فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
79 - 120
مسئلہ ۱۹۵: از کھریرا ضلع مظفر پور ڈاکخانہ رائے پور مرسلہ شریف احسن صاحب ۳ شعبان ۱۳۳۶ھ
زید ایک انجمن اسلامیہ میں دس روپے کا تحصیلدار ہے چونکہ وہ امانت دارہے، او رمواخذہ آخرت سے بھی خرچ ہوجانے پر ڈرتاہے، اس لئے انجمن سے استدعا کرکے (للعہ عہ) ماہانہ داخل انجمن کرنے پرٹھیکہ لیا، اور بقیہ آمدنی اپنے اور اپنے اہل وعیال وزادراہ وغیرہ کے لئے اپنی تنخواہ مقرر کرالی ہے، شرعاً جائز ہے یانہیں؟
الجواب: حرام ہے کہ بوجہ عدم تعلیق تنخواہ اجارہ فاسد ہوا، اورعقود فاسدہ سب حرام ہے، اور واجب الفسخ ہیں اس صورت میں وہ صرف اجر مثل لے سکے گا، اور وہ بھی اس کے حق میں خبیث ہوگا، اجر مثل سے زیادہ جو کچھ بچے انجمن میں داخل کرنا لازم ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶: از لاہور انجمن نعمانیہ مرسلہ سلیم اللہ خاں جنرل سیکریٹری انجمن ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دینی مجالس میں دینی تعلیم کے لئے جو مدرسین وغیرہ ملازم رکھے جاتے ہیں اور قواعد منضبط مجلس پر ان سے بوقت قبولیت ملازمت کے دستخط کرالئے جاتے
ہیں بعد میں اگر ایسے ملازم ان قواعد کی خلاف ورزی کرکے ملازمت بلا اطلاع چھوڑ کرچلے جائیں، یا کوئی ایسا امر کریں جو قواعد مذکورہ کے خلاف ہو جس کو منظور کرچکے ہوں تو ایسے ملازمین کے کارگردگی کی تنخواہ ضبط کرلینے اور نہ دینے کا مجلس مذکورہ کو شرعاً اختیار ہوگا یانہیں؟ اور ایسے قواعد ہر ایک مجلس انجمن مدرسہ مکاتب اسلامی میں مندرج ہیں، رائج ہیں۔ کیا یہ شرعاً بھی درست ہے اور قابل تعمیل ہے یا نہیں؟ ملازمین کی طر ف سے حجت کی جاتی ہے کہ ان کی کارروائی کی تنخواہ ان کا حق واجبی ہے، اور وہ کسی طرح رکھ لینا شرعا جائز نہیں ہوسکتا، براہ کرم ان کے جواب سے بادلہ شرعیہ بہت جلد مطلع فرمائیں،
المستفتیان : سلیم اللہ جنرل سیکریٹری ، تاج الدین احمد سیکرٹری، نوربخش سیکرٹری۔
الجواب: مدرسین وامثالہم اجیر خاص ہیں، اور اجیر خاص پر وقت مقررہ معہود میں تسلیم نفس لازم ہے، اور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتاہے اگر چہ کام نہ ہو، مثلا مدرسین وقت معہود پر مہینہ بھر برابرحاضر رہا، اور طالب علم کوئی نہ تھا کہ سبق پڑھتا، مدرس کی تنخواہ واجب ہوگئی، ہاں اگر تسلیم نفس میں کمی کرے مثلا بلارخصت چلا گیا، یا رخصت سے زیادہ دن لگائے، یا مدرسہ کاوقت چھ گھنٹے تھا، اس نے پانچ گھنٹے دئے، یا حاضر تو آیا لیکن وقت مقرر خدمت مفوضہ کے سوا اور کسی اپنے ذاتی کام اگر چہ نماز نفل یادوسرے شخص کے کاموں میں صرف کیا کہ اس سے بھی تسلیم منتقض ہوگئی، یونہی اگر آتا اور خالی باتیں کرتا چلا جاتا ہے۔ طلبہ حاضر ہیں اور پڑھاتا نہیں کہ اگرچہ اجرت کا م کی نہیں تسلیم نفس کی ہے، مگریہ منع نفس ہے، نہ کہ تسلیم، بہر حال جس قدر تسلیم نفس میں کمی کی ہے اتنی تنخواہ وضع ہوگی، معمولی تعطیلیں مثلا جمعہ، و عیدین ورمضان المبارک کی، یا جہاں مدارس میں سہ شنبہ کی چھٹی بھی معمول ہے، وہاں یہ بھی اس حکم سے مستثنٰی ہیں کہ ان ایام میں بے تسلیم نفس بھی مستحق تنخواہ ہے، سوا اس کے او رکسی صور ت میں تنخواہ کل یا بعض ضبط نہیں ہوسکتی، تسلیم نفس کامل کرکے اوربات میں باوصف قبول واقرار خلاف ورزی غایت یہ کہ جرم ہو، جرم کی تعزیر مالی جائز نہیں کہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حرام، معہذا حقوق العباد میں مطلقا اور حقوق اللہ میں جرم کرچکنے کے بعد تعزیر کا اختیار صور معدودہ کے سوا قاضی شرع کوہے نہ عام لوگوں کو اور امر ناجائز رائج ہو جانے سے جائز نہیں ہوسکتا، یونہی ملازمت بلااطلاع چھوڑ کر چلاجانا اس وقت تنخواہ قطع کرے گا نہ تنخواہ واجب شدہ کوساقط اور اس پرکسی تاوان کی شرط کرلینی مثلا نوکری چھوڑناچاہے تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دے، ورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی یہ سب باطل وخلاف شرع مطہر ہے، پھر اگر اس قسم کی شرطیں عقد اجارہ میں لگائی گئیں جیساکہ بیان سوال سے
ظاہر ہے کہ وقت ملازمت ان قواعد پر دستخط لے لئے جاتے ہیں، یا ایسے شرائط وہاں مشہور ومعلوم ہو کرالمعروف کالمشروط ہوں، جب تو وہ نوکری ہی ناجائز وگناہ ہے، کہ شرط فاسد سے اجارہ فاسد ہوا، اور عقد فاسدحرام ہے۔ اور دونوں عاقد مبتلائے گناہ، اور ان میں ہر ایک پر اس کا فسخ واجب ہے، اور اس صورت میں ملازمین تنخواہ مقرر کے مستحق نہ ہوں گے، بلکہ اجر مثل کے جو مشاہرہ معینہ سے زائد نہ ہوں، اجر مثل اگر مسمی سے کم ہو تو اس قدرخود ہی کم پائیں گے، اگرچہ خلاف ورزی اصلا نہ کریں ،
درمختارمیں ہے:
الاجیرالخاص ویسمی اجیر وحد وھو من یعمل لواحد عملا موقتا بالتخصیص و یستحق الاجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعلم کمن استؤجر شہر للخدمۃ، ولیس للخاص ان یعمل لغیرہ (بل ولا ان یصلی النافلۃ ''شامی'' ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ماعمل، فتاوٰی النوازل ۱؎۔
اجیر خاص کا نام اجیر وحد ہے، او ر جو کسی کے لئے خاص ہوکر مقررہ عمل کرے اور مقررہ مدت میں اپنے آپ اس کے سپرد کردے اگرچہ عمل نہ کرے مثلا کسی نے ایک ماہ خدمت کے لئے ملازم رکھا ہو،ا جیرخاص کو یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کاکام کرے بلکہ اس کو اس وقت میں نفل نماز بھی نہ چاہئے، شامی، اور اگر اس نے کسی اور کاکام کیا تو اس کی اجرت میں اتنی کمی کی جاسکے گی۔ فتاوٰی نوازل۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۱)
(ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۴)
جہاں منگل اور جمعہ اور رمضان وعیدین کی تعطیل مروج ہے وہاں ان کا مشاہرہ لینا جائزہے۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار کتا ب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۰)
بزازیہ پھر بحرپھر شامی میں ہے:
معنی التعزیر باخذ المال علی القول بہ امساک شیئ من مال عند مدۃ لینزجرثم یعیدہ الحاکم الیہ الا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المال۔ کما یتوھمہ الظلمۃ۔ اذا لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی ۱؎۔
تعزیر بالمال کا جہاں قول ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ملزم کا وہ مال کچھ مدت کےلئے روک لیا جائے تاکہ وہ جرم سے باز آجائے او رپھر حاکم مال واپس کردے یہ معنی نہیں کہ حاکم اس مال کو اپنے لئے یا بیت المال کے لئے وصول کرے جیسا کہ ظالم لوگوں نے خیال کررکھا ہے کیونکہ کسی مسلمان کو شرعی وجہ کے بغیر کسی کا مال لینا جائز نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۷۸)
شرح معانی الاثار امام طحاوی پھر مجتبٰی پھر ابن عابدین میں ہے:
التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۲؎۔
تعزیر بالمال ابتداء اسلام میں جائز تھی پھر منسوخ ہوگئی۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۷۹)
شرح ہدایہ امام عینی میں ہے:
العمل بالمنسوخ حرام ۳؎
(منسوخ پر عمل حرام ہے۔ ت)
(۳؎ البنایۃ فی شروح الہدایۃ)
درمختارمیں ہے:
یقیمہ کل مسلم حال مباشرۃ المعصیۃ وبعدہ لیس ذٰلک لغیر الحاکم والزوج والمولٰی ۴؎.
گناہ میں مشغول کو ہر مسلمان تعزیر کرسکتاہے اور بعد میں حاکم ، خاوند آقائے غیر کو یہ حق نہیں ہے۔ (ت)
(۴؎درمختار کتاب الحدود باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۷)
ردالمحتارمیں ہے:
یقیمہ ای التعزیر الواجب حقا ﷲ تعالٰی بخلاف التعزیر الذی یجب حقا للعبد فانہ لتوقفہ علی الدعوی لایقیمہ الا الحاکم الا ان یحکما فیہ اھ فتح ۵؎۔
''ہر مسلمان تعزیر قائم کرسکتاہے'' کا مطلب یہ ہے وہ تعزیر جو اللہ تعالٰی کے حق پر واجب ہوبخلاف اس تعزیر کے جو بندے کے حق پر واجب ہو کیونکہ وہ بندے کے دعوٰی پر موقوف ہوتی ہے اس کو حاکم کے سوا کوئی نہیں قائم کرسکتا الایہ کہ دونون فریق اس کے لئے کسی کو ثالث بنالیں اھ فتح (ت)
(۵؎ ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر دارحیاء الترا ث العربی بیروت ۳/ ۱۸۱)