Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
66 - 120
مسئلہ ۱۵۳: از میرٹھ بالائے کوٹ مکان قاضی صاحب مرسلہ مولوی ابومحمد صادق علی صاحب ۱۱رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین،درباہ جواز وعدم جواز حصول منفعت بذریعہ کرایہ مکانات سکنٰی، ولگان اراضیات زرعی، ایسے لوگوں سے نصارٰی کے پادری ہنودکےپنڈت یہود کے معلم، شیعوں کے مجتہد، غیر مقلدوں کے واعظ، کسبیان، ڈھاری، بھانڈ، شراب کھینچے بیچنے والے، اور دیگر منشی اشیاء کے تاجر، فساق، فجار، مشرک وکفار، خصوصا وہ جو اپنے مذہب وغیرہ کی اشاعت پر مامور ہوں ، اور عموما وہ کہ مامور باشاعت ہوں بینوا توجروا
الجواب: یہاں دو مقام ہیں، اول یہ کہ ان لوگوں کو سکونت کے لئے مکان، زراعت کے لئے زمین کرایہ پر دینا جائز ہے یانہیں؟ دوم برتقدیر جواز ان کے مال سے اجرت لینا کیسا۔

اول کا جواب جواز ہے کہ اس نے تو سکونت وزراعت پر اجارہ دیاہے نہ کسی معصیت پر اور رہنا ،بونا فی نفسہٖ معصیت نہیں۔ اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گے، جو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گے، یہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں۔
لاتزروازرۃ وزرا خری ۱؎ قلت وبہ ظہر ان المسئلۃ ینبغی ان تکون علی الوفاق بین الامام وصاحبیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وھوالمستفاد من کلمات العلماء۔
کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی میں کہتاہوں اس سے ظاہر ہواکہ یہ مسئلہ امام صاحب اور صاحبین  کے مسلک کے موافق ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم، اور علماء کے کلام سے یہی مستفاد ہے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم            ۳۹ /۷)
ہندیہ میں بعد مسئلہ
''اذا استاجر الذمی من المسلم بیتا یبیع فیہ الخمر جاز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی خلافا لہما کذا فی المضمرات ۲؎''
(جب ذمی کسی مسلمان سے مکان کرایہ پر حاصل کرکے شراب فروشی کرے تو جائز ہوگا یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک بخلاف صاحبین کے، مضمرات میں یوں ہے۔ ت) نقل کیا:
واذا استاجر الذمی من المسلم دارا لیسکنہا فلاباس بذٰلک وان شرب فیہا الخمر وعبد فیہا الصلیب اوادخل فیہا الخنازیر ولم یلحق المسلم فی ذٰلک باس لان المسلم لایواجر ھا لذٰلک انما اٰجرہا للسکنٰی کذا فی المحیط ۱؎۔
جب ذمی نے مسلمان سے رہائش کے لئے مکان کرایہ پر لیا تو کوئی حرج نہیں اگر چہ وہ مکان میں شراب نوشی کرے یاصلیب کی پوجا کرے یا اس میں خنزیر لائے، اس کا بوجھ مسلمان پرنہ ہوگا کیونکہ اس نے اس ارادہ سے کرایہ پر نہیں دیا اس نے تو رہائش کےلئے دیا ہے۔ محیط میں یوں ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الاجارۃ الباب الخامس عشر الفصل الرابع    نورانی کتب خانہ پشاور      ۴ /۴۴۹)

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاجارۃ الباب الخامس عشر الفصل الرابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۵۰)
ردالمحتار میں ہے زیر قول درمختار:
جاز اجارۃ بیت سواد الکوفۃ لیتخذ بیت نار اوکنیسۃ اوبیعۃ اویباع فیہ الخمر وقالالاینبغی ذٰلک۔ زیلعی ۲؎ اھ ملخصا،۔
کوفہ کی آبادی میں ذمی کو مکان کرایہ پر دینا تاکہ وہ آتشکدہ یا گرجا، عبادت خانہ بنائے یا شراب فروخت کرے تو جائز ہے، صاحبین نے فرمایا، یہ مناسب نہیں ہے زیلعی اھ ملخصا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار         کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع         مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۴۷)
انھیں علامہ زیلعی وعلامہ بدرالدین عینی وعلامہ حسام سغناقی وعلامہ جلال کرلامی صاحبان بنایہ و نہایہ وکفایہ شروح ہدایہ سے نقل کیا:
والدلیل علیہ انہ لواٰجرہ للسکنٰی جاز وھو لابدلہ من عبادتہ فیہ ۳؎ اھ۔
اس پردلیل یہ ہے کہ اگررہائش کے لئے کرایہ پر دے تو جائز ہے حالانکہ وہ اس میں ضرور عبادت کرے گا۔ اھ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۵۱)
یہ جواب فقہ ہے باقی دیانۃً اس میں شک نہیں کہ جس کی سکونت سے مسلمانوں کے عقائد یا اعمال میں فتنہ وضلال کا اندیشہ وخیال ہو اسے جگہ دینا معاذاللہ مسلمانوں کو فتنہ پر پیش کرنا ہے،تو
 یحبون ان تشیع الفاحشۃ ۴؎
(وہ چاہتے ہیں کہ فحاشی پھیلے۔ ت)
(۴؎ القرآن الکریم        ۲۴/ ۱۹)
حقیقۃ نہ سہی اس کی طرف منجر ہے۔
وانما الدین النصح لکل مسلم ۵؎
دین تو یہی ہے کہ سب مسلمانوں کی خیرخواہی کیجئے وباللہ التوفیق۔
 (۵؎ صحیح البخاری        کتاب الشروط باب مایجوز من الشروط الخ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۷۵)

(صحیح مسلم        کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ   قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۵۵۔ ۵۴)
دوم کا جواب یہ کہ جس مال کا بعینہ حرام ہونا معلوم ہو اس سے اجرت لینا جائز نہیں، مثلا اجارہ دینے والے کو خبر ہے کہ یہ روپیہ زید نے غصب یاسرقہ، یار شوت یا ہندہ نے زنا یا غنا کی اُجرت یاکسی مسلمان نے خمروخنزیر کی قیمت میں حاصل کئے ہیں، تو ان کا لینا اسے روانہیں نہ اپنے آتے میں نہ ویسے،
فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یأخذہ ۱؎۔
ہندیہ میں محیط اس میں امام محمد سے منقول ہے کہ مغنیہ عورت کی کمائی سے قرض کی ادائیگی کرنا چاہے تو قرضخواہ کو وہ لینا ناجائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور  ۵ /۳۴۹)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی النہایۃ قال بعض مشائخنا کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل اخذہ ۲؎۔
نہایہ میں فرمایا کہ بعض مشائخ نے فرمایاکہ مغنیہ کی کمائی مغصوب چیز کی طرح ہے اس کا لینا جائز نہیں۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار         کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۴۷)
درمختارمیں ہے:
جاز رزق القاضی من بیت المال لو بیت المال حلالاجمع بحق والالم یحل ۳؎۔
بیت المال سے قاضی کو وظیفہ جائز ہے بشرطیکہ بیت المال میں حلال مال کو حق کے طور پر جمع کیا گیا ہو ورنہ وہاں سے وظیفہ لینا جائز نہیں۔ (ت)
(۳؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۴۶)
تنویر الابصارمیں ہے :
جاز اخذ دین علی کافر من ثمن خمر بخلاف المسلم ۴؎۔
کافرسے قرض کی وصولی میں شراب فروشی سے حاصل شدہ رقم کولینا جائز ہے، برخلاف مسلمان کے (ت)
 (۴؎ درمختارشرح تنویر الابصار    کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۴۵)
ورنہ فتوٰی مطلقا جواز پر ہے، یعنی اگر چہ اس کے پاس اموال حرام ہونا یقینی ہو، مگریہ روپیہ کہ اس کرایہ میں دیتا ہے بعینہٖ اس کا حرام ہونا معلوم نہیں تو لینا جائز، اگرچہ اس کا اکثرمال حرام ہی ہو۔
فی الہندیۃ عن الظہیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث قال بعضہم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرام قال محمدو بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی واصحابہ ۱؎۔
ہندیہ میں ظہیریہ کے حولے سے امام  ابولیث سے منقول ہے کہ بعض نے فرمایا جب تک حرام سے ادائیگی کا علم نہیں ہے، اس وقت تک لے سکتاہے امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہمارا یہی مختارہے کہ جب تک بعینہٖ حرام ہونے کاعلم نہیں ہے،  یہی امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ تعالٰی کا قول ہے، (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
خانیہ میں ہے:
ان لم یعلم الاٰخذ انہ من مال اومن مال غیرہ فہو حلال حتی یتبین انہ حرام ۲؎۔
اگرلینے والے کومعلوم نہیں کہ اس کا مال ہے یا غیر کا تو اس کو حلال ہے تاوقتیکہ حرام ہونا واضح نہ ہوجائے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضیخاں    کتاب الحظروالاباحۃ        نولکشور لکھنؤ        ۴ /۷۷۸)
مگرا س صورت میں یعنی بحالت غلبہ حرام تقوٰی احتراز ہے۔
فان للاکثر حکم الکل بل منہم من نص عند ذٰلک علی عدم الجواز فالاسلم الاحتراز۔
کیونکہ اکثرپر کل کاحکم ہوتا ہے بلکہ بعض نے نص فرمائی ہے کہ ایسی صورت میں ناجائز ہے تو پرہیز میں سلامتی ہے۔ (ت)
خصوصا مقتدٰی کے لئے حدیث :
ایاک ومایسوء الاذن (عہ) ۳؎۔ والحفظ دین العوام عن اقتحام الحرام۔
تو بدگمانی سے بچ، اور عوام کے دین کی حفاظت کے لئے حرام سے دور رہ۔(ت)
عہ:  فی الاصل ھکذا لعل الصواب ''الظن''
 (۳؎ مسند امام احمد بن حنبل    حدیث ابی الغادیۃ رضی اللہ عنہ    المکتب الاسلامی بیروت    ۴ /۷۶)
باقی ا س مسئلہ کے متعلق جلیل وتنقیح جمیل فتاوٰی فقیر سے کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے فلینظر ثمہ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
Flag Counter