فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
اجارہ کوشرطیں فاسد کرتی ہیں جس طرح بیع کوکہ اجارہ بمنزلہ بیع ہے۔
(۳؎ الہدایۃ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۹۹)
کافی امام نسفی وکفایہ شرح ہدایہ وبرجندی شرح نقایہ وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہےـ:
الاجارۃ کالبیع فتفسد بالشرط ۱؎۔
اجارہ بیع کی طرح ہے تو شرط لگانے سے فاسد ہوجائے گا۔
(۱؎ الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۳۴)
(شرح النقایہ للبرجندی کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ نولکشور لکھنو، ۳ /۷۷)
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدارالمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ درالعرفۃ بیروت ۴ /۲۴)
کنز اور اس کی شرح تبیین الحقائق پھر تکملۃ البحرللعلامۃ الطوری میں ہے :
(یفسد الاجارۃ الشرط) لانہا بمنزلۃ البیع ۲؎۔
اجارے کو شرط فاسد کردیتی ہے کہ وہ بمنزلہ بیع ہے۔
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۵/ ۱۲۱)
اجارے کو فاسد شرطین فاسد کردیتی ہیں پس جوجہالت بیع میں خلل ڈالے گی اجارے میں بھی خلل انداز ہوگی۔
(۵؎ فتاوٰی سراجیہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ص۱۱۳)
وقایہ امام برہان الشریعۃ وشرح امام صدر الشریعۃ واصلاح متن وایضاح شرح علامہ ابن کمال باشا میں بے تفاوت حرفے ہے :
(الشرط یفسدھا) المراد شرط یفسد البیع ۱؎۔
شرط اجارے کو فساسد کردیتی ہے مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کرتی ہے۔
(۱؎ شرح الوقایہ کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۹۷)
غرر الاحکام ودرالحکام مولی خسرہ میں ہے:
تفسد بالشرط المفسد بالبیع ۲؎۔
اجارہ انھیں شرطوں سے فاسد ہوجاتا ہے جو بیع کو فاسد کرتی ہے۔
(۲؎ الدالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۰)
نقایہ امام صدرالشریعۃ میںہے:
یفسدہا شروط تفسد البیع ۳؎
اجارے کو فاسد کرتی ہیں وہ شرطیں کہ بیع میں فساد لاتی ہیں۔
(۳؎ مختصرا لوقایہ فی مسائل الہدایہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۱۱)
بحرالرائق پھر فتح اللہ المعین للسید الازہری میں ہے :
کل ماافسد البیع یفسدہا ۴۔
جو کچھ بیع فاسد کرے اجارہ کو بھی فاسد کرتاہے۔
(۴؎ فتح المعین علی شرح الکنز کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۴۳)
تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے :
(کل ماافسد البیع ) ممامر (یفسدہا )۵؎۔
جتنی چیزوں کا ذکر بیع میں گزرا کہ اسے فاسد کرتی ہیں سب اجارےکو بھی فاسدکرتی ہیں۔
(۵؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۷)
غایۃ البیان شرح ہدایہ للعلامۃ الاتقانی میں ہے :
الاجارۃ کالبیع فکل ماافسد البیع افسدھا ۶؎۔
اجارہ مانند بیع ہے تو جو کچھ بیع کو فاسد کرے گا اس میں بھی فساد لائے گا۔
(۶؎ غایۃ البیان )
یہ سردست بعد منازل قمر اٹھائیں کتب معتمدہ کی روشن عبارات ہیں، ان عبارات جلیلہ سے واضح ہوا کہ شروط مفسدہ اجارہ کے باب میں روایات متعلقہ بیع کو ذکر کرناعین حق وصواب ہے، یہ ہمارا قیاس نہیں بلکہ فقہائے کرام ہی یہاں ان کے بیان کو اسی بیان کتاب البیوع پر محول فرماتے ہیں وہان سے ان کے احکام دیکھنے کی ہمیں راہ بتاتے ہیں، اسی لئے فتوائے سابقہ میں عبار ت مذکورہ درمختار نقل کردی تھی کہ جن چیزوں کا مفسد بیع ہونا کتاب البیوع میں مذکور ہوا وہ سب مفسد اجارہ بھی ہیں، اسے پیش نظر رکھ کر یہ دیکھئے کہ اس عقد اجارہ میں ضمانت مجہول مشروط ہوئی امانت نامعینہ کی شرط کی گئی مجلس عقد میں پیش از تفرق عاقدین نہ کسی کفیل کی طرف سے قبول واقع ہوا، نہ رہن کی تعین یابہ بطال رہن اجرت کی تعجیل کی گئی،اب صرف اتنا دیکھنا رہا کہ ایسی شرطیں مفسد بیع ہیں یا نہیں ،اگر ہیں تو یہی عبارات کثیرہ مذکورہ یک زبان شہادت عادلہ دیں گی کہ یہ شرطیں فساد اجارہ کا ذمہ لیں گی، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ضروریہ امور مفسد بیع ہیں، تو حسب تصریحات ائمہ قطعا مفسداجارہ بھی ہیں، شرح مجمع ابن فرشتہ وشرح التنویر علائی وبحرالرائق کی عبارات فتوائے سابقہ میں گزریں۔
اورردالمحتار وحاشیہ علامہ سید احمد مصری علی الدرالمختارمیں زیر قول شارح ''
یصح البیع بشرط رھن معلوم وکفیل حاضر
(معلوم رہن کی شرط پر اور کفیل حاضر ہونے کی شرط پر بیع جائز ہے۔ ت) فرمایا:
فلو لم یکن مسمی ولامشار الیہ لم یجز الااذا تراضیا علی تعیینہ فی المجلس و دفع الیہ قبل ان یتفرقا اوان یعجل الثمن ویبطلان الرھن وقید بحضرہ الکفیل لانہ لوکان غائبا اوحاضرا لم یقبل لم یجز اھ بلفظ ط ۱؎ ملخصا۔
اگر نہ رہن معلوم اور اس کی طرف اشارہ بھی نہ ہو تو جائز نہیں۔ ہاں اگر دونوں فریق مجلس میں ہی رہن کے تعین ہوجائیں اور وہ سپرد بھی کردیا گیا ہو تو جائز ہوجائے گا، یا پھر رہن کو باطل کرکے ثمن موقعہ پر ادا کردے اور کفیل کے حاضرہونے کی قید ذکر کی اس لئے کہ اگر وہ غائب ہویا حاضر ہو کفالت کوقبول نہ کرے توجائز نہ ہوگا۔ اھ طحطاوی کے الفاظ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتا ب البیوع باب البیع الفاسد دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۷۷)
(ردالمحتار کتا ب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲۲)
پھر اس اجارہ کے فساد میں کیا شبہہ وکلام ہوسکتاہے معہذا جو کچھ اس عقد مبحوث عنہ میں شرط کیا گیا خود اسے فسخ اور فسخ بھی کیسا بوجوہ تعلیق بالشرط فاسد مان کر نفس اجارہ کو صحیح ٹھہرانے کی طرف اصلا کوئی سبیل نہیں، اجارہ قطعا شروط فاسدہ سے فاسد ہوجاتا ہے جس پر ابھی نصوص واضحہ سن چکے، خاص شرط فسخ کاجزئیہ لیجئے،
وجیز امام کردری تفریعات نوع اول فصل ثانی کتاب الاجارات میں محیط سے ہے :
اٰجرتک داری ھذہ واراضی ھذہ علی انک تفسخ العقد متی اردت فالاجارۃ فاسدۃ ۱؎۔
میں نے تجھے یہ مکان یایہ زمین اجرت پر اس لئے دی کہ تو جب چاہے فسخ کردے تو اجارہ فاسد ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارات الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۱)
بالجملہ اس اجارے کا فاسد ہونا ایسا جلی وواضح ہے جس میں کسی خادم فقہ کو توقف نہیں ہوسکتا تو خالد کو ضرور اختیار فسخ حاصل ہے، رضامندی فریقین کی حاجت عقد صحیح لازم میں ہوتی ہے عقود فاسدہ میں کیا ضرورت، خالد کو اختیار ہونا کیسا اس پر اور نیر ہر مستاجر پر فسخ کرنا واجب ہے وہ نہ کریں حاکم پر لازم وہ بھی باز رہے تو سب گنہگاروآثم،