Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
68 - 120
اقول: فمن خلاف عندنا فی تأجیل العتین ھل ھو بالسنۃ القمر یۃ ھو المذھب، خزانۃ وغیرھا وھو الصحیح ۳؎، ہدایۃ وغیرہا وعلیہ اکثر اصحابنا ۴؎ ایضاح الکرمانی اوبالسنۃ الشمسیۃ وھی روایۃ الحسن عن امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ، ورواٰیۃ ابن سماعۃ عن الامام محمد، واختارہ شمس الائمۃ السرخسی والامام فقیہ النفس قاضیخاں والامام ظہیر الدین المرغینانی ۵؎، فتح، وقیل وبہ یفتی، درمختار ۱؎ وعلیہ اکثر المشائخ، محیط، وعلیہ الفتوی، خلاصۃ اھ من ردالمحتار وجامع الرموز ۲؂ نعم عدم الجواز فی العبادات والعدد الشرعی مقطوع بہ مجمع علیہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔``
میں کہتا ہوں ہمارے ہاں نامرد شخص مہلت دینے کے مسئلہ میں اختلاف ہے، خزانۃ وغیرہ میں ہے کہ قمری سال ہی مذہب ہے، ہدایہ وغیرہ میں فرمایا یہی صحیح ہے، اورنیز فرمایا ہمارے اکثر اصحاب اس پر ہیں، کرمانی کی ایضاح میں، یا شمسی سال فرمایا یہ امام حسن رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کی امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے اورامام محمد علیہ الرحمۃ سے بھی ابن سماعۃ کی یہ روایت ہے، اور شمس الائمہ امام سرخسی، امام فقیہ النفس قاضیخاں اور امام ظہیر الدین مرغینانی نے اسے اختیار کیاہے۔ فتح، اورا سی پر فتوٰی ہے۔درمختار، اور اسی پر اکثر مشائخ ہیں، محیط، اسی پر فتوٰی ہے، خلاصہ، یہ ردالمحتار اور جامع الرموز سے منقول ہے، ہاں عبادات اورشرعی اعداد قمری سال ہی متفق علیہ ہے، واللہ تعالٰی علم۔ (ت)
 (۳؎ جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ        کتاب الطلاق فصل العنین         مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران   ۲ /۵۷۴)

(۴؎جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ   بحوالہ کرمانی   کتاب الطلاق فصل العنین         مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۲ /۵۷۴)

(۵؎جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ   بحوالہ کرمانی   کتاب الطلاق فصل العنین         مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۲ /۵۷۴)

(فتح القدیر    کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۱۳۲)

(۱؎ درمختار    کتاب الطلاق   باب العنین وغیرہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۵۳)

(۲؎ ردالمحتار   کتاب الطلاق   باب العنین وغیرہ     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۵۹۵)

(جامع الرموز    کتاب الطلاق   باب العنین وغیرہ    مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران   ۲ /۵۷۴)
بالجملہ اجارات وغیرہا معاملات میں مدار تعارف پرہے، اور مسلمین میں متعارف یہی مہینے تو عندالاطلاق انھیں کی طرف انصراف، 

ردالمحتار وفتح القدیرمیں ہے :
اھل الشرع انما یتعارفون الاشہر السنین بالاھلۃ فاذا اطلقواالسنۃ انصرف الی ذٰلک مالم یصرحوا بخلافہ ۳؎۔     اہل شرع نے قمری مہینے اور سال اپنا عرف قراردیاہے۔ تو جب وہ مطلق سال ذکر کرتے ہیں غیر کی تصریح نہ کریں تو قمری مراد ہوتاہے (ت)
 (۳؎ فتح القدیر   کتاب الطلاق   باب العنین وغیرہ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۱۳۲)

(ردالمحتار   کتاب الطلاق   باب العنین وغیرہ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۵۹۵)
اگر بعض مسلمانان باتباع نصارٰی شہورشمسیہ پر حساب رکھنے لگیں تو اس کااعتبار نہیں کہ معتبر عرف عام وشائع ہے، نہ قرار داد خاص بعض ناس،

 اشباہ والنظائر میں ہے :
انما تعتبر العادۃ اذا اطردت اوغلبت، ولذا قالوا فی البیع لو باع بدراہم ودنانیر وکانا فی بلد اختلف فیہ النقود مع الاختلاف فی المالیۃ والرواج انصرف البیع الی الاغلب قال فی الہدایۃ لانہ ھوالمتعارف، فینصرف المطلق الیہ ۱؎۔
عادت جب عام اور غالب ہوجائے تو وہی معتبر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ بیع کے باب میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے مطلق دراہم یادنانیر کو بیع میں ذکرکیا تو شہر میں مالیت اور رواج کے لحاظ سے نقود کا اختلاف ہو تو وہاں غالب نقد پر بیع مانی جائے گی، ہدایہ میں فرمایاکیونکہ وہی متعارف ہے تو مطلق اس کی طرف ہی راجع ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدۃ السادسۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۲۸)
اور بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہاں کے مسلمان میں شہود شمسیہ بھی بکثرت رواج پاگئے تاہم اس میں کلام نہیں کہ مدرسان علوم عربیہ دینیہ کا تقرر عام طور پر انھیں شہور الہٰیہ ہلالیہ پر متعارف ہے کہ وہ خاص دینی کام ہے، اور عام مسلمین پر بحمداللہ ہنوز اتباع نصارٰی ایسا غالب نہ ہوا کہ اپنے دینی امورمیں بھی ان کی تقلید کریں، تو اس تقرر میں قطعا شہور ربانیہ ہی معتبر ہوں گے نہ کہ شہورنصرانیہ، کما لایخفی علی اولی النہی (جیسا کہ عقلمندوں پر مخفی نہیں ہے۔ ت) تعلیم علوم دینیہ پر اُجرت لینی صد ہاسال سے بمذہب مفتٰی بہ علماء نے نظر بفساد زمانہ حلال فرمائی یہ تحلیل اس لئے تھی کہ اہل علم ناشران علم دین کی خدمت ہوتی رہے، وہ تلاش معاش میں پریشان ہو کر اس وراثت انبیاء کی اشاعت سے مجبور نہ رہیں، نہ اس لئے کہ معاذاللہ استاذ علم دین کی تعظیم وتوقیر نہ کی جائے۔ اساتذہ وشیوخ علم شرعیہ بلاشبہ آبائے معنوی وآبائے روح ہیں جن کی حرمت وعظمت آبائے جسم سے زائد ہے کہ وہ پدر آب وگل ہے اور یہ پدر جان ودل، علامہ مناوی تیسیر جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ع
من علم الناس ذاک خیراب        ذا ابوالروح لاابوالنطف ۲؎
یعنی استاد کا مرتبہ باپ سے زیادہ ہے کہ وہ روح کا باپ ہے، نہ نطفہ کا،
 (۲؎ التیسیر شرح جامع الصغیر     تحت حدیث انما انا لکم بمنزلۃ الوالد الخ    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض    ۱ /۳۶۱)
علامہ حسن شرنبلالی ''غنیہ ذوی الارحام'' حاشیہ ''درر وغرر'' میں فرماتے ہیں:
الوالد ھو والد التربیۃ فرتبتہ فائقۃ رتبۃ والد التبنیۃ ۳؎۔
یعنی اعلٰی درجہ کا باپ استاد مربی ہے۔ اس کا مرتبہ پدر نسب کے مرتبہ سے زائد ہے۔
 (۳؎ غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررالحکام)
عین العلم شریف میں ہے:
یبرالوالدین فالعقوق من الکبائر، ویقدم حق المعلم علی حقہما فہو سبب حیاۃ الروح ۱؎۔
ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرے کہ انھیں ناراض کرناگناہ کبیرہ ہے اوراستاد کے حق کو ماں باپ کے حق پر مقدم رکھے کہ وہ زندگی روح کا سبب ہے
 (۱؎ عین العلم  الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ   مطبع امرت پریس لاہور ص۳۵۔ ۳۳۳)
امام شعبہ فرماتے ہیںـ:
ماکتبت عن احدحدیثا الاوکنت لہ عبدا ماحیی ۲؎۔
میں نے جس کسی سے ایک حدیث بھی لکھی میں عمر بھر ا س کاغلام ہوں
(۲؎ المقاصد الحسنۃ    تحت حدیث ۱۱۶۴    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ص۴۲۱)
فتاوٰی بزازیہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
حق العالم علی الجاہل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء وھو ان لایفتتح بالکلام قبلہ ولا یجلس مکانہ وان غاب ولا یرد علی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ ۳؎۔
عالم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر برابر یکساں حق ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرے، وہ موجود نہ ہو جب بھی اس کی جگہ پر نہ بیٹھے اس کی کوئی بات نہ الٹے، نہ اس سے آگے چلے وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ    بحوالہ الفتاوٰی البزازیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۷۳)
Flag Counter