلی محلہ کانکرٹولہ مسئولہ ظہور محمد خاں صاحب ۵ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو وبکر بذریعہ زمینداری ایک جگہ کے مالک ہیں اور زید مہتمم ومنتظم ذریعہ آمدنی زمینداری مذکور کا ہے، اور خالد زید کی طرف سے کارپر داز ہے، منجملہ اراضی مذکورہ کے ایک قطعہ اراضی کی بابت باہم خالد کا رپرداز زید وعبداللہ کے معاہدہ ہوا، کہ ایک مدت تک پاس عبداللہ کرایہ پر رہے گی اور عبداللہ کرایہ ماہ بماہ بحالت خالی رہنے اور کام لانے کی صورت میں زید کو ادا کرے گا اور قبل معاہدہ جو عیب کہ اراضی مذکورہ میں تھا خالد نے عبداللہ پر ظاہر کردیا تھا یعنی عبداللہ سے کہہ دیا تھا کہ سابق میں جو کرایہ دار اس اراضی پربیٹھا تھا اس پر اعتراض محکمہ چنگی کی طرف سے ثابت نہ بیٹھنے اس اراضی پر ہوچکا ہے چنانچہ اس کے جواب میں عبداللہ نے خالد سے کہہ دیا تھا کہ اس معاملہ میں جو کچھ ہوگا میں دیکھ لوں گا، بعد گزرنے تخمینا چار ماہ کے وہ صورت عیب کی جس کو خالد نے عبداللہ پر ظاہرکردیا تھا عبداللہ پر پیش ہوئی اور حاکم وقت کی طرف سے عبداللہ کو جو انتظام کہ اراضی مذکورہ میں عبداللہ کرنا چاہتا تھاا ور کررہا تھا۔نہ کرنے پر مجبور کیا گیا اور عبداللہ پر مقدمہ قائم ہوکر ایک روپیہ جرمانہ ہوا، اس واقعہ کے چند روز کے بعد اراضی مذکورہ کو خالی کردیا، خالد کا رپرداز زیدنے عبداللہ سے کوئی عہد شکنی نہیں کی، اب عبداللہ کو کرایہ خالی اراضی کا دینے میں عذر ہے، بلکہ جنتی مدت عبداللہ کا واقعی قبضہ رہا اس قدر بھی کرایہ دینے پر رضامند نہیں، جرمانہ کا روپیہ اور خرچ مقدمہ میں جوروپیہ صرف ہوا ہے اس کی نسبت کہتے ہیں کہ مالکان اراضی پر ہونا چاہئے، ایسی صورت میں عبداللہ کو بموجب تحریر کرایہ نامہ کے کرایہ ادا کرنا چاہئے یا اراضی خالی کرنے کی تاریخ تک، یا جرمانہ کا ایک روپیہ اور مقدمہ میں جو خرچ ہوا تھا وہ مجرٰی کرکے ادا کرنا چاہئے، اور خالد کو بھی بموجب کرایہ کے وصول کرنا چاہئے یا کس قدر اور عبداللہ وزید وعمرو سب مسلمان بھی ہیں۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۳۵)
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
دفع مغارم سلطانیۃ بغیر اذن شریکہ لایلزم شریکہ شیئ ممادفع حیث لم یاذن لہ بالدفع لیرجع علیہ بحصۃ منہا ۲؎۔
اپنے شریک کی اجازت کے بغیر سرکاری جرمانہ دیا تو جو کچھ دیا شریک اس کا ذمہ دار نہ ہو گا، لہذا اداکرنے والا شریک سے جرمانہ کاحصہ وصول کرنے کا حقدار نہ ہوگا۔ (ت)
باقی شرکاء نےکہہ دیا کہ جو ٹیکس لاگو ہو تو ادا کردینا ہم اپنا حصہ ادا کردیں گے تو اس نے ادا کردیا اب یہ باقی حضرات سے ان کے حصے کے مطابق وصول کرنا چاہے تو اس کویہ حق ہے ان حضرات کے اس دعوٰی کے مطابق یہ ادائیگی برداشت کرنی ہوگی اھ تو جب وصول کرنے کی شرط مفقود ہو اور معاملہ بھی شرکاء میں ہے تو یہاں کیسے ہوسکتاہے۔ (ت)
(۳؎ العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۴۳)
حسب بیان سائل زمین سے ٹال رکھنا مقصود تھا، اور چنگی نے اس سے ممانعت کردی۔ تو جب تک ٹال رہی اس کا کرایہ ضرور واجب ہے، اور جب سے خالی کردی اس کا اصلا استحقاق نہیں، اس بیچ میں جتنے دن عبداللہ کے قبضے میں رہی، اگر اس میں کوئی انتفاع اس نے زمین سے حاصل کیا، اس کے حساب سے کرایہ دے گا ورنہ نہیں، اور دونوں صورتوں کا کرایہ مثل دے گا جو اجر مسمی یعنی کرایہ قرار یافتہ سے زائد نہ ہو، مثلا اجر مثلی یعنی بازاری نرخ سے اس کام کے لئے کرایہ مثل دے گا جو ماہوار ہے، اور ٹھہرا روپیہ یا روپیہ سے زیادہ تو روپیہ دے گا، اور ٹھہرا بارہ آنے تو بارہ ہی آنے دے گا۔ اس لئے کہ یہ اجارہ اس قرارداد پر ہو اکہ اگر چنگی ممانعت کردے مالکان زمین کو اس سے بحث نہیں عبداللہ کرایہ دے گا، یہ شرط خلاف مقتضائے عقد ہے اس سے اجارہ فاسد ہوگا۔ فریقین پر اس کا فسخ واجب تھا کہ ازالہ گناہ لازم ہے، اور اجارہ فاسد میں اجر مثل لازم آتاہے کہ اجر مسمی سے زائد نہ ہو،
متن ہدایہ میں ہے :
لاانفطع ماء الرحی والبیت مما ینتفع بہ لغیرا الطحن فعلیہ من الاجر بحصتہ ۱؎۔
اگر آٹے کی چکی کاپانی منقطع ہوجائے اور وہ کمرہ پسائی کے بغیر بھی قابل انتفاع ہے تو اس نفع کے حصہ کا اجر کرایہ دارپر لازم ہے۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۳۱۳)
تبیین الحقائق میں ہے :
فاذا استوفاہ لزمتہ حصتہ ۲؎۔
اگر اس نے فائدہ پایا ہو تو اتنے کا معاوضہ لازم ہوگا۔ (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۵/ ۱۴۴)
اس مسئلہ کی غایت تحقیق وتنقیح فتاوٰی میں ملاحظہ ہو،
خلاصہ میں ہے :
وفی مجموع النوازل استاجر حماما ببدل معلوم ان علیہ الاجر حال جریانہ وانقطاعہ فہذا الشرط مخالف لمقتضی عقد الاجارۃ فیفسد ۳؎۔
مجموع النوازل میں ہے کہ ایک حمام مقررہ کرایہ پر لیا ا س شرط پر کہ چالو ہو یا نہ ہو ہر حال میں کرایہ لازم ہوگا تو یہ شرط مقتضی عقد کے خلاف ہے لہذا اجارہ فاسد ہوگا۔ (ت)
(۳؎خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۲۱)
ردالمحتارمیں ہے:
لو شرط شرطا فاسد اقبل العقد ینبغی الفساد لو انتقا علی بناء العقد علیہ کما صرحوا بہ فی بیع الہزل۔ وقدسئل الخیرا لرملی عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقدہ وعقد اخالیا عن الشرط، فاجاب بانہ صرح فی الخلاصۃ والفیض والتتارخانیۃ وغیرھا بانہ یکون علی ماتواضعا ۱؎ اھ اماما فی الدر استاجر رحی فمنعہ الجیران عن الطحن لتوہین البناء وحکم القاضی بمنعہ ھل تسقط حصتہ مدۃ المنع قال لا۔ مالم یمنع حسامن الطحن ۲؎ اھ قال ط ثم ش المراد و اﷲ تعالٰی اعلم ان یحال بینہ وبین الدوارۃ فلا یقدر علیھا ۳؎ اھ فکتبت علیہ اقول یجب حملہ علی مااذا کان منع القاضی جبرا لخاطر الجیران لاحکما حتما لو خالفہ لصادرہ اور عزرہ کیف وقد صرحوا قاطبۃ ان لحوق ضرر غیر مستحق بالعقد عذر یفسخ بہ، وھذا منہ لاشک، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر فاسد شرط لگائی اگرچہ عقد سے قبل لگائی ہو اور اس کوفریقین عقد کی بنیاد بنائیں تو فساد ہوگا جیسا کہ فقہاء نے مذاقیہ بیع میں اس کی تصریح کی ہے، علامہ خیر الدین رملی سے سوال ہوا کہ دو حضرات نے بیع الوفاء کو عقد سے قبل طے کرلیا اور پھر عقد کے وقت شرط کا ذکر نہ کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ خلاصہ، فیض، تتارخانیہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ بیع طےکردہ شرط پر مانی جائے گی اھ ، لیکن جو درمختار میں ہے کہ کسی نے آٹے کی پن چکی کرایہ پرلی اور پڑوسی نے اپنی عمارت کے نقصان کے خدشہ سے پسائی سے روک دیا اور قاضی نے روک دینے کاحکم دیا ہو تو کیااس روکنے کی مدت کا کرایہ ساقط ہوگا، تو فرمایا کہ ساقط نہ ہوگا جب تک عملا نہ روک دے، اھ اس پر طحطاوی نے پھر شامی نے فرمایا کہ عملا روک دینے کا مطلب یہ ہے ، واللہ تعالٰی اعلم۔ کہ ایسی رکاوٹ ڈالی جائے کہ چکی چلانے پر قدرت نہ ہو، اھ، میں نے اس پرلکھا ہے میں کہتاہوں، اس کو اس صور ت پر محمول کرنا ضروری ہے جس میں قاضی پڑوسی کی درخواست پر منع کردے نہ کہ ایسی صورت پر کہ یہ قاضی کے حکم کی خلاف ورزی کرئے اور قاضی اس کو تعزیر لگائے، کیونکہ سب نے تصریح کی ہے کہ ایسا ضرر جو عقد میں شامل نہ ہو، اس کا پایا جانا ایسا عذر ہے جس کی وجہ سے فسخ ہوسکے گااور تعزیر والی صورت ایسا ہی عذر ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۱)
(۲؎ درمختار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۶)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷)
مسئلہ ۲۱۱: از موضع دلیل گنج تھانہ امریا پرگنہ جہاں آباد مسئولہ محب اللہ صاحب ضلعدار ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر مسلمان اس ضلع پیلی بھیت میں کاشت موروثی کو جس کی نقشی پختہ ہے گرو رکھتے ہیں اور کچھ روپیہ اصلی کا شتکار کو دے کر اس کی علیحدہ تحریر کرالیتے ہیں، او رزمین کو اپنی کاشت میں رکھ کر اس سے نفع اٹھاتے ہیں اور نقشی کا روپیہ زمیندار کو خود ادا کرتے رہتے ہیں، اورا س میں معاہدہ ہوتاہے کہ دو سال تک یا پانچ سال تک باوجود موجود ہونے روپیہ کے اصلی کاشتکار زمین کو نہیں چھڑا سکتا، مگر بعدگزرنے معاہدہ کے کاشتکا ر اصلی روپیہ کل ادا کرکے زمین گروسے چھڑا سکتاہے، اور بعض بعض شخص اصلی روپیہ میں سے ایک روپیہ سال یا ۸ سال کم بھی لے لیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ علماء نے اس صور ت میں زمین کا گرو رکھنا جائز قرار دیا ہے بینوا توجروا
الجواب : اصلی کاشتکار زمین کا مالک نہیں ہوتا ملک زمیندار ہے وہ مستاجر ہے، جب اس نے دوسرے کے پاس گروی رکھی اور زمیندارکی باقی اس دوسرے نے دی اور زمیندارنے اس سے قبول کی، تو یہ رہن کی اجازت نہ ہوئی، رہن واجارہ جمع نہیں ہوسکتے، بلکہ اب یہ دوسرا شخص مستاجر ہوگیا، اب وہ پہلا جدا ہے اس پر اس دوسرے کا صرف خالص قرض رہا، وہ جب دے اسے قبول کرنا لازم ہوگا، اور زمین چھوڑنا کسی وقت ضرور نہیں، اس زمین سے کاشت کار اصلی کو کوئی تعلق نہ رہا، واللہ تعالٰی اعلم۔