فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
80 - 120
فتاوٰی غیاثیہ ٍمیں ہٍے:
الاتری انہم لو تعاملوا علی بیع الخمر اوعلی الربا لایفتی بالحل ۱؎۔
کیا دیکھ نہیں ر ہے کہ اگر لوگ شراب فروخت یا سود کے معاملات مروج کرلیں تو حلال ہونے کا فتوٰی نہ دیا جائے گا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی غیاثیہ کتاب الاجارات نوع فی النساج مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۶۰)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال رجال یشتروطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فہو باطل، وان کان مائۃ شرط فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثق، رواہ الشیخاں عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہما ۲؎۔
لوگوں کوکیا ہوا کہ وہ ایسی شرطیں بناتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں اور جو شرط کتاب اللہ کی رو سے جائز نہ ہو وہ باطل اگر چہ سو شرطیں ہوں اللہ تعالٰی کا فیصلہ حق ہے اور اللہ تعالٰی کی جائز کردہ شرط حق ہے، اس کو شیخین (بخاری ومسلم) نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب البیوع ۱/ ۹۰۔ ۲۸۹ وکتاب المکاتب ۱/ ۳۴۸ کتاب الشروط ۱/ ۳۷۷)
(صحیح مسلم کتاب العتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴)
درمختار میں ہے :
تفسد الاجارہ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد ۳
ایسی شرائط اجارہ کو فاسد کردیتی ہیں جومقتضی کے مخالف ہوں ( ت)
(۳؎ درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷)
اسی میں ہے:
ان فسدت بجہالۃ المسمی وبعدم التسمیۃ وجب اجر المثل باستیقاء المنفعۃ بالغاما بلغ والا تفسدبہما بل بالشروط او الشیوع مع العلم بالمسمی لم یزد اجر المثل علی المسمی لرضاہما بہ وینقص عنہ لفساد التسمیۃ۱؎۔
اگر اجارہ شیئ کی جہالت اور عدم ذکر کی وجہ سے فاسد ہو تو منافع حاصل کرنے پر مثلی اجرت لازم ہوگی خواہ جتنی بھی ہو ورنہ ان دونوں صورتوں میں بلکہ ایسی دیگر شرائط سے بھی فاسد ہوگا یامقررہ معاوضہ معلوم ہونے کے باوجود شیوع پایا جائے تو مثلی اجرت مقررہ سے زائد نہ ہوگی کیونکہ مقررہ پر دونوں راضی تھے، کم ہو تو کم کردی جائے کیونکہ مقرر فاسد ہوچکاہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارہ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷)
اسی میں ہے:
یجب علی کل واحد منہما فسخہ اعداما لفساد ، لانہ معصیۃ فیجب رفعہا، بحر۔ ولذا لایشترط فیہ قضاء قاض، لان الواجب شرعا لایحتاج للقضاء، درر، واذا اصراحدھما علی امساکہ، وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقا للشرع بزازیۃ۔۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
دونوں فریقوں پر واجب ہے کہ اس کو فسخ کریں کیونکہ گناہ کو ختم کرنا ضروری ہے، بحر۔ اور اسی لئے اس فسخ کےلئے قاضی کی قضاء ضروری نہیں ہے کیونکہ جو چیز شرعا واجب ہو وہ قضاء کی محتاج نہیں، درر، جب دونوں فریقین قائم رکھنے پر مصر ہوں اور قاضی کو معلوم ہوجائے تو وہ جبرا فسخ کردے تاکہ شرعی حق قائم ہوجائے ، بزازیہ، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸)
مسئلہ ۱۹۷: مسئولہ محمد مسعود علی میر محلہ بدایوں بروز دوشنبہ ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ممالک متحدہ میں ایک عرصہ سے جدید بنک کھولے گئے ہیں جن کو زبان اردو میں دیہاتی بنک کہا جاتاہے، اور جن کے دفتروں میں صدہا مسلمان ملازم ہیں، تنخواہ پاتے ہیں، ان بنکوں کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی پونجی بالعموم حسب ذیل تین طریقوں سے فراہم کی جاتی ہے:
اول: دس دس یابیس بیس روپیہ کی قیمت کے حصص قائم کئے جاتے ہیں اور کم از کم ایک حصہ کا خریدار ممبر مانا جاتاہے اس ہر بنک میں صدہا ممبر ہوتے ہیں ہرحصہ کی قیمت بالعموم بیس چھ ماہی قسطوں میں یعنی دس سال میں قابل ادا ہوتی ہے۔
دوم : اکثر رقوم بمدامانت جمع ہواکرتے ہیں۔
سوم: قرض لیا ہوا روپیہ بھی اس کی پونجی میں شامل ہوتاہے۔
اصل مقصد ان بنکوں کا یہ ہےکہ اپنے ممبروں کو سخت ضرور ت کے وقت سادہ سود کے کم نرخ پر قرض دے کر مہاجنوں کے سود در سود اور بھاری شرح کی مار سے ضرورتمند ممبروں کو جن میں مسلمان اور ہل ہنود دونوں ا ز قسم زمیندار وزراعت پیشہ وتجارت پیشہ ودیگر کاروباری شامل ہیں محفوظ رکھا جائے، ملازمان بنک کارہائے مفوضہ میں ممبران بنک کو کفایت شعاری کی ہدایت کرتے رہنا اور غیر ضروری کاموں کے لئے قرض نہ لینے دینا ایک اہم فریضہ ہے، بنک جو اپنے ممبروں کو قرض ادا کرتاہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ممبران اپنا اپنا کاروبار چلانے کے لئے ضروری روپیہ بنک سے قرض لیتے ہیں جس کی شرح سود بالعموم ایک روپیہ سے سوا روپیہ سیکڑہ تک سادہ ہوتی ہے، اور یہ قرض مع سود بالاقساط ادا کیا جاتاہے، اس طرح پر قرضداروں کو مہاجنوں سے قرض لینے کے مقابلہ میں بہت زیادہ منفعت رہتی ہے۔مثلا کسی معمولی حیثیت کے مسلمان ممبر نے سخت ضرورت کے وقت پانچسو روپیہ بنک سے قرض لے، تو یہ قرض پانچ سال میں بالاقساط مع سادہ سود کے آٹھ سو پچھتر روپیہ کی تعداد میں بنک کوادا کیا جائے گا۔ اور بالفرض اگر کوئی قسط کسی مجبوری سے نہ ادا ہوسکے توبلا کسی تاوان کے قرضدار کو مزید مہلت ملے گی ، یعنی بجائے پانچ سال لے ساڑھے پانچ سال میں ادا ہوسکتی ہے، درانحالیکہ مہاجن سے پانچسو روپیہ قرض لینے میں دو روپیہ کی سود درسود کی شرح سے کم نہیں ملے گا، اورششماہی سود شامل اصل ہو کر پانچ برس کے عرصہ میں (ال صما للع للعہ) روپیہ یعنی بنک کے قرضہ سے دوگنا دینا پڑے گا، اورا گر پانچ سال کے بجائے ساڑھے پانچ برس تک یہ قرض رہ گیا تو تقریبا دو ہزار روپیہ دینا پڑینگے جیسا کہ اکثر مسلمان جو سودی قرض لینے کے عادی ہےں، مہاجنوں کے چنگل میں پھنس کر بغیر تباہ ہوئے نہیں بچتے، اس لحاظ سے یہ بنک ان مسلمان ممبروں کے لئے زیادہ مفید کہی جاسکتی ہے، جو ضروری اور غیر ضروری کاموں کے لئے بلحاظ کفایت شعاری سودی قرض لینے کے عادی ہیں قرض پر سو د کی رقم جو بنک کو اصل کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اس میں بیشتر حصہ اس رقم کا ہوتاہے جو بطریق ذیل پیدا کی جاتی ہیں:
ا۔ زراعت پیشہ لوگ جس میں اکثر مشرکین ہوتے ہیں، بغر زراعت ضروری روپیہ بنک سے قرض لے کر زراعت کرتے ہیں اور اس کے ماحصل سے جو مقدار قرض سے کئی حصہ زیادہ ہوتاہے کچھ جزوی رقم سود کے نام سے قرضہ بنک میں ادا کرتے ہیں۔
ب۔ اسی طرح تجارت پیشہ لوگ اپنی تجارت کے ماحصل سے (یعنی منافع سے)۔
ج۔ اسی طرح کاروباری مثلا ایک نجار نے دس روپے قرض لے کر اوزار خریدے اور سال بھر میں دو سو روپیہ پیدا کئے، اسی آمدنی سے ادائے قرض میں بجائے دس روپے کے بارہ روپے بنک میں داخل ہوتے ہیں۔
ملازمان بنک کے کارہائے متعلقہ یعنی فرائض حسب ذیل ہوتے ہیں :
اولا دفتر میں متعلقہ حساب وکتاب درست کرنا۔
ثانیا اس بات کی سخت نگرانی کرنا کہ ممبران بنک کسی غیر ضروری کام کے لئے قرض نہ لیں اور فضول کام میں روپیہ خرچ نہ کریں۔
ثالثا ماتحتوں کے کام کی نگرانی رکھنا، جانچ کرنا، سودی قرض وصول کرنا، تنخواہ جوان ملازموں کو ملتی ہے وہ بنک سے منافع سے ملا کرتی ہے جس میں مذکورہ بالا سود کا روپیہ بھی شامل ہے ، نظر براں ان بنکوں میں ملازمت کرنا جائز ہے یاجائز، اورایک ضروتمند مسلمان ملازمت پیشہ جو اس بنک میں ملازم ہے اور اپنی محنت کے عوض مقرر تنخواہ پاتاہے اس کے لئے کیاحکم ہے، اگر اس کی ایسی ملازمت ناجائز ہے تو کس حدتک ، اور حسب ذیل اشخاص کی حیثتوں اور ایسے ملازم بنک کی حیثیت میں کیا فرق ہے،
(۱) ایک مسلام جو سرکاری بنک میں اپنا روپیہ امانتا جمع کراتاہے اور اسی امانت پر سو دکے نام سے منافع حاصل کرتاہے۔
(۲) ایک مسلمان جو محض مشرکین سے سود لیا کرتاہے۔
(۳) ایک مسلمان جو سود دیا کرتاہے۔
(۴) ایک مسلمان جو گورنمنٹ کے صیغہ مال میں ملازم ہے اور جس کو تنخواہ اس مالگزاری کی آمدنی سے ملتی ہے جس میں بقاعدہ زمینداری باقایا لگان پر کاشتکاروں سے بالعموم سودلیاہوا اور غیر مسلم مالگذار کا جائز وناجائز طریقہ پر پیدا کیا گیاہوا روپیہ شامل ہوتاہے کیونکہ یہ سب مخلوط آمدنی مالگزاری سرکاری میں داخل ہوا کرتی ہے۔
(۵) ایک مسلمان جو گورنمنٹ کے صیغہ دیوانی میں ملازم ہے اور جس کو تنخواہ کورٹ فیس وغیرہ کی آمدنی سے جس میں بیشتر حصہ اس رقم کا ہوتاہے جس کومہاجن سود کے ذریعہ سےحاصل کرتے ہیں ملا کرتی ہے۔
(۶) ایک مسلمان چنگی کا ملازم جس کی تنخواہ چنگی کی آمدنی سےجو بلحاظ ٹیکس وغیرہ بالعموم سو دخوار اقوام کی کمائی سے جمع کی جاتی ہے ملا کرتی ہے۔
(۷) ایک مسلمان جو کسی ایسے غیر محتاط مسلمان رئیس کے پاس ملازم ہے جس نے اپنی آمدنی کے ذرائع کو عام احتیاط سے مستثنٰی کررکھاہے۔
(۸) کسی ایسے انگریز ی مدرسہ کا مدرس جس کا کاروبار چندہ پر مبنی ہے اور چندہ دہندگان میں سود خوار اقوام بھی شامل ہےں، ایسے چندہ کی آمدنی سے تنخواہ پانے والا مسلمان مدرس۔
(۹) ایک مسلمان تجارت پیشہ جو اپنے مال کو سود خوار اقوام کے ہاتھ فروخت کیا کرتاہے۔
(۱۰) ایک مسلمان زراعت پیشہ جس کو اپنا غلہ وغیرہ سود خوار اقوام کے ہاتھ فروخت کرنے سے کوئی عار نہیں ہے اور یہ بھی تحقیق طلب ہے کہ آیا ایسی جائداد یعنی زمینداری وغیرہ جس کو کسی ڈپٹی کلکٹر یا کسی جج یا کسی منصف یا کسی وکیل مختار نے اپنے ایسے پیشہ کی آمدنی سے پیدا کیا ہو اکل حلال سمجھی جاسکتی ہے یانہیں؟ اور اس کی آمدنی محتاط لوگ جائز آمدنی سمجھ سکتے ہیں یانہیں؟ فقط۔ بینوا توجروا
الجواب :بنک کی صور ت مذکورہ حرام قطعی ہے، اور یہ فائدہ کہ بنیوں سے آدھا یا چہارم سودلیا جائے گا سود دینے والے کا یک دینوی فائدہ سہی مگر دینے والے اور لینے والے کے اخروی مضرت اور حرمت میں کوئی فرق نہیں،
اللہ عزوجل فرماتاہے:
یایھاالذین اٰمنوا اتقوا اﷲ وذروا مابقی من الربٰو ۱؎، فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اﷲ ورسولہ ۲؎۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا چھوڑدو، پھر اگر نہ مانو تو اللہ ورسول سے لڑائی کے لئے تیار ہوجاؤ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۸) (۲؎القرآن الکریم ۲/ ۲۷۹)
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربٰو ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ھم سواء ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود لینے والے اور دینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہی کرنیوالوں پر، اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب البیوع باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷)
صحیح حدیثوں میں ہے، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الرباء ثلثہ وسبعون حوباایسرھا ان ینکح الرجل علی امہ ۱؎۔
سود تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے، ان میں سب سے ہلکایہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔
اس حساب سے سودکے ہر دھیلے پر اپنی ماں سے زنا کرنا ہوتاہے۔ تو یہ منفعت جتانا کہ بنئے کو دونا دینا ہوگا۔ یہ آدھا لیں گے، اس کا حاصل یہ ہے کہ بنئے کے یہاں نہ جاؤ، وہاں ہزار بار مثلا ماں سے زنا کرنا ہوگا۔ یہاں آؤں کہ ہم تو پانسو باری کریں ، یہ کیا خاک فائدہ ہوا۔ یا اس سے گزر کر یوں سمجھئے کہ بنئے کو یہاں نہ جاؤں وہاں اسی ہزار جوتے پڑینگے، ہم چالیس ہزار ما کر چھوڑدینگے ان کے سر کی خیر تو چالیس ہزار میں بھی نہیں، یہ سب شیطانی دھوکے اور مہمل ہوسیں ہیں، شرعی طریقہ برتیں کہ خود بھی ان عظیم آفتوں سے بچیں، اور قرض لینے والے بھی اور بنک کو دل خواہ نفع بھی ہوجائے اور لینے والے بھی بنیوں کی مصیبت سے بچیں، اس کے متعدد طریقے ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں مذکور ہیں ازاں جملہ آساں تریہ کہ مثلا کوئی شخص سو روپیہ سال بھر کے وعدہ پر قرض لینا چاہتاہے اور بنک یہ چاہے کہ اسے روپیہ مل جائے اور مجھے نفع ہاتھ آئے تو اسے روپیہ قرض نہ دے بلکہ سوروپے کا نوٹ اس کے ہاتھ ایک سال کے وعدہ پر مثلا یک سودس یاایک سو باہر کو بیع کرے، یہ بیع ہے ربانہیں،
قال اﷲ تعالٰی
وقالوا ان البیع مثل الربٰو واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو ۳؎۔
(اللہ تعالٰی نے فرمایا) کافر بولے بیع بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود ، (اس کا جواب کہ) اللہ نے حلال کی بیع اورحرام کیا سود۔
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
ملازمت کی صورتیں جو سائل نے لکھیں اس کا جواب کلی کہ انھیں اور ان جیسے دس ہزار کو شامل ہو، یہ ہے کہ ملازمت دو قسم ہے:
ایک وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے ، جیسے یہ ملازمت جس میں سودکالین دین ، اس کا لکھنا پڑھنا، تقاضا کرنا اس کے ذمہ ہو، ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگر چہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے، وہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہے، اور مال حرام ہے، تو حرام درحرام۔
دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہٖ امر جائز کی ہومگرتنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتاہے، اس صورت کاحکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جارہا ہے، بعینہٖ مال حرام ہے۔ نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلک ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز۔
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۱؎ ۔ ہندیۃ عن الظہیریۃ۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا، ہم اسی کو اختیار کریں گےجب تک عین حرام چیز کا علم نہ ہو، ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲)
یہ حکم ملازمتوں کا ہے، مزارع یا تاجر کا غلہ ومال کسی کے ہاتھ بیچنا اسی قسم اخیر کے حکم میں ہے اور سود لینا خواہ گورنمنٹ سے ہو یا مشرکین سے خود فعل ناجائز ہے، یہ قسم اول کے حکم میں داخل ہے، اور سود دینا اگر محض مجبوری شرعی سے ہو جس کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے، تو اجازت ہے۔
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربا ۲؎۔
محتاج کو سودپر قرض لینا جائز ہے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶)
ورنہ حرام، اور دینا لینا یکساں، واللہ تعالٰی اعلم۔