Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
73 - 120
مسئلہ ۱۶۵: ۲۲ جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رنڈی کوجوکسبی ہےمکان کرایہ پردیناجائز ہےیا نہیں؟
الجواب: ہرگز نہ دیاجائے،اگر وہ زانیہ ہے اوراگر صرف ناچ گانےکا پیشہ رکھتی ہےتو حرج نہیں کہ فاسقہ ہے اور فاسق کو مکان اجارہ پردینے میں کچھ حرج نہیں بخلاف زنا پیشہ کہ وہ مکان اس لئے لیا جاتاہے کہ اس میں زنا ہو۔ والعیاذ باللہ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: از بنگالہ ۲۶ رجب ۱۳۲۰ھ

ماقولکم دام طولکم فی العہدۃ الرائجۃ فی بلادنا التی یقال لہا سب رجستراری'' کیف ھی فی نفسہا نظرا الی ماھولازم لہا الاٰن من حفظ صکوک الربا، وغیرھا من العقود الفاسدۃ المحرمۃ شرعا، و لایمکن لاحدان یقوم بہاھھنا الاحتراز عن ذٰلک فہل ھی حرام ام لا۔ بینوا توجروا
آپ کی درازی عمر ہو، آپ کا ارشاد کیا ہے۔ مروجہ سب رجسٹراری جس کے لوازمات میں سود کی رسیدات اور دیگر شرعی طور پر حرام اور فاسد عقود کے ریکارڈ کی حفاظت ہے، ان لوازمات کے پیش نظر اس عہد ہ کا کیا حکم ہے جبکہ اس عہدہ پر فائذ کوئی شخص مذکورہ مفاسد سے بچ نہیں سکتا ______ بینوا توجروا
الجواب: نعم ھی حرام شرعا والحال ماوصف فانہا احدی الشہادات علی تلک الصکوک،بل اعظمہا فی القانون الرائج حیث لایقبل کثیر من الصکوک الابہا، فکان القائم بہا معینا فی ثبوت الربا الحرام شرعا، وقد قال تعالٰی
ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎
ثم ھو ینسخ الصک ویحفظ نسختہ فی قمطرہ، فکان احدالکاتبین بل الکاتب الاعظم لما مر، وقد اخرج مسلم فی صحیحہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الرباء ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ، وقال ھم سواء ۲؎'' ۔
ہاں یہ شرعا حرام ہے جبکہ صورت وہی ہے جو ذکر کی ہے کیونکہ یہ عہدہ ان سودی چیکوں ورسیدوں پر بڑی شہادت ہے بلکہ رائج قانون میں کوئی بھی رسیدوچیک وغیرہ اس عہدہ کی شہادت کے بغیر قبول نہیں کئے جاتے تو اس عہد پر قائم شخص سودی اور حرام معاملاہت پر معاون ہو تاہے اور بیشک اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے، گناہ اور عداوت پر باہمی تعاون نہ کرو، پھر یہ عہدیدار ان چیکوں کو لکھتاہے اور اپنے محافظ خاز میں اس کی تحریر کو محفوظ کرتاہے تو بھی ایک کاتب بلکہ بڑا کاتب ہے جیسا کہ گزرا حالانکہ مسلم رحمہ اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سود کھانے کھلانے اور اس کی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا سب برابر مجرم ہیں،
 (۱؎ القرآن الکریم       ۵/ ۲)

(۲؎ صحیح مسلم        کتا ب المساقات  والمزارعۃ   باب الربٰو    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۷)
واخراج ابوداؤد والترمذی، وصححہ ابن ماجۃ وابن حبان فی صحاحہم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الرباء و مؤکلہ وشاھدٰہ وکاتبہ ۳؎،
اورابوداؤد ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان نے انی اپنی صحاح میں اس کو صحیح کہاکہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سودکھانے کھلانے، اس کی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
 (۳؂ جامع الترمذی   ابواب البیوع      باب ماجاء فی اکل الرب،و    امین کمپنی دہلی        ۱ /۱۴۵)

(سنن ابی داؤد     ۲/ ۱۱۷،    سنن ابن ماجہ ص ۱۱۶، موارد الظلمان حدیث ۱۱۱۲  المطبعۃ السلفیہ ص ۲۷۲)
واخرج احمد وابویعلی وابنا خزیمۃ وحبان فی صحیحہما عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال اٰکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہداہ اذا علموا بہ ملعونون علی لسان محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھذا مختصرا، واخراج الطبرانی فی الکبیر عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن مرفوعا الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعن اﷲ الرباء واٰکلہ ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدہ وھم یعلمون ۲؎'' الحدیث،قدجمع ثٰلثۃ وجوہ للتحریم اعانۃ الاثم وکتابہ الربا والشہادۃ۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور احمد ابویعلی،اور ابن خزیمہ ابن حبان دونوں نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا : سو دکھانے، کھلانے، اس کے کاتب اور گواہ جانتے ہوئے یہ عمل کریںوہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زبان مبارک پر ملعون ہیں۔ یہ مختصر ہے، اور طبرانی نے اپنی کبیر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حسن سندکے ساتھ مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ اللہ تعالٰی نے سود کھانے کھلانے، لکھنے اور گواہی دینے والے پر جبکہ وہ جانتے ہوئے یہ عمل کریں، لعنت فرمائی ہے، الحدیث، تو بیشک حرمت کے تین وجوہ گناہ میں، اعانت، سو د کی کتابت، اور گواہی، کاسب رجسٹرار جامع ہوتاہے، والعیاذباللہ تعالٰی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    مسند عبداللہ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ    المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۴۰۹)

(موارد الضمان حدیث ۱۱۵۴ ص ۲۸۱ و مسند ابویعلٰی     ۵ /۱۱۳)

(۲؎ المعجم الکبیر     حدیث ۱۰۰۵۷        المکتب الفیصلیہ بیروت    ۱۰ /۱۱۳)
مسئلہ ۱۶۷: از شہر کہنہ مسئولہ ظہور محمد خاں    ۲۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے شریعت آئین اس مسئلہ میں کہ دو شخصوں کے درمیان دوستی محض اللہ واسطے ہو،  ایک شخص اپنے دوسرے دوست کی اولاد کو کلام مجید محض اللہ واسطے پڑھاتاہے، تنخواہ نہیں لیتا، لڑکوں کاباپ محض اپنے اخلاص ومحبت سے اس دوست کو کوئی چیز بلا قیمت کے دے اور یہ اس کا خیال نہ ہو کہ پڑھانےکا بدلہ کرتاہوں، تو ایسی حالت میں عوض پڑھانےکا تو نہیں ہوجائیگا؟
الجواب: جبکہ اس کی نیت نہ اجرت لینے کی ہے نہ اس کی نیت اجرت دینے کی، تواجرت تو وہ ضرور نہیں، نہ اس سے بچنا لازم مگر ورع کامقام برتنا چاہے تو ہی نظر کرے کہ بغیر اس علاقہ کے پہلے بھی وہ کبھی اس کو اس قسم کا ہدیہ دیتا تھا، جب تو وہ بلادغدغہ ہدیہ خالصہ ہے۔ اس کا قبول کرناسنت ہے، اوراگر پہلے کبھی ایسا معاملہ نہ تھااس علاقہ کے بعدہی اس نے ایسا کیا تو جواپنے لئے ثواب خالص رکھنا چاہئے اسے اس سے بچنااولٰی ہے، امام حمزہ زیات رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کہ قرائے سبعہ سے ہیں، پیاسے تھے راہ میں ایک محلہ پر گزر ہوا، چاہا کہ کسی مکان سے پانی منگا کر پی لو، پھر یاد آیا کہ اس محلہ کے بعض لڑکوں نے مجھ سے قرآن عظیم پڑھا ہے، خوف فرمایا کہ مبادا اس کا عوض نہ ہوجائے، پیاسے تشریف لے گئے،ا ور وہاں پانی طلب نہ فرمایا، مگریہ مقام تقوٰی کے مقام سے بھی اعلٰی دقیق ورع کا ہے، وباﷲا لتوفیق، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸: زید نے اپنی ایک قطعہ زمین چار سال میعاد معین کرکے عمرو کے پاس اس شرط پر اجارہ دیا کہ ا س زمین کی پیداوار کے تم مالک ہو خواہ پیدا ہویانہ ہو صرف چارمن دھان ہر سال مجھ کو دینا۔
الجواب : یہ اجارہ فاسد اور عقد حرام وواجب الفسخ ہےکہ اس میں مالک زمین کے لئے ایک مقدار معین  دھان کی شرط کی گئی اور وہ قاطع شرکت ہے کہ ممکن ہے کہ چار ہی من دھان پید اہو ں یا اتنے بھی نہ ہوں
فی تنویرالابصار المزارعۃ تصح بشرط الشرکۃ فی الخارج فتبطل ان شرط لاحدھما قفزان مسماۃ ۱؎ اھ ملتقطا
تنویر الابصار میں ہے زمین مزار عت پر دینا جائز ہے بشرطیکہ پیداوار میں دونوں کی شرکت ہو اوراگر ایک فریق کے لئے مقررہ مقدار مثلا دو فقیز کی شرط کی ہو تو مزارعت باطل ہے۔ اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب المزارعۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۲۳)
بلکہ یوں کہنا لازم ہے کہ مثلا نصف یا ثلث یا ربع پیداوار پر یہ زمین تیرے اجارہ میں دی پھر اگر کچھ نہ (عہ) پید اہو تو حسب قرار داد اس کا نصف یاثلث یا ربع مالک زمین کے لئے ہوگا اور کچھ نہ پیدا ہو تو کچھ نہیں۔ یہ شرط لگانا کہ کچھ نہ پید اہو جب بھی مجھے اتنا ملے  یہ بھی مفسد وحرام ہے۔
عہ :  ھذا ذلۃ الناسخ والصحیح ''کچھ پیدا ہو'' ۱۲
فی الدارالمختار واذا صحت فالخارج علی الشرط ولا شیئ للعامل ان لم یخرج شیئ فی الصحیحۃ ۱؎ فی ردالمحتار قبیل ہذا قولہ العامل المراد منہ من لابذر منہ اھ وفیہ ھٰھنا وانمالم یکن لہ شیئ لانہ یستحقہ شرکۃ، ولا شرکۃ فی غیر المخارج بخلاف ما اذا فسدت لان اجر المثل فی الذمۃ، لاتفوت الذمۃ بعدم الخارج ہدایۃ ۳؎۔
درمختار میں ہے مزارعت پر صحیح ہو تو پیداوار میں مشروط تناسب کے مطابق حصہ ہوگا، اورا گر صحیح مزارعت میں کوئی پیدا وار نہ ہوئی تو کاشتکار کو کچھ نہ ملے گا الخ، اور اس سے تھوڑا پہلے ردالمحتار میں ہے،ماتن کا قول ''العامل'' اس سے مراد وہ فریق ہے جس کا بیچ نہ ہوا اھ، او راسی میں اس مقام پر ہے کہ اس کو اس لئے کچھ نہ ملے گا کیونکہ وہ پیداوار میں شرکت کا حقدار تھا اور جب پیداوار نہ ہوئی تو اس کی شرکت نہ ہوئی، اس کے برخلاف وہ صورت جس میں مزارعت فاسد ہوکیونکہ کاشتکار کے ذمہ پر زمین کی مثلی اجرت ہوگی وہاں اگر پیداوار نہ ہو تو بھی اجرت سے اس کے ذمہ میں ہوگی۔ ہدایہ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب المزارعۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۲۴)

(۲؎ ردالمحتار   کتاب المزارعۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۱۷۵)

(۳؎ردالمحتار   کتاب المزارعۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۱۷۷)
یہ حکم کہ ہم نے بیان کیا اسی حالت میں ہوتا جب یہ اجارہ صحیح طور پر کیا جاتا ، اب کہ فاسد ہوا ، اس کا فسخ واجب ہے ، اور پس از فسخ جو سال گزرے اس میں حکم یہ ہے کہ پیداوار ہویا نہ ہو بہرحال مالک زمین کو اس کی زمین کا اجر مثل ملے گا ،جوچار من دھان کی قیمت سے زیادہ نہ ہو ، مثلا اتنی زمین کی اجرت مثل ایک سال کی دس روپے ہوں ،اور چارمن دھان چار روپے کوآتے ہوں توچار ہی روپے دئیے جائیں گے ،زیادہ نہیں ،اور زمین کی اجرت مثلا دوروپے ہوں اور دھان چار روپے کے تو دوہی ملیں گے ،چار نہ ہوں گے ،
فی الدرالمختار متی فسدت فالخارج لرب البذر وللاٰخر اجر مثل ارضہ و لایذاد علی شرط وان لم یخرج شیئ فی الفاسدۃ فان کان البذر من العامل فعلیہ اجر مثل الارض ۱؎ اھ مختصرا، وانما اقتصرنا علی ھذا لان الواقع فی بلادنا الہندیۃ ہوان البذر والبقر والعمل کلہا انما یکون من قبل المزارع ولیس من رب الارض الا الارض واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے کہ جب مزارعت فاسد ہو تو پیداوار کا مالک بیچ والا ہوگا اور دوسرے فریق کو مثلی اُجرت ملے گی تاہم یہ اجرت عقد میں طے شدہ سے زائد نہ ہوگی اوراگر فاسد مزارعت میں کوئی پیداوار نہ ہوئی تو اگر بیچ عامل ہے تو اس پر زمین کی مثلی اجرت ہوگی اھ مختصرا، ہم نے اتنی عبارت پر اکتفاء اس لئے کیا کیونکہ ہمارے علاقہ ہندوستان میں بیچ، بیل اور عمل مزارع کی طرف سے ہوتاہے جبکہ زمین والے کی صرف زمین ہوتی ہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب المزارعۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۲۴)
Flag Counter