| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۱۷۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مالک مکان اورکرایہ دار سے ایک سال کے واسطے ایک مکان قرار پایا تھا بہ کرایہ دو روپے ماہوار کے کرایہ دارنے بالاجازت کرایہ نامہ دو سال کے واسطے پس غیبت مال مکان کے تحریر کراکر مالک مکان کے پاس بھیج دیا، اب چونکہ کرایہ دارنے بد عہدی کی اس واسطے کرایہ دارمذکور کودینا مکان منظور نہیں ہے، اب اس حالت میں مالک مکان کے ذمہ کوئی مواخذہ شرعی ہے یانہیں؟ فقط
الجواب: تحریر کاغذ سے پہلے کچھ گفتگو عاقدین میں ہوتی ہے وہ گفتکو کبھی خود عقد ہوتی ہے اور تحریر کاغذ محض اس کی تائید وتوثیق ہوتی ہے، اس صورت میں شرعاً اس گفتگو کا اعتبارہے، کاغذ اگر اس کے خلاف ہوبیکارہے۔
کمانص علیہ فی الفتاوٰی الخیریۃ ان العبرۃ بماتلفظ لا بما کتبت فی الصک ۲؎۔
جیسا کہ ہندیہ میں نص فرمائی ہے کہ زبانی بات کا اعتبار ہے اسٹام میں لکھی کا اعتبار نہیں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۰۔ ۱۳۹) (فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۶۷)
اور کبھی وہ گفتگو خود عقد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تحریرہی سے تکمیل عقد ہوتی ہے پس صورت مذکورہ میں اگر سال بھر کے لئے عقد اجارہ ان کی گفتگو میں تمام ہوچکا تھا، مثلا زید نے عمرو سے کہا میں نے اپنا مکان ایک سال کے لئے اتنے کرایہ پر تجھے دیا، اس نے کہا میں نے قبول کیا ، یامیں نے لے لیا، یا مجھے منظورہے، جب تو عقد تمام ہوگیا، اورمکان ایک سال کے لئے دینا مالک پر ضرور ہوگا، فقط، اس بدعہدی کے سبب کہ اس نے ایک سال کے بجائے دو سال لکھوا یا، ایک سال کے لئے دینے سے انکار نہیں کرسکتا کہ بد عہدی کی غایت فسق ہے، اور فسق مستاجر فسخ اجارہ کے لئے عذر نہیں۔
فی مطالب ردالمحتار فسق المستاجر لیس عذر فی الفسخ ونقل نصہ فیہ عن لسان الحکام ۱؎۔
ردالمحتار کے مطالب میں ہے کہ مستاجر کا فسق فسخ کے لئے عذر نہیں ہے اورانھوں نے اس پر لسان الحکام سے نص نقل فرمائی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰)
اور اگر گفتگو میں تمامی عقد نہیں ہوئی تھی، مثلا عمرو نے کہا اپنا فلاں مکان اتنے کرایہ میں ایک سال کے لئے مجھے کرایہ پر دو گے، زید نے کہا ہاں ،عمرو نے کہا تو کرایہ نامہ لکھوالو، زیدنے کہا ہاں
فان ہذا وعدلا عقد
(کیونکہ یہ وعدہ ہے عقد نہیں ہے۔ت ) اب اس نے دو سال کے لئے کرایہ نامہ لکھا اور زید نے قبول نہیں کیا تو ایک دن کے لئے بھی مکان کرایہ دار کو دینا مالک پر لازم نہیں کہ پہلے عقد نہ ہوا تھا اور کرایہ نامہ بلارضا مالک لکھا گیا اور اس نے قبول نہیں کیا، تو عقد اصلا موجود نہ ہوا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۵: از ملک بنگالہ ضلع نواکھالی موضع سندیپ مرسلہ محمد حسن چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ، اجرت گرفتن بر تعلیم قرآن وزیارت قبور ومیلاد شریف واذان وامامت بدعوی یابغیر آں ازروئے شرع شریف جائز ست یانہ، بعضے بر ہر دو تقدیر حرام گویند، بینوا توجروا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعلیم قرآن، زیارت قبور، میلاد شریف، اذان وامامت پر طلب کرکے یابغیر طلب اجرت لینا جائز ہے یانہیں جبکہ بعض حضرات دونوں صورتوں کو حرام کہتے ہیں، بینوا توجروا (ت)
الجواب: فی الواقع اخذ اجرت بر تعلیم قرآن عظیم ودیگر علوم واذان وامامت جائز ست علی ماافتی بہ الائمۃ المتأخرون نظرا الی الزمان حفظا علی شعائر الدین والایمان۔ وبربقیہ طاعات مثل زیارت قبور، سیپا رہ خوانی برائے اموات، وقرأت میلاد پاک سیدالکائنات علیہ وعلی الہ افضل الصلوٰۃ والتحیات، براصل منع باقی است والمعہود عرفا کا لمشروط لفظا ۱؎۔ پس اگر قرارداد اجرت کنند یابحسب عرف معلوم باشد کہ اینائے برائے گرفتن میخوانند، و آناں برائے خواندن می دہند، اگرایناں نخوانند آناں نہ دہند، واگر آناں نہ دہند ایناں نہ خوانند، گرفتن ودادن ہر دو، روا نیست الاخذ والمعطی اٰثمان، اگر نہ چناں باشد بلکہ ایناں لوجہ اللہ تعالی می خوانند دروہیچ چیز بدل بہ دل ہم نہ خواہند تاآنکہ اگریقینا دانند کہ چیزے نیابند نیز بخوانند آنگاہ بے قرارداد لفظی و عرفی چیزے خدمت ایشاں کردہ شود مضائقہ نیست ہمچناں درجائیکہ گرفتن ودادن معہود بعرف شدہ است، اگر خوانند گان پیش از خواندن صراحۃً شرط کنند کہ ماراہیچ نہ دہندہ بعدہ(عہ) دہند گان خدمت از پیش خویش کنند نیز روا ست لان الصریح یفوق الدلالہ ۱؎ کما فی الفتاوٰی اما م قاضیخاں۔ واگر خواہند کہ شرط کنند وحلال باشد، صورتش آنست کہ حافظاں وقاریان رابرائے وقت معین، مثلا روز فلانے از ہفتہ، ساعت صحیح تادہ ساعت برائے کار وخدمت خویش براجرت معینہ ہرچہ براں تراضی طرفین شود، اجیر کنند، برقدرآن ساعات ایناں نوکر شدند وتسلیم نفس برایناں واجب شد مستجراں رامی رسد کہ ہر خدمت کہ خواہند فرمایند، از انجملہ کہ میلاد مبارک بخوانند، یا قرآن عظیم خواندہ ثواب بفلاں مسلمان رسانند، ایں رواباشدودادن واجب، و گرفتن حلال، زیرا کہ حالااجارہ برمنافع نفس ایناں واقع شد نہ برطاعات، واللہ تعالٰی اعلم۔
قرآن عظیم کی تعلیم، دیگر دینی علوم اذان اور امامت پر اجرت لینا جائز ہے جیسا کہ متاخرین ائمہ نے موجودہ زمانہ میں شعائردین وایمان کی حفاظت کے پیش نظر فتوٰی دیا ہے اور باقی طاعات مثلا زیارت قبور اموات کے لئے ختم قرآن ، قرأت ، میلاد پاک سید الکائنات علیہ وعلی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتحیات، پر اصل ضابطہ کی بناء پر منع باقی ہے، اور عرف میں مقررہ ومشہور لفظا مشروط کی طرح ہے، لہذا ان باقی امور پر اجرت مقرر کی گئی یا عرفا معلوم ہے کہ اجرت پر پڑھ رہے ہیں یا پڑھانے والے اجرت دیں گے، اگر یہ نہ پڑھیں تو نہ دیں،اور وہ نہ دیں تو یہ نہ پڑھیں تو ایسی صورت میں لینا اور دینا ناجائز ہے، لینے والا اور دینے والا دونوں گنہ گار ہوں گے، اگر عرف میں ایسے نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے پڑھیں اور دل میں کسی عوض کا خیال نہ کریں حتی کہ یقین بھی ہو کہ نہ دینگے اسکے باوجود پڑھیں ، ایسی صورت میں کسی لفظی یا عرفی تقرر کے بغیر پڑھنے والوں کو دیں تو کوئی مضائقہ نہیں ایسی جگہ جہاں عرف میں لینا دینا ہوتا ہو، پڑھنے والے پہلے شرط کریں کہ ہم کچھ نہ لیں گے اور اس کے بعد اگر دینے والے دیں تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ صراحت فائق ہوتی دلالت پر۔جیسا کہ فتاوٰی قاضیخان میں ہے، اگر اجرت کی شرط پر پڑھنا حلال ہوجائے تو اس کی صورت یہ ہے کہ قراء اور حفاظ حضرات کو مقررہ وقت مثلا کوئی دن ہفتہ میں یا گھنٹے مثلا صبح سے دس بجے تک اپنی خدمت یا کام کے لئے مقررہ اجرت جس پر فریقین راضی ہوں، اجیر بنالیں، تو اتنے وقت کے لئے یہ حضرات نوکرہوں گے اور اپنے آپ کو پابند بنانا واجب ہوگا تو اجرت پر رکھنے والوں کو حق ہوگا کہ وہ جو خدمت ان سے چاہیں لیں ، انہی خدمات میں سے میلاد خوانی وقرآن خوانی برائے ایصال ثواب فلاں بھی ہوگی، اس صورت میں دینا ضروری اور لینا جائز ہوگا کیونکہ اب ان کی ذات سے منافع پر اجارہ ہے، طاعات وعبادات پر نہیں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
عہ: دراصل بعض است وظنی انہ بعدہ است۔ عبدالمنان
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۳۱) (۱؎ ردالمحتار کتاب الدعوٰی باب دعوٰی الرجلین داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۴۳۴)
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۸: از قصبہ سیوہارہ ضلع بجنور مرسلہ مولوی محمد مہدی حسین بریلوی قانونگو ۱۴ ستمبر ۱۹۱۲ء (۱) نوکری گرد اور قانونگوئی جس میں حسب ذیل کام کرنا ہوتاہے شرعاً جائز ہے یانہیں؟ (۱) کاغذات پٹواری جن میں زمینداران وکاشتکاران کی صحت اندارج کی بابت موقع پر اور نیز کاغذات ماضیہ کی بابت جانچ کی جاتی ہے، (۲) تحقیقات موقع بابت حقوق کاشتکاران وزمینداران بمقدمات تنازع اراضیات لگان، (۳) تصدیق پٹہ وقبولیت وتیاری نقشہ جات متعلقہ وکوشش ادائے مالگذاری وزر تفاوی تقسیم شدہ وغیرہ (۲) جو گرد اور قانون گولینا پسند کرتے ہیں، ان کو حسب ذیل آمدنی ہوتی ہے یہ آمدنی جائز ہے یا نہیں؟ (۱) علاوہ تنخواہ معینہ کے پٹواریاں بعوض اس رعایت کے کہ ان کے کام میں جو تاخیر خلاف ان کے قواعد کے ظہور میں آئیں اس کی رعایت کی جائے ،اور ان کو جرمانہ سے بچایا جائے کچھ ماہوار یا سال تمام پردیتے ہیں، لیکن سب کام سرکاری میعاد انتہائی کے اندر ختم کرلیاجاتاہے، (۲) تصدیق پٹہ وقبولیت میں مقر کچھ حقوق خوشی سے دیا کرتے ہیں (۳)تحقیقات موقع میں جس فریق کے حقوق فائق متصور اور امیدکامیابی معلوم ہوتی ہے اس سے بعوض تحریر رپورٹ واجبی کے جو کچھ وہ دیتاہے لیا جاتاہے۔ (۴) دیہات میں منجابت زمیندار مقدم، وپدھان نذر دیتے ہیں، بلحاظ افسری بلااس وقت کسی کام کے۔ (۳) اس تنخواہ مندرجہ سوال اول وآمدنی مندرجہ سوال دوم کے اندوختہ سے مصارف حج وزیارت ودیگر ضروریات دینی جائزہے یانہیں، اور بحالت عدم جواز کوئی طریقہ اس روپے سے ادائے کارروائی مندرجہ بالا کا ہوسکتاہے، مثلا تبادلہ اس روپے کا اگر اشرفی ہائے خزانہ سے کرلیا جائے وغیرہ۔ بینوا توجروا
الجواب (۱) اگر ان کاموں کو دیانت وامانت سے انجام دے، اور ان میں جو ظلم اور لوگ بڑھالیتے ہیں ان سے مخلوق کو بچانے کی نیت سے یہ نوکری کرے اور اس سے زائد اور کوئی ناجائز کام اسے کرنا نہ ہو، تو یہ نوکری جائز ہے بلکہ خلق پر دفع ظلم ودیگر اہلکاران کی نیت پر ثواب پائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲) یہ سب مدین رشوت وحرام ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۳) تنخواہ بشرائط مذکورہ حلال ہے، اور اس سے ہر نیک کام جائز ہے، اور آمدنی سوال دوم حرام ہے اور اسے کسی کام میں صرف کرنا جائز نہیں، سوا اس کے کہ جن سے لی ہے ان کو واپس دے، وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دے، پتہ نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کردے، ایسی آمدنی والا اگر حج وغیرہ چاہے تو روپیہ بے سودی قرض لے لے، وہ حلال ہوگا، اور وہ قرض اگرچہ اس مجلس میں اپنے ناپاک روپے سے ادا کردے گا تو قرض لیئے ہوئے روپے میں خباثت نہ آئے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۹: از گونڈہ محلہ نبی گنج مکان مولوی نوازش احمد صاحب مرسلہ حافظ محمد اسحق کوئی طوائف جو اپنے پیشہ میں مبتلا ہے، قرآن شریف پڑھنے یا پڑھوانے کی خواہش رکھتی ہے، اور اس کے عوض میں استاد معلم حافظ ناظرہ خوان کی کچھ خدمت کرے تو پیسہ جو طوائف پیشہ کا قطعاً حرام ہے، لینا استاد معلم کو جائز ہے یانہیں؟ اور ایسے حافظ وقاری کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب : عالمگیریہ وغیرہا میں تصریح ہے کہ یہ روپیہ جو اجرت زنایا غنا کا ان لوگوں کے پاس ہوتاہے وہ ان کے ہاتھ میں مثل غصب کے ہے، وہ کسی شیئ کے معاوضہ میں لینا جائز نہیں۔ امام اگر اس پر اصرار کرے تو اسے امامت سے معزول کرنا چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔