Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
70 - 120
ان کے سوااور بعض وجو ہ سے اس عقد کا فسادظاہر  ہے
کما لایخفی علی المتأمل الناظر وفیما ذکرنا کفایۃ للمتبصر۔
ان تقریرات سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ یہ صورت تعلیق الفسخ بالشرط کی نہیں بلکہ خیار الفسخ بالشرط ہے، اوراول ہی فرض کیجئے تو جب بھی اس کا حکم یہ ہر گز نہ ہوگا کہ فسخ بوجہ تعلیق باطل اور اجارہ صحیح اب کہ ایک مستاجر فسخ پر راضی ہوا  اسی کے حق میں فسخ ہوگیا دوسرے کے حق میں باقی ہے کہ شیوع طاری مفسد نہیں یہ تو اس وقت ہوتا کہ یہ فسخ فاسد معلق بالشرط عقد سے جداگانہ واقع ہوتا جب نفس عقد اسی شرط فسخ فاسد سے مشروط تو قطعا اصل اجارہ فاسد
فانہا کالبیع لاتحتمل الاشتراط بالشروط الفاسدۃ وقد قال فی الہدایۃ فی مسئلۃ خیار العقد فی ھذا لمسئلۃ قیاس اٰخرمال الیہ زفر، وہو انہ بیع شرط فیہ اقالۃ فاسدۃ لتعلقہا بالشروط، والا شتراط الصحیح منہا فیہ مفسد العقد فاشتراط الفاسد اولی، ووجہ الاستحسان مابینا ۱؎ اھ وھو ماقدمنا عن البحرانہ فی معنی خیار الشرط فیصح الی ثلثۃ ایام لا ازید ولامجہولا ولامطلقا کما ھنا،  قال فی البحرا لایصح اشتراطہ الاکثرمن ثلثۃ ایام عنہ ابی حنیفۃ (الی ان قال واطلاق المدۃ عندہ کاشتراط لاکثر فی عدم الجواز وافساد البیع ولو قال المؤلف ولو اکثر اومؤبدا  اوموقتا بوقت مجہول لکان اولی لان البیع فاسد فی ھذہ کلہا کما فی التتارخانیۃ ۲؎ اھ، قتل والمعنی اذا کان مشروطا فی صلب العقد کما ہنالابدہ ولاجاز الاطلاق وتقید بالمجلس کما فی البحر، وجازت الزیادۃ علی الثلثۃ فی الاجارۃ کما فی بیوع البحر عن الذخیرۃ ولسناہہنا بصدد تنقیح تلک المسائل۔

تو اجارہ بیع کی طرح فاسد شرائط سے مشروط نہیں ہوسکتا۔ اور ہدایہ میں خیار نقد کے مسئلہ میں فرمایا اس مسئلہ میں ایک او ر قیاس بھی ہے کہ جس کی طرف امام زفر کا میلان ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جس میں فاسد اقالہ کی شرط ہے کیونکہ اس کو شرائط سے معلق کیا گیا ہے جبکہ اس میں صحیح اقالہ کی شرط مفسد عقد ہے تو فاسد کی شرط بطریق اولٰی مفسد ہوگی اور استحسان کی وجہ وہ ہے جو ہم نے بیان کردی ہے او راس کو ہم بحر سے نقل کرچکے ہیں کہ خیارشرط کے معنی میں ہے لہذا تین دن کی شرط صحیح اس سے زائد کی صحیح نہیں اور نہ ہی مجہول  شرط اور عام شرط صحیح ہوگی جیساکہ یہاں ہے، بحر میں کہا ہے کہ تین دن سے زائد کی شرط امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک صحیح نہیں ہے اور آگے یہاں تک کہا کہ مطلق مد ت کی شرط بھی امام صاحب رضی اللہ تعالٰی کے نزدیک تین دن سے زائد کی طرح جائز نہیں اور بیع فاسد ہوگی اور اگر مؤلف یوں بیان کرتے، اگر مدت تین دن سے زائد یا ہمیشہ یا کسی مجہول وقت کی ہو تو ناجائز ہے کیونکہ ان تینوں صورتوں میں بیع فاسد ہوتی ہے جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے اھ میں کہتاہوں مرادیہ ہے جب صب عقد میں یہ شرائط ہو ں جیسا کہ یہاں ہےعقد کے بعد والی شرائط مطلق ہو یا مقید ہو ں جائز ہوں گی اور اطلاق وتقیید مجلس میں ہوسکے گا، جیسا کہ بحرمیں ہے۔ اور اجارہ میں تین دن سے زائد کی شرط صحیح ہے جیساکہ بحر کے باب البیوع میں ذخیرہ سے منقول ہے، اور ہم یہاں پر ان مسائل کی تنقیح کے درپے نہیں ہیں۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ کتاب البیوع  باب خیار الشرط  مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۳۵) 

(۲؎ بحرالرائق   کتاب البیوع    باب خیار الشرط    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۵۔۴)
بہرحال اس عقد کے فاسد ہونے میں کوئی کلام نہیں، اور عقد فاسد کا یہی حکم ہے، کہ ہر فریق باختیار خود اسے فسخ کرسکتاہے بلکہ ان پر اس کا فسخ واجب و ہ نہ مانیں تو حاکم پر لازم
کما نصوا علیہ فی البیع وغیرہ
(جیساکہ انھوںنے بیع وغیرہ میں اس پر نص فرمائی ہے۔ ت)

ہندیہ میں ہے :
ارادالاجران ینقض عقدہ بحکم الفساد فلہ ذٰلک کذا فی التتارخانیۃ ۱؎۔
اگر آجر فساد کے حکم پر عقد اجارہ کوختم کرنا چاہے تو کرسکتاہے تاتارخانیہ میں ایسے ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الاجارۃ   الباب التاسع عشر  نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۶۰)
تنویر الابصار میں ہے :
فسخت الاجارۃ دفعا للفساد ۲؎۔
فساد کو ختم کرنے کے لئے اجارہ فسخ کردیا جائے گا۔ (ت)
(۲؎درمختار   کتاب الاجارۃ  باب الاجارۃ الفاسدۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۷۹)
ردالمحتارمیں ہے :
ای ابطلھا القاضی لان العقد الفاسد یجب نقضہ وابطالہ، ذخیرۃ ۳؎، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
یعنی قاضی اسے باطل کردے کیونکہ فاسد عقد کو ختم کرناضروری ہے، ذخیرہ، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ردالمحتار  کتاب الاجارۃ  باب الاجارۃ الفاسدۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۳۸)
مسئلہ ۱۶۱: از ریاست رامپور شفاخانہ صدر یانونی مرسلہ عبدالکریم خاں صاحب تحویلدار ۲۳ جمادی الاولٰی ۱۳۱۶ھ

بحضورلامع النور جناب مستطاب معلی القاب دام فیضہ، سابق حضور نے بدرخواست فدوی فتوٰی ارسال فرمایاتھا ا س کو داخل عدالت کردیا، بجواب اس کے حاکم مرافعہ عدالت دیوانی کے حاکم سے صحت فتوٰی مرسلہ حضور کی طلب کی ہے، عالیجاہا! یہ امر ضرور ثابت ہے کہ حاکم مجوز اپنی تجویز کو خراب نہیں کرسکتا ہے، اور فتوٰی جوحضور نے کرم فرماکر رسال فرمایا تھا اس میں جس قدر روایات مندرج ہیں بیع سے تعلق رکھتے ہیں، اجارہ کے معاملہ میں کوئی روایت نہیں تھی جس کی صحت حاکم مرافعہ نے کرائی ہے، اس واسطے حضور کو دوبارہ تکلیف دیتاہوں، اور نقل روبکار کی من وعن بھیجتاہوں۔
الجواب: فتوٰی سابقہ میں مفصلا ثابت کردیا گیا کہ یہ اجارہ فاسد اور اس کا فسخ واجب ہے، وہ روایات سب متعلق اجارہ تھیں، انھیں متعلق بیع کہنا ہی متعلق اجارہ ماننا ہے کہ یہاں اجارہ وبیع کا ایک ہی حکم ہے بلکہ اجارہ معنی بیع کی ایک قسم ہے۔

ارشادات علماء برسبیل اختصارسنئے :
مغنی المستفتی پھر عقودالدریہ میں ہے :
البیع والاجارۃ اخوان لان الاجارۃ بیع المنافع ۱؎۔
  بیع واجارہ بھائی بھائی ہیں اس لئے کہ اجارہ منافع کی بیع ہے۔
 (۱؎ العقود الدریۃ   کتاب الاجارۃ    باب الاجارۃ الفاسدۃ   ارگ بازار قندہار افغانستان    ۲ /۱۵۳)
ردالمحتارمیں ہے:
الاجارۃ نوع من البیع اذھی بیع المنافع ۲؎۔
اجارہ بیع کی ایک قسم ہے کہ وہ بیع منافع ہے۔
(۲؎ردالمحتار       کتاب الاجارۃ    باب الاجارۃ الفاسدۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۹)
Flag Counter