Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
63 - 120
ردالمحتارمیں ہے:
للمالک تضمین ایہما شاء، ثم ان ضمن المشتری بطل البیع وللمشتری ان یرجع علی البائع بثمنہ، لابما ضمنا اھ ملخصا۔۱؎
مالک کو اختیار ہے دونوں میں سے جس کوچاہے ضامن بنائے پھر اگر مشتری کو ضامن بنایا تو بیع باطل ہوجائے گی، اور مشتری کواختیار ہوگا کہ بائع سے ثمن واپس لے لے، دیا ہوا ضمان نہ لے اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ ردالمحتار )
یہ سب احکام اس مذہب پر تھے کہ بیع مذکور بوجہ عدم قدرت علی التسلیم باطل ٹھہرے اور حضرت امام مذہب سیدنا امام اعظم ومحرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ایک روایت پر ایسی بیع صرف فاسد ہوتی ہے نہ باطل۔
لقیام الملک والمالیۃ فکان عقدا صادرا عن اھلہ فی محلہ فلاوجہ لبطلانہ و یاتیک کلام الفتح لبیانہ۔
ملک اور مالیت موجود ہونے کی وجہ سے تویہ ایسا عقد ہے جواہل سے اپنے محل میں صادر ہوا لہذا اس کے باطل ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور اس کے بیان میں فتح کا کلام آئے گا۔ (ت)

اسی کو امام اجل قاضی اسبیجابی اور اساتذہ امام شمس الائمہ سرخسی سے دوسری جماعت نے اختیار کیا،
کما فی الہندیۃ
(جیسا کہ ہندیہ میں ہے۔ ت) اور اسی کو امام ابوالحسن کرخی نے اخذ فرمایا:
کما فی الدر
 (جیسا کہ در میں ہے۔ت) اور اسی کو امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں ترجیح دی اور اس کی تحقیق میں بحث نفیس افادہ کی، اور اسی کو متن تنویر میں مقدم ومرجح رکھا، 

درمختار میں ہے:
القول بفسادہ رجحہ الکمال ۲؎۔
اس کے فساد کے قول کو کمال نے ترجیح دی ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب البیوع   باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۵)
ردالمحتارمیں ہے:
حیث قال والوجہ عندی ان عدم القدرۃ علی التسلیم لامبطل واطال فی تحقیقہ ۳؎۔
جہاں انھوں نے فرمایا میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ قبضہ دینے کی قدرت نہ ہونا مفیدہے مبطل نہیں ہے، اورانھوں نے اس کی تحقیق میں طویل کلام فرمایا۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار   کتاب البیوع   باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۱۳)
اور ظاہراً یہی من حیث الدلیل ازہر ہے۔ فتح میں فرمایا: وقول من قال المحلیۃ کونہ مالامملوکا مقدورالتسلیم ان عنی محلیۃ البیع الصحیح فنعم والافلا، بل محل البیع المال المملوک للبائع اولغیرہ، فان کان لہ فنافذ، اولغیرہ فموقوف، والنافذ اما صحیح ان کان مبیعہ مقدورالتسلیم لیس فیہ شرط فاسد، والاففاسد ۱؎ اھ۔
جس نے یہ کہا کہ محل بیع چیز کا مملوک ہو کر مقدورالتسلیم ہونا ہے اگر اس سے مراد صحیح بیع کا محل ہے تو درست ہے ورنہ اس کو مطلق بیع کا محل قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ مطلق بیع کا محل صرف مال کا بائع کی ملک ہونا یا غیر کی ملک ہونا ہے تو اگر بائع کی ملک ہو توبیع نافذ ہوگی اگرغیر کی ملک ہو تو نافذ نہ ہوگی بلکہ موقوف رہے گی اور بیع نافذ کبھی صحیح ہوتی ہے جب مبیع مقدورالتسلیم ہو اور اس میں کوئی فاسد شرط نہ ہو ورنہ فاسد ہوتی ہے۔ اھ (ت)
(۱؎ فتح القدیر    کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۶۰)
اس مذہب پر اگرچہ یہ عقد ناجائز وممنوع، اور عاقدین پر واجب کہ اسے فسخ کرلیں، زمیندار مشتریوں کو ثمن پھیردیں، مشتری تالابوں سے کنارہ کریں،
لان الفساد لحق لشوع فیجب اعدامہ برفع العقد۔
کیونکہ یہ فساد شرعی حق کی بنا پر ہے تو عقد کو ختم کرکے اس فساد کو ختم کرنا ضروری ہے (ت)

مگراگر انھوں نے فسخ نہ کیا یہاں تک کہ مچھلیاں تالاب سے شکار ہوئیں، اورقبضے میں آگئیں تو اب وہ بیع کہ فاسد تھی صحیح ہوگئی کہ سبب فساد کہ تعذرتسلیم وتسلم تھا، نہ رہا، کہ ان سے جو مقصود تھا یعنی مشتری کا قبضہ، وہ حاصل ہوگیا، 

فتح القدیر میں ہے :
انک علمت ان ارتفاع المفسد فی الفاسد یردہ صحیحا، لان البیع  قائم  مع  الفساد  و ارتفاع  المبطل لا ۲؎ الخ
تجھے معلوم ہے کہ فاسد میں مفسد کا ختم ہوجانا بیع کو صحیح بنادیتاہے کیونکہ فاسد صورت میں بیع باقی مع الفساد رہتی ہے اور باطل صورت میں مبطل کے ختم ہوجانے پر بیع صحیح نہیں ہوسکتی الخ (ت)
 (۲؎فتح القدیر    کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مکتبہ نوریہ رضوسیہ سکھر    ۶ /۶۰)
اسی میں ہے :
المقصود عن القدرۃ علی التسلیم ثبوت التسلم فاذا کان ثابتا حصل المقصود ۱؎۔
قدرۃ علی التسلیم سے مقصود قبضہ دینے کا ثبوت ہے تو جب یہ حاصل ہے تو مقصود حاصل ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۵۹)
بالجملہ یہ دو قول ہیں۔ دونوں قوت پر، دونوں جانب ائمہ فتوٰی، دونوں طرف ترجیح وافتا، ایک اگر من حیث الروایۃ اقوٰی، دوسرا من حیث الدرایۃ اجلی، مگر قول اول یعنی بطلان پر وہ روپیہ کہ بنام ثمن زمینداروں نے لیا ان کے لئے حرام، مچھلیاں کہ مشتریوں نے لیں ان کے لیے حرام، کھائیں تو حرام، کھلائیں تو حرام، بیچیں تو حرام، بیچ کر جو ثمن حاصل کریں تو حرام، ان سے جولوگ مول لیں واقع میں ان کے لئے خریداری حرام، کھاناحرام، کھلانا حرام، زمیندار غاصب، تالاب لینے والے غاصب، شہر بھر کی مچھلیاں مول لینے والے غاصب، یہ عالمگیردقتیں ہیں، بخلاف قول ثانی یعنی فساد ابتدائی وصحت انتہائی کہ اس میں یہ ساری خرابیاں مرتفع ہیں، تو مسلمانوں پر آسانی کے لئے اگر اسی قول پر فتوٰی دیں بیشک انسب والیق ہے، حضور پر نور سیدالمرسلین رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یسرواولاتعسرواوبشروا ولاتنفروا ۲؎۔ اخرج احمد والشیخان والنسائی عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
آسانی کرو اور دشواری میں نہ ڈالو، اور خوشخبری د وا ور نفرت نہ دلاؤ، (اس کو احمد، بخاری ومسلم اور نسائی نے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری    کتاب العلم            قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۶)
اس تقدیر پر خلاصہ حکم یہ ٹھہرا کہ اگر مچھلیاں ملک زمینداران نہ تھیں، تو بیع باطل اور مچھلیاں شکار کرنے والوں کی ملک ہوئیں، اور ان سے خریدنا بلاتکلف روا، زمینداروں پر فرض ہے کہ جو روپیہ بنام قیمت ان سے لیا انھیں واپس دیں اور اگر مملوک زمینداران تھیں اور بے شکار کے قبضہ میں آسکتیں تو بیع صحیح اور ثمن وسمک ہر بائع ومشتری ومشتری مشتری کے واسطے حلال وطیب، اوربے شکار ہاتھ نہ آئیں تو زمیندار و مشتری اس بیع سے گنہ گار ہوئے مگر جب مچھلیاں(عہ) شکار کرلی گئیں تو مچھلیوں اورقیمتوں کا وہی حکم ہوگیا جو بیع صحیح میں تھا کہ سب کےلئے حلال، غرض اس مذہب پر مشتریوں اور ان سے خریدنے والوں کے لئے مچھلیاں بہر صورت حقیقۃً وحکماً حلال ہی رہتی ہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: اصل میں یہاں ''ترک'' کی علامت بنی ہوئی ہے اس لئے انداز ے سے عبارت بنادی گئی ۱۲
Flag Counter