Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
62 - 120
مسئلہ ثانیہ:  تالاب کی مچھلیاں بیچ ڈالنا۔

اقول: یہاں بھی وہی تین صورتیں ملحوظ ہوں گی: صورت سوم میں کہ مچھلیاں ملک زمیندار نہیں، یہ بیع بالاجماع باطل ہوگی
لانہ بیع مالیس فی ملکہ
 (کیونکہ یہ ایسی چیز کی بیع ہے جو ملک میں نہیں ہے۔ت) اور مچھلیاں کہ خریدنے والوں نے پکڑیں ان کی ملک خاص ہوں گی جن میں زمینداروں کو مزاحمت نہیں پہنچتی
لانہم سبقوا الی مباح
(کیونکہ مباح چیز میں انھوں نے سبقت کرلی ہے۔ ت) اور جو قیمت ان سے لی واپس کریں
لانعدام العقد شرعا
(شرعی عقدنہ ہونے کی وجہ سے۔ ت) اور اگلی دو صورتوں میں کہ مچھلیاں ملک زمیندار ہیں، اگر بلاحیلہ تالاب سے پکڑی جاسکتی ہیں تو بیع بالاجماع صحیح
لانہ بیع مملوک مقدورالتسلیم
(کیونکہ یہ مقدور التسلیم مملوکہ چیز کی بیع ہے۔ ت) اس صورت میں قیمت زمینداروں اور مچھلیاں خریداروں کو بالاجماع حلال و طیب ہونگی
کما لایخفی، وقدمنا جوازہ عن الفتح ۱؎ وقا ل فی الذخیرۃ یجوز البیع عندھم جمیعا ۲؎
(جیسا کہ مخفی نہیں۔ اور ہم اس کا جوا زفتح کے حوالے سے پہلے ذکرچکے ہیں اور ذخیرہ میں کہاکہ سب کے نزدیک بیع جائز ہے۔ ت)
 (۱؎ فتح القدیر     باب البیع الفاسد    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۴۹)

(۲؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب البیوع الباب التاسع الفصل الرابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۱۱۴)
اور اگر بغیر جال وغیرہ طرق شکار کے ہاتھ نہیں آسکتیں اوراکثر یہی ہوتا ہے، تو بیع ناجائز ہونے پر اتفاق، اور اس کے بطلان وفساد میں اختلاف، امام شیخ الاسلام ومشائخ بلخ اور اساتذہ امام شمس الائمہ سرخسی سے ایک جماعت کے مذہب پر ایسی بیع باطل ہے۔
لان محل البیع مال مقدور التسلیم فاذا انتفی انتفی،
کیونکہ بیع کا محل وہ چیز ہے جو مقدور التسلیم مال ہو تو جب یہ نہ ہو تو بیع نہ ہوگی۔ (ت)

اسی پر امام بلخی (عہ۱) یا ثلجی فتوٰی دیتے اور اسی کو امام برہان مرغینانی صاحب ہدایہ وغیرہ نے اختیار فرمایا اوریہی
من حیث الروایۃ اظہر ہے، یظہر ذٰلک بمراجعۃ الہندیۃ والدرالمختار۱؎ وردالمحتار۲؎۔
یہ بات ہندیہ، درمختار، ردالمحتار وغیرہ کی طرف مراجعت کرنے پر ظاہر ہوگی۔ (ت)
عہ۱: علی اختلاف العزوففی الدر۳؎بالموحدۃ والخاء وفی الفتح بالمثلثۃ والجیم کما فی ش ۴؎ عن ط ۱۲ منہ
نسبت کا اختلاف درمختارمیں ب اور خ کے ساتھ ''بلخی'' اور فتح میں ث اورج کے ساتھ ''ثلجی'' ہے جیسا کہ شامی نے طحطاوی سے نقل کیا ہے۔ (ت)
 (۱؂و۳؎ درمختار  کتاب البیوع  باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۵)

(۲؂و۴؎ ردالمحتار  کتاب البیوع  باب البیع الفاسد   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۱۳)
غیاثیہ میں فرمایا:
قالوا المختار ھذا نقل عنہا فی العالمگیریۃ ۳؎۔
فقہاء نے فرمایا مختار یہی ہے کہ عالمگیری میں یہ اس سے منقول ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی غیاثیہ   کتاب البیوع الفصل الثانی    مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۴۳)
اس مذہب پر مچھلیاں کہ مشتریوں نے پکڑیں بدستور ملک زمیندار ان پرہیں اور قیمت کہ زمینداروں نے لی بدستورملک مشتریان، ان پر فرض کہ قیمت پھیریں، ان پر لازم کہ پکڑی ہوئی مچھلیاں زمینداروں کو دیں اگر انھوں نے مچھلیاں صرف کرلیں تو بازار کے بھاؤ سے جو قیمت مچھلیوں کی ہو زمینداروں کے لئے ان کے ذمے واجب الادا ہوئی، 

درمختارمیں ہے:
البیع الباطل حکمہ عدم ملک المشتری ایاہ اذاقبضہ فلاضمان لو ھلک المبیع عندہ لانہ امانۃ الخ ۴؎۔
باطل بیع کاحکم یہ ہے کہ مشتری اس کا مالک نہ بنے گا، اس کے قبضہ میں ہلاک ہوجائے تو ضمان نہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس یہ چیزامانت تھی الخ (ت)
 (۴؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۴)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لانہ امانۃ وذٰلک لان العقد اذا بطل بقی مجرد القبض باذن المالک، وھو لایوجب الضمان الابالتعدی، درر ۵؎۔
ماتن کا قول ''کیونکہ امانت ہے'' یہ اس لئے کہ جب عقد باطل ہوگیا تو اب نرا قبضہ رہ گیا جومالک کی اجازت سے حاصل ہوا تھا لہذا تعدی کے بغیر اس پر ضمان واجب ہوگا۔ درر (ت)
(۵؎ ردالمحتار   کتاب البیوع باب البیع الفاسد   داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۰۵)
اسی میں ہے :
یکون مضمونا بالمثل اوبالقیمۃ ۱؎
(تعدی کی صورت میں ضمان بالمثل یابالقیمۃ ہوگا۔ ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۰۵)
پس اگر یہ قیمت اور وہ زرثمن کہ زمینداروں نے ان سے لیا تھا برابرہیں فبہا ورنہ جس کی طرف زیادتی ہو دوسرے کو اداکرے، مثلا مشتریوں نے پانچ روپے دئے تھے اور مچھلیاں کہ صرف کرلیں بازار کے بھاؤ سے دس روپے کی تھیں، تو پانچ روپے زمینداروں کو اور دیں، اور ایک روپیہ کی تھیں تو چارروپے زمینداروں سے پھیرلیں، اور اگر مشتریوں نے بیچ ڈالیں تو جن جن کے ہاتھ بیچیں وہ سب بیعیں اجازت زمینداروں پر موقوف رہیں گی، جب تک مچھلیاں اور وہ بائع ومشتری وزمیندار باقی ہیں زمینداروں کو اختیار ہے چاہے بیع جائز کردیں اور قیمت خود لے لیں یا فسخ کردیں اور مچھلیاں واپس لیں،
کما ھوحکم بیع الفضولی، ومعلوم ان الاجازۃ انماتلحق الموجوددون المعدوم، فیشترط لہا قیام العاقدین والمقعود علیہ، وکذا المجیز، حتی لم یکن لوارثہ ان یجیز کمافی الدرالمختار وغیرہ۔
جیسا کہ بیع الفضولی کاحکم ہے، اورظاہر ہے کہ اجازت موجود چیز کو لاحق ہوسکتی ہے معدوم چیز کو نہیں، تو اس لئے اس وقت عاقدین اور معقود علیہ چیز کا موجود ہونا شرط ہے اور یوں اجازت دینے والے کا موجود ہونا بھی ضروری ہے اس لئے اس کے وارث کو اجازت دینے کاحق نہ رہے گا جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ (ت)

اوراگرہنوز زمینداروں نے اجازت نہ دی تھی کہ مچھلیاں ان مشتریوں سے خریدنے والوں کے پاس صرف ہوگئیں تو زمیندار مختارہیں، بازار نرخ سے ان مچھلیوں کی قیمت اپنے مشتریوں، خواہ ان کے خریداروں جس سے چاہیں وصول کرلیں، اگر اپنے مشتریوں سے لینا چاہیں تو وہی حکم ہوگا کہ ثمن ان سے لے چکے تھے اس کاحساب کرلیں اوردوسروں سے لیں تو وہ اپنا دیا ہوا ثمن مشتریوں یعنی اپنے بائعوں سے واپس لیں اور مشتری اپنا دیا ہوا ثمن زمینداروں سےغرض ان احکام کے بیان سے یہ ہے کہ اس قول پر کیا کچھ انقلاب ہوتے ہیں اورکیسی کیسی دقتیں لازم آتی ہیں، جن کا اثر شہر کی عام مخلوق پرپہنچے گا،
Flag Counter