Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
72 - 120
تنقیح الفتاوی حامدیہ میں ہے :
سئل فیما اذا کان لزید ثلاث جنینۃ معلومۃ وثلثہا الاخرملک عمر وفاجرزید ثلثیۃ من بکر فہل یملک المستاجر الدعوی بفسادھا الجواب نعم الاجارۃ والبیع اخوان لان الاجارۃ تملیک المنافع والبیع تملیک الایمان وقد قال فی الدرالمختار فی باب البیعم الفاسد یجب علی کل واحد منہا ای من البائع والمشتری فسخہ اعداما للفساد، لانہ معصیۃ فیجب رفعہا، بحر۔ واذاصراحدہما علی امساکہ وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبراعلیہما حقا للشرع بزازیۃ ۲؎ اھ باختصار۔
ان سے سوال ہوا کہ ایک باغ کا دو تہائی حصہ زید کا ہوا ور ایک تہائی حصہ کامالک عمرو ہو توزید نے اپنا دو تہائی بکر کو اجارہ پر دے دیا تو کیا مستاجر کو حق ہے کہ اجارہ کے فساد کا دعوٰی کرے، الجواب ہاں، کیونکہ بیع اور اجارہ ہم مثل ہیں کیونکہ اجارہ میں منافع کا مالک اور بیع میں عین شیئ کا مالک بنانا ہوتاہے اور درمختار میں بیع فاسد کے باب میں فرمایا کہ بائع اور مشتری دونوں پر فسخ کرنا واجب ہے تاکہ فساد ختم ہوسکے، کیونکہ وہ گناہ ہے جس کو ختم کرنا ضروری ہوتاہے۔بحر۔ اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک اس کوقائم رکھنے پر مصر ہو  اور قاضی کو معلوم ہوجائے تو وہ جبرا فسخ کردے تاکہ شرعی حق قائم ہو، بزایہ اھ اختصار (ت)
(۲؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الاجارات   ارگ بازار قندہار افغانستان    ۲ /۳۱۔ ۱۳)
خاص اس وجوب فسخ اجارہپر بوجہ فساد کے جزئیہ میں عبارات کثیرہ علماء فقیر کے پیش نظر موجودہیں جن سے بعض فتوائے سابقہ میں منقول ہوئیں، اور عبارت خیریہ ابھی گزری مگریہاں بالقصدیہ عبارت لکھی جس میں علامہ حامدآفندی مفتی دمشق الشام نے حکم اجارے پر فرمایا اور روایت متعلق بیع ذکر کی، اور علامہ منقح آفندی زین العابدین نے مقرر رکھی تاکہ روشن ہوکہ ایسی جگہ علمائے کرام کا داب کیارہاہے۔ وباﷲ التوفیق واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۶۲: از بانکی پور ضلع پٹنہ محلہ باغ گل بیگم مرسلہ مولوی حکیم محمد یوسف حسن صاحب    ۲۱ شعبان ۱۳۱۶ھ چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ زید مثلا حرفہ طبابت می کند باشخصے مثلا بکرچنیں قرار یافت کہ زید مداوات بکر مے کند ''حالابلااجرت'' اگر بکر صحت یافت درمدت معینہ ومرض زائل شدصدروپیہ ازو زید خواہد گرفت اجرۃ یا انعاما وگرنا ہیچ اجرت بروے عائد نخواہد شد، ایا ایں معاملہ صحیح ست یانہ، بعضے ایں جا می گویند کہ ایں معاملہ اصلا صحیح نیست وبعضے می گویند کہ ایں از قبیل قماربازی ست، چہ صحت شخصے غیرا ختیاری ست، ازروئے شرع شریف ہر چہ حکم باشد فرمودشدہ تفصیلا۔ بینوا توجروا
علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مثلا زید طبیب ہے جس نے بکر سے طے کیا کہ فی الحال تیرا علاج مفت کرتاہوں اگر تو مقررہ مدت میں صحت یاب ہوجائے اور مرض ختم ہوجائے تو تجھ سے سوروپیہ بطور اجرت لوں یا بطور انعام حاصل کروں گا ورنہ کوئی اجرت تیرے ذمہ نہ ہوگی، کیا یہ معاملہ صحیح ہے یانہیں جبکہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ معاملہ ہر گز درست نہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو ااور قمارہے کیونکہ صحت شریعت کے مطابق جوحکم ہو ارشاد فرمایا جائے۔ بینوا توجروا
الجواب: قول قائل ''حالات اُجرت'' سہ معنی رامحتمل ست، یکے نفی اجارہ یعنی حالاہیچ عقد اجارہ نیست زید ہمچناں بطور خود دار بے اجارہ کند، دوم نفی اجرت یعنی حالاعقد اجارہ بلا اجرت ست، سوم نفی حلول اجرت مقررہ فی الحال دادنی نیست، ہمچناں درقول او ''اجرۃ یا انعاما'' یحتمل کہ تردیدازجانب سائل باشد، یعنی معامل کنندگان اجرۃ گفتند یا انعاما، یا ہم درکلام ایشاں باشد کہ گفتند اجرۃ یا انعاما خواہد گرفت، ایں نیز سہ صورت شد وکذٰلک قولش ''وگرنہ ہیچ اجرت بردے عائد نخواہد شد'' می شاید کہ بربنائے نفی اجارہ باشد یعنی اجارہ خود نبود کہ اجرت لازم آمدے، و می تواند بربنائے انتقائے شرط مقرر فی الاجارہ بود،
یہ کہنا کہ فی الحال کوئی اجرت نہ ہوگی اس میں تین احتمال ہیں ایک یہ کہ فی الحال اجارہ کی نفی ہے اس وقت عقد اجارہ نہیں ہے اور زید اپنے طور پر خود علاج کرے گا، د وم یہ کہ فی الحال عقد اجارہ ہے مگر اجرت فی الحال نہیں ہے، سوم یہ کہ عقد اجارہ اجرت مقررہ ہے مگر اجرت فی الحال دینی لازم نہیں ہے یونہی یہ کہنا کہ بطور اجرت یا انعام اس میں بھی ایک احتمال یہ ہے کہ سال بھیجنے والے کا خیال ہے دونوں حضرات نے اجرت کی بات کی ہے یا انعام کہاہے جو اسے متعین طور پر معلوم نہیں ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے اپنی گفتگو میں کہا ہے اجرت کے طورپر یاانعام کے طورپر لے گا، پھر زید طبیب کا یہ کہنا کہ ''لے گا'' اس میں تین صورتیں ہیں اوریوں ہی زید کا کہنا کہ ورنہ کوئی اجرت بکر کے ذمہ نہ ہوگی کہ اجارہ کے طور پر نہ ہوگی یعنی اجارہ ہی نہیں تو اجرت کیا ہوگی اور ہوسکتاہے اجارہ میں مقررہ اجرت کی شرط کی نفی کی ہو،
بالجملہ ایں سخن پہلو ہائے بسیار دارد برتقدیریکہ زید وبکر اقتصار برلفظ اجرۃ کردہ باشند اجارہ خود معین ست والنفی ان کان کان نفی المطلقۃ لاالنفی المطلق لتحقق المشروط عیانا، ورنہ اثبات ونفیش ہر دو بدستورمحتمل، زیر اکہ انعام اگر چند(عہ) صلہ ہا تبرع گویند درہمچو مقام بربدل و معاوضہ ہم اطلاقش کنند، ولفظ انعام تنہایا مردودااگر رودبعد اجارہ داردقیدحلا درسابق شرط''ورنہ'' درلاحق رو بتحقیق اوست، وسخن ضابطہ دریں مقام آنست  کہ اگر زید وبکر ازیں کلام عقد اجارہ خواستہ اندو دادن اجرت مشروط بشرط مذکورہ داشتہ، وازہمیں قبیل ست تقرر معاوضہ وبدل برعمل، اگرچہ اجرتش نگویند وبنام انعام تعبیر کنند فان المعنی ھوا المعتبر فی ہذہ العقود کما نص علیہ فی الہدایۃ وغیرہا۔ آنگاہ درفساد وحرمت ایں عقد سخنے نیست، زیراکہ ایں تعلیق بالحظر ست، وعقد اجارہ ہمچوں تعلیقات رابر نتابد،

عہ :  اظنہ ''اگرچہ'' ۱۲
غرضیکہ یہ بات بہت سے پہلو رکھتی ہے اس تقدیر پر کہ زید او ربکرنے صرف اجارہ کے ذکر پر اکتفا کیا ہو تو اجارہ کی صورت ہوگئی ہے  اور (ورنہ کچھ اجرت نہ ہوگی) یہ نفی مطلق اجرت کی ہوگی مکمل نفی نہ ہوگی، کیونکہ مشروط (مرض) واضح طور پر متحقق ہے، ورنہ مکمل نفی میں اثبات ونفی دونوں احتمال بدستور باقی ہوں گے کیونکہ انعام اگرچہ صلہ اورتبرع ہوتاہے مگر ایسے مقام میں بدل اور معاوضہ بھی مراد ہوتاہے اور انعام کا لفظ صورتا اگر عدم اجارہ ہے تو پہلے ''فی الحال'' کی قید اور بعد میں ''ورنہ'' کی شرط اجارہ کے تحقق کی صورت ہے، اور ضابطہ کی بات یہاں یہ ہےکہ اگر زید وبکر نے یہ کلام عقد اجارہ کے طورپر کیا ہے اور اجرت کیا ادائیگی کو شرط مذکور سے مشروط کیا، اسی قبیل سے معاوضہ اور بدل کا تقرر عمل پر کرنا ہے اگرچہ اجرت نہ کہیں اور اس کانام انعام رکھیں، تو ایسی صورت میں اس عقد کے فسادا ور حرام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، کیونکہ ان عقود میں معانی کا اعتبار ہوتاہے جیسا کہ اس پر ہدایہ وغیرہا نص موجودہے اور فساد کی وجہ اس میں یہ ہے کہ اجرت کو ہونے نہ ہونے والی چیز سے معلق کیا گیا ہے جبکہ عقد اجارہ ایسی تعلیق کو قبول نہیں کرتا،
ونیز صحت خاصہ وایں قدر مدت مقدورر طیب نیست، دریں صورت طیب مستحق اجرت مثل خواہد بود، امابیش از قدر مقدور اعنی صدرویپہ نیابد اگر درہمچوں مدت ہمچو مرض راایں چنیں مداوا پیش مرودم بصد روپیہ ہابیش ازاں مے ارزد، صد روپیہ دہندش وبس واگر مثلا یک روپیہ اجر مثل ست ہمیں یک دہند، ودگر ہیچ نہ، واگر مقصود سخن منفی اجارہ حقیقۃ ووعدہ مجردہ انعام محض بروجہ تبر ع باشد مثلا زید گفت حالاہمچناں مفت ورائگاں کارمے کنم ہیچ اجارہ درمیان نیست اگر بمدت معلومہ صحت دست نداد چیزے نہ دہند کہ کارباجرت خود نبودہ است، ورنہ بطور تبرع صدروپیہ انعام بخشند، بکر گفت ہمچناں کنم ایں رواوبے غائلہ است، زیرا کہ وعدے بیش نیست والوعدہ لاحجر فیہ وماکان یخشی من جہۃ تعیین شیئ بازاء العمل علی تقدیر الصحۃ فقد زال بتصریح نفی الاجارۃ کون ذٰلک تبرع بلا عقد فان الصریح یفوق الدلالۃ کما لایخفی،
نیز مکمل صحت او رمدت کی مقدار طبیب کا مقدور نہیں ہے لہذا ایسی صورت میں طبیب مثلی اجرت کا مستحق ہوگا تاہم وہ مثلی اجر ت مقررہ سوروپیہ سے زائد نہ ہوگی یعنی اگر ایسی مرض کا اتنی مدت میں ایسا علاج لوگوں کے ہاں سوروپے یا اس سے زائد ہوتا ہو تو سوروپیہ ہی دیا جائے گا اور ایک روپیہ میں ہوتاہے ہو تو صرف ایک ہی روپیہ مثلی اجرت دی جائے گی اور اگر زید و بکر کا کلام حقیقی اجارہ کی نفی پر مبنی ہے اور انعام کا صرف وعدہ بطور تبرع ہے مثلا زید نے کہا فی الحال مفت علاج کرتاہوں او کوئی اجارہ نہیں ہے اور مد ت معینہ میں صحت یابی نہ ہو تو کچھ نہ دینا کیونکہ یہ کام اجرت پر نہیں ہے ورنہ صحت یابی کی صورت میں تبرع کے طورپر سوروپیہ انعام بخشیش کردینا، بکر نے جوباب میں تسلیم کرلیا کہ ایسا کروں گا تویہ بالکل جائز ہے کیونکہ یہ ایک وعدہ ہے جس میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ احتمال کہ عمل کے مقابلہ میں اجرت کاتعین ہے تو یہ احتمال اجارہ کی صراحۃ نفی سے ختم ہوجاتاہے کیونکہ صریح بات محض دلالت پر فائق ہوتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔
فی الہندیۃ سئل شمس الائمۃ الاوزجندی عمن دفع الی طبیب جاریۃ مریضۃ وقا لہ عالجھا بمالک، فمایزداد من قیمتہا بسبب الصحۃ فالزیادۃ لک ففعل الطبیب و برئت الجاریۃ فلطبیب علی المالک اجر مثل المعالجۃ، وثمن الادویۃ والنفقۃ ولیس لہ سوی ذٰلک شیئ کذافی المحیط، وفیہا عن البزازٰیۃ دفع جاریۃ مریضۃ الی طبیب وقال عالجہا فان برئت فمازاد من قیمتہا بالصحۃ بیننا فعالجہا حتی صحت لہ اجر المثل ۱؎ الخ،
ہندیہ میں ہے کہ شمس الائمہ اورزجندی سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے طبیب کو کہا میری مریضہ لونڈی کا اپنے خرچ سے علاج کرو اور صحت ہوجانے پر اس کی جتنی زائد قیمت ہوگی وہ تیری ہوگی تو طبیب کے علاج سے وہ تندرست ہوگئی تو مالک پر طبیب کےلئے مثلی اجرت ہوگی اور ساتھ ہی دوائیوں کی قیمت او رلونڈی کی خوراک کاخرچہ بھی طبیب کودے گا، طبیب کو اس سے زائد کچھ استحقاق نہ ہوگا ،محیط میں یوں ہے، ہندیہ میں بزازیہ سے منقول ہے کہ مریض لونڈی طبیب کے سپرد کرکے کہا کہ اس کا علاج کرو او راس کی صحت پر جنتی قیمت زائد حاصل ہوگی وہ میرے او رتیرے درمیان تقسیم ہوگی۔ تو اگر مریضہ تندرست ہوگئی تو معالج کو صرف مثلی قیمت دی جائیگی الخ،
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الاجارات    البا ب الثانی والثلاثون        نورانی کتب خانہ پشاور         ۴ /۵۲۸)
و فیہا عن المحیط الاصل ان العقد اذا فسد مع کون المسمی کل معلوما لمعنی اٰخر یجب اجر المثلی ولایزاد علی المسمی، حتی ان المسمی اذا کان خمسۃ اجر المثل عشرۃ یجب خمسۃ لاغیر۔ وینقص عن المسمی حتی انہ اذا کان اجر المثل خمسۃ والمسمی عشرۃ یجب خمسہ ۱؎ اھ مختصرا
اورہندیہ میں محیط سے منقول ہے، قاعدہ یہ ہے کہ اگر عقد کسی خارجی وجہ سے فاسد ہوجائے تو مثلی اجرت لازم ہوتی ہے، او رمقررہ اجرت سے زائد نہ ہونی چاہئے حتی کہ اگر مقررہ اجرت پانچ درہم ہے اور مثلی اجرت دس درہم ہے تو پانچ ہی دئے جائیں گے، زائد نہیں، مثلی اجرت مقررہ سے کم ہونے کی صور ت میں کم ہی دی جائیگی، مثلا مثلی اجرت پانچ روپے ہے اور مقررہ اجرت دس درہم ہو تو پانچ دیئے جائیں گے اھ مختصرا۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاجارات    الباب الخامس    عشر الفصل الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۴۴)
وفیہا عن الخانیۃ ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالٰی الحیلۃ فی استیجار السمسار وقال یامرہ ان یشتری لہ شیئا معلوما اویبیع ولا یذکر لہ اجرا ثم یواسیہ بشیئ اماھبۃ اوجزاء للعمل فیجوز ذٰلک لمساس الحاجۃ ۲؎ اھ قلت فاذا جاز لعدم ذکر الاجر فلان یجوز بذکر عدم الاجر اولی کما لایخفی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اورہندیہ میں خانیہ سےمنقول ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ آڑھتی کی اُجرت کاحیلہ یہ ہے کہ اس کو کسی چیز کی خرید وفروخت کا آرڈر دے کر اس کو اجرت نہ بتائے پھر عمل کے بعد ا س کو کچھ امداد کے طور پر ہبہ یا جزاء کی صورت میں دے، تو یہ ضرورت پڑنے پر جائز ہے اھ، میں کہتاہوں جب اجرت کے ذکر نہ کرنے پر دینا جائز ہے تو اجرت کی نفی پر بطریق اولٰی کچھ نہیں دینا جائز ہوگا۔ جیساکہ مخفی نہیں ہے واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ   کتاب الاجارات  الباب الخامس عشر الفصل الاول      نورانی کتب خانہ پشاور  ۴ /۴۴۱)
مسئلہ ۱۶۳: از شہر کہنہ    ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزوں کی نوکری سلائی کے کام کی کرنا یا ان کا کپڑا مکان پر لاکر سینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب

انگریز کی سلائی کی نوکری کرنے یا گھر پر لاکر ا س کا کپڑا سینے میں کوئی مضائقہ نہیں جبکہ کسی محذور شرعی پر مشتمل نہ ہو،

 فتاوٰی قاضیخاں میں ہے  :
اٰجر نفسہ من نصرانی ان استاجرہ لعمل غیر الخدمۃ جاز ۳؎ الخ، وتمامہ فی غمز العیون، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسلمان نے اپنے آپ کو عیسائی کا اجیر بنایا اگر اس کی ذاتی خدمت کے علاوہ کوئی کام اجرت پرکرے تو جائز ہے الخ، اور اس کی مکمل بحث غمز العیون میں ہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضیخاں   کتاب الاجارات  باب الاجارۃ الفاسدۃ        نولکشور لکھنؤ        ۳ /۴۳۳)
مسئلہ ۱۶۴: از شہر کہنہ غرہ 	محرم الحرام شریف ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمروسے ایک مکان معہ صحن واحاطہ کے ایک سال کے واسطے کرایہ پر لیا او راحاطہ کی دیواریں نصف بنی ہوئی تھیں۔ ____________________ زید نے عمرو سے کہا کہ احاطہ دیواریں بنوادو، عمرو نے وعدہ کیا کہ میں دو تین روز میں دیواریں بنوادوں گا، تم لکڑی ڈالوں او رکرایہ نامہ سال بھر کا لکھ دو، زید نے کرایہ نامہ سال بھر کا لکھ دیا (عہ۱۲/) ماہواری حساب سے، زید نے اپنا ایک شریک کرکے اس میں لکڑی ڈالی، او زید نے عمرو سے کہا کہ اپنے وعدہ کے موافق دیواریں بنوادو، عمرو نے جواب دیا کہ اس وقت میرے پاس روپیہ نہیں ہے، د و مہینے کے بعدبنوادوں گا، تم ایک آدمی اپنے مال کی حفاظت کے واسطے نوکر رکھ لو، جب تک دیواریں نہ تیارہوں، زید نے کہاکہ میں غریب آدمی ہوں اس قدر مجھ میں طاقت نہیں ہے کہ میں نوکر بھی رکھوں، اور کرایہ مکان بھی دوں، اور جو شریک زید کا ہوا تھا وہ بھی دو چار روزکے بعد شرکت چھوڑ کر چلا گیا، بعد ایک ہفتہ کے زید نے مجبور ہوکر بوجہ اپنے نقصان کے لکڑی اس مکان سے اٹھالی او رکنجی عمرو کو دے دی، عمرو نے زید سےکہا کہ میں تم سے کرایہ ایک سال کالوں گا،زید نےکہا جب دیواریں بنوادو گے اس قت میں ٹالی لکڑی ڈالوں گا تب کرایہ تم کو دوں گا، پھر عمرو خاموش ہورہا، اور اب چارمہینے کے بعد عمرو نے دیواریں بنانے کا قصد کیا ہے اور زید سے کہا ہےکہ تم لکڑی ڈالو، زید نے کہا کہ اب میرے پاس روپیہ نہیںہے بوجہ ناداری کے مجبور ہوں 

پس اس صورت میں زید سے جبرا کرایہ سال بھر کا عمرو کو لینا شرعا جائز ہے یانہیں؟ مکرر یہ ہے کہ مقدار دیواروں کی ڈیڑھ گز رکی اونچائی اور ایک جانب مکان کا دروازہ اور بنیاددیوار ہے اور اس جانب کچھ حفاظت نہیں ہے دیواروں کا بنوادینا عقد سے پہلے ہوا تھا اور وقت فیصلہ کرایہ کے بھی عمرونے اقرارکیا تھا اورکہا تھا کہ میں تین تین گزر کی دیواریں اونچی کرادوں گا چاروں طرف اور بعد ایک ہفتہ کے چابی عمرونے زید سے طلب کی،زید نے چابی دی، عمروکی جانب سے خاموشی ہوئی فقط، بینوا توجروا
الجواب

یہ سوال مختلف وجوہ پر پیش کیا گیا۔ اگر صورت واقعہ یہی ہے تو اس شکل میں زید پر سال بھر کا کرایہ لازم نہیں دیواریں اس قدر چھوٹی ہوناجس میں مال کی حفاظت نہ ہو بلاشبہ عذر صحیح ہےاور اس کا مضر ومخل منفعت مقصودہ ہونا ظاہر وصریح ہے، تومذہب اصح ومعتمد پر زید باختیار خود اس اجارے کو فسخ کرسکتاتھا اگر چہ عمرونہ مانے، یہاں جبکہ خود عمرو نے کنجی مانگ لی اور زید نے دے دی، جب عمرو نے کہا میں کرایہ سال بھر کالے لوں گا، اس نے وہ جواب دیا جس سے صاف ظاہرہوا کہ اس وقت اجارہ باقی نہیں رکھتا بعد دیواریں بنوادینے کے اس کا دعدہ کرتاہے، اور عمرو اس جواب پرخاموش ہورہا، تو ہرطرح اجارہ فسخ ہوگیا، اور روز سپردگی کلید سے زید کے ذمہ کرایہ لازم نہ رہا۔
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للسید ابی السعود عن العلامۃ البیری، الحاصل ان کل عذر لایمکن معہ استیفاء المعقود علیہ الا بضررہ یلحقہ فی نفسہ اومالہ یثبت لہ حق الفسخ ۱؎۔
ردالمحتار میں سید ابوسعود کے حاشیہ الاشباہ سے بحوالہ علامہ بیری منقول ہے، حاصل یہ ہے کہ ایسا عذر جس کی وجہ سے معقود علیہ بغیر ضرر پورانہ ہو سکتاہو خواہ ضرر جان کا ہو یا مال کا ہو تو عذر والے کو اس عقد کے فسخ کا حق ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۵۰)
درمختارمیں ہے:
عمارۃ الدرالمستأجرۃ وتطیینہا و اصلاح المیزاب وماکان من البناء علی رب الدار وکذا کل مایخل فان ابی صاحبہا ان یفعل کان للمستاجر ان یخرج منہا، الا ان یکون استأجرھا وھی کذٰلک وقدراٰہا لرضاہ بالعیب وفی الجوہرۃ ولہ ان یتفرد بالفسخ بلاقضا، قلت و فی حاشیۃ الاشباہ معزیا للنہایۃ۔ ان العذر ظاھراینفردوان مشتبہا لاوھو الاصح۲؎ ملخصا۔ قلت وظاھر ان الثنیا المذکورۃ بقولہ ''الا ان یکون استأجرھا الخ'' لایتعلق بما ھنا فانہ و ان راٰہ لم یرض بہ کان شارطہ ان یبنی الجدران واﷲ تعالٰی اعلم۔
کرایہ والے مکان کی تعمیر، لپائی اور پرنالہ اور جو بھی مرمت مکان کی عمارت کی اصلاح کے لئے ہو وہ مالک مکان کے ذمہ ہے،اگر وہ اس سے انکارکرے تو کرایہ دارکو حق ہےکہ وہ مکان چھوڑ دے، ہاں اگر کرایہ دار نے اس حالت میں دیکھ کر لیا تو اس کی یہ حق نہیں کیونکہ وہ عیب دیکھنے کے باجود لینے پر راضی ہو ا تھا او رجوہرہ میں ہے کہ کرایہ دار قضاء کے بغیر خود عقد کو فسخ کرسکتاہے، میں کہتاہوں، اور الاشباہ کے حاشیہ میں نہایہ کی طرف منسوب ہے کہ اگر واضح عذر ہو تو اسے فسخ کا اختیار ہے اور اگر مشتبہ معاملہ ہو تو پھر اختیار نہیں،اصح یہی ہے، اھ ملخصا۔ میں کہتاہوں ظاہر یہ ہےمگر دیکھ کرلیا ہو'' الخ والااستثناء مذکور اس مسئلہ سے متعلق نہیں کیونکہ اگر دیکھ لیا ہو تو راضی نہ ہوا بلکہ اس نے اس وقت مالک سے مرمت کی شرط کرکے لیا ہو تو مالک کے انکار پر فتح کا اختیار ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار  کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ  مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۸۳)
Flag Counter