فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
59 - 120
علامہ بیری شرح اشباہ میں غیر مذہب امام پر بعض جگہ فتوی دیاجانا ذکر کرکے کہتے ہیں:
ینبغی ان یکون ھذا عندعدم ذکر اہل المتون للتصحیح والافالحکم بما فی المتون کما لایخفی لانہا صارت متواترہ ۱؎۔
یہ اس وقت مناسب ہے جب متون میں تصحیح کا ذکر نہ ہو ورنہ حکم وہی ہوگاجو متون نے بیان کیا جیسا کہ مخفی نہیں کیونکہ ایسے میں وہ حکم متواتر ہوجاتاہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ شرح البیری مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۹)
محقق شامی آفندی حاشیہ درمیں بحث تخییرمفتی وقت اختلاف میں لکھتے ہیں :
اقول: وینبغی تقیید التخییر اٰیضابما ذا لم یکن احدالقولین فی المتون لما قد مناہ اٰنفا عن البیری ولما فی قضاء الفوائت من البحر من انہ اذا اختلف التصحیح والفتوٰی فالعمل بما وافق المتون اولی ۲؎۔
میں کہتاہوں اور مفتی کے اختیار پر یہ پابندی بھی مناسب ہے کہ جب متون می کوئی قول نہ ہو تو پھر اسے اختیار ہے جیسا کہ ابھی ہم نے بیری سے نقل کیا ہے اور بحرکے قضاء الفوائت سے نقل کی وجہ سے کہ جب تصحیح اور فتاوی میں اختلاف پایا جائے تومتون کے موافق عمل بہترہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۹)
ثانیا یہ قول ''قول امام ہے اور ہم قول امام سے عدول نہیں کرتے جب تک کوئی ضرورت یا ضعف حجت نہ ہو اوریہاں ضعف کیسا، جو قوت وشہرت ہے، علماء تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام نہ ترک کیا جائے اگرچہ مشائخ دوسرے قول پر فتوٰی دیں چہ جائے آنکہ جمہور اکابر کا فتوٰی اسی طرف ہو۔ پھر اسے مہجور کیا جائے،
بحرالرائق میں ہے :
بہٰذا ظہرانہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام لاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احد ھما اوغیرھما الالضرورۃ من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما ۳؎۔
اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر فتوٰی دیا جائے گا اور عمل کیا جائے گا اورصاحبین رحمھما اللہ یا ان میں سے ایک یا کسی غیر کے قول کی طرف عدول نہ کیا جائے گا الا یہ کہ پیش کردہ دلیل کمزور ہو یاتعامل اس کے خلاف ہو مثلا مزارعت کا تعامل ورنہ مطلقا فتوٰی امام صاحب کے قول پر ہوگا اگرچہ مشائخ تصریح بھی کردیں کہ فتوٰی صاحبین کے قول پرہیں۔ (ت)
یونہی مختار نہ ہوگا (یعنی فتاوٰی میں اختلاف کے موقعہ پر مفتی کو اپنی مرضی کا فتوٰی دینے کا اختیار نہیں) جبکہ ایک امام صاحب کا قول ہو اور مقابلہ میں کسی میں دونوں قول ہو، کیونکہ تعارض کی صورت میں دونوں قول ساقط ہوجاتے ہیں تو ہم اصل کی طرف راجع ہوں گے اور وہ امام کے قول کامقدم ہونا ہے الخ۔ (ت)
ولاشک ان قول الجمہور الذین منہم امامناخیرلنا من بعض لیس ھومنھم۔
اس میں شک نہیں جمہور جن میں ہمارے امام بھی ہوں وہ ہمارے لئے بہتر ہیں ان لوگوں کے مقابلہ میں جمہور میں شامل نہ ہوں۔ (ت)
رابعا خود حضور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث مروی ہے بخلاف اور مذاہب کےکہ وہاں حدیث مرفوع کا نام بھی سننے میں نہ آیا۔
خامسا قول امام پرفتوٰی دینے والے اجلہ ائمہ مالکان ازمہ ترجیح وافتاء معروفین بالاتفاق مشارالیہم بالبنان ہیں جیسے امام ابوللیث سمرقندی وامام محقق برہان الدین مرغنیانی وامام ظہیر الدین مرغینانی وامام افتخار الملۃ والدین طاہربن بخاری وغیرہم من الجلۃ الاکابر رحمۃاللہ تعالٰی علیہم اجمعین بخلاف مذہب صاحبین کہ اس پر فتوٰی غالبا بالفاظ نقارت وابہام منقول ہوا۔
من الناس من افتی بقولھما ۳؎
(بعض لوگوں نے صاحبین کے قول پر فتوٰی دیا ہے۔ ت) دوسری جگہ ہے:
قول بعضہم بہ یفتی ۴؎
(بعض نے یہ فتوٰی دیاہے۔ ت)
(۳؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارات باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۳۹)
(۴؎فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارات باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۴۱)
شرح کنزمیں ہے :
بہ یفتی بعضہم ۱؎
(اسی پر بعض نے فتوٰی دیا ہے۔ ت)خلاصہ وبزازیہ میں ہے:
بعض العلماء اخذوا بقولھما ۲؎
(بعض علماء نے صاحبین کا قول لیا ہے۔ت)
(۱؎ رمز الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۵۶)
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل السادس مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۳۶)
شاید یہی وجوہ ہیں کہ جس قدر کتابیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں یہ تو بکثر ت ہے کہ صرف قول امام پر فتوٰی نقل کیا اورقول صاحبین کو ترجیح سے معرٰی رکھا اور اس کا عکس ہر گز نہ فرمایا جس سے ظاہر کہ علماء قول صاحبین پر مطمئن نہیں رہے تبیین کاحکم
بقولھما یفتی ۳؎
(صاحبین کے قول پر فتوٰی دیاجائے گا۔ ت) سوان اکابر اساطین مذہب اورفاضل زیلعی میں جو فرق ہے کسے معلوم نہیں۔
(۳؎ تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۵ /۱۳۵)
سادسا جمہور کا فتوٰی اسی طرف ہے،لما مران قد جعل الفتوی علیہ فی عامۃ المعتبرات۔جیسا کہ گزراکہ عام معتبرکتب میں اس پر فتوٰی جاری ہوا۔ (ت)
اور قول جمہور ہمیشہ منصور وغیرمہجور۔
الشامی عن الحاوی القدسی ان اختلفوا یوخذ بقول الاکثرین ثم الاکثرین مما اعتمد علیہ الکبارالمعروفون منہم کابی حفص وابی جعفر وابی اللیث و الطحطاوی وغیرھم ممن یعتمد علیہ ۴؎۔
علامہ شامی نے حاوی قدسی سے نقل کیا کہ اگر فقہاء کا اختلاف ہو تو اکثریت کے قول کو لیا جائے گا پھر اکثریت ان لوگوں کی جن پر مشہور اکابر نے اعتماد کیا ہو ان میں جیسا کہ ابو حفص، ابوجعفر، ابواللیث اور طحاوی وغیرہم معتمد علیہ لوگ ہیں۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۸)
سابعا اس قول پر فتوٰی دینے والے ایک امام علامہ فخر الملۃ والدین حسن بن منصور اوزجندی ہیں رحمۃاللہ تعالٰی علیہ اوریہ امام فارس میدان ترجیح وتصحیح ہیں جن کی نسبت علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان کی تصحیح اوروں کی تصحیح پر مقدم ہے، ان کے فتوٰی سے عدول نہ کیا جائے،
علامہ خیر الدین رملی حاشیہ جامع الفصولین میں فرماتے ہیں :
علیک بما فی الخانیۃ فان قاضیخان من اہل التصحیح والترجیح ۵؎۔
خانیہ کا بیان کردہ تجھ پر لازم ہے کیونکہ قاضیخاں اہل تصحیح وترجیح میں سے ہیں (ت)
(۵؎ اللآلی الدریۃ فی الفوائد الخیریۃ حاشیہ جامع الفصولین الفصل الثامن عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۴۶)
علامہ قاسم تصحیح القدوری میں فرماتے ہیں :
مایصححہ قاضیخاں من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیر لانہ کان فقیہ النفس ۱؎۔
قاضیخاں کا تصحیح کردہ قول دوسرے کی تصحیح پر مقدم ہے کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں۔ (ت)
(۱؎ غمز عیون البصائر بحوالہ تصحیح القدوری الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۵)
سید احمد حموی غمز العیون میں اسے نقل کرکے مقرر رکھتے ہیں، فاضل سید احمد طحطاوی حاشیہ درمختارمیں لکھتے ہیں :
الذی یظہر اعتماد فی الخانیۃ لقولہم ان قاضیخان من اجل من یعمتد علی تصحیحاتہ ۲؎۔
قاضیخاں کے بیان پر اعتماد کی وجہ فقہاء کا یہ فرمان ہے کہ قاضیخاں جلیل الشان وہ شخص ہیں جن کی تصحیحات پر اعتما د کیا جاتاہے۔ (ت)
(۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۵)
فاضل محمد امین ابن عابدین عقود الدریہ میں فرماتے ہیں:
مایصححہ قاضی خان مقدم علی مایصححہ غیرہ ۳؎۔
قاضی خاں کی تصحیح شدہ غیر کی تصحیح شدہ پر مقدم ہے۔ (ت)
(۳؎ العقود الدریۃ کتاب الاجارات ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۰۳)
اب تو بحمداللہ عرش تحقیق مستقر ہوگیا کہ اس مسئلہ میں قول امام بلا شبہ امام الاقوال واقوی الاقوال ہے جس سے بلاضرورت ہر گز تجاوز نہ چاہئے، یہ تو اصل مذہب پر بحث تھی، اگر بنظر تغیر زمان آرائے علمائے خلف پر نظر کیجئے تویہاں جماعت کثیرہ ائمہ متاخرین کا قول قوی باشوکت مرجح مصحح مفتی بہ یہ ہے کہ اگر اجیر مر دوصالح ومتدین ہے تو ضمان نہیں، اور خائن دغاباز ہے تو ہے اور مستور الحال ہے تو نصف قیمت پر صلح کرلیں، صاحب محیط نے فوائد میں اس پر جزم فرمایا:
کما فی الخیریۃ عن جامع الفصولین
جیسا کہ خیریہ میں جامع الفصولین سے منقول ہے۔ (ت)
(۴؎ فتاوی خیریہ کتاب الاجارہ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۴۱)
بہت بعد متاخرین نے اس پر فتوی دیا،
کما فی الحامدیۃ
(جیسا کہ حامدیہ میں ہے۔ت) بلکہ علامہ حامد آفندی فرماتے ہیں فقیہین جلیلین ابوجعفر وابواللیث نے بھی اسی کو اختیار فرمایااور فرماتے ہیں یہ قول سب سے اولٰی اور اسلم ہے ۱؎ اور یہی فتوٰی ہے امام جلال الدین زاہدون کا،
کما فی المنح الغفار والطحطاویۃ ۲؎
(جیسا کہ منح الغفار اور طحطاوی میں ہے۔ ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الاجارات ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۴۔ ۱۱۳)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۳۶)