Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
75 - 120
مسئلہ ۱۷۲: ۱۲ صفر ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی طر ف سے اس کے پیروکار نے ایک دکان زید کو کرائے پر دی مگر ابھی تک نہ کرایہ نامہ تحریر ہوا نہ کوئی اقرار کسی میعاد معین برس یا چھ مہینے کا ہوا، اورنہ مالک دکان کی جانب سے اظہار کسی مدت برس یا چھ مہینے کا ہوا تھا کہ زید کرایہ دار نے اپنے مصارف سے بقدرآرام مرمت دکان کی کرائی، ابھی بیٹھنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ زید کو حاجت اس دکان کی نہ رہی اور عرصہ تخمیناً ایک ہفتہ میں زید نے پیرو کار مالک دکان کے پاس تالی دکان کی واپس بھیج کر اطلاع دی کہ دکان دوسرے کو دے دومجھ کو حاجت نہ رہی اورآج تک کے دنوں کاکرایہ مجھ سے لے لو اس کے جواب میں سال بھر کے کرایہ کی طلب زید سے کی گئی، بعد زیادہ گفتگو کے آخر تصفیہ حکم شرعی پر قائم ہوا ہے لہذا حکم فرمائے کہ اس حالت میں زید کے ذمہ ازروئے احکام شرعی کس قدر کرایہ ادا کرنا واجب ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں اگر ماہوار کرایہ قرار پایا تھا کہ ہر مہینے پر مثلا دس روپے جب تو اجارہ ایک مہینہ کیلئے صحیح ونافذ تھا۔ اور باقی مہینوں کے لئے بوجہ عدم تعیین مدت ہنوز معدوم، توجب تک یہ مہینہ ختم ہوکر دوسرے مہینے کی ایک رات ایک دن نہ ہوجائے دوسرے مہینے کا اجارہ ہی متحقق نہ ہوگا۔ سال بھر کے توبارہ مہینے ہیں، 

درمختار میں ہے :
ان کان استاجرہ مشاہرۃ فانہا توجر لغیرہ اذا فرغ الشہر، ان لم یقبلہا لانعقادھا عندراس کل شہر ۱؎۔
اگر ماہانہ کرایہ پر لیا تو اس ماہ کے بعد دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے جبکہ پہلے نے دوسرے ماہ کو قبول نہ کیا ہو کیونکہ ماہانہ کرایہ ہرماہ کی ابتداء میں منعقد ہوتاہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الاجارہ مطبع مجتبائی دہلی۲/ ۱۷۱)
اسی میں ہے:
(اٰجر حانوتاکل شہر بکذا صح فی واحد فقط) وفسد فی الباقی لجھا لتہا، واذا تم الشہر فلکل فسخہا بشرط حضورالاخر لانتہاء العقد الصحیح (وفی شہر سکنہ فی اولہ) ھو اللیلۃ الاولی ویومہا عرفا، وبہ یفتی (صح العقد فیہ ) ایضا ۲؎۔
دکان فی ماہ مقرر اجارہ پر دی توپہلے ماہ میں صحیح ہے فقط اور باقی مہینوں کے لئے جہالت کی وجہ سے فاسد ہوگئی اور پہلامہینہ گزر جائے تو فریقین میں سے ایک کو دوسرے کی موجودگی میں فسخ کا حق ہے کیونکہ  صحیح ختم ہوگیا ہے اور ماہانہ کرایہ پر لے کر ایک رات اور ایک دن سکونت کرلی یہ پہلی رات اور دن ہے، اسی پر فتوٰی ہے،تو اس نئے ماہ میں بھی عقد صحیح ہوجائے گا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۷۸)
اس صورت میں تو سال بھر کا کرایہ مانگنا ظاہر ہے کہ صریح ظلم وحرام ہے، اور اگر سالانہ کرایہ قرار پاتاہو، اگر چہ ماہوار کی اجرت بھی بتادی گئی ہو، مثلا کہا یہ دکان ہر سال ساٹھ روپے کرائے پر تجھے دی، ہر مہینے پر پانچ روپے ، تو اس تقدیر پر اگر چہ پہلے سال کے لئے اجارہ صحیح ہوگیا۔
فی الدرالمختار واذا اٰجرھا سنۃ بکذاصح وان لم یسم اجر کل شہر ۱؎۔
درمختارمیں ہے اگر سالانہ کرایہ پر لیا تو صحیح ہے اگر چہ ماہانہ اجرت نہ ذکر کی ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار  کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۸)
مگر جبکہ ایک ہفتہ کے بعدکرایہ دار نے کنجی واپس بھیج دی، اور مالکہ کے کارکن نے لے لی، اور اس کے فسخ اجارہ کوقبول کرلیا، تو جبکہ یہ کارکن مالکہ کا مختار عام ہو یا اس عقد خاص کے فسخ وقبول کا مالکہ نے اسے اختیار دیا ہو، یا اسے اختیار نہ تھا، مگر اس نے مالکہ کو اطلاع دی اور وہ فسخ پر راضی ہوگئی، تو ان سب صوتوں میں صرف اسی ہفتہ کا کرایہ زید پر لازم آیا، زیادہ کی طلب محض بے معنٰی ہے، یونہی اگر نہ اسے قبول فسخ کا اختیار تھا، نہ مالکہ نے فسخ مانا، مگر زید نے یہ فسخ کسی ایسے عذر واضح صریح بلا اشتباہ کی بنا پر کیا کہ اس کے ساتھ اجارہ باقی رکھے تو اسے اس کی جان یا مال میں صریح ضرر لاحق ہو، جس کے لحوق میں کوئی تردد وخفا نہ ہو، تو اس صورت میں بھی صرف اسی ہفتہ کا کرایہ واجب رہا، اور عقد تنہا زید کے فسخ کردینے سے فسخ ہوگیا،
لحدیث لا ضر ولا ضرار فی الاسلام ۲؎
(اسلام میں کوئی دکھ نہیں اور نہ کسی کو دکھ پہنچانا ہے۔ )
(۲؎ المعجم الاوسط حدیث ۵۱۸۹   مکتبۃ المعارف ریاض   ۶/ ۹۱)
ردالمحتارمیں ہےـ:
والحاصل ان کل عذر لایمکن معہ استیفاء المعقود علیہ الابضرر یلحقہ فی نفسہ اومالہ یثبت لہ حق الفسخ ۳؎۔
حاصل یہ ہے کہ ایسا عذر جس کی بناء پر معقود علیہ کا پورا ہونا ایسا ضرر جو جان یا مال کولاحق ہو تو اس کی بنا پر اس کوفسخ کا حق ثابت ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار کتاب الاجارۃ  باب الاجارۃ الفاسدۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۵۰)
درمختارمیں ہے:
ان العذر ظاھراینفرد وان مشتبہا لاینفرد وھو الاصح ۴؎۔
اگر ایسا عذر ظاہر ہے تو صاحب عذر فسخ میں خود مختار ہے اور اگر ظاہر نہ ہو تو وہ اکیلا مختار نہیں۔ (ت)
 (۴؎ درمختار کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ مطبع مجتبائی دہلی  ۲/ ۱۸۳)
اور اگریہ بھی نہ تھا بلکہ بلا عذر اس نے اجارہ چھوڑا، یا عذر واضح وصریح نہ تھا، اور خود مالکہ یا اس کے وکیل نے کہ قبول فسخ کاا ختیار رکھتا ہو، اس فسخ کو قبول نہ کیا، نہ دکان اس کے قبضہ سے واپس لی، تو بیشک اس صورت میں دکان بدستور زید کے کرایہ میں ہے، پھر اگر صرف ماہوار کرایہ ٹھہرا تھا تو ہر ختم ماہ پر زید کو دکان چھوڑدینے کا اختیار ہوگا، خواہ پہلے مہینے کے ختم پر چھوڑ دے خواہ کسی اور مہینے کے ختم پر، اور جس مہینے کے شروع میں ایک دن گزر جائے گا وہ مہینہ بھر پھر اجارہ صحیح ہوجائے گا۔ اور زید کو تنہا اس کے فسخ کااختیار نہ ہوگا۔ اور اگر سالانہ کرایہ ٹھہرا تھا تو بعد ختم سال زید کو دکان چھوڑنے کا اختیار ہوگا۔ یوں سال دو سال یا ماہ دو ماہ جس قدر مدت تک دکان اس کے اجارہ میں رہے گی ، اس قدر کرایہ ا س پر لازم آئے گا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اراضی کاشت اپنی بعوض مبلغ ایک سو روپے کے رہن رکھی، اور مرتہن سے یہ شرط ٹھہر ی کہ اراضی تم اپنی کاشت میں رکھو، اور اس کی پیداوار سے لگان اراضی زمیندار کو ادا کرتے رہو، بقیہ منافع تم لے لیا کرو، اور اگر کم پیدا وار ہو یا بالکل نہ ہو، تو مجھ سے کچھ تعلق نہیں، اس کا نفع نقصان سب تمھارے ذمہ ہے، تو اب مرتہن اس اراضی کو خود کاشت کرے یا کسی ذیلی کاشتکار سے کاشت کرائے، اوربعد ادائے لگان جو کچھ منافع ہو وہ منافع سود ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر زید نے بہ اجازت زمیندار کہ مالک زمین ہے، یہ زمین رہن رکھی تو رہن صحیح ہوگیا، زمین زید کے اجارہ سے نکل گئی،
وکان من باب رھن المستعار للرھن حیث یجوز، قال فی الہندیۃ عن البدائع، یجوز رھن مال الغیر باذنہ کما لوا ستعار من انسان لیرھنہ بدین علی المستعیر ۱؎۔
تویہ رہن کے لئے طلب کردہ کا رہن ہے، یہ جائز ہے، ہندیہ میں بدائع کے حوالے سے فرمایا غیر کا مال اس کی اجازت سے رہن رکھنا جائز ہے جیسے کوئی شخص اپنے قرض میں رہن رکھنے کے لیے کسی سے کوئی چیز عاریۃً لے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الرہن الباب الاول الفصل الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۴۳۲)
اوراس کا یہ کہنا کہ زمین اپنی کاشت میں رکھو، زمیندار کو لگان دیتے رہو، اجارہ فضولی کا ہے، اگر زمین دار نے اسے جائز رکھا اجارہ نافذ ہوگیا، اور جب مرتہن نے اس پر کاشتکارانہ قبضہ کیا رہن باطل ہوگیا، زید کو کچھ تعلق نہ رہا مرتہن اصلی کاشتکار ہوگیا، جو منافع بچے وہ اس کے لئے حلال ہیں،خود کاشت کرے یا اسے لگان  پر ذیلی کاشتکار کو دے سب جائز ہے۔
فی الہندیۃ عن شرح الطحاوی لواستاجرہ المرتہن صحت الاجارۃ وبطل الرھن اذا جدد القبض للاجارۃ ۱؎۔
ہندیہ میں شرح طحاوی سے منقول ہے کہ اگر مرتہن رہن والی چیز کو اجارہ پر لے تو اجارہ صحیح ہوگا اوررہن باطل ہوجائے گا بشرطیکہ اجارہ کے لئے نیا قبضہ لے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الرہن الباب الثامن    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۴۶۵)
اوراگر زمیندار نے اس اجارہ کوناجائز کردیا، اجارہ رد ہوگیا، مرتہن کو نہ خود کاشت کرنا جائز ہے نہ ذیلی کو دینا، جو کچھ اس سے حاصل ہوگا خبیث ہوگا، مرتہن پر واجب ہے اسے تصدق کردے، اور اگر سرے سے یہ رہن رکھنا ہی بے اجازت زمیندار ہے تو راہن مرتہن دونوں غاصب ہیں، مرتہن کو کاشت وغیرہ حلال نہیں، پھر اگر زمیندار کو لگان دی اور اس نے قبول کرلی ، تو زید کے اجارہ سے نکل گئی، زمین مرتہن کے اجارہ میں آگئی، اب جو منافع بچے اسے حلال ہوں گے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter