فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
81 - 120
مسئلہ ۱۹۸: مولوی حشمت علی صاحب محلہ گڑھیاں بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایک جگہ پڑھانے پر نوکر ہے، جمعرات کو صبح کے وقت زید کی کچھ طبیعت علیل تھی مگر اس وجہ سے کہ پڑھائی میں حرج نہ ہو پڑھانے چلا گیا، ساڑھے نو بچے تک پڑھایا، بعدازاں زیادہ طبیعت خراب ہوئی اور پڑھایا نہ گیاتو زید نے اس سے جس کے یہاں پڑھاتا تھا کہا کہ مجھ سے اب باقی وقت کام نہیں ہوتا ہے مجھے چھٹی دے دیجئے، تب اس شخص نے زید کو جواب دیا کہ اپنا وقت گیار ہ بجے تک پورا کردیجئے ورنہ رخصت یوم کی تنخواہ وضع ہوگی، زید نے اس کے جواب میں کہا کہ میں ربع یوم کی چھٹی چاہتاہوں اگر آپ منظور نہ کریں توصرف ربع یوم کی تنخواہ وضع کرلیں، نصف یوم کی تنخواہ وضع کرنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ میں نے ربع یوم کام کیاہے ربع باقی ہے۔
دریافت طلب یہ ہے کہ جب زید نے ربع یو م کام کیا اور ربع یوم نہیں کیا اور رخصت چاہی، تو شرعا زید کی ربع یوم کی تنخواہ وضع ہونا چاہئے یا نصف یوم کی؟ بینوا توجروا
الجواب: اس روز جتنے گھنٹے کام میں تھا ان میں جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی ہی تنخواہ وضع ہوگی، ربع ہو توربع یا کم زیادہ جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی تنخواہ وضع ہوگی، مثلا چھ گھنٹے کام کرنا تھا اور ایک گھنٹہ نہ کیا تو اس دن کی تنخواہ کا چھٹا حصہ وضع ہوگا۔زیادہ وضع کرنا ظلم ہے۔
مسئلہ ۱۹۹: از بدایوں مولوی محلہ مرسلہ شاہ حاجی اعجاز حسین صاحب ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص نے تین لڑکیاں اور دولڑکے اپنی وفات پر چھوڑے، اور ایک حقیت چھوڑی، بڑا لڑکا اس حقیت کا کاروبار کرتا رہا، اور بخوشی دیگر بھائی بہن کے اس کی آمدنی کو اپنے صرف میں لاتا رہا، اب اس کا انتقال ہوا، اس حقیت میں سے ایک کھیت برابر اپنی کاشت میں رکھا تھا، اب اس متوفی کا لڑکا وارث ہوا، لیکن وہ کھیت جس کا لگان جمع بندی میں (للعہ عہ) یا کچھ درج ہے اب دوسرے کا شتکار کو اٹھایا گیا تو بجائے (للعہ عہ) کے (عہ) میں اٹھا، اب اس موروثی کھیت کا لگان جو اور جس قدر (للعہ عہ/) سے زیادہ ہوا، اس کا مالک متوفی کا صرف لڑکا ہوا، یا وہ زیادتی لگان بھی شرعا سب میں تقسیم کرنا چاہئے، مکرریہ ہے کہ وہ کھیت جو قانونا موروثی بھی ہے وہ علیحدہ کرنے پر لگان مندرجہ جمع بندی کے علاوہ ہر حال میں متوفی کے وارث کو پہنچتاہے۔
الجواب: جبکہ وہ جائداد غیر منقسم ہے، اس کا ہرجز جس میں یہ کیفیت بھی ہے، جملہ ورثہ میں مشترک ہے نہ تنہا متوفی کا پسر اس کا مالک تھا، نہ اب پسر اس کا مالک ہو، برضائے دیگر ورثہ اس کی آمدنی صرف ایک کے صرف میں آنا، جائداد کا اس کو ہبہ نہیں، اور بالفرض ہو بھی تو جائداد قسمت بلا تقسیم اپنے شریک کو بھی ہبہ کرنا باطل وناتمام ہے، اب کہ موہوب لہ مرگیا ہبہ باطل محض ہوگیا، اور جائداد جملہ ورثاء باقین و وارثان پسر متوفی میں مشترک رہی،
درمختارمیں ہے:
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولو وہبہ لشریکہ ۱؎۔
ہبہ تام نہیں ہوتا قابل تقسیم چیز میں اگر چہ شریک کو ہبہ کیا ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹)
اسی کے موانع الرجوع میں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ ۱؎۔
میم سے مراد فریقین میں سے کسی ایک کی موت قبضہ دینے کے بعد اور اگر قبضہ سے پہلے موت واقع ہوجائے تو باطل ہوجائے گا۔ (ت)
(۱؎درمختار کتا ب ا لہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
یہ موروثیت شرعا کوئی چیز نہیں، نہ پسر متوفی اسے جبرا اپنی کاشت میں رکھ سکتاتھا نہ اس کے بیٹے کو یہ دعوٰی پہنچتاہے، رہا اس کھیت کا لگان سوال بصیغہ مجہول ہے کہ اب دوسرے کاشتکار کو اٹھایا گیا، معلوم نہیں کہ کس نے اٹھایا، اگرسب ورثاء نے اٹھایا، یاسب کے اذن سے ایک نے اٹھایا، یا ایک نے اٹھایا او رباقیوں نے اسے جائز کیا، تو اس کا لگان حصہ رسد سب شرکاء کی ملک ہے، (للعہ عہ/ )ہو یا( عہ/ ) یا ایک پیسہ۔یا ہزارروپے، اور ایک مثلا پسر متوفی نے بے رضائے باقی ورثہ اٹھایا، اور باقیوں نے اٹھانے کے بعد بھی اسے نافذ نہ کیا تو اس کا لگان اسی اٹھانے والے کی ملک ہوگا، مگر اپنے حصہ میں ملک طیب اور اوروں کے حصوں میں بھی ملک خبیث کہ اس پر فرض ہے کہ باقی شرکاء کو ان کے حصوں کی قدر اس میں سے دے، اور یہی افضل ہے اور ان کے لئے طیب ہے، ورنہ فقراء پر تصدق کرے، اپنے صرف میں لانا حرام ہے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
المنافع لاتتقوم الابالعقد، وھو صادر منہ بلاوکالۃ سابقہ ولا اجارۃ لاحقۃ فملکہا الشریک العاقد، لکن ملکہ فی غیر ملکہ ملک خیبث، فیجب علیہ التصدق بہ اودفعہ لشرکائہ خروجا من الاثم و الثانی افضل لخروجہ من الخلاف ایضا ۲؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
منافع صرف عقد سے قیمتی بنتتے ہیں جبکہ یہ عقد مالک سے صادر ہو بغیر سابق وکالت اور بغیر اجازت لاحق کے ہو، تو شریک عقد کرنے والا مالک ہوگا لیکن غیر کے حصہ میں ملک خبیث ہوگی جس کا صدقہ کرنا یا اپنے شریک کو دینا واجب ہے تاکہ گناہ سے فارغ ہوجائے، دوسری صورت (شریک کو دینا) افضل ہے، تاکہ اختلاف سے بچ جائے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۵)
مسئلہ ۲۰۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ اجیر اور ملازم میں کیا فرق ہے، ملازم کا ۲۴ گھنٹہ میں ایک گھنٹہ بھی ایسا نہیں جو ملازمت سے خالی ہو، اس کے آقا کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غلام سے جتنے دن چاہے کام لے، جنتے دن چاہے چھٹی دے، یا کسی خاص کام پر مقرر کرے، یا مختلف کام اس کے منصب کے موافق لے، اگر کوئی شخص کسی خاص کام پر مقرر ہو تو اس کے آقا کو یہ بھی اختیارہے کہ وہ کام جس پر مقرر ہے چھڑا کر دوسرے کام پر ضرورۃ بھیج دے، ملازم کو کوئی عذر کرنے کا موقع نہیں۔ نہ اس کام کے معاوضہ کا مستحق، اجیر میں یہ بات نہیں ہے وہ مقید نہیں، جتنی دیر کام کرے گا اتنی ہی دیر کی اجرت کا مستحق ہوگا، جب تک چاہے کام کرے گا ، جب تک چاہے گا نہ کرے گا۔ ہاں ملازم سے پہلا کام چھڑا کر دوسرے کام کے عوض میں خود آقا اس کا معاوضہ مقرر کرے تو اس کے لینے کا مستحق ہوجائے گا، ملازم مقررہ چھٹیوں میں کام نہ کرنے کی حالت میں تنخواہ کا مستحق اور اجیر کام نہ کرنے کی اجرت نہیں پاسکتا، اسی طرح اجیر مقررہ وقت میں جتنے گھنٹے کام کرے گا اتنے ہی گھنٹوں کی اجرت کا مستحق ہوگا او ر ملازم اگر مقررہ مدت سے ایک دو گھنٹہ کام کرکے بغیر منظوری چھوڑ دے، تو آقا اس کے کل دن کی تنخواہ اس کی کاٹ سکتاہے، یہ قول اس کا صحیح ہے یاغلط؟
الجواب: یہ سب ہوس محض، اور اس کا اختراع بے اصل ہے شرع میں اجیر اجیر خاص واجیر مشترک دونوں کو عام ہے، اجیر خاص کو اردو میں ملازم اور نوکر کہتے ہیں ، اجیر مشترک پیشہ ور ، کہ اجرت پر ہر شخص کاکام کرتے ہیں، کسی خاص کے نوکر نہیں، جیسے راج ، مزدور، بڑھئی، درزی وغیرہم ملازم کا اگر وقت معین کیاجائے ، مثلا صبح سے شام تک، یا رات، کے نوبجے تک، یا مدرسوں کی نوکری ہے، مثلا ۶ بجے سے ۱۲ بجے تک پھر ۲ بجے سے ۵ بجے تک، تو وہ اتنے ہی گھنٹوں کا ملازم ہے۔ مقررہ گھنٹوں کے علاوہ خو دمختار ہے کہ اس کا اتنا ہی وقت بیکار ہے، تو زید کاکہنا کہ ملازم کا ایک گھنٹہ بھی ملازمت سے خالی نہیں ، جہالت سے خالی نہیں، ملازم جوکسی کار خاص پر ہو جیسے مدرس، اس سے وہی خاص کام لیا جائے گا، دوسرے کام کو کہا جائے تو اس کا ماننا اس پر لازم نہیں، ہاں خدمت گارہر گونہ خدمت کرے گا، مقید نہ ہو نا صرف اجیر مشترک راج ، بڑھئی، ، اور ان کے امثال میں ہے جن کا کام بکتاہے، وقت نہیں بکتا، اس میں یہ بات صحیح ہے کہ جب تک چاہے کام کرے۔کرے گا پائے گا ورنہ نہیں، بخلاف اجیر خاص کہ اس کا وقت بکا ہوا ہے، اس وقت میں اسے حرام ہے کہ بے مرضی مستاجر کام سے انکار کرے، او راگر کام نہ ہو اور وقت(عہ) دے تنخواہ پائے گا۔ اور وقت نہ دے تو نہ پائے گا، اگر وقت دس گھنٹے مقرر ہے اور ایک دن کی تنخواہ مثلا دس آنے ہے اور اجیر نے دو گھنٹے وقت دیا، آٹھ گھنٹے غیر حاضر رہا، تو یہ غلط اور جبر وظلم ہے کہ آقا اس کے کل دن کی تنخواہ کاٹے گا، ہر گز نہیں بلکہ صرف آٹھ گھنٹوں کی( ۸/)، شریعت کے احکام جو نہ جانتا ہو اس پر حرام ہے کہ احکام لگائے، اس پر فرض ہے کہ جاننے والوں سے پوچھے، واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: اندزہ سے بنایا گیا ہے۔ ۱۲
مسئلہ ۲۰۱ تا۲۰۳: از لکھنؤ حضرت گنج سول اینڈ ملیٹری ہوٹل مرسلہ رزاق محمد ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) زید مسلمان پیشہ ور اور تاجر ہے اور ہوٹل جس میں عموما انگریز لوگ ٹھہرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔ زید ان کے جملہ طعام وقیام کامنتظم ہے، ان سے نفع اٹھاتاہے۔ اور ہر چیز مہیا کرتاہے۔ اپنے مسافروں کا مثل شراب وسور وغیرہ کے پابندہے۔ یعنی اس قسم کی چیزیں بھی وہ خرید کرتاہے، اور ان کے ہاتھ فروخت کرتاہے، لہذا مسلمان کو ایسی تجارت کرنا چاہئے یانہیں؟
(۲) زید ہوٹل کامالک ہے مگر ہوٹل وغیرہ خود نہیں کرتا بلکہ عمارت کرایہ پر دوسرے لوگوں کو دے رکھی ہے جو اس کومثل ہوٹل کے استعمال کرتے ہیں۔ اور وہی کام کرتے ہیں جو زید کرتا تھا، لہذا اس کو جوکرایہ ملتاہے مکان ہوٹل کا، وہ کیسا ہے، جائز ہے یاناجائز؟
(۳) زید بوجہ مسلمان ہونے کے ہر قسم کی امداد اسلامی بھی کرتاہے، اور حج وزکوٰۃ وصدقہ وخیرات و تعمیر مساجد ویتیم خانہ وکفن دفن ودعوت خاص وعام ومیلاد شریف وغیرہ کرتاہے شریعت حقہ کا آمدنی نمبر ۲ کی بابت کیاحکم ہے؟
الجواب
(۱) حرام حرام حرام اور موجب لعنت، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یعنی اللہ تعالٰی نے لعنت فرمائی ہے شراب پر، اور جو اسے پئے، جو پلائے، جو مول لے۔ جو بیچے، جو نچوڑے، جو نچڑوائے، جواٹھاکر لائے۔ جس کے لئے اٹھاکر لائی جائے (اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ ت) اور ترمذی نے یہ زیادہ کیا جو اس کے دام کھائے ان سب پر ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۱)
(سنن ابن ماجہ ابواب الاشریہ باب لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵۰)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی بیع الخمر الخ امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۵۵)
(۲) جبکہ اس نے صرف مکان کرائے پر دیا ہے، کرایہ داروں نے ہوٹل کیا اور افعال مذکورہ کرتے ہیں تو زید پر الزام نہیں
لاتزر وازرۃ وزراخری ۳؎
(کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائیگی۔ ت) اس صورت میں وہ کرایہ کے لئے جائز ہے۔ اگر اس نے کسی اسلامی جگہ میں خاص اس غرض ناجائز کےلئے دیا تو گنہ گار ہے، مگر کرایہ کہ منفعت مکان کے مقابل ہے نہ ان افعال کے اب بھی جائز ہے،