| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۱۵۱: مسئولہ مولوی محمد حسین صاحب عظیم آبادی مدرس مدرسہ جعفر خانی ۱۰ شوال ۱۳۰۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مدرسہ اسلامیہ کا نوکر تھا اور موافق دستور العمل مدارس عربیہ کے بعد فراغ امتحان ایام تعطیل میں اپنے مکان کو چلاگیا، اور قبل اسے کے ایام تعطیل ختم ہوں حاضرخدمت ایک جلسہ مدرسہ اسلامیہ ہو کر ان سے درخواست کی کہ یا تو مجھے اجازت ہو کہ سابق دستور کا کام کروں یا مجھ کو جواب دیا جائے کہ اپنا اور کچھ بندوبست کروں لیکن کچھ جواب نہ ملا، اور نہ اثنائے تعطیل میں کوئی اطلاع نامہ قطع تعلق کا زید کو ملا، اس صورت میں زید مستحق پانے تنخواہ ایام تعطیل کا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائے۔ ت)
الجواب : تعطیلات معہودہ میں مثل تعطیل ماہ مبارک رمضان وعیدین وغیرہا کی تنخواہ مدرسین کوبیشک دی جائے گی،
فان المعہود عرفاکالمشروط مطلقا
(عرف میں معلوم متعین چیز مطلقا مشروط کی طرح ہے۔ ت)
اشباہ میں ہے :
البطالۃ فی المدارس کایام الاعیاد ویوم عاشورۃ وشہر رمضان فی درس الفقہ علی وجہین ان مشروطۃ لم یسقط من العلم شیئ والافینبغی ان یلحق ببطالۃ القاضی ففی المحیط انہ یاخذ فی یوم البطالۃ وقیل لا، وفی المنیۃ یستحق فی الاصح، واختارہ فی منظومۃ ابن وہبان، وقال انہ الاظہر ۱؎ اھ ملخصا، اقول: ھذہ الترجیحات حیث لم یشترط فکیف اذا شرط ھذالیس محل نزاع وقد علمت ان المعروف کالمشروط۔
عید کے دنوں، عاشورہ اور ماہ رمضان جیسی مدارس میں فقہی تعلیم کی تعطیلات دو طرح سے ہے اگر معاہدہ میں مشروط ہیں تو مشاہرہ بالکل ساقط نہ ہوگا ورنہ قاضی کی تعطیلات کے موافق ہونامناسب ہے، تو محیط میں ہے کہ مدرس ایام تعطیلات کا مشاہرہ حاصل کرے گااور بعض نے کہا حاصل نہ کرے گا، اور منیہ میں ہے اصح یہ ہے کہ وہ مستحق ہوگا اور ابن وہبان کے منظوم میں اسی کو مختار فرمایا، اورانھوں نے فرمایا یہی اظہر ہے اھ ملخصا، میں کہتاہوں یہ ترجیحات مشروط نہ ہونے کی صورت میں ہیں مشروط ہوں تو کیسے مستحق نہ ہوگا حالانکہ محل نزاع یہی صورت ہے اورتو معلوم کرچکا کہ معروف چیز مشروط کی طرح ہوتی ہے۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۹)
اورکسی شخص کو اصلا اختیارنہیں کہ بے اطلاع اجیر جب چاہے بطور خود عقد اجارہ فسخ کردے،مگر جب کوئی عذر بین واضح ظاہر ہوجس میں اصلا محل اشتباہ نہ ہو جب تک ایسا نہ ہو اجیر بیشک مستحق تنخواہ ہوگا۔
فی الدرالمختار الاجارۃ تفسخ بالقضاء والرضاء ۱؎الخ، وفی ردالمحتار الاصح ان العذران کان ظاہر اینفرد وان مشتبہا لاینفرد ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہےکہ اجارہ رضامندی یا قضاءکےذریہ فسخ ہوسکتاہے الخ، اور ردالمحتار میں ہےکہ اصح یہ ہےکہ اگر ناغہ کا عذر ظاہرہو تو مدرس کے اختیارمیں ہے اور اگر عذر مشتبہ ہو تو پھر وہ مختار نہیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الاجارہ باب فسخ الاجارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۳) (۲؎ ردالمحتار کتاب الاجارہ باب فسخ الاجارۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۵ /۴۸)
مسئلہ ۱۵۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو ''طفوہائے'' آہنی نیشکر کے تجارۃً کرایہ پر چلاتاہے اور اہل دیہات سے معاملات اجارہ کے کرتاہے اور باشندگان دیہات کو جو دس دس، بیس بیس کوس کے باشندے ہیں، کولھوکرایہ پر دیتاہے۔ اور تقرری کرایہ میعاد ادائیگی کرایہ اور زمانہ واپسی ''کولھو'' جملہ امورات وقت عقد طے ہوجاتے ہیں مگر بہت کم ایسا ہوتاہے کہ وہ لوگ اپنے وعدہ پر روپیہ ادا کریں، بمجبوری ان سے روپیہ وصول کرنے کے واسطے نوکر رکھ کر ان کے مکانوں کو بھیجاجاتاہے اور وہ سپاہی تقاضا گیر چند چند بار ان کے مکان پرجاکر تقاضاکرتاہے، بلکہ اپنی تنخواہ اورخوراک وغیرہ کا بار ان پر ظاہر کرتاہے اور قسم قسم کے خوف نالش اور خرچہ پڑنے کا دلاتاہے۔ تب وہ لوگ روپیہ لاتے ہیں، اس پر بعض مطلق خیال میں نہیں لاتے، اورنالشوں وغیرہ کی نوبت آتی ہے پس ایسی حالت میں کہ یہ سپاہی جو محض ان سے تقاضا کرنے کے واسطے رکھا گیا ہے جس کے مکانوں پر جاکر بضرورت تقاضا ٹھہرے، اوران سے اپنی خوراک لے، یااس کے سوا جس کے یہاں ٹھہرا ہے، دوسروں سے اسی گاؤں میں، اس کے قریب دوسرے گاؤں والوں سے اپنی خوراک لے، یا زید ان کرایہ داران سے اصل کرایہ میں تنخواہ تقاضا گیر کے بقدر ایام آمدو شد کے، یا اس تقاضا گیر کی خوراک شامل کرکے وصول کرے، یا وقت کرایہ کے ان سے زید شرط کرے کہ روپیہ ہمارا کرایہ کا اگر تم وعدہ معینہ مقررہ پر نہ ادا کروگے، اور ہم کو تمھارے پاس تقاضا گیر بھیجنا پڑے گا، تو تم کو اجرت سے اس تقاضا گیر کی مثلا (۴/) اور خوراک اس کی مثلا (۲/) یوم کے حساب سے دینا پڑے گی، اورہم تم سے وصول کرلیں گے پس اول صورت میں خوراک اور اجرت تقاضا گیر کی بلاشرط کرایہ دار ان سے وصول کرنا۔ اور دوسری صورت میں شرط مذکور کرنا اور حسب شرائط مذکور اجرت مقررہ اور خوراک سپاہی تقاضا گیر کی وصول کرنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان کیجئے اجر پائے۔ ت)
الجواب: یہ نوکر اسی شخص کا نوکر اور اسی کے کام پر مقرر، اس نے خود ہی اسے اپنے کام کے لئے رکھا، تو تنخواہ یا خوراک جوکچھ ٹھہری ہو اسی پرہے۔ قرضداروں سے کچھ تعلق نہیں، نہ ان سے خواہ دوسرے اہل دیہہ سے کوئی جبراً لے سکے، ہاں وہ رضامند ی اپنا مہمان سمجھ کر کھانا دے دیں تویہ جدا بات ہے، اور یہ خیال کہ آخر ان کی نادہندگی کے باعث نوکر رکھنا پڑا محض بے سود،
فان الحکم انمایضاف الی المباشردون المسبب
(حکم مرتکب پر عائد ہوتاہے سبب مہیا کرنے والے پر نہیں ہوتا۔ ت) ولہذا مدعی کو مدعا علیہ سے خرچہ لینا جائز نہیں، اگرچہ بوجہ نادہندگی مدعا علیہ ضرورت نالش ہوئی ہو، اور اگر خود عقد اجارہ میں شرط مذکور فی السوال لگالی جب تو وہ عقد ہی فاسد ہوجائے گا اور اس کا فسخ کرنا واجب ہوگا
کما ھو حکم کل عقد فاسد رفعا للاثم حقا للشرع
(جیسا کہ ہر فاسد عقد کاحکم ہے کہ گناہ کو ختم کرنا شرعی حق کے طور پر لازم ہے۔ ت) درمختارمیں ہے:
تفسدالاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسد البیع یفسدھا کشرط طعام عبد ومرمۃ دار ۱؎ اھ ملخصا، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
عقد کے مخالف شرائط سے اجارہ فاسد ہوجاتاہے اور جو شرط بیع کو فاسد کرتی ہے وہ اجارہ کوبھی فاسدکرتی ہے مثلا غلام کی خوراک اور مکان کی مرمت کی شرط، اھ ملخصا۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۷)