Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
74 - 120
مسئلہ ۱۶۹:  زید کا ایک تالاب ہے، اس کو بعوض ہبہ بیس روپے ایک ماہ کی میعاد مقرر کرکے عمرو کے تصرف میں دیا، او رکہاکہ ایام معینہ کے اندر تم اس تالاب کے پانی سے بہر طور انتفاع حاصل کرسکتے ہو اورنیز اس تالاب کی مچھلی پکڑ سکتے ہو۔ یہ درست ہے یانہیںـ؟
الجواب : یہ مسئلہ معرکۃ الاراء ہے عامہ کتب میں اس اجارے کو محض حرام وناجائز وباطل فرمایا اور یہی موافق اصول وقواعد ومذہب ہے۔
کیف وہی اجارۃ وردت علی استھلاک عین اعنی الماء والسمک، و الارض التی تحت الماء لاتصح للانتفاع بہا فی الحال و ہو شرط جوا زلاجارۃ، ولذا لم یجز جازالاجازۃ، ولذا لم یجز اجارۃ الجحش للرکوب، فی وجیز الامام الکردری، الاجارۃ اذا وقعت علی العین لایجزوز فلا یصح استیجار الاٰجام والحیاض لصید السمک او رفع القصب، وقطع الحطب، اولیسقی ارضہ، اوغنمہ، منہا وکذا اجارۃ المرعی ۱؎ اھ، وفی الدرالمختار عن البحر الرائق لم تجز اجارۃ برکۃ لیصاد منہا السمک ۲؎ اھ وفی ردالمحتار نقل فی البحر عن الایضاح عدم جواز ہا قال و مافی الایضاح عدم جوازہا قال و مافی الایضاح بالقواعد الفقہیۃ الیق لعدم الصحۃ ۳؎، (ملخصا)
جائز کیسے ہو جبکہ یہ اجارہ عین چیز کو ہلاک کرنے پر منعقد ہواہے یعنی پانی مچھلی کوحاصل کرنے پر، اور وہ زمین جو تالاب میں پانی کی تہہ ہے وہ پانی کی موجودگی میں ابھی قابل انتفاع نہیں ہے۔ حالانکہ اجارہ کے جو ازکی شرط ہی یہ ہے کہ وہ چیز فی الحال قابل انتفاع ہو اسی لئے گھوڑی کا بچہ سواری کےلئے اجارہ پرلینا جائز نہیں ہے۔ اور امام کردری کی وجیز میں ہے کہ اجارہ اگر کسی عین چیز کو ہلاک کرنے پر ہو وتو صحیح نہ ہوگا، اس لئے جھاڑیوں اور حوض کو اجارہ پر دینامچھلی پکڑنے یاکانے اکھاڑنے اورایندھن کاٹنے یا حوض کاپانی اپنے پینے یاجانوروں کو پلانے کے لئے کرایہ پر لینا جائز نہیں ہے اور یوں چراگاہ کو اجارہ پر دینا بھی جائز نہیں اھ اور درمختارمیں بحرالرائق سے منقول ہے کہ جوہڑ کا اجارہ مچھلی پکڑنے کے لئے ناجائز ہے، اھ اور ردالمحتار میں بحر سے انھوں نے ایضاح میں اس کا عام جواز نقل کیا ہے او ر انھوں نے کہا کہ ایضاح کا بیان قواعد فقہیہ کے مطابق عدم جواز کے زیادہ مناسب ہے۔ (ملخصا) (ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ    کتاب الاجارات    الفصل االثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۴۷۔ ۴۸)

(۲؎ درمختار     کتاب البیوع باب البیع الفاسد     مطبع مجتبائی دہلی            ۲ /۲۴)

(۳؎ ردالمحتار   کتاب البیوع    باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۰۷)
اور جامع المضمرات میں جواز پر فتوٰی دیا،
فی الدرالمختاروجاز اجارۃ القناۃ والنہر مع الماء بہ یفتی لعموم البلوی مضمرات انتہی ۴؎۔
درمختار میں مضمرات سے منقول ہے کہ نہر اور راجباہ کوپانی سمیت اجارہ پر دینا ہے، عموم بلوٰی کی وجہ سے اسی پرفتوٰی ہے اھ (ت)
 (۴؎ درمختار    کتا ب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ  مطبع مجتبائی دہلی  ۲ /۱۸۰)
اور احوط یہ ہے کہ تالاب کے کنارے کی چند گز زمین محدود معین کرائے پر دے اور پانی وغیرہ سے انتفاع مباح کردے، یوں اسے کرایہ ا ور اسے پانی مچھلی، گھاس جائز طور پر مل جائیں گے،
فی البزازیۃ بعد ما قدمناہ عنہا والحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ ویبیع الماء والمرعی ۵؎ الخ۔
بزازیہ میں ہماری نقل کردہ عبارت کے بعد فرمایا ان سب چیزوں میں جواز کا حیلہ یہ ہے کہ وہاں جانور کے باڑہ کے لئے جگہ کو اجارہ پر دے اور حوض وغیرہ کا پانی اور چراگاہ کو جانوروں کے لئے مباح کردے۔ (ت)
(۵؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندی    کتاب الاجارات الفصل الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۴۸)
یازراعت کو کنارے کی زمین اور تالاب جس سے اس زمین کو پانی دیا جائے سب ملاکر کرائے پردے کر تالاب کا اجارہ بھی بالتبع جائز ہوجائے۔
فی البزازیۃ لم تصح الاجارہ الشرب لوقوع الاجارۃ علی استھلاک العین مقصوداً الا اذا آجر اوباع مع الارض فحینئذ یجوز بیعا، ولوباع ارضا مع شرب ارض اٰخری، عن ابن اسلام انہ یجوز (عہ) ولو اٰجرارضا مع شرب ارض اخری لایجوز، لان الشرب فی البیع تبع من وجہ اصل من وجہ حیث انہ یقوم بنفسہ وتبع من حیث انہ لایقصد لعینہ فمن حیث انہ تبع لایباع من غیرارض ومن حیث انہ اصل یجوز مع ای ارض کان، والشرب فی الاجارۃ تبع من کل وجہ لان الانتفاع بالارض لایتھیا بدونہ، فلم تجزاجارۃ الشرب مع ارض اخری، کما لم یجز بیع اطراف العبد تبعا رقبۃ اخری ۱؎ اھ_____
بزازیہ میں ہےکہ پانی کی باری کا اجارہ صحیح نہیں کیونکہ اس میں عین چیز کو مقصودا ہلاک کرنے پر اجارہ ہے، ہاں اگر زمین کے ساتھ پانی کو فروخت کیا جائے یااجارہ پر لیا جائے تو اس صورت میں جائزہے اور اگر زمین کے ساتھ دوسری زمین کے سیرابی پانی کو فروخت کرے تو ابن سلام سے مروی ہے کہ یہ جائز ہے اور اگر زمین کو اجارہ پر دوسری زمین کے سیرابی پانی کے ساتھ دے تو یہ ناجائز ہے کیونکہ سیرابی پانی  زمین کی بیع میں من وجہ اصل ہے کیونکہ وہ بنفسہٖ قائم ہے اور من وجہ تابع ہے کیونکہ بنفسہ  مقصودنہیں ہے۔ توتابع ہونے کی حیثیت زمین کی بیع کے بغیر اس کی بیع ناجائز ہے، اور اصل ہونے کی حیثیت سے اس کی بیع کسی بھی زمین کے ساتھ جائز ہے جبکہ سیرابی پانی اجارہ میں ہرلحاظ سے تابع ہے کیونکہ اجارہ میں زمین سے انتفاع پانی کے بغیر مہیانہیں ہوتا تو پانی کو دوسری زمین کے اجارہ کے تابع کرنا جائز نہیں ہے جیسا ایک غلام کے اعضاء کو دوسرے غلام کے تابع بناکر فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔ اھ ____
عہ :  فی الاصل ''یجز'' لعلہ من قلم الناسخ عبدالمنان
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ   کتاب الشرب    الفصل الثالث    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۲۲۔ ۱۲۱)
اقول:  ووقع فی ردالمحتار ھنا زلل قلم فانہ قال فی شرح قول المضمرات المارمانصہ قولہ مع الماء ای تبعا قال فی کتاب الشرب من البزازیۃ لم تصح اجارۃ الشرب ۱؎ الی اٰخرہ وذکر بعض ماذکرنامن عبارتہا، فجعل موردالمضمرات والبزازیۃ معاواحد وعندی لیس کذٰلک فان اجازۃ البزازی فیما اذا اٰجر ارضاللزراعۃ ولہا شرب تسقی بہا فاٰجر شربہا معہا، وجواز ھذا ماش علی الاصول غیر محتاج الی استناد لعموم البلوی فکم من شیئ یجوز ضمنا لاقصدا،
اقول: (میں کہتاہوں) ردالمحتار میں اس مقام پر قلمی خطا واقع ہوئی ہے کیونکہ انھوں نے مضمرات کی مذکورہ عبارت کی شرح میں عبارت لکھی مع الماء ای تبعا پانی سمیت یعنی بالتبع، اور انھوں نے کتاب الشرب میں لکھا بزازیہ سے منقول ہے کہ سیرابی پانی کی بیع جائز نہیں ہے الی آخرہ۔ اور ساتھ ہی ہماری نقل کردہ عبارت ذکرکی، اس طرح انھوں نے مضمرات اوربزازیہ دونوں کی ذکر کردہ مورد کو ایک ہی معنی دیا جبکہ میرے نزدیک ایسے نہیں ہے کیونکہ بزازیہ میں اجارہ کی صورت میں یہ ہے کہ زمین زراعت کے لئے اجارہ پر دی اور اس زمین کا سیرابی پانی ہو جس سے اس کو سیرابی کا اجارہ جائز ہے اور یہ جواز اصول پر مبنی ہے کسی عموم بلوٰی کی طر ف منسوب کرنے کی اسے ضرورت نہیں ہے بہت سے امور ضمنا جائز اور مقصودا ناجائز ہوتے ہیں،
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الاجارۃ    باب الاجارۃ الفاسدۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۳۹)
اماجامع المضمرات فانما حکم بجواز اجازۃ النھر و لم یقل مع الارض بل مع الماء، وانما قالہ لان النھر الیابس ارض قراح فلا یعتری شک فی جواز اجارتہ قال فی الوجیز کما نقل عنہ فی ردالمحتار بعد اسطر، استاجر نھرایابسا، اوارضا، اوسطحا، مدۃ معلومۃ ولم یقبل شیئا صح، ولہ ان یجری فیہ الماء ۱؎ اھ، اما النھر مع الماء فھذا ھوالذی تقتضی القواعد ببطلان اجارتہ لانہا اجارۃ وقع علی استھلاک عین فاحتاج الی الاستناد لعموم البلوٰی کما جاز اجارۃ الظئر مع انھا ایضا علی استھلاک عین، وان قیل ان المراد اجارۃ ارض النہر التی تحت الماء ویکون الماء تبعا لہا وحمل علیہ قول البزازی ''الااذا اٰجر اوباع مع الارض فمع ظہور بطلانہ بما ذکر نامن تمام کلام البزازی'' فانہ نص صریح فی ان المراد تبعیۃ الشرب للارض تسقی منہ لالارض تحتہ لایستقیم ایضا قطعا لما قد منا الاشارۃ الیہ ان الاجارۃ تعتمد صلاحیۃ الانتفاع بالنفع المقصود المعتادفی الحال لافی المال ولذالم تجز اجارۃ الجحش، ومعلوم ان ارض النھر مع الماء لاتصلح للانتفاع غیر الاتنفاع بالماء وھواستہلاک العین فاذا لم تستقم فی لاصل فکیف یجوز فی التبع وماتقدم من الحیلۃ فانما ھو فیما اذا اٰجر ارضا حول الماء فانہا الصالحۃ للعطن فیحصل لہ الاجربوجہ جائز، وللمستاجر الماء والکلاء،
لیکن مضمرات نے نہر کے اجارہ کے جواز کی بات کی ہے انھوں نے نہر کے ساتھ پانی کو ذکر کیا نہ کہ زمین کو، انھوں نے یہ بات اس بناء پر فرمائی ہےکہ خشک نہر خالص زمین ہے اس کے اجارہ کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے، وجیز میں فرمایا جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے چند سطروں کے بعد فرمایا کہ کسی نے خشک نہریازمین یا چھت معینہ مدت کےلئے کرایہ پر لی اور کسی عمل وغیرہ کو ذکر نہ کا تو یہ اجارہ صحیح ہے اور وہ نہر میں پانی جاری کرلے تو جائز ہے اھ لیکن پانی سمیت نہر کا اجارہ یہ ایسی تو صورت ہے جس کوقواعد باطل قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ عین چیز کو ہلاک کرنے پر اجارہ ہے اس لئے اس اجارہ کے جواز کوعموم بلوٰی سے استناد کی ضرورت ہے جیساکہ دودھ پلانے والی عورت کا اجارہ جائز ہے حالانکہ یہ بھی عین چیز (دودھ) کو ہلاک کرنے پر اجارہ ہے اگر ردالمحتارمیں کی توجیہ میں یہ کہا جائے کہ ان کی مراد نہرکی وہ زمین جو پانی کے تحت ہے اس کے اجارہ میں پانی کا اجارہ بالتبع جائز ہے اور اسی معنی پر بزازیہ کے قول ''الایہ کہ زمین سمیت پانی کااجارہ ہو'' کو محمول کرتے ہوئے انھوںنے یہ بات کی ہے تو اس توجیہ کا بطلان بزازیہ کی مکمل عبارت جس کو ہم نے ذکر کیا ہے سے ظاہر ہے کیونکہ وہ صریح نص ہے کہ یہاں مراد وہ سیرابی پانی ہے جس سے وہ بیع شدہ یااجارہ پردی ہوئی زمین سیراب ہوتی ہے نہ کہ پانی کے تحت ولی زمین مراد ہے نیز، ہمارے پہلے اشارہ ذکر کردہ ضابطہ کہ اجازورہ کی بنیاد یہ ہے کہ وہ چیز مقصود نفع کی فی الحال صلاحیت رکھتی ہو نہ کہ بعد میں متوقع صلاحیت والی ہو کے پیش نظر یہ توجہی قطعاباطل ہے کیونکہ پانی والی نہر کی زیریں زمین فی الحال انتفاع کی صلاحیت نہیں رکھتی جس کو مستقل طور پر اجارہ پر دیا جائے، اسی قاعدہ کی بناء پر گھوڑی کا بچہ سواری کے لہئے اجارہ پر دینا ناجائز ہے پھر خالص پانی کا اجارہ ہوگا تو اس سے عین کو ہلاک کرنے پر اجارہ لازم آئیگا، نیز جب اصل نہر کی زمین کا اجارہ درست نہیں ہے تو اس سے تابع پانی کا کیسے جائز ہوگا اور گزشتہ حیلہ جواز وہ صرف اس صورت میں ہے کہ پانی والے حوض کے اردگرد والی زمین کو اجارہ پر حاصل کرے کیونکہ وہ فی الحال جانورں کو باندھنے اور رکھنے کے لئے قابل انتفاع ہے جس سے جائز طریقے پر اجرت حاصل ہوگی۔اور مستاجر کو پانی اور گھاس بالتبع حاصل ہوگا،
 (۱؎ردالمحتار  کتاب الاجارۃ  باب الاجارۃ الفاسدۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۳۹)
فالحق ان الماشی علی الاصول فی اجارۃ البرکۃ والقناۃ والنہر من دون الارض، تسقی منہ ھو البطلان ونا ماذکر فی البزازیۃ وغیرھا من صورالجواز فلامساس لھابہ۔ ولایمکن حمل مافی جامع المضمرات علی شیئ منہا، ولقد احسن اذ علل الافتاء بعموم للبلوٰی لابحصول الجواز بالتبع،فاذن ان عمل بقول بہ یفتی فلا شک ان قضیۃ اطلاق الجوازوھو الایسر، والاحوط مامر، فعلیہ فلیتقصر ھذا ماعندی والعلم بالحق عن عزیز الاکبر واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اصول کے مطابق حق یہ ہے کہ جوہڑ، راجباہ اورنہرہ کے پانی کا اجارہ اس سے سیراب ہونے والی زمین کے اجارہ کے بغیر باطل ہے،اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور وجہ جواز سے اس کا کوئی علاقہ نہیں ہے اورنہ ہی مضمرات کے بیان کو کسی طرح اس پر محمول کیا جاسکتاہے تو بہت اچھا کیا کہ فتوٰی جواز کی وجہ عموم بلوٰی کو بنایا ہے بالتبع حصول کے جواز کو نہ بنایا، تو اب اس کے قول بہ یفتی (اسی پر فتوٰی ہے) پر اگر عمل کیا جائے تو مطلق جواز کی راہ آسان ہے، او ر زیادہ احتیاط جو پہلے گزری ہے، تو اسی کو اپنایاجائے، یہ مذکورہ بحث میری ہے جبکہ حق کا علم اللہ تعالٰی کے پاس ہے۔ واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۷۰: ا زشہر میمن سنگھ ملک بنگالہ ڈاکخانہ پائکٹرا موضع کروا مرسلہ محمد زینت اللہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ملک بنگالہ میں جب کسی نے برائے ثواب رسانی اپنے میت کے مُلاؤں یاطباؤں سے قرآن شریف پڑھوایا، یابعدکوجوکچھ ان کو دیا جاتاہے وہ خود نہیں مانگےت، بلکہ خود پڑھوانے والا ان کو دیتاہے، یہ طریقہ ہمارے یہاں عام رواج ہے،تویہ رواج ہے، تویہ لینا دینا جائز ہے یانہیں؟ اگر جائز ہے تو کس طریقہ پر ہے؟ اور ایسے ہی بعد پڑھوانے مولود شریف کےجو کچھ دیاجاتاہے بغیر طلب کرے مولود خوااں کے یہ بھی جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا ، بحوالہ کتب جواب عنایت ہوبادلیل۔
الجواب: اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پر اجرت لینا دینا (سوائے تعلیم قرآن عظیم وعلوم دین و اذان وامامت وغیرہا معدودے چنداشیاء کو جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بنا چاری ومجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا) مطلقا حرام ہے، اور تلاوت قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب وذکر شریف میلاد پاک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ضرورت منجملہ عبادات وطاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام ومحذور،
کما حققہ السید المحقق محمد بن عابدین الشامی فی ردالمحتار علی الدرالمختار ولہ رحمہ اﷲ تعالٰی رسالۃ مستقلۃ فی تحقق المسئلۃ سماہا ''شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل'' قال واطلع علیہا محشی ھذا الکتاب (یعنی الدر) فقیہ عصرہ ووحید دھرہ السید احمد الطحطاوی مفتی مصر سابقا فکتب علیہا واثنی الثناء الجمیل فاﷲ یجزیہ الاجرا الجزیل وکتب علیہا غیرہ من فقہاء العصر ۱؎، قلت وقد تشرف الفقیر بمطالعتہا فوجدتہ بحمد اﷲ تعالٰی کفی وشفی وصفا ووفی فرحمنا اﷲ وایاہ والمسلمین بعبادہ الذین اصطفی، اٰمین!
سید محقق محمد بن عابدین شامی نے درمختار کے حاشیہ ردالمحتارمیں جیسا کہ اس کی تحقیق فرمائی، اس مسئلہ میں ان کا ایک مستقل رسالہ ہے جس کا نام ''شفا العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل'' رکھا ہے انھوں نے خود فرمایا کہ درمختار کے محشی اپنے زمانہ کے فقہیہ العصر، وحید دہر سید احمد طحطاوی سابق مفتی مصر نے اس رسالہ کا مطالعہ فرماکر اس پر تقریظ لکھی اور تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ان کو اللہ تعالٰی اجر عظیم سے نوازے، اور دیگرفقہاء عصرنے بھی تقریضات لکھی ہیں، میں کہتاہوں اس فقیر نے اس کے مطالعہ کا شر ف حاصل کیا ہے تو میں نے بحمداللہ تعالٰی اس کوکافی، شافی اور بھرپور صاف پایا ،تو اللہ تعالٰی ہم پر اور ان پر، تما م مسلمانوں اور اپنے اہل دین بندوں پر رحم فرمائے، آمین !(ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الاجارۃ    باب الاجارۃ الفاسدۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۳۶)
اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتاہے، عرفا شرط معروف ومعہود سے بھی ہوجاتاہے، مثلا پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سےکچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملےگا۔انھوں نے اس طور پر پڑھا، انھوں نے اس نیت سے پڑھوایا، اجارہ ہوگیا، اور اب دو وجہ سے حرام ہوا، ایک تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام، دوسرے اجرت اگر عرفامعین نہیں تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد، یہ دوسرا حرام۔
ای ان الاجارۃ باطلۃ وعلی فرض الانعقاد فاسدۃ فللتحریم وجہان متعاقبان، وذٰلک لما نصوا قاطبۃ ان المعہود عرفا کالمشروط لفظا ۲؎۔
  یعنی اجارہ باطل ہے اور فرض انعقاد پر وہ فاسد ہے تو یہ اس کے حرام ہونے کی یکے بعددیگرے دو وجہیں ہیں، اور یہ اس لئے کہ تمام فقہاء کی نص ہے کہ عرف میں مشہور ومسلم لفظوں میں مشروط کی طرح ہے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول  القاعدۃ السادسۃ    ادارۃ القرآن کراچی        ۱/ ۱۳۱)
پس اگر قرارداد کچھ نہ ہونہ ہواں لین دین معہود ہوتاہو توبعد کو بطور صلہ وحسن سلوک کچھ دے دیناجائز بلکہ حسن ہوتا،
ھل جزاء الاحسان الا الاحسان ۳؎ o واﷲ یحب المحسنین ۴؎o
احسان کی جزاء صرف احسان ہے اور اللہ تعالٰی احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم     ۵۵ /۶۰)       (۴؎  القرآن الکریم    ۳ /۱۳۴)
مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہے، اب اس کے حلال ہونے کے دو طریقے ہیں: 

اول یہ کہ قبل قرأت پڑھنے والے صراحۃ کہ دیں کہ ہم کچھ نہ لیں گے پڑھوانے والے صاف انکار کردیں کہ تمھیں کچھ نہ دیا جائے گا،اس شرط کے بعد ہو پڑھیں اور پھر پڑھوانے ولاے بطو صلہ جو چاہیں دے دیں، یہ لینادینا حلال ہوگا۔
لانتفاع الاجارۃ بوجہیہا اما اللفظ فظاھر واما العرف فلانہم نصواعلی نفیہا والصریح یفوق الدلالۃ، فلم یعارضہ العرف المعہود کما نص علیہ الامام فقیہ النفس قاضی خاں رحمہ اﷲ تعالٰی فی الخانیۃ وغیرہ ۱؎ فی غیرھا من السادۃ الربانیۃ۔
دووجہ سے اجارہ نہ ہونے کی وجہ سے، ایک لفظ کے اعتبار سے تو ظاہر ہے، دوسرا عرف کی وجہ سے کیونکہ انھوں نے اس وجہ کی نفی پر نص کردی ہے اور صریح بات فائق ہوتی ہے، تو عرف معہود اس کے معارض نہ ہوسکے گا جیسا کہ امام فقیہ النفس قاضیخاں نے اس پر اپنے فتاوٰی اور دیگر فقہاء نے دوسری کتب میں نص فرمائی ہے۔ (ت)
 (۱؎ردالمحتار    کتا ب الدعوٰی    باب دعوٰی الرجلین     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۴۳۴)
دوم پڑھوانے والے پڑھنے والوں سے بہ تعین وقت اجرت ان سے مطلق کا رخدمت پر پڑھنے والوں کو اجارے میں لے لیں، مثلا یہ ان سے کہیں ہم نے کل صبح سات بچے سے بارہ بجے تک بعوض ایک روپیہ کے اپنے کام کاج کے لئے اجارہ میں لیا، وہ کہیں ہم نے قبول کیا۔ اب یہ پڑھنے والے اتنے گھنٹوں کے لئے ان کے نوکر ہوگئے، وہ جو کام چاہیں لیں، اس اجارہ کے بعد وہ ان سے کہیں، اتنے پارے کلام اللہ شریف کے پڑھ کر ثواب فلاں کو بخش دو یا مجلس میلاد مبارک پڑھ دو، یہ جائز ہوگا اورلینا دینا حلال۔لان الاجارۃ وقعت علی منافع ایدانہم لاعلی الطاعات والعبادات واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔  کیونکہ یہ اجارہ ان کے ابدان سے انتفاع پر ہوا ہے نہ کہ ان کی عبادات اورطاعات پر ہواہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی وعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۱: از شیوپوری سرولی ضلع بریلی مرسلہ واحد نور صاحب ۶ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اورشر ع متین اس مسئلہ میں زید نے ایک اراضی جو اس کی ملک ہے، عمرو کو واسطے کاشت مدت پندرہ سال کو دخلی رہن دی، اوراس کا لگان مبلغ ما( ۱۵۰؎) میعاد معینہ کا پیشتر لے لینا، بعد مدت معینہ اراضی کا چھوڑ نا قرار پایا، میعا مقررہ تک عمرو اس سے منفعت حاصل کرے، لیکن زید کو پندرہ سال کے لگان بزخ ایک روپیہ بیگھہ خام دیا گیا، اوروہ اراضی عمرو کے قبضہ میں ایک دوروپیہ بیگھہ خام اٹھ سکتی ہے، رہن اس حالت میں درست ہے یانہیں؟
الجواب: رہن واجارہ دو عقد منافی میں جمع نہیں ہوسکتے، جب اس نے ما( ۱۵۰؎) اجرت مانی، رہن نہ ہوئی بلکہ اجارہ پر دی گئی، عمرو کو اختیارہے کہ خود کاشت کرے جو پیدا ہو اس کا ہے، خواہ دوسرے کو اجارہ پر اٹھادے، مگر اس تقدیر پر اسے زیادہ لینا صرف تین صورت میں جائز ہوسکتاہے ورنہ حرام:

(۱) زمین میں نہر یا کنواں کھودے یا اور کوئی زیادت ایسی کرے جس سے اس کی حیثیت بڑھائے، اب چاہے پانچ روپیہ بیگھ پراٹھادے،

(۲) جس شے کے عوض خود اجارہ پرلی ہے اس کے خلاف جنس کے اجارہ کو دے مثلا (ما عہ/ )دئے، اب اپنے مستاجر کو اشرفیوں یا نوٹوں پر دے۔

(۳) زمین کے ساتھ کوئی اور شیئ ملاکر مجموعا زیادہ کرائے پر دے کہ اب یہ سمجھا جائے گا کہ زمین تو وہی روپیہ بیگھ کو دی گئی اور باقی زیادت جس قدر ہو دوسرے شے کے عوض رہے واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter