Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
78 - 120
مسئلہ ۱۸۴: مسئولہ بنے خاں سوداگر پارچہ محلہ نالہ متصل کٹرہ ماندرائے بریلی ۱۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ

مجلس میلاد پڑھنے کے لئے پیشتر ٹھہرالینا کہ ایک روپیہ دو توہم پڑھیں گے، اور اس سے کم پرنہیں پڑھیں گے، او ر وہ بھی اس سے بطور پیشگی بطور بیعنامہ یا سائی جمع کرالینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب: اللہ عزوجل فرماتاہے:
لاتشتروا باٰیتی ثمنا قلیلا ۱؎۔
میری آیات کے بدلے حقیر مال نہ لو۔ (ت)یہ ممنوع ہے اور ثواب عظیم سے محرومی مطلق ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم  ۲/ ۴۱)
مسئلہ ۱۸۵: مسئولہ محمد لطف علی محکمہ سروے آف انڈیا رام نگر منڈی ضلع نینی تال ۹ رجب ۱۳۳۴ھ

جناب مولانا صاحب! السلام علیکم !بعد ادائے آداب کے عرض یہ ہے کہ کمترین محکہ سروے میں بملازمت سرکار ممتاز ہے، اور اپنی زندگی کا بیمہ مبلغ چار ہزار روپیہ کے واسطے محکمہ ڈاک خانہ میں کیا ہے شرح ماہوار چند تیرہ روپیہ سات آنہ ہے، کمترین نے شروع یکم اگست ۱۹۱۳ء کو کیا تھا اور شرط یہ تھی کہ اگر کمترین ۴۵ سال کی عمر تک زندہ رہے گا تو کمترین کو چار ہزارو روپے دئے جائیں گے اور اگر کمترین کا اس سے پہلے انتقال ہوا تو اتنقال ہونے پر کمترین کے عزیزوں کو چار ہزار روپے دے دئے جائیں گے۔

اب التجایہ ہے کہ مہربانی فرماکر آپ فتوٰی دیں کہ یہ شرعا درست ہے یانہیں؟ اور اگر شرعا درست ہے تو اس کی زکوٰۃ واجب ہے یانہیں؟ عنایت فرماکر مفصل تحریر فرمائیے، عین نواز ش ہوگی فقط
الجواب: یہ شرعاقمار محض ہے، وہ ماہوار کہ اس میں دیا جاتاہے وقت مشروط سے پہلے واپس نہیں لیا جاسکتا نہ شرعاً وہ محکمہ اس کا مالک ہوسکتاہے، وقت واپسی جتنا جمع ہوا تھا اس کی ہر سال کی زکوٰۃ لازم آئے گی، اور اگر اس سے زائد ملے گا تو اس کی زکوٰۃ نہیں کہ بیمہ کرانے والے کی ملک نہ تھا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۶: ا ز شہر رجمنٹ اکاکور نمبر ۶۳ چھاؤنی مسئولہ محمد حسین صاحب مہارنپوری ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

زید کا یہ عقیدہ ہے کہ کلام مجید کا پڑھنااور پڑھانا ، امامت کا کرنا، اور ماہواری یا فصل پر روپیہ وصول کرکے کلام مجید کے ذریعہ پر اپنی پرورش اپنے بال بچوں کی کرتے ہیں، زید ان امامت کرنے والوں سے بہت نفرت کرتاہے اور جو لوگ امامت اللہ کے واسطے کرتے ہیں اور پرورش اپنے بچوں کی محنت مزدوری سے کرتے ہیں ان سے بہت خوش رہتاہے اور ان کو نگاہ عبرت سے دیکھتاہے۔
الجواب: جواللہ عزوجل کے لئے امامت وتعلیم وتعلم کرتے ہیں ان سے خوش ہونا بہت بجا ہے، اور جو تنخواہ لیتے ہیں ان سے نفرت کرنا بیجا ہے، کہ اب ان کاموں پر اجرت لینا رواہے۔ واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۷: ازگوری ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۳۰ رجب ۱۳۳۶ھ

اجرت تعلیم قرآن وامام مسجد کو جائز ہے یانہیں؟
الجواب: متاخرین نے تعلیم امامت پر اخذ اجرت کے جواز پر فتوٰی دیاہے ۔
کتب الحنفیہ طافحۃ بذلک ومن لایعلم فحسبہ جواب من یعلم ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
حنفی کتب اس سے لبریز ہیں او رجو نہیں جانتا اس کو جاننے والے کا جواب کافی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۸۸ تا ۱۸۹: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ: 

(۱) اجرت کی چیزوں کی مثل گاڑی وکشتی وغیرہ کی اجرت نہ دینا کیسا ہے؟

(۲) جس زمین کی مالگزاری مالک لیتاہے اس میں اگر پانی ٹھہر ااور مچھلی ٹھہری تو مالک کہتاہے یہ مچھلی ہماری ہے اگر رعایا نہ دے تو گنہ گار تو نہیں ہے؟
الجواب

(۱) حرام ہے۔

(۲) مباح مچھلی جو پکڑلے  اسی کی ہے، مالک کو اس پر دعوٰی نہیں پہنچتا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰: از شہر بریلی مسئولہ کفایت اللہ یکم رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ پیشہ ور کام کراتے ہیں آدمیوں سے، اور اس شر ط پر کہ آدھ آنہ روپیہ کے حساب سے گیارھویں شریف کے لئے کاٹتے رہیں گے اس میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایسے نہیں دیتے، ہم چاہے اپنے گھر یا جیسے جی چاہے گا ویسے ہی دیں گے ایسی پابندی کا باندھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب: اس کو جبر کا کوئی اختیا ر نہیں ، اگر جبراً کاٹے گا ظلم ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ـ: از شہر مدسرسہ اہل سنت وجماعت مسئولہ مولوی محمد عثمان طالبعلم بنگالی ۲۳ شوال ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ایک جائداد نیلام کی خریدی جس میں رنڈیاں رہا کرتی ہیں ان سے کرایہ لینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب: جوکرایہ وہ اپنے زرحرام سے دیں کہ زنا یا غنا کی اجرت میں ملا ہے اس کا لینا حرام ہے، اور اگر زرحلال سے دیں مثلا کسی سے قرض لے کر یا وہ بلااجرت ورشوت محض انعام میں ملا تو حلال ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: از فیض آباد کھڑکی علی بیگ مسئولہ سید عبداللہ صاحب سب انسپکٹر

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ خالد کا ایک مقدمہ دس پندرہ ہزا رکاکچہری میں تھا، خالد نے زید سے کہا کہ میری ڈگری ہوجائے زید نے بایں شرط دعا کرنے کا وعدہ کیا کہ درصورت ڈگری کے مبلغ دو ہزارروپیہ بطور حق الدعاء خالد زید کو دے گا۔ خالدنے منطور کرلیا، اتفاق سے ڈگری ہوگئی، خالد نے زید کو زر مذکورہ دے دیا، یہ روپیہ زید کو لینا جائزہے یانہیں؟
الجواب: خالی دعا پر اجرت ٹھہرالینا بوجوہ حرام ہے، اور وہ روپے کہ اسے  ملے محض حرام ہے، ان کا لینا دینا سب حرام ہوا، اس پر فرض ہے کہ وہ روپے خالد کو واپس کردے، واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۳: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ محمد شفیق احمد خاں صاحب ۲۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان معمار کو بتکدہ کی نوتعمیر یامرمت کرنا شرعاً درست ہوگا یانہیں؟ اگر نہیں تو جوکوئی ایسا کرے تو اس کے لئے کیاحکم ہے؟
الجواب: مکروہ ہے او رجوکرے مستحق سزا نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: از چوہر کوٹ بارکھاں ملک بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ

چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ دریں ملک عرف است کہ یک شخص چند گو سفنداں یامادہ گاواں وغیرہم باجارہ بادیگر باایں وعدہ می دہد کہ تا سال چاریا ہفت ، ہشت، ایں مال را بچراند، اقرار این است کہ اصل مال خود ملک من است، وہر چہ افزایدیعنی زاید، نصف نصف است، ایں رانیم سودی می گویند، آیا ایں اجارہ جائز است یانہ؟
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عرف یہ ہے کہ بکریاں اور گائے وغیرہ دوسرے کو اس شرط پر بطور اجارہ دیتے ہیں، ایک یا سات یاآٹھ سال اس مال کو چراؤ، اور قراردیتے ہیں کہ اصل مال مالک کا اور زائد ہوجائیں تو زائد میں نصف نصف ہوگا، اسے نصف سود کہتے ہیں، کیا یہ اجارہ جائزہے یانہیں؟ (ت)
الجواب: ایں اجارہ حرام است بوجوہ منہا الجہالۃ، ومنہا الغرر، ومنہا معنی قفیز الطحان۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یہ اجارہ حرام ہے کئی وجوہ سے، ایک جہالت، ایک دھوکا، اور ایک چکی کی پسائی میں قفیز کا معنی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter