Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
69 - 120
مسئلہ ۱۵۸: ۲۶ رجب ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے کارندہ نے عمرو سے وعدہ کیا کہ جائداد آپ کی زید سے بکوادوں گا مگر مجھے محنتانہ دیجئے گا، اس نے اقرر کیا، اور زید کو بھی اس کا حال معلوم ہے، کارندہ مذکور نے اس کی بیع میں بہت کوشش کی، چنانچہ بیع تام ہوگئی، اور مشتری کو دھوکا بھی کچھ نہ دیا، یہ اُجرت جائز ہے یا ناجائز ہے؟
الجواب: اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لئے کوئی دوادوش  نہ کی، اگر چہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گے، اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اُجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھے، دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے مشورہ دینے کی،
ردالمحتار میں بزازیہ وولوالجیہ سے ہے:
الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الاجر، وان قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلک کذا، ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجلہ، لان ذٰلک عمل یستحق بعقد الاجارۃ ۱؎ الخ۔
محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو، اگر کسی نے ایک خاص شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گا، اگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو اس کو مثلی اجرت دینا ہوگی کیونکہ وہ اس خاطر چل کرلے گا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اُجرت کا مستحق ہوتاہے۔ الخ (ت)
(۱؎ ردالمحتار       کتاب الاجارۃ مسائل شتی من الاجارۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۵۸)
غمز العیون میں خزانۃ الاکمل سے ہے:
امالودلہ بالکلام فلا شیئ لہ ۲؎۔
اگر صرف زبانی رہنمائی دے تو اس کے لئے کچھ نہیں (ت)
 (۲؎ غمز عیون البصائر مع الاشباہ        الفن الثانی کتاب الاجارات     ادارۃالقرآن کراچی        ۲ /۶۰)
اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکا،
خانیہ میں ہے:
ان کان الدلال الاول عرض تعنٰی وذھب فی ذٰلک روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ وعملہ ۳؎۔
اگر روزگار کے سلسلہ میں دلال نے محنت کی اور آیا گیا تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ہوگی۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی قاضی خاں        کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ     مطبع نولکشور لکھنؤ        ۳ /۴۳۴)
اشباہ میں ہے:
بعہ لی بکذا ولک کذا فباع فلہ اجر المثل ۴؎۔
اگر دوسرے کو کہا تو میرے لئے اتنے میں اس کو فروخت کر تو اس نے وہ چیز فروخت کردی تو دلال مثلی اُجرت کا مستحق ہوگا۔ (ت)
(۴؎ الاشباہ والنظائر         الفن الثانی کتاب الاجارات    اداراۃ القرآن کراچی        ۲ /۶۱)
حموی میں ہے:
ای ولایتجاوزبہ ماسمی وکذالو قال اشترلی کما فی البزازیۃ، وعلی قیاس ھذا السماسرۃ والدلالین الواجب اجر المثل کما فی الولوالجیۃ ۱؎۔
یعنی مقررہ اجرت سے زائد نہ ہوگی، اور یوں ہی اگر کہا تو مجھے خریددے، جیسا کہ بزازیہ میں ہے اوراس پر قیاس ہوگا دلال حضرات کا معاملہ کہ ان کو مثلی اجرت دی جائے گی جیسا کہ ولولوالجیہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ غمز عیون البصائر    الفن الثانی کتاب الاجارات    ادارۃ القرآن کراچی     ۲ /۶۱)
ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے ہے:
فی الدلال والسمسار یجب اجرالمثل و ماتواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذلک حرام علیہم ۲؎۔
     آڑھتی اور دلال حضرات کے لئے مثلی اجرت ہوگی اور وہ جو دس دنانیر میں اتنا طے کرتے ہیں تو یہ حرام ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب الاجارۃ   باب ضمان الاجیر    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۳۹)
پھر از انجا کہ یہ شخص مشتر ی کا نوکر واجیر خاص تھا جتنی مدت اس نے بائع کے کام میں صرف کی اتنی تنخواہ ساقط ہوگئی، مثلا دس روپے ماہوار کا نوکر تھا تین دن بائع کی طرف سے اس سعی میں گزر گئے تو ایک روپیہ تنخواہ کا مستحق نہ رہا، اوراگر بائع سے یہ عقد اجارہ  بے اذن واجازت مشتری ہوا، تو گناہ علاوہ کہ اجیر خاص کوبے اجازت آقا دوسرے کا کام کرنا جائز نہیں،
درمختار میں ہے :
لیس للخاص ان یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ما عمل۔ فتاوٰی النوازل۔ ۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اجیر خاص کو جائز نہیں کہ دوسروں کا کام کرے اگر اس نے ایسا کیا تو اتنا اس کی اجرت سے کاٹا جائے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت
 (۳؎ درمختار      کتاب الاجارۃ   باب ضمان الاجیر        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۸۱)
مسئلہ ۱۵۹: از محمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں رامپوری ۲۲ صفر ۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو برائے مزدوری سو کو س یا پچاس کے فاصلہ پر لے جائے، بعد ازاں اس سے چار پانچ ماہ تک کام کرالے، اور بروقت حساب کے اس کو تیس روپے کے کام کے بیس روپے اور اس پر سختی کرے اور اسے پریشان کرے، جائز ہے یاناجائز؟ بینوا توجروا
الجواب حرام حرام، حرام، کبیرہ کبیرہ، کبیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی فرماتاہے:
ثلثۃ اناخصمہم یوم القیمۃ ومن کنت خصمہ خصمتہ رجل اعطی بی ثم غدر، ورجل باع حرا واکل ثمنہ، ورجل استاجر اجیرافاستوفی منہ ولم یوفہ اجرہ۔ رواہ الائمۃ احمد ۱؎ والبخاری وابن ماجۃ وابویعلی وغیرہم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال اﷲ تعالٰی فذکرہ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
قیامت کے دن تین شخصوں کامیں مدعی ہوں گا اور جس کامیں مدعی ہوں میں ہی اسی پر غالب آؤں گا، ایک وہ جس نے میرا عہد دیا پر عہد شکنی کی، دوسرا وہ جس نے کسی آزاد کو غلام بناکر بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھائی تیسرا وہ جس نے کسی شخص کو مزدوری میں لے کر اپنا کام تو ا س سے پورا کرالیا اور مزدوری اسے پوری نہ دی (اسے امام احمد، بخاری، ابن ماجہ، ابویعلی وغیرہم ائمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا، فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے تو حدیث ذکر کی، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ ت)
 (۱؎ صحیح البخاری        کتاب البیوع باب اثم من باع حرا     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۷    وکتاب الاجارات ۱ /۳۰۲)

(مسند امام احمد بن حنبل    حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ    المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۳۵۸)

(سنن ابن ماجہ        ابواب الرھون باب اجرالاجراء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۷۸)
مسئلہ ۱۶۰: از ریاست رامپور شفاخانہ صدر یونانی مرسلہ عبدالکریم خاں صاحب تحویلدار ۲۷ ربیع الآخر ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو نے بتعین چند شرائط مفصلہ ذیل خالد سے ٹھیکہ اراضی کا بزمان واحد بغیر بیان کرنے شرکت نصف اور ربع کے لیا، شرط اول یہ کہ زر ٹھیکہ بموجب اقساط معینہ مندرجہ قبولیت وپٹہ ادا کرینگے، دوسری شرط یہ کی کہ ضمانت یا امانت حسب الطلب خالد کے دیں گے، اور در صورت نہ دینے ضمانت اورنہ ادا کرنے کسی ایک قسط کے خالد کو اختیار فسخ اجارہ حاصل ہے، پس ہردومستاجران نے دونوں شرطوں کووفا نہیں کیا، اور نوبت دعوٰی فسخ روبرو قاضی پہنچی، تو ایک شریک کو دعوٰی خالد سے اقبال ہے، اور دوسرے کو دعوٰی فسخ خالد سے انکار ہے، آیا ایسی صورت میں خالد کو اختیار فسخ اجارہ ہر دومستاجران سے حاصل ہے یاکیا؟ بینوا توجروا

بحضور لامع النور، زبدۃ العلماء والفقہاء جناب مولانا مولو ی احمد رضاخاں صاحب دام فضلہم جناب عالی!

صورت مسئولہ میں یہاں پر مفتیان نے بموجب اقوال تحت فیصلہ فرمایا، حضور نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں، لہذا استفتا منسلکہ عرضداشت ہذا ابلاغ کرکے امیدوار کہ جواب جلد مرحمت فرمایا جائے،
قال شمس الائمۃ السرخسی قال بعض اصحابنا اضافۃ الفسخ الی مجیئ الشہر وغیرذٰلک من الاوقات صحیح وتعلیق الفسخ بمجیئ الشہر وغیرہ ذٰلک لایصح والفتوٰی علی قولہ کذا فی فتاوٰی قاضیخاں، ۱؎ ثانی، والشیوع الطارئ لایفسدہا اجماعا کما لواٰجرثم تفاسخا فی بعض اومات احدھما اواستحق بعضھا تبقی فی الباقی۲؎ ۱۲ عالمگیری۔ مؤید آں وفی الغاثیۃ رجلان اٰجرادارھما من رجل جاز وان فسخ احدھما برضا المستاجر اومات لاتبطل فی النصف ۳؎ الاٰخر ۱۲ بحرالرائق۔
شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا ہے فسخ کی اضافت مہینہ کی آمد کی طرف کرنا اور ایسے ہی دیگر اوقات کی طرف کرنا صحیح ہے، اور فسخ مہینہ وغیرہ اوقات کے ساتھ معلق کرنا، صحیح نہیں، اورفتوٰی اس بعض کے قول پر ہے فتاوٰی قاضیخاں میں یوں ہے، دوسرا یہ کہ بعد میں طاری ہونے ولا شیوع بالاجماع اجارہ کوفسخ نہ کرے گا۔ مثلا اگر مکان اجارہ پر دیا پھر فریقین نے کچھ حصہ میں اجارہ فسخ کردیا، یا کوئی ایک فریق فوت ہوگیا یا مکان کا کچھ حصہ کسی غیر کا حق ظاہر ہوا، تو باقیماندہ حصہ میں اجارہ باقی رہے گا ۱۲ عالمگیری، اس کی تائید ہے کہ غیاثیہ میں ہے دو حضرات نے اپنے مشترکہ مکان کو اجارہ پر ایک شخص کو دیا تا جائز ہے اور اگر ایک نے مستاجر کی رضامندی سے اپنے نصف حصہ کا اجارہ فسخ کردیا، یا ایک فوت ہوگیا تو باقی نصف میں اجارہ باقی رہے گا ۱۲ بحرالرائق (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاجارۃ    الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۰۱)

(۲؎فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاجارۃ    الباب السادس عشر   نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۴۸)

(۳؎ بحرالرائق      کتاب الاجارۃ      باب الاجارۃ الفاسدۃ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۸ /۲۱)
الجواب

صورت مستفسرہ میں خالد کو ضرور اختیار ہے فسخ حاصل ہے، بلکہ ہر فریق پر اجارہ مذکورہ کا فسخ واجب ہے، اگر وہ نہ کریں حاکم جبراً فسخ کردے، اگر نہ کرے گا گنہ گار ہوگا، وجہ یہ کہ اجارہ مذکورہ شرعا بوجوہ فاسدہ ہے۔

اولا اس میں ضمانت مجہولہ شرط کی گئی نہ ضامن حاضر تھا، نہ مجلس عقد میں قبل تفرق عاقدین حاضرین ہوا، ایسی شرط ضمانت بیع واجارہ میں ناجائز ومفسد ہے۔

ثانیا مجلس عقد میں کسی  ضامن کی طرف سے قبول ضمانت واقع نہ ہوا، ایسی ضمانت نامقبولہ، اگر چہ غیر مجہولہ ہو مفسد عقدہے۔

ثالثا اگر امانت سے مراد رہن ہے تو اس کا بھی کوئی تعین پیش از تفرق عاقدین نہ ہوا، ایسے رہن کی شرط بھی مفسد ہے،
درمختارمیں ہے:
یصح البیع بشرط یقتضیہ العقد او یلائمۃ کشرط رہن معلوم وکفیل حاضر، ابن ملک ۱؎ اھ ملتقطا
جو عقد کا مقتضی ہویا عقد کے مناسب ہو ایسی شرط کے ساتھ بیع صحیح ہے مثلا بیع میں معلوم رہن یا حاضر کفیل کی شرط لگانا، ابن ملک اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب البیوع    باب البیع الفاسد  مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۷ و ۲۸)
بحرالرائق میں ہے :
وان کان ملائما للبیع لایفسدہ کالبیع بشرط کفیل بالثمن اذاکان حاضرا وقبلہا اوغائبا فحضر وقبل قبل التفریق وکشرط رہن معلوم بالاشارۃ  او التسمیۃ فان حاصلہماالتوثق للثمن، قیدنا بحضرۃ الکفیل لانہ لوکان غائبا فحضر وقبل بعد التفرق اوکان حاضرا فلم یقبل لم یجز، وقیدنا بکون الرھن مسمی لانہ لولم یکن مسمی ولا مشاراالیہ لم یجز الااذا تراضیا علی تعیینہ فی المجلس ودفعہ الیہ قبل ان یتفرقا اویعجل الثمن ویبطلان الرھن ۱؎ اھ
اگر شرط بیع کے مناسب ہو تو اس سے بیع فاسد نہ ہوگی مثلا بیع میں ثمن کے کفیل کی شرط جب کفیل موجود حاضر ہو اور قبول کرلے یا غائب تھا تو موقع پرحاضر ہوگیا اور فریقین کے متفرق ہونے سے قبل کفیل نے قبول کرلیا ہو، اور مثلا بیع میں اشارہ یا نام ذکر کے متعین  رہن کی شرط لگانا، کیونکہ ان مذکورہ دونوں شرطوں کا مقصد ثمن کا وثوق حاصل کرنا ہوتاہے ہم نے کفیل کے حاضر ہونے کی قید ذکر کی کیونکہ اگروہ غائب ہو تو حاضر ہوکر قبول بھی کرلے لیکن فریقین کے تفرق کے بعد کرے یاحاضر ہوکر قبول ہی نہ کرے تو بیع جائز نہ ہوگی اور ہم نے رہن کے معین معلوم ہونے کی قید ذکر کی کیونکہ وہ معین ومعلوم نہ ہو اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کیا ہو تو بیع جائز نہ ہوگی الایہ کہ دونوں فریق اسی مجلس میں اس کے تعین پر راضی ہوجائیں اور تفرق سے قبل مرہون چیز دے دی جائے یا رہن کو باطل کردیں اور ثمن نقدادا ہوجائے۔ اھ (ت)
(۱؎بحرالرائق     کتا ب البیوع باب البیع الفاسد  ایچ  ایم  سعید کمپنی کراچی  ۶/ ۸۵)
درمختار میں ہے :
تفسد الاجارۃبالشرط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسد البیع ممامر یفسدھا ۲؎۔
اجارہ میں ایسی شرائط سے فاسد ہوجاتاہے جو عقد کے مخالف ہوں تو جو شرائط مذکورہ بیع کو فاسد کرتی ہیں وہ اجارہ کو بھی فاسد کردیتی ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار     کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۷۷)
رابعا ان شرئط کے انتفا پر خالد کو اختیار فسخ ملنے کی شرط معنی خیار شرط ہے، ردالمحتارمیں حواشی الدررللعلامہ خادمی افندی سے ہے :
قد قال صدرالشریعۃ انہ (ای خیار النقد) فرع مسئلۃ خیار الشرط لانہ انما شری لیدفع بالفسخ الضرر عن نفسہ سواء کان تاخیراداء الثمن اوغیرہ ۳؎۔
صدرالشریعۃ نے فرمایا کہ خیار نقد خیار شرط والے مسئلہ کی فرع ہے کیونکہ اس کو مشروع قرارد ینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ فسخ کرکے اپنے پر عائد ہونے والے ضرر کو ختم کرسکے یہ ضرر ثمن کی تاخیر ہو یا کوئی اور (ت)
 (۳؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب خیار الشرط    داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۴ /۴۹)
اسی میں ہے :
الواقع فی الزیلعی کونھا من صورہ ۱؎۔
زیلعی میں شرط اجارہ کا شرط خیار کی طرح ہونا مذکور ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب خیار الشرط    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۴۹)
اوریہاں سے مشروط معلق بالحظر کیا، اورخیار شرط صالح تعلیق بالشرط نہیں، 

بحرالرائق وردالمحتار میں ہے :
لایصح تعلیق خیار الشرط بالشرط ۲؎
 (خیار شرط کی تعلیق کسی شرط سے جائز نہیں۔ ت)
(۲؎ردالمحتار    کتاب البیوع باب خیار الشرط    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۴۵)
اور اشتراط شرط فاسد ان عقود کا مفسد۔
ولیس من باب خیار النقد المشروع ولولم یکن ھناک تعلیق بعدم الاتیان بضمانۃ وامانۃ اصلا، واقتصرا علی التعلیق بعدم نقدالاجرۃ علی النجوم المقدرۃ وذٰلک لان خیار النقد فی ھذہ الصورۃ انما یکون لمن بیدہ النقدوترکہ اذ ھو المتمکن من امضائہ وعدمہ، وھھنا علی خلاف ذٰلک شرط الخیار لمواجر، فی البحرالرائق لوباع علی انہ ان لم ینقد الثمن الی ثلثہ ایام فلا بیع صح، والی اربع لایصح، والاصل فیہ ان ھذا فی معنی اشتراط الخیار اذالحاجۃ مست الی الانفساخ عند عدم النقد  تحرزا عن المماطلۃ فی الفسخ فیکون ملحقا بہ کذا فی الہدایۃ واشار المصنف الی جواز ھذاالشرط للبائع، وفی الذخیرۃ اذا باع عبدا ونقد الثمن علی ان البائع ا ن ردالثمن الی ثلثۃ فلا بیع بینہما کان جائزا، وھو بمعنی شرط الخیار للبائع اھ ففی مسألۃ الکتاب المنتفع بہذا الشرط ھو البائع مع انہم جعلوا الخیار للمشتری باعتبار انہ المتمکن من امضاء البیع بالنقد ومن فسخہ بعدمہ وفی عکسہ المنتفع بہذا الشرط ھوا لمشتری مع انہم جعلوا الخیار للبائع باعتباران البائع متمکن من الفسخ ان ردالثمن فی المدۃ ومن الامضاء ان لم یردہ ۱؎ اھ ملتقطا، ونحوہ فی ردالمحتار عن النہر۔
اور خیار نقد جو مشروع ہے شرط فاسد اس کی طرح نہیں ہے خیا نقد جائز ہے اگر چہ وہاں ضمانت و امانت پیش نہ کرنے کی تعلیق نہ بھی ہو، بحرا ور درمختار دونوں نے خیار نقد کی صورت میں مقررہ قسطوں پر نقد اُجرت نہ دینے سے معلق کرنے پر اکتفاء کیا اس لئیے کہ خیار نقد اس صورت میں ایسے شخص کو ہوتاہے جس کو نقد دینے نہ دینے کا اختیار ہو کیونکہ وہی اجارہ کو قائم رکھنے نہ رکھنے پرقدرت رکھتاہے، جبکہ یہاں معاملہ اس کے خلاف ہے  کیونکہ خیار کی شرط اجرت پر دینےکے لئے ہے۔ بحرالرائق میں ہے اگر کسی نے چیز کو اس شرط پر فروخت کیا کہ اگر مشتری تین دن تک ثمن نقد نہ دے تو بیع ختم ہوگی، یہ شرط صحیح ہے، اور اگر چاردن تک، کہا تو صحیح نہیں ہے، اور اس میں ضابطہ یہ ہے کہ یہ خیار شرط کے معنی میں ہے کیونکہ نقد نہ ملنے پر فسخ کی حاجت ہے تاکہ فسخ کامعاملہ موخر ہونے سے محفوظ رہے، لہذایہ خیار شرط سے ملحق ہے، ایسے ہی ہدایہ میں ہے، اور مصنف نے بائع کے لئے اس شرط کے جواز کا اشارہ کیا ہے، اور ذخیرہ میں ہے کہ جب عبدکو فروخت کیا اور مشتری نے ثمن نقد دے کر شرط لگائی کہ اگر بائع نے تین دن تک ثمن واپس کردئے تو بیع ختم ہوگی، تو یہ شرط جائز ہے اور یہ بائع کی شرط خیار معنا قرار پائے گی اھ تو کتاب کے مسئلہ میں اس شرط کا فائدہ بائع کو ہے حالانکہ خیار پر شرط انھوں نے مشتری کے لئے قرار دی ہے، یہ اس اعتبار سے کہ مشتری ہی نقد دینے نہ دینے کی بناء پر بیع کو باقی رکھنے اور فسخ کرنے پر قادر ہے، اور اس کے عکس والی صورت میں شرف کا فائدہ مشتری کو ہے اس کے باوجود انھوں نے خیار شرط بائع کے لئے قراردیا ہے یہ اس اعتبار سے کہ یہاں بائع تین دنوں میں ثمن واپس کرنے نہ کرنے کی بناء پر بیع کو فسخ یا قائم رکھنے پر قادر ہے اھ ملتقطا، او ریوں ہی ردالمحتار میں ہے نہر سے منقول ہے۔ (ت)
(۱؎ بحرالرائق  کتاب البیوع باب خیار الشرط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۶ /۶،۷)
Flag Counter