Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
77 - 120
مسئلہ ۱۸۰: ا زنواکھالی ڈاکخانہ رائے پور ملک بنگالہ مسئولہ فضل حق صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ

علمائے کرام فضلائے عظام کی خدمت میں التما س یہ ہے کہ یہ استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل، ایصال ثواب کی نیت سے ارواح موتی کے واسطے ایک مدت دراز سے رواج چلاآرہا ہے، فی الحال دیوبندی محصل بعض علماء نے حرام کہہ کر اٹھالینے میں بڑے کوشاں ہیں، دریافت طلب یہ امر ہے کہ فی زماننا استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا حسب الحکم کتب فقہیہ جائز ہے یانہیں؟ برتقدیر جواز شامی وبرکوی وغیرہما رحمۃ اللہ علیہم نے اپنی تحریرات جو حرمت استیجار علی التلاوۃ والتسبیح کو ثابت فرمائے ہیں اس کاکیا جواب ہے، مترصد کہ حضور از راہ مہربانی استفتاء ہذا کا جواب مع اپنے مہر اور متعلقین علماء کی مہر ودستخط سے مزین کرکے جلد تکلیف ارسال منظور فرمائیں
الجواب : حق یہی ہے کہ استیجار علی الطاعات حرام وباطل ہے، سوا تعلیم علوم دین واذان وامامت وغیرہا بعض امور کے کہ متاخرین نے بضرورت فتوائے جوازدیا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا دینا دونوں ناجائز وحرام ہیں
کما حققہ المولی المحقق السید امین الدین الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فی شفاء العلیل ۱؎۔
جیسا کہ محقق امین الدین شامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے شفاء العلیل میں تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
 (۱؎ شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ الخ   رسالہ من رسائل ابن عابدین  سہیل اکیڈمی لاہور  ۱/ ۷۶، ۱۷۵)
دیوبندی عقیدے والے ضرور کفار مرتدین ہیں جن کے کفر وارتداد پر علمائے کرام حرمین شریفین نے فتوے دئے، کہ حسام الحرمین وتمہید ایمان بایات قرآن میں شائع ہوئے، مگریہ ضرور نہیں کہ کافر جو بات کہے باطل ہو، نصارٰی کہتے ہیں یہود کادین باطل ہے، اور ان کایہ کہنا حق ہے، یہود کہتے ہیں نصاری کادین باطل ہے، اور ان کا یہ کہنا حق ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱: مسئولہ ظہور محمد صاحب از شہر کہنہ ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک اراضی کے چند مالک وزمیندار ہیں، ان میں سے ایک نمبردار ہے، کل کارروائی تحصیل وصول وغیرہ کی نمبردار کرکے تقسیم کردیتاہے، چنانچہ ایک اراضی کاکرایہ نامہ نمبردار نے ایک سال کے لئے ایک شخص کولکھ دیا، کرایہ دار ونمبردا ر کی مرضی سے کرایہ نامہ میں کرایہ دار نے یہ بات تحریر کرادی کہ در صورت اراضی خالی پڑی رہنے کے بھی کرایہ مقررہ ادا کرے گا، اب وہ کرایہ دار بعد ۹ ماہ کے کہتاہے کہ اراضی میں نے  خالی کردی ، تین ماہ کا کرایہ مجھ سے نہ لیا جائے، ایسی صورت میں نمبردار کو کرایہ دار سے ان تین ماہ کا کرایہ کہ جس سے کرایہ دار کو نفع نہیں پہنچا ہے، لینا چاہئے یا نہیں؟ دوسرے یہ کہ نمبردار کو بلامنشاء اپنے شرکاء یا ان کے کرایہ دار کو تین ماہ مذکور کا کرایہ اپنے اختیار سے چھوڑدینا چاہئے یانہیں؟
الجواب: جبکہ کرایہ دار نے زمین باختیار خود خالی چھوڑی، تو اس پر ان تین ماہ کا بھی کرایہ واجب ہے، نمبردار کو اگر شرکاء کی طرف سے کرایہ پر دینے کا اختیاردیا گیا ہے تو وہ کرایہ سب کی طرف سے ہوا تین ماہ کاکرایہ اگر وہ کرایہ دار پر چھوڑدے گا، اور شریکوں کے حصہ کاکرایہ اسے دینا پڑے گا، اور اگر شرکاء کی طرف سے اسے اختیار نہ دیا گیا، بطور خود بزعم خود نمبرداری اس نے ایسا تصرف کیا تو اور شرکاء کے حصوں کا غاصب ہوا، مگر از انجا کہ عقد اجارہ اس نے کیا ہے، کرایہ کامالک وہی ہوگا، اگر چہ حصہ شرکاء کے کرایہ میں ملک خبیث ہوگی، اس صورت میں وہ تین ماہ کا کرایہ باختیار خود چھوڑ سکتاہے، اور اس صورت میں اسے لازم ہے کہ باقی شرکاء کے حصے کاکرایہ یا تو ان کو دے اور یہی بہتر ہے یا فقراء پر تصدق کرے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۲: مسئولہ منشی مجید حسن صاحب از جنگل بن بٹول ڈاکخانہ بڑہا پور ضلع بجنور ۳۰ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ حبیب اللہ صاحب کے یہاں کام ہنڈی کا ہوتاہے اور بینک میں روپیہ کالین دین ہے، روپیہ سود پر جو کہ بینک کو دیتے ہیں اور ایسے ہی جوکہ بینک سے لیتے ہیں، ان دونوں صورتوں میں سودکا برتاؤ ہے، اوریہی قرضہ پر سود چلاتے ہیں فدوی کی یہ عرض خدمت شریف ہے کہ جبکہ شیخ صاحب کے یہاں سو دکا لین دین ہے، ایسی صورت میں ایسے شخص کے کارخانہ میں نوکری کا حکم خدا ورسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نزدیک کیا ہے، اگر اجازت ہے تو اس کی بھی دلیل ارقام فرمائیں، اگر ناجائز ہے اس کی وجہ بھی فرمادیں، جب سے مجھ کو یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کارخانہ کے مالک کے یہاں سود کالین دین ہے میرا دل ایک منٹ ٹھہرنے کونہیں چاہتا ہے ، اسی وجہ سے خدمت میں گزارش کی گئی خدا چاہے جیسا ارشاد فرمادیں گے اسی پر عمل کیا جائے گا۔

اور ایک یہ دریافت کرناہے کہ وکیلوں کے یہاں محرری کرنا جائز ہے یانہیں ہے، ان کے یہاں بھی مقدمات رجوع سود کے ہوتے اور بلا سود کے بھی ہوتے ہیں، ایک میر ے علم میں حافظ عبدالرشید ، وکیل ہیں، وہ کہتے ہیں جوکام بلا سو د کا ہوا کرے گا وہ تم سے کرالیاکروں گا، اور سودی دعوٰی میرا دوسرا محرر کرلیا کرے گا، مگر شرعاً جیساحکم ہو ارشاد فرمائیں۔ بینوا توجروا
الجواب : جس کے پاس مال حلال وحرام مختلط ہو۔ مثلا تجارت بھی کرتاہے اور سود بھی لیتا ہے اس کے یہاں کی نوکری شرعاً جائز ہے، اور جو کچھ بھی وہ دے اس کے لینے میں حرج نہیں ، جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمیں دے رہا ہے، بعینہ مال حرام ہے۔
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کذا فی الہندیۃ ۱؎ عن الظہیریۃ عن الامام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب کسی چیز کے حرام ہونے کا ہمیں علم نہ ہو یہی ہمارا موقف ہے، یوں ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کے حوالے سے منقول ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الکراہیۃ البا ب الثانی عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۴۲)
وکلاء کے یہاں محرری میں کچھ خیر نہیں، سودی معاملہ کے سوا ان کے یہاں اور معاملات بھی اکثر خلاف شرع ہوتے ہیں، اکثر دعاوی باطلہ ہوتے ہیں جن کو وہ حق کرنا چاہتے ہیں، جو حق ہوتے ہیں انھیں بھی با طل کی آمیزش بغیر اپنے لئے سرسبزی نہیں جانتے ، غرض ان کے معاملات ناحق سے شاذونادر ہی شاید خالی ہوتے ہیں، اور تحریراعانت ہے، 

اور اللہ عزوجل فرماتاہےـ:
ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۲؎۔
گناہ اور زیادتی پر تعاو ن نہ کرو۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم   ۵/ ۲)
اورحدیث میں ہے:
وعلی الکاتب مثلہ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اورکاتب پر بھی اس کی مثل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب البیوع باب الرباء        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۲۷)
مسئلہ ۱۸۳: مسئولہ سید عبدالقادر حسن واعظ از سورت سیدواڑہ روز دوشنبہ ۶ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

مسلمان اپنا مکان شراب بیچنے کے لئے اور شراب نوشی کے لئے کرایہ سے دے تو درست ہے یا نہیں؟ اور اس کی ایسی کمائی کا کھانا دوسرے مسلمان کے لئے درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

مسلمان مکان کرایہ پر دے اس کی غرض کرایہ سے ہے، اور اعمال نیات پر ہیں، یہ نیت کیوں کرے کہ اس لئے دیتاہے کہ اس میں شراب نوشی و شراب فروشی ہو، ایسی حالت میں کرایہ اس کے لئے حلال اور اس کے یہاں کھانا کھانے میں حرج نہیں، ہاں جو اس حرام نیت کو شامل کرلےکہ وہ اب خود ہی گنہگار بنتاہے، اور اگر وہ مکان ایسی جگہ واقع ہے جہاں ان مفاسد کا اظہار باعث ضرر وخرابی ہمسائگان ہوگا، تو ناجائز، یہ باعث فتنہ ہوا، اور فتنہ حرام ، بہرحال نفس اجرت کے کسی فعل حرام کے مقابل نہو (عہ) حرام نہیں ہے، یہی معنی ہیں اس قول حنفیہ کے کہ:
یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ ۲؎ وغیرھا فاحفظ فانہ علم عزیز فی نصف سطر، واﷲ تعالٰی اعلم
اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہے، جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے، اس کو محفوظ کرلو، یہ ایک سطر میں نادر علم ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
عہ:  میرے خیال میں یہاں بھی ناسخ سے لغزش ہوگئی، اس میں ''نہو'' کے بجائے ''ہو'' لکھا ہے،
 (۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث الکلام فی مہر المثل     ادارۃ القرآن کراچی    ۲/ ۲۲۲)

(غمز عیون البصائر الفن الثانی کتب الاجارات    ادارۃ القرآن کراچی    ۳/ ۶۱)

(ردالمحتار     کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۸)
Flag Counter