Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
61 - 120
مسئلہ ۱۴۷ تا ۱۴۹: مرسلہ حاجی الہٰ یار خاں صاحب ۱۱ رجب ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ(۱) فی زماننا زمیندار اپنے اپنے گاؤں کے تالابوں یا جھیلوں یا دریا سے جو اپنے گاؤں کی حد میں ہوتاہے مچھلیاں پکڑواتے ہیں اور نصف حق زمین داری سے آپ لیتے ہیں اور نصف پکڑنے والے کو دیتے ہیں، اور زمیندار تالاب یا جھیلوں یا دریا کو اپنا مملوکہ جانتے ہیں اور تالاب وغیرہ سے بغیر جال کے مچھلیاں پکڑنے پر قادر نہیں ہیں ، (۲) او رکبھی ایسا ہوتا ہے کہ مچھلیاں ان تالابوں یا جھیلوں کی فروخت کر ڈالتے ہیں یعنی کھار وغیرہ، وتالاب مول لے لیتے ہیں جس قدر مچھلیاں اس میں ہوتی ہیں وہ جال وغیرہ سے شکا ر کرکے لے جاتے ہیں، جابجا گاؤں میں اس کارواج ہے۔ اور کسی اسامی کو اس میں کچھ عذر بھی نہیں ہوتا، (۳)اور گھاس بھی گاؤں کی زمیندار فروخت کرتاہے، اس کو بھی اپنا مملوکہ سمجھ رہا ہے، اور رواج بھی ہے، اس میں بھی کسی دوسرے گاؤں وغیرہ کی رعایا کو کچھ عذر نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ خود خرید لیتے ہیں یہ درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب اللہم ھدایۃ الحق والصواب۔ یہ سوال تین مسئلوں پر شامل ہے:

مسئلہ اولٰی:  زمینداروں  کا اپنے دیہات کے تالابوں سے مچھلیاں نصف پر صیدکرانا۔

اقول: وباللہ التوفیق اس کے جواب میں اول تنقیح اس امر کی ضرور ہے کہ آیا وہ مچھلیاں زمینداروں کی مملوک ہیں یا نہیں، اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر زمینداروں نے وہ تالاب اس غرض کے لئے مہیا کئے ہیں کہ برسات کے پانی جو ندیوں سے مچھلیاں بہا کر لائیں ان میں فراہم ہو کر ہمارے ملک میں آئیں تو بلاشبہ جو مچھلیاں ان میں جمع ہوں گی ان زمینداروں کی ملک خاص ہوں گی، اور اگر تالاب اس لئے مہیا نہ کئے مگر جب پانی بہا کر لایا انھوں نے ان کی روک کرلی، کوئی مینڈھا وغیرہ ایسا باندھ دیا کہ اب مچھلیاں بہاؤمیں نہ نکل جائیں تو بھی وہ مچھلیوں کے مالک ہوگئے، ان دونوں صورتوں میں کسی کو بلااذن زمینداران ان مچھلیوں کا پکڑنا اور اپنے تصرف میں لاناجائز نہیں یہاں تک کہ اگر کوئی صید کرے تو زمیندار کہ شرعاً اس کا مالک ہے ایک ایک مچھلی اس سے واپس لے سکتاہے اور اگر ان صورتوں سے کچھ نہ تھا، نہ تالاب انھوں نے اس غرض کے لئے مہیا کئے نہ بعد مچھلیاں آنے کے ان کی روک کی، تو البتہ وہ مچھلیاں اپنی اباحت اصلیہ پر باقی ہیں کہ انھیں جو پکڑے گا مالک ہوجائے گا، اور زمیندار کو اس سے واپس لینا جائز نہ ہوگا کہ وہ کسی خاص شخص کی ملک نہیں،
ردالمحتار وفتح القدیر وغیرہما میں ہے: اذا دخل السمک فی خطیرۃ فاما ان یعدھا لذلک اولاففی الاول یملکہ ولیس لاحد اخذہ ثم ان امکن اخذہ بلاحیلۃ جازبیعہ لانہ مملوک مقدور التسلیم والالم یجز لعدم القدرۃ علی التسلیم، وفی الثانی لایملکہ فلایجوز بیعہ لعدم الملک الاان یسد الخطیرۃ اذا دخل، فح یملکہ ثم ان امکن اخذہ بلاحیلۃ جاز بیعہ و الافلا ۱؎۔
جب مچھلی تالاب میں آجائے تو اگر جال اسی غرض سے لگایا گیا تھا تو مچھلی کا مالک ہوجائے گا، اس موقعہ پر دوسرے کو وہ مچھلی پکڑنے کا حق نہیں پھر اس حال میں وہ تالاب میں آئی مچھلی کوحیلہ سازی کے بغیر پکڑ سکتاہے، تو اس حالت میں اس مچھلی کو فروخت کرسکتاہے کیونکہ وہ اس کی ملک ہوچکی ہے جس پرقبضہ دینا ممکن نہیں ہے اور اگر حیلہ کے بغیر پکڑی نہ جاسکے تو اس کی بیع ناجائز ہے کیونکہ وہ مقدور التسلیم نہیں ہے اور دوسری یعنی تالاب اس مقصد کے لئے نہ لگایا گیا ہو، اس صورت میں مچھلی کا مالک نہ بنے گا لہذا فروخت بھی نہ کرسکے گا ہاں اگر اس صورت میں مچھلی داخل ہوجانے پر تالاب کو بند کرلے تو اب مالک ہوجائے گا اور حیلہ کے بغیر پکڑنے پر قادر ہو تو جائز ورنہ نہیں (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب  البیوع باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۰۶)

(فتح القدیر     باب البیع الفاسد        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۶ /۴۹)
پس دو صورتوں پیشیں میں کہ زمیندار مالک ماہی ہیں اگر انھوں نے نصف خود لیں ہر گز ظلم نہ کیا کہ وہ کل انھیں کی ملک تھیں بلکہ اگر زمیندار بعد اخذ وشکار ایک نصف مچھلیوں کا جدا کرکے برضائے خود اپنی طرف سے ہبہ صحیحہ تامہ نہ کردیں تو ان کے پکڑنے والوں پر لازم کہ یہ نصف بھی زمینداروں ہی کو واپس دیں اگر چہ ان میں باہم اس شکار کی اُجرت میں نصف مچھلیوں کا قرار داد ہولیا ہو کہ ایسا جارہ ہی شرعا فاسد ہے، غایت یہ کہ اس عقد اجارہ کی صورت میں اپنی محنت کی اجرت مثل لے لیں جو ان نصف مچھلیوں کی قیمت سے زائد نہ ہوں، مثلا جتنی دیر انھوں نے دام کشی کی اس کی اجرت مثل (۴/) ہوتے ہیں اور مچھلیاں( ۸/) یا اس سے زائد قیمت کی پکڑی گئیں جب تویہ پورے (۴/) کے مستحق ہیں اور کم کی شکار ہوئیں تو آدھی مچھلیوں  کے جو دام ہوں اس سے زیادہ نہ پائیں گے، فرض کیجئے جال میں (۶/) کی مچھلیاں آئیں تو انھیں (۳/) ملیں گے اور( ۲/) کی تو ایک ہی آنہ، اور سو روپے کی تو وہی (۴/)،  

درمختارمیں ہے:
لودفع غزلا لاٰخر لینسجہ لہ بنصفہ ای بنصف الغزل او استاجر بغلالیحمل طعامہ ببعضہ اوثورا لیطحن برہ ببعض دقیقہ، فسدت فی الکل لانہ استاجرہ بجزء من عملہ ۲؎۔
اگر کسی دوسرے کو سوت دیا کہ نصف پر بُن دے، یاخچر والے کو کہا غلہ نصف کے بدلے اٹھالے جا، یا بیل والے کو کہا کہ گندم کو کچھ آٹے کے بدلے پیس دے تو کل میں اجرت فاسد ہوگی کیونکہ اجیر کے بعض عمل کے بدلے اجارہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب  الاجارہ باب الاجارۃ الفاسدۃ    مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۱۷۹)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ فسدت فی الکل ویجب اجر المثل لایجاوز بہ المسمی زیلعی قولہ بجزء من عملہ، ای ببعض مایخرج من عملہ، والقدرۃ علی التسلیم شرط، وھو لایقدر بنفسہ زیلعی۔۱؎
ماتن کا قول ''کل میں فاسد ہوگا'' اورمثلی اجرت واجب ہوگی جو مقررہ سے زائد نہ ہو زیلعی، اور اس کا قول ''اس کے عمل کے بعض پر'' یعنی اس کے عمل سے حاصل شدہ کے بعض کے بدلے اور قبضہ دینے کی قدرت شرط ہے جبکہ وہ خود بنفسہٖ اس پر قادرنہیں ہے۔ زیلعی۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الاجارہ    با ب الاجارۃ الفاسدۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۳۶)
اور صورت سوم میں جہاں زمیندار مالک ماہی نہیں ہوتے اگر زمینداروں نے ان شکار کرنے والوں کو اجارہ پر لیا اور وقت متعین کردیا، مثلا آج دوپہر یا شام تک جال ڈالو، تو اس صورت میں جتنی مچھلیاں جال میں آتی جائیں گی سب ملک زمیندار ہوتی جائیں گی جن میں شکار کنندگان کا کوئی حق نہیں، بلکہ وہی اپنے عمل کی اُجرت پائینگے تو اب بھی نصف مچھلیاں لینا ہر گز ظلم نہیں، بلکہ پکڑنے والے جو نصف لیں گے انھیں ناجائز ہے، ہاں اگر وقت معین نہ کیا تو بیشک مذہب راجح پر وہ مچھلیاں ملک شکار کنندگان ہوں گی، اور وہ کسی اجرت کے مستحق نہ ہوں گے
لکونہم عاملین لانفسہم
(اس لئے کہ وہ اپنے لئے خود عامل بن گئے۔ ت) صرف ا س چوتھی صورت میں یہ حکم ہے کہ زمینداروں کا نصف لینا ظلم ہے۔

 تنویر الابصارودرمختارمیں ہے :
استاجرہ لیصید لہ فان وقت لذلک وقتا جاز والا لا ،مجتبی، وبہ یفتی صیرفیۃ ۲؂اھ ملخصا۔
اگر کسی شخص کو شکارکرنےکے لیے اجرت پر رکھا اگر اس کے لیےوقت مقرر کیا تو جائز ہےورنہ نہیں ، مجتبی،اور اسی پر فتوی ہے ،صیرفیہ اھ ملخصاً (ت)
(۲؎ درمختار     کتاب الاجارہ    با ب الاجارۃ الفاسدۃ   مطبع مجتبائی دہلی   ۲ /۱۸۰)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ بہ یفتی صیرفیۃ قال فیہا ان ذکر الیوم فالعلف للاٰمر، والافللما مور، و ھذہ روایۃ الحاوی وبہ یفتی قال فی المنح وھذا یوافق ماقدمناہ عن المجتبی ومن ثم عولنا علیہ فی المختصر ۳؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم
اس کا قول، اسی پر فتوٰی صیرفیہ، اس کتاب میں ہے، اگر آج دن کا ذکرکیا ہو، تو چارہ آمر پر ہوگی ورنہ اجیر پر ہوگی یہ حاوی کی روایت ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، اور منح میں کہا مجتبٰی سے ہم نے جو پہلے نقل کیا ہے یہ اس کے موافق ہے اسی وجہ سے ہم نے مختصر میں اس پر اعتماد کیا ہے اھ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار     کتاب الاجارہ    با ب الاجارۃ الفاسدۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۳۹)
Flag Counter