| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
من اٰجر بیتا لیتخذ فیہ بیت ناراوکنیسۃ اویباع فیہ الخمر بالسواد فلا باس بہ لان الاجارۃ ترد علی منفعۃ البیت ولا معصیۃ فیہ انما المعصیۃ بفعل المستاجر ۴؎۱ھ (ملخصا) اقول: وھذا ھو محمل مافی الغمز عن القنیۃ وفی جامع الرموز عن المنیۃ وفی المنح عن شمس الائمۃ الحلوانی، وفی ردالمحتار عن غرر الافکار عن المحیط عن الامام ان الاجر طیب وان کان السبب حراما ۵؎ کما حققناہ فی ماعلی ردالمحتار علقناہ فاحفظہ فانہ مزلۃ ومعضلۃ ۔ وا ﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے مکان کرایہ پر دیا کہ اس میں آتش کدہ یا گرجا یا وہاں شراب فروخت کی جائے توکوئی حرج نہیں کیونکہ اجارہ کا انعقاد مکان کی منفعت پر ہواہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہےگناہ تو کرایہ دار کے فعل سے ہوا اھ (ملخصا) میں کہتاہوں جو غمز میں قنیہ سے اور جامع الرموز میں منیہ سے اور منح میں شمس الائمہ حلونی سے اور ردالمحتار میں غرر الافکار اس میں محیط سے اس میں حضرت امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے کہ اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہو، کا یہی محمل ہے جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں کی ہے اس کو محفوظ کرلو، یہ پھسلنے کا اور مشکل مقام ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۴؎ الہدایہ کتا ب الکراھیۃ فصل فی البیع مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰) (۵؎ ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۸) (الاشباہ والظائر الفن الثالث الکلام فی مہر المثل ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۲۲)
(۳) یہ سب افعال اس سے جائز ہیں کہ صورت مذکورہ میں وہ آمدنی ناجائز نہیں۔ کما تقدم۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۰۴ تا ۲۰۶: از پیلی بھیت محلہ احمد زئی مرسلہ مولوی عبدالسبحان صاحب ۱۲ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ: (۱) امام جمعہ اور امام پنجوقتہ کا اکثر جگہوں پر تنخواہیں مقرر کرکے لینا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) ختم کلام مبارک یعنی رمضان شریف میں نقدی ٹھہرانا جائز ہے یانہیں؟ (۳) تعلیم قرآن اور تعلیم فقہ واحادیث کی اجرت لینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب (۱) جائز ہے مگر امامت کا ثواب نہ پائیں گے کہ امامت بیچ چکے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲) تین چار باتیں کہ مستثنٰی ہیں ان میں ختم نہیں، اس کے جواز کاحکم نہایت مشکل ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (۳) جائز ہے اور ان کےلئے آخرت میں ان پر ثواب کچھ نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: از شفاخانہ فریدپور ڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتیمبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اللہ کمپونڈر ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے ملازمت کی ، اور ملازمت کرنے کے بعد جو کچھ قاعدے تھے معلوم ہوئے کہ ان قانون پر نوکری کرنا ہوگا، اوقات کی پابندی بھی معلوم ہوگئی، اگر زید ان قاعدوں کے خلاف کرے پورے وقت تک کام نہ کرے، اورقاعدوں کے مطابق نہ کرے، بلکہ کچھ وقت اپنے ذاتی کام میں صرف کردے، تواس کو نوکری کاپیسہ کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب جو جائز پابندیاں مشروط تھیں ان کا خلاف حرام ہے، اور بکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا بھی حرام ہے اور ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: از کلکتہ زکریا اسٹیٹ ۱۸ مسئولہ عبدالسعید ناگوری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند مسلمان اشخاص کی دکان شرکت میں کلکتہ ، بمبئی یا کسی اور مقام پرہے،دکان کی کل رقم میں تقریبا چہارم سود کا روپیہ لگاہواہے، ایسی دکان میں کسی مسلمان کو ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں، نیزاس کی آمدنی سے کسی مسجد یا مدرسہ وغیرہ کی اعانت ہوسکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:اس دکان کی ملازمت اگر سود کی تحصیل وصول یا اس کا تقاضا کرنا یا اس کاحساب لکھنا، یا کسی اور فعل ناجائز کی ہے تو ناجائز ہے۔ قال تعالٰی
ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵/ ۲)
صحیح مسلم شریف میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سو دکھانے والے، اورر سود دینے والے اور سودلکھنے والے، او ر سود کے گواہوں پر ، اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
(۲؎ صحیحٰ مسلم کتاب البیوع باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷)
اوراگر کسی امر جائز کی نوکری ہے تو جائز ہے، تنخواہ میں وہ روپیہ کہ بعینہٖ سود میں آیا ہو نہ لے، اورمخلوط ونامعلوم ہو تو لے سکتاہے۔ یونہی ایسے نامعلوم روپے سے مسجد ومدرسہ کی اعانت بھی ہوسکتی ہے ، خصوصا ایسی حالت میں کہ مال حلال غالب ہے۔
فی الہندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہندیہ میں ذخیرہ سے وہاں امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے کہ ہمارا یہی موقف ہے جب تک کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۴۲)
مسئلہ ۲۰۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے معاہدہ اور وعدہ اقرار تقریری اور تحریری کیا تھا کہ اگر عمرو اپنے پاس سے خرچ کرکے کرے گا اور کامیابی ہوگی تو بجائے اس کے دینے معاوضہ میں اپنے نصف مقدمہ میں سے مکان وغیرہ دوں گا، یعنی نصفا نصف پر تصفیہ ہوگیا تھا، اب جبکہ بفضلہٖ تعالٰی ابتداء تا انتہاء عمرو کی کوشش وجانفشانی اور کثیرروپیہ صرف کرنے کے بعد ہر طرح سے تمام و کمال کامیابی حاصل ہوگئی، تو اب زید ایفائے وعدہ اور اقرارمعینہ کو پورا نہیں کرتاہے اور اوروں کے بہکانے سے گریز وانکار کرتاہے، تو اس صور ت میں کل مسلمانوں کو زید اور اس کے بہکانے والوں سےکیا برتاؤکرناچاہئے اورجو زید اوراس کے بہکانے والے ایفائے وعدہ اور اقرارمعینہ کو پورا کریں توکیا اجر ملے گا ، اور پورا نہ کرنے میں کیا سزا ہوگی؟ بینوا توجروا
الجواب: یہ معاہدہ شرعا فاسد ہے، اور اس کا پورا کرنا شرعاجائز نہیں، زید وعمرو دونوں کو ناجائز ہے، عمرونے جتنا روپیہ صرف کیا وہ ذمہ زید قرض ہے، اور جو کوشش کی اس کی اجرت مثل پائے گا یعنی ایسی کوشش پر کیا اجرت ہونی چاہئے، یہ زرمجموعہ زید سے لے سکتاہے۔ جائداد پر اس کا کوئی دعوٰی نہیں ۔ اور عقد فاسد کے ارتکاب سے دونوں گنہگار ہوئے توبہ کریں، واللہ تعالٰی اعلم