فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
64 - 120
مسئلہ ثالثہ: بنجروں کی گھاس بیچ ڈالنا
اقول: اگر زمینداروں نے وہ زمین ا س غرض کے لئے مہیا کی ہے کہ اس میں جو گھاس پید اہو ہم بیع کیا کریں، اور انھوں نے گھاس کی افراط وعمدگی کے لئے اس زمین کو پانی دلوادیا جو گھاس جمنے کا باعث ہوا، یاخودرو گھاس آپ ہی جم آئی، اورانھوں نے اس کی رکھوالی کرائی، اس کے گرد کھائی کھدوادی، یا باڑھ رکھوادی کہ روک ہوجائے، ہر جانور وغیرہ کے تصرف سے بچے، تو ان دونوں صورتوں میں وہ گھاس زمینداروں کی ملک ہوگئی، اور اس کی بیع صحیح وجائز، یہی قول راجح ومختار ہے، اور اسی کی طرف اکثر ائمہ کبار اور اگر ان صورتوں سے کچھ نہ تھا تو بیشک وہ گھاس ہر شخص کے لئے مباح ہے اور جو کاٹ لے گا اسی کی ملک ہوجائے گی، زمیندار اگر یونہی زمین میں قائم بیچ ڈالیں گے بیع باطل ہوگی، اور قیمت واپس دیں گے،
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز بیع الکلاء واجارتہ وان کان فی ارض مملوکۃ ھذا اذا نبتت بنفسہ فاما اذا کان سقی الارض واعدھا للانبات فنبت ففی الذخیرۃ والمحیط والنوازل یجوز بیعہ لانہ ملکہ وھو مختار الصدر الشہید ومنہ مالوخندق حول ارضہ وھیاھا للانبات حتی نبت القصب صار ملکالہ وعلیہ الاکثر، ھکذا فی البحر الرائق ولو احتشہ انسان بلااذنہ کان لہ الاسترداد، ھوالمختار کذا فی جواہر الاخلاطی ۱؎ واﷲ سبحانہ و تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کھڑی گھاس فروخت کرنا اور اس کو اجرت پر دینا صحیح نہیں ہے اگر چہ ذاتی زمین میں ہو، یہ جب ہے کہ گھاس خود اُگی ہو لیکن اگر زمین والے نے زمین کو سیراب کرکے گھاس کے لئے تیار کیا تو یہ گھاس فروخت کرنی جائز ہے کیونکہ اس عمل سے وہ گھاس کا مالک ہوگیا، یہ ذخیرہ، محیط اور نوازل میں ہے، اوریہی صدر شہید کا مختار ہے، اور اسی صورت میں سے ایک یہ ہے کہ اپنی زمین کے ارد گرد کھائی کھودی اور پیداوار کےلئے تیار کیا حتی کہ وہاں ناڑ اگا تو وہ اس کی ملک ہوگا اھ، اور اسی پر اکثریت ہے، بحرالرائق میں بھی یوں ہے۔ اوراگر کسی نے اس کی اجازت کے بغیر کاٹا تو اس کو واپس لینے کا حق ہوگا یہی مختار ہے جواہر الاخلاطی میں یوں ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۰۹)
مسئلہ ۲۵۰: از سنبھل ضلع مراد آباد مرسلہ محمدذکاوت حسین ۶صفر ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی حنفی نے طریقہ وعظ بغرض افشائے رسالت خاتم النبیین واعلان طریقہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ آلہ وسلم اختیار کیا ہے، اور اس کے وعظ کے اثر سے شرک وبدعات وغیرہ کافور ہوتی چلی جاتی ہے، اور ہزار ہا اہل اسلام جو ضروری شعائر اسلام اور ارکان صوم وصلوٰۃ سے بھی واقفیت نہ رکھتے تھے وہ خود معلم نماز و امام مساجد ہوگئے، اوریہ شخص جابجا مواضع ومواسم میں بے تکلف علی رؤس الاشہاد بمقابلہ اعدائے دین جہاد لسانی کرتاہے، اگر ایسے شخص کو اہل اسلام عالم باعمل اور منجملہ ورثہ انبیاء تصور کرکے بلحاظ اس کی حالت بیکاری اور فکر معاش کے غمخواری کے کچھ نقد وغیرہ بلااس کی طمع اور درخواست کے تعظیما نذر کریں، تو یہ پیشکش اورنذر اس کے حق میں حلال وطیب ہے یانہیں؟ اور اہل اسلام ایسے شخص کو معتقد علیہ تصورکریں یانہیں؟ اور اس نذراور تحفہ کے بدلے اجر عظیم پائیں گے یانہیں؟ استفتاء ہذا کو اپنے دستخط مبارک اور بمواہیر تلامذہ راشدہ سے مزین فرماکر ہدایت کیجئے۔
الجواب: اگر فی الواقع وہ شخص علمائے اہلسنت وجماعت ایدہم اللہ تعالٰی سے ہے اور جو باتیں حقیقۃً شرک ہیں انھیں کے معتقد کو مشرک کہتاہے اور احکام مشرکین میں داخل کرتاہے، اور جو نوپیدا باتیں مخالف شریعت ومزاحم سنت ایجاد کی گئیں انھیں کو بدعت شرعیہ ومذمومہ وشنیعہ جانتا اور ان سے نہی وتحذیر کرتاہے، اور شعائر اسلام صلوٰۃ وصیام وغیرہا کے احکام صحیح صحیح سکھاتا اور برعایت شرائط وقواعد احتساب امر بالمعروف اورنہی عن المنکر بجالا تاہے، او ر وعظ میں روایات باطلہ وجزافات مخترعہ وبیانات مشیرہ اوہام، ومفسدہ خیالات عوام سے احتراز رکھتا، اورعلم کافی وفہم صافی کے ساتھ ہدایت وارشاد میں ٹھیک معیار شرع پر چلتا ہے، تو اسے نہ صرف عالم بلکہ اس زمانہ میں اراکین دین وسنت وخلفائے رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ واولیائے جناب احدیت آلاء جلت سے سمجھنا چاہئے اور اس کی جو خدمت ہوسکے صلاح وفلاح دارین ورضائے رب المشرقین وخوشنودی سید الکونین ہے جل جلالہ، وصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم۔
قال تعالٰی کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر ۱؎ الآیۃ
اللہ تعالٰی نے فرمایا: لوگوں کے لئے تمھیں بہترین امت ہونے کی حیثیت سے ظاہر کیا تم بھلائی کاحکم کرتے اور برائی سے روکتے ہو الآیۃ (ت)
(۱؎القرآن الکریم ۳ /۱۱۰)
اور جبکہ حسب اظہار سوال اس کی نیت خالص لوجہ اللہ ہے اور ہر گز نہ کسی سے سوال کرتا نہ طمع رکھتاہے، بلکہ مسلمان بطو رخود عُلما کی اعانت اوراپنی سعادت کی نیت سے خدمت کرتے ہیں تو (بشرطیکہ یہ مال جو اسے دیا جائے بعینہٖ وجہ حرام سے نہ ہو) بلاشبہ اس کا لینا جائز اور وہ اس کے لئے حلال وطیب ہے،
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا جاءک من ھذا المال شیئ وانت غیر مشرف ولاسائل فخذہ فتمولہ فان شئت کُلہ وان شئت تصدق بہ وما لا فلاتتبعہ نفسک ۲؎،رواہ الشیخان عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالٰی عنہما
جب تیرے پاس یہ مال آئے جبکہ تو اس کے انتظار میں نہ ہو اور نہ تو اس کے لئے سائل بنا تو اسے لے کر مال بنااگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے صدقہ کردے۔ اورمال نہ ملے تو اس کا پیچھا نہ کر۔اس کو بخاری ومسلم نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الاحکام باب رزق الحاکم والعاملین علیہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۶۲)
(صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب جواز الاخذ بغیر سوال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۴)
ہاں وعظ کو کہ عمدہ طاعات وقربات سے ہے ذریعہ حطام دنیا بنانے پر احادیث میں سخت وعیدیں آئیں، اور علماء نے بھی اس سے ممانعتیں فرمائیں،
خلاصہ پھر تاتارخانیہ پھر عالمگیریہ میں ہے :
الواعظ اذا سأ ل الناس شیئا فی المجلس لنفسہ لایحل لہ ذٰلک لانہ اکتساب الدنیا بالعلم ۳؎۔
واعظ نے اگر مجلس میں لوگوں سے اپنے لئے کچھ سوال کیا تویہ عمل حلال نہیں، کیونکہ یہ علم کے ذریعہ دنیا کا حصول ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ البا ب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۱۹)
یہ امر ان لوگوں پر واردجنھوں نے وعظ کو پیشہ اور نجارہ دینا حاصل کرنے کا تیشہ بنا رکھا ہے اور شک نہیں کہ عبادات وحسنات پر اُجرت لینا حرام اور اس کی تحریم علی الاطلاق پر احادیث ومذہب منصوص ائمہ کرام مگر جس کی نیت لوجہ اللہ ہو اس پر اوروں کے فعل سے اعتراض نہیں،
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۱؎۔
(۱؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)
اعمال کا مدارنیت پر ہے، ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جو اس نے نیت کی، اور اللہ تعالٰی مصلح اور مفسد کو جانتاہے۔ اور تو بدگمانی سے پرہیز کر کیونکہ بدگمانی بُری بات ہے، الحدیث (ت)
بلکہ بعض علماء نے وعظ کو بھی ان امور مستثناۃ میں داخل کیا جن پر اس زمانہ میں اخذ اجرت مشائخ متاخرین نے بحکم ضرورت جائز رکھا۔
ردالمحتارمیں ہے :
قال فی الہدایۃ وبعض مشائخنا رحمہم اﷲ تعالٰی استحسنوا الاستیجار علی تعلیم القراٰن الیوم لظہور التوانی فی الامور الدینیۃ ففی الامتناع تضییع حفظ القراٰن وعلیہ الفتوی اھ وقد اقتصر علی الاستثناء تعلیم القراٰن ایضا فی متن الکنز، ومتن مواہب الرحمٰن وکثیر من الکتب، وزاد فی مختصر الوقایۃ، ومتن الاصلاح، تعلیم الفقۃ، وزاد فی متن المجمع الامامۃ، ومثلہ فی متن الملتقی ودررالبحار، وزادبعضہم الاذان والاقامۃ والوعظ وذکر المصنف معظمہا ولکن الذی فی اکثر الکتب الاقتصار علی مافی الہدایۃ، فہذا مجموع ماافتی بہ المتاخرون من مشائخنا وھم البلخیون علی خلاف فی بعضہ مخالفین ماذھب الیہ الامام وصاحباہ، وقد اتفقت کلمتہم جمیعا فی الشروح والفتاوٰی علی التعلیل بالضرورۃ وھی خشیۃ ضیاع القراٰن کما فی الہدایۃ ۱؎ الٰی اٰخرما افاد و اجاد رحمہ الجواد۔
ہدایہ میں فرمایا ہمارے بعض مشائخ نے آج کل دینی امور میں سستی کی وجہ سے قرآن کی تعلیم پر اُجرت لینے کو بہترقرار دیاہے تو اس سے پرہیز کرنے پر قرآن پاک کا حفظ خطرہ میں پڑ سکتاہے۔ اور اسی پرفتوٰی ہے اھ، اورقرآن کی تعلیم پر اجرت کو عدم جواز سے مستثنٰی قرار دیا ہے کنز، مواہب الرحمان، اور بہت سی کتب میں بھی اسی طرح ہے اور مختصروقایہ اور الاصلاح کے متن نے تعلیم القرآن کے ساتھ تعلیم فقہ کو زائد کردیا ہے۔ اور مجمع کے متن میں امامت کو زائد ذکرکیا اور اسی طرح ملتقی ودررالبحار میں ہے، اور بعض نے اذان واقامت اور وعظ کو بھی شامل کیا ہے، او رمصنف نے مذکور معظم امور کو ذکر کیالیکن اکثر کتب نے ہدایہ میں مذکور پر اکتفاء کیا ہے اور ہمارے مشائخ متاخرین کے فتووں کا یہ مجموعہ ہے اور بلخی حضرات ہیں جبکہ ان میں سے بعض نے بعض میں اختلاف بھی کیاہے، ان متاخرین نے خلاف کیا مسلک اما م اور صاحبین کے، اور شروح و فتاوٰی سب نے جواز کی علت ضرورت کو قرار دیا ہے اور وہ قرآن کے ضیاع کا خطرہ ہے، جیسا کہ ہدایہ میں تا آخر اس کا بہترین افادہ فرمایا۔ اللہ تعالٰی ان کواپنی رحمت سے نوازے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتارکتاب الاجارۃ باب الاجارۃالفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۳۴، ۳۵)
فتاوٰی امام اجل قاضیخاں میں ہے :
صاحب العلم اذا خرج الی القری لیذکر ھم فیجمعوا لہ شیئا حکی عن ابی اللیث رحمہ اﷲ تعالٰی انہ قال کنت افتی انہ لایخرج الی القری ثم رجعت عن ذٰلک ۲؎۔
عالم شخص جب دیہاتوں میں وعظ کے لئے جائے اور وہ اس کے لئے کچھ نذرانہ جمع کریں تو اسے چاہئے کہ وہ دیہات میں نہ جائے، یہ بات ابواللیث رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے انھوں نے فرمایامیں یہ فتوٰی دیاکرتا تھا پھر میں نے اس سے رجوع کرلیا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۹۵)
اسی طرح خلاصہ میں نقل کیا:
(وزاداخذ الاجرۃ علی تعلیم القراٰن ودخول العالم علی السلطان) وقال فرجعت عن الکل تحرزا عن ضیاع القراٰن (والعلم والحقوق) ولحاجۃ الخلق، ولجہل اہل الرستاق ۳؎ اھ مانقلہ عن الفقیہ النبیہ رحمہ اﷲ تعالٰی۔
اور تعلیم قرآن پر اُجرت اور عالم کا سلطان کےپاس جانا زائد بیان کیا اور فرمایا میں نے اس سے رجوع کرلیا قرآن، علم، حقوق کے ضیاع سے بچاؤ کے لئے اور عوام الناس کی حاجت اوردیہاتیوں کی جہالت کی وجہ سے، انھوں نے جو بیدار مغز فقیہ ابولیث رحمہ اللہ تعالٰی سے نقل کیا وہ ختم ہوا۔ (ت)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الفصل الثانی مکتبہ حبییہ کوئٹہ ۴ /۳۱۔ ۳۳۰)
پس اگر صورت مظہرہ فی السوال واقعی ہے اور حالت زید وہ ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی تو بیشک ایسے بندہ خدا کو بد و حرام خور کہنا سخت گناہ وناسزا، اور قائل شرعا مستوجب تعزیر وسزا،
ہندیہ میں ذکر ہے :
ان ذکر اہل العلم بالتحقیر وجب علیہ التعزیر ۱؎۔
جو اہل علم کاذکر تحقیر سے کرے وہ واجب التعزیر ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحدود فصل فی التعزیر نورنی کتب خانہ پشاور ۲/ ۶۹۔ ۱۶۸)
بخلاف ان مبتدعا ن سنی نما کے جواس زمن فساد وفتن میں اضلال واغوائے جہال کو ادعائے تسنن کرتے اور اپنی ضلالت مخترعہ وجہالت مبتدعہ کو کہ قریب زمانے میں ان کے تازہ پیشواؤں نے تراشیں، بنام سنت جلوہ دیتے، اوران کی مخالفت کو بدعت ضالہ ومخل اصل ایمان بتاتے، او رصدہا امور جائزہ بلکہ مستحبہ کو بزور زبان و زور وبہتان شرک وبدعت ویقینی العقوبۃ وناقابل مغفرت ٹھہراتے، اور شرقاً و غرباً ،عجماً وعربا بلکہ سلفاً وخلفا عامہ المسلمین واہل دیانت ودین کو مشرک بدعتی بتاتے ہیں ایسے لوگوں کے بدوبدتراز بد ہونے میں کوئی شبہ نہیں، نہ وہ ہرگز تعظیم علم وعلماء کے مستوجب، بلکہ شرعاً ان کی تحقیر واجب۔
حدیث میں ہے :
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان ھدم الاسلام ۲؎۔
جس نے اہل بدعت کی توقیر کی اس نے اسلام کو کمزور کرنے میں مدد دی۔ (ت)
پھر ایسے لوگوں کی تذکیر ضلالت تخمیر ہرگز اس فتوٰی بعض متاخرین میں داخل نہیں ہوسکتی کہ انھوں نے ضرورت دینی کے لئے جواز رکھا نہ کہ معاذاللہ ضرر دینی کے لئے، ان کا وعظ معصیت ہے اور معاصی پر اجارہ مطلقا اجماعا بلااستثناء حرام، تو یہ لوگ اگر اپنے وعظ پر اجرت لیں خواہ بتصریح شرط یا بصورت حال معہودومعروف
فان المعہود عرفا کالمشروط لفظا
(عرف میں معلوم چیز لفظی مشروط کی طرح ہے۔ ت) تو بلاشبہ وہ ان کے لئے حرام او ریہ حرام خور ہوں گے، جہاں یہ صورت ہو وہاں بد و حرام خور کہنے والے پر اصلاالزام نہیں، بلکہ وہ ٹھیک کہتاہے۔ اس امر کا لحاظ ضرور چاہئے۔
نسأل اللہ الہدایۃ الی سبیل الاقوم
(ہم اللہ تعالٰی سے مضبوط راستے کے طلبگار ہیں۔ ت) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔