Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
60 - 120
علامہ خیر الدرین رملی استاد صاحب درمختار، علامہ سید  اسعد مدنی مفتی مدینہ منورہ تلمیذ صاحب مجمع الانہر اپنے فتاویی میں فرماتے ہیں:
مااحسن التفصیل الاخیر ۳؎
(آخری تفصیل کیا ہی اچھی ہے۔ ت)
 (۳؎ فتاوٰی خیریہ   کتاب الاجارۃ    باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت        ۲ /۱۴۱)

(الفتاوٰی الاسعدیۃ    کتاب الاجارۃ        المطبعۃ الخیریۃ مصر        ۲ /۲۷۶)
فاضل شامی فرماتے ہیں :
قد اختلف الافتاء وقد سمعت مافی الخیریۃ ۴؎۔
فتوے مختلف ہیں جبکہ آپ نے خیریہ کا بیان سن لیا ہے۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار        کتاب الاجارۃ      باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۱)
اور فی الواقع یہ اس اعلٰی درجہ نفاست ومتانت واحتیاط رزانت ومراعات جانبین وحفظ مذہب و لحاظ زمانہ پر وقع اور تمام خوبیوں کاجامع ہے کہ خواہی نخواہی قلوب اس خاطر جھک جائیں اور تشتت اقوال و فتاوٰی کے پریشان کئے ہوئے ذہن سے سنتے سکون واطمینان پائیں، ہم امید کرتے ہیں کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے اور اس قول کو ان کے حضور عرض کیا جاتا بیشک پسند فرماتے، اس قول پر بھی مانحن فیہ (زیر بحث مسئلہ) میں ضمان لینا جائز نہیں کہ سائل تصریح کرتا ہے کہ وہ پیشہ ور معتبر دیانتدار ہے سالہاسال سے کام کرتارہا کبھی اس سے کوئی خیانت ماحفظ میں غفلت واقع نہ ہوئی برسوں کے بعد اتفاقا اس کے پاس سے یہ مال گم ہوگیا، یوں تو آدمی کے پاس اپنا مال باوجود حفظ تام و احتیاط کامل ضائع وہلاک ہوجاتاہے، پھر یہ نہ کہاجائے گا کہ وہ اپنے مال میں خائن ہے۔

بالجملہ جہاں تک نظر فقہی کی مجال ہے صورت مستفسرہ میں ضمان نہ آنا ہی اقوی الاقوال ہے :
  ولئن تتنزلنا فلاشک فی شدۃ قوتہ وانہ من احسن ماافتی بہ فلایمکن حجر المفتی عن الافتاء بہ ابدا فیاخیبۃ (عہ) من حکم علیہ بالغلط بغیا وحسدا وکیف یسوغ ذلک مع اختلاف الفتیا ھنالک ولکن الحسد حسک من تعلق بہ ھلک وفیما ذکرنا عبرۃ لمن اعتبر وتذکرۃ لمن ارادان یتذکر وھو جملۃ یسیرۃ من مباحث کثیرۃ فلئن قنع فقیہ مقنع والافعندنا بحمداﷲ افواج من الکلام فی میدان ھذا المقام فیہا العدود والعدۃ والباس والشدۃ فلئن لم ینتہ فسیری ان شاء اﷲ تعالٰی شوارق تحقیقات زھرت فبہرت عینو المنافقین وبوارق تدقیقات سطحت فقطعت قلوب العارضین وقولہ وانا متبری من الحول والقوۃ اذلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحابہ اجمعین اٰمین!
اگر بطور تنزل مان بھی لیں پھر بھی اس کی قوت میں شک نہیں اور وہ فتوٰی کے لئے نہایت احسن ہے تو کسی وقت بھی مفتی اس پر فتوٰی سے باز نہ رہے، خسارہ ہے اس شخص کو جس نے اس پر غلط ہونے کاحکم لگایا ہے حسد اور بغاوت کرتے ہوئے فتاوٰی کے اختلاف کے باوجود اس کی کیا گنجائش ہے، لیکن حسد ایسی مرض ہے جس کو لاحق ہوجائے ہلاک کردیتی ہے اور جو کچھ ہم نے ذکر کردیا ہے اس میں سوچ والے کے لئے عبرت ہے اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے اس میں تذکرہ ہے اور یہ کثیر مباحث کا آسان خلاصہ ہے اگر فہم والا اس پر قناعت کرلے تو یہ کافی ہوگا۔ ورنہ بحمد اللہ تعالٰی ہمارے پاس اس مقام میں کلام کا ذخیرہ ہے اس میں تعداد، تیاری، سختی اور شدت سب کچھ ہے اگر باز نہ آئے تو ان شاء اللہ وہ ایسی روشن تحقیقات کو دیکھے گاجو رونق افروز ہوکر منافقین کی آنکھوں کو پریشان کردیں گی اور ایسی چمک دار تدقیقات کو بھی جو پھیل کر معاوضہ کرنے والوں کے دلوں کو کاٹ دیں گی اور اس کی بات کو ختم کردیں گی اور میں اس حول اور قوۃ سے برأت رکھتاہوں کیونکہ حول او ر قوۃ اللہ تعالٰی عظیم وبلند کے سوا کسی سے نہیں ہے وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا ومولٰینا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین آمین! (ت)
عہ:  مولوی امیر احمد سہسوانی
مسئلہ ۱۴۶ : جناب مولوی صاحب! قبلہ وکعبہ وہ جہان سلامت! بعد آداب وتسلیمات کے فدوی خدمت مبارک میں یوں عرض کرتاہےکہ کمترین پہلے پیشہ معماری میں اپنی اوقات بسر کرتا تھا پھر منشی ثناء اللہ صاحب نے ایک مدرسہ تکیہ میں واسطے تعلیم القرآن مجیدکے تعمیر کرادیا اس میں انھوں نے مجھ کو واسطے تعلیم اطفال کے مقررکیا اس طرح کہ تم للہ لڑکوں کو قرآن پڑھاؤ اور ہم تمھارے اہل عیال کے خورد ونوش کے واسطے مبلغ چار روپیہ ماہوار للہ دیا کریں گے، میں اس امر کو قبول ومنظور کرکے پڑھاتا رہا، اسی تنخواہ پر قانع رہا کسی لڑکے سے کچھ

طلب نہ کیا، دو سال تو منشی صاحب تنخواہ برابر دیتے رہے بعد کو انھوں نے موقوف کردیا، چونکہ اور کوئی میری معاش نہ تھی مجبورا مکتب کوبدستور قائم رکھا، اور درس دیتا رہا، لیکن کسی شاگرد سےکچھ ماہوار متعین نہ کیا کہ مواخذہ آخر ت نہ ہو، ہاں جو کسی نے دے دیا سو لے لیا اور جس نے نہ دیا اس سے طلب نہ کیا،اب لڑکے بہت قلیل رہ گئے ہیں ان میں سے بھی بعض دیتے ہیں اور بعض نہیں دیتے جس میں کوئی( ۱۲/) ماہوار کا حساب ہوجاتاہے نوبت فاقہ کی بھی پہنچ جاتی ہے، اس پر قناعت کرکے شکر الٰہی بجالاتاہوں، اب مجھ پر ایک شخص نے یہ اعتراض کیا کہ جو کچھ لڑکوں سے مجھ کو ملتا ہے ہر طرح حرام ہے خواہ وہ اجرت سمجھ کردیں یا بطور عنداللہ۔ 

پس اس مسئلہ کو آپ سب صاحب سے دریافت کرتاہوں آیا یہ مال حلال ہے یا حرام؟ براہ خدا ا س کا جواب مزین بمہر کرکے عنایت ہو کہ تردد رفع ہو اور وہ معترض حدیث کا قائل ہے فقہ کانہیں
الجواب : سائل پر شرعا کوئی الزام نہیں اور جو کچھ اسے ماہوار مل جاتاہےحلال طیب ہے، اور کیفیت مذکورہ سوال سے اس کے نہایت صبر استقلال وطلب وجہ حلال وخوف مولٰی ذوالجلال پر دال ہے، جزاہ اللہ تعالٰی خیرا بلکہ اگر وہ سب پڑھنے والوں سے اپنا ماہوار مقرر کرلے جب بھی جائز ہے اور مذہب مفتٰی بہ پر اصلا مضائقہ نہیں۔
فی حاشیۃ البحرالرائق للعلامہ خیرالدین الرملی فی کتاب الوقف المفتی بہ جوا زالاخذ استحسانا علی تعلیم القراٰن ۱؎ الخ ومثلہ فی کثیر من الکتب۔
بحرالرائق پر خیر الدین رملی کے حاشیہ میں کتاب الوقف کی بحث میں ہے کہ تعلیم القرآن پر اجرت لینا مفتی بہ قول پر جائز ہے الخ ایسی عبارت کثیر کتب میں موجود ہے۔ (ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق   کتاب الوقف    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۵ /۲۲۸)
معترض کا اعتراض محض بیجا ہے اور اس کا یہ کہنا کہ للہ سمجھ کردیتے ہیں جب بھی حرام ہے۔ شریعت مطہر ہ پر کھلا ہوا افتراء اگر پڑھنے والوں نے اتنے تنگدست استاذ کی لوجہ اللہ خدمت کی کیا گناہ ہوا، اور استاد کو اس کا لینا کیونکرحرام ٹھہرا، یہ محض جہالت وتعصب ہے،

 اللہ جل وعلا فرماتاہے:
لاتقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفترواعلی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۱؎۔
اپنی زبانوں پر جاری جھوٹ والا قول نہ کرو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ تعالٰی پر جھوٹ  افتراء بناؤ، بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالٰی پر جھوٹ افتراء بناتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم   ۱۶ /۱۱۶)
اوراس سے بڑھ کر اس کا جہل مرکب یہ ہے کہ مسائل شرح سے انکار رکھتاہے، سبحان اللہ جہالت کی یہ حالت اور فقہاء سے نفرت، بیشک ایسے ہی لوگ حدیث سے احکام سمجھنے کے قابل ہیں انا ﷲ وانا الیہ راجعون o خیر اگر وہ حدیث ہی مانگیں تو خاص بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت ہے، 

سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان احق مااخذ تم علیہ اجرا کتاب اﷲ ۲؎۔
یعنی قرآن مجید سب چیزوں سے زیادہ اس لائق ہے کہ تم اس پر اجرت لو۔
 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب الطلب     باب الشروط فی الرقیتہ بقطیع من الغنم    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۵۴)
امام علامہ مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تیسیر شرح جامع صغیر حدیثی میں اس حدیث کی شرح لکھتے ہیں:
فاخذ الاجرۃ علی تعلیمہ جائز ۳؎ الخ۔
یعنی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن پڑھانے پر اُجرت لینا جائز ہے۔ الخ (ت)
(۳؎التیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی    تحت حدیث ان حق ما اخذ علیہ الخ    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض    ۱ /۳۰۹)
معترض پر فرض ہے کہ ان جہالتوں سے بازآئے اورمسائل شرع میں بے علم وفہم زبان کھولنے سے تو بہ کرے، ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ واللہ تعالٰی جل جلالہ اعلم۔
Flag Counter