فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
67 - 120
مسئلہ ۱۵۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ''دعوی وراثت'' میں قابضان متروکہ سے واصلات اپنے حصہ کی مانگی، اس میں عذر تمادی کا از جانب مدعاعلیہم پیش ہوا، فقط تین برس کے دینا چاہتا ہے، بموجب قانون کے چونکہ شرع میں تمادی نہیں ہے، لہذا اس نے اپنے حصہ جائز سے محروم ہونے کے سبب یہ کہا کہ مجھ کو سود دو، اور یہ سمجھاکہ سود کے حیلہ سے بھی میری اصل رقم کا کوئی جز ہی مل جائے، اس صورت میں یہ لینا جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب : اگر اس شریک نے جس نے واصلات نہ پائی، شریک قابض کو اپنے حصہ کی تحصیل کاوکیل و مجاز کیا تھا، تو جو توفیر حاصل ہوا کی اس سب میں اس کا بھی حصہ تھا، اور تمادی کوئی شیئ نہیں، اگر ایسے نہیں لے سکتا جس نام سے ملے وصول کرسکتاہے، اور اگر اس نے وکیل نہ کیا تھا بلکہ وہ بطور خود غصباً اس کے حصہ پر قابض رہا اور زمین اٹھاتا محصول لیتا رہا تو اسے حکم دیا جائے گا کہ اس کے حصہ کا روپیہ اسے دے یا تصدق کردے اور افضل وہی ہے کہ اسے دے مگر اس کو دعوی نہیں پہنچتا نہ یہ اس کا مالک ہوا، بلکہ وہی غاصب بملک خبیث مالک ہے تو اسے اس سے بحیلہ ناجائزہ لینے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۵: ۴ رمضان المبارک ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب آسامیاں دیہہ سے لگتہ اراضی مفوضہ آسامیاں مقرر ہے، تو سوالگتہ مقررہ کے اوگاہی بھوسہ ومورکین ورس وغیرہ کالینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: ناجائز ہے کہ اجرت مقررہ سے زیادہ لینے کا کیا استحقاق ہے ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے دیتے تو جائز تھا اگر خوشی معلوم بلکہ صریح جبر ہوتا ہے اور اگر اس کی طرف سے جبر نہ بھی ہوا مگر انھوں نے اسے زمینداری یا ٹھیکداری کے دباؤ سے دیا،تو بھی ناجائزومثل رشوت ہے۔
فی ردالمحتار (بعد نقل عبارۃ الفتح تعلیل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دلیل علی تحریم الہدیۃ التی سببہا الولایۃ ۱؎) ذکر ما نصہ قلت ومثلہم مشائخ القری والحرف وغیرھم ممن لہ قہر وتسلط علی من دونہم فانہ یھدٰی الیہم خوفا من شرھم اولیروج عندھم ۱؎ الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتارمیں فتح کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا، حضو رعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا علت کو بیان کرنا ایسے ہدیہ کے حرام ہونے کی دلیل ہے جو ولایت کی وجہ سے حاصل ہو۔ انکی ذکر کردہ عبارت یوں ہے میں کہتاہوں ان کی مثل دیہاتوں اور اہل حرفت وغیرہم کے چودھریوں کی ہے جن کو اپنے ماتحتوں پر تسلط اورغلبہ ہوتاہے کیونکہ ان چودھریوں کے شرکے خوف یارواج کی وجہ سے ان کو ہدیے ملتے ہیں الخ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۱۰)
(۱؎ جدالممتار)
مسئلہ ۱۵۶: ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس ایک عورت مطلقہ غیرہے جس کی ابھی عدت نہ گزری، وہ بعد عدت اس سے نکاح چاہتاہے مگر خوف ہے کہ شاہد قبل عدت معصیت واقع ہو، زید عمرو سے مکان کرایہ پر مانگتا ہے، اس صورت میں عمرو کو جائز ہے یانہیں کہ زید کو اپنا مکان کرایہ پر دے؟ بینوا توجروا
الجواب
جائز ہے اگر چہ معصیت کا خوف نہیں بلکہ صراحۃً معصیت کرتاہے، یہ اپنی جائز نیت سے کرایہ پر دے، اس کی معصیت کا وبال اس پر ہے عمرو پر کوئی مواخذہ نہیں،
لتخلل فعل فاعل مختار، قال اﷲ تعالٰی لاتزرُ وازرۃ وزرا خری ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فاعل مختار کا فعل درمیان میں آنے کی وجہ سے، اللہ تعالٰی نے فرمایا: کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۷/ ۱۶۴ )
مسئلہ ۱۵۷: مسئولہ مولوی حافظ امیر اللہ صاحب ۲۵ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اﷲ والرسول ان کنتم تؤمنون باﷲ۳؎۔ الآٰیۃ
اگر تم کسی امر میں تنازع کرو تو اس کو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کی طرف پھیرو اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ الآیۃ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۴ /۵۹)
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت السہلہ الغراء ومفتیان ملت السمحۃ البیضاء کہ دومسلمانوں میں اجارہ تدریس فنون عربی بمشاہرہ (مہ عہ/) ایک اور(صہ/ ) دوسرے کی طرف سے بلاذکر ماہ قمری شرعی وشمسی انگریزی وغیرہ ہوا، درصورت اختلاف مستاجرواجیر تعیین قرآنی یا تعیین انسانی عرفی یا عرف مدرسین عربی کی تعیین معتبر ہوگی اور جو اجیر تفسیر مدارک التنزیل شریف اور بیضاوی شریف اور صحیح بخاری شریف پڑھائے اس کی تعظیم او رکوئی ادب مستاجر متعلم پر شرعا عقلا عرفاہے یانہیں؟ اور استاذین وشیوخ آباء معنوی ہیں، اس کاکہاں تک شریعت مطہرہ میں اثر ہے ؟ بینوا توجروا
الجواب: قال اﷲ تعالٰی عزوجل
یسئلونک عن الاھلۃ ط قل ھی مواقیت للناس والحج۔ ۱؎
اے نبی! یہ تجھ سے پوچھتے ہیں نئے چاندوں کاحال، تو فرمادو وقت ٹھہرائے ہیں لوگوں کے لئے اور حج کے واسطے
(۱؎القرآن الکریم ۲ /۱۸۹)
آیہ کریمہ شاہد ہے کہ اہل اسلام کے نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں بھی یہی قمری مہینے معتبر ہیں
مدارک شریف میں ہے :
مواقیت الناس والحج ای معالم یوقت بہا الناس مزار عہم ومتاجرھم ومحال دیونہم وصومہم وفطرہم وعدۃ نسأھم وایام حیضہن ومدۃ حملہن وغیر ذٰلک ومعالم للحج یعرف بہا وقتہ ۲؎۔
مواقیت للناس والحج یعنی علامات جن سے لوگ اپنی مزارعت، اجارہ، قرض اور دیون کی ادائیگی، روزہ، افطار، عورتوں کی عدت، حیض کے ایام اور حمل کی مدت وغیرہ کا وقت معلوم کریں گے اور حج کی علامت جن سے لوگ اس کا وقت پہچان سکیں گے۔ (ت)
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی حاشیہ خفاجی علی البیضاوی میں ہے:
اجیبوا ببیان الغرض من ھذا الاختلاف من بیان مواقیت العبادات والمعاملات ۳؎۔
صحابہ کو چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کی غر ض سے جواب بیان فرمایا کہ عبادات اور معاملات مقرر اوقات کا بیان ہے ۔ (ت)
(۳؎ عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی آیت قل ھی مواقیت للناس الخ دارصادر بیروت ۲ /۲۸۴)
وقال تبارک وتعالٰی
ان عدۃ الشہور عنداﷲ اثنا عشر شہرا فی کتاب اﷲ یوم خلق السمٰوٰت والارض منہا اربعۃ حرم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: بیشک گنتی مہینوں کے اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں، کتاب اللہ میں جس دن سے اس نے بنائے آسمان او ر زمین اس میں سے چار ماہ حرام ہیں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب)۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۳۶)
یہ آیت ارشاد فرماتی ہے کہ اللہ عزوجل کے نزدیک یہی بارہ مہینے قمری ہلال عربی معتبر ہیں کہ چار ماہ حرام انھیں مہینوں میں ہیں۔ تو اہل اسلام کو انھیں کا اعتبار چاہئے، شرع مطہرہ کے سب احکام عبادات و معاملات انھیں پر مبنی ہیں،
اس سے مراد قمری مہینے ہیں اور ان مہینوں کے ذریعہ مسلمان اپنے روزوں، حج، عیدوں اور تمام امور کا حساب لگاتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ مصطفی البابی مصر۳ /۸۹)
نسفی میں ہے :
المراد بیان ان احکام الشرع تبتنی علی الشہور القمریۃ المحسوبۃ بالاھلۃ دون الشمسیۃ ۳؎۔
مراد یہ ہے کہ شرعی احکام قمری مہینوں پر مبنی ہیں جو چاندکے حساب سے ہوتے ہیں شمسی مہینوں پرنہیں۔ (ت)
(۳؎ مدارک التزیل (تفسیر النسفی) تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ دارالکتب العربی بیروت ۲ /۱۲۵)
ولہذا بحمداللہ اب تک عامہ مسلمین اپنے عامہ امور میں انھیں شہود کو جانتے ۔ انھیں پر مدار کار رکھتے ہیں کہ ان کے رب کے نزدیک مہینے یہی ہیں بلکہ حقیقۃً مہینہ کا لفظ انھیں پر صادق مہینہ منسوب بماہ ہے، شہر شمسی مہینہ نہیں، مہر ینہ ہے،
بلکہ تفسیر میں زیر کریمہ انما النسئی ہے:
اﷲ تعالٰی امرہم من وقت ابراہیم و اسمٰعیل علیہما الصلٰوۃ والسلام ببناء الامر علی رعایۃ السنۃ القمریۃ فہم ترکوا امراﷲ تعالٰی فی رعایۃ السنۃ القمریۃ واعتبروا السنۃ الشمسیۃ رعایۃ لمصالح الدنیا ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم اور اسمعیل علیہم الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں قمری سال پر اپنے امور کی بناء کاحکم دیا تو انھوں نے قمری سال کی رعایت کے حکم باری تعالٰی کو ترک کرکے اپنے مصالح کی بناء شمسی سال پر کرلی(ت)
(۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ انما النسئی زیادۃ الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۶ /۵۶)
بلکہ اسی میں ہے:
قال اہل العلم الواجب علی المسلمین بحکم ھذہ الایۃ ان یعتبروا فی بیوعہم ومد دیونہم واحوال زکاتہم وسائر احکامہم السنۃ العربیۃ بالاھلۃ ولایجوز لھم اعتبار السنۃ العجمیۃ والرومیۃ ۲؎ اھ،
اہل علم نے فرمایا اس آیہ کریمہ کے حکم پر مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے کاروبار اور لین دین، زکوٰۃ اور تمام احکام میں عربی قمری سال کااعتبار کریں اور ان کو عجمی اور رومی شمسی سال کا اعتبار جائز نہیں ہے اھ ،
(۲؎مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۶ /۵۳)