Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
58 - 120
وفی الہندیۃ اوائل الفصل الاول فی الاجیر المشترک قال فخر الدین وعلیہ الفتوٰی وبہ ناخذ اھ ۱؎ وفیہا اواخر الفصل المذکور ایضا عن الکبری الفتوی علی انہ لاتضمن الاجیر المشترک الاماتلف بصنعہ ۲؎۔
ہندیہ میں اجیر مشترک کی بحث کی ابتداء میں ہے فخر الدین نے فرمایا اسی پرفتوٰی ہے اور ہم نے اسی کو لیا ہے اھ اور اسی میں فصل مذکور کے آخر میں کہا کہ فتاوٰی کبرٰی میں بھی ہے کہ مشترک اجیر ضامن نہ ہوگا مگر جبکہ وہ خود سامان کو ہلاک کرے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاجارۃ   الباب الثامن والعشرون     الفصل الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۵۰۲)

(۲؎فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاجارۃ    الباب الثامن والعشرون     الفصل الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۵۱۱)
اگرچہ مسئلہ تضمین اجیرمشترک میں جبکہ مال بےاس کے فعل کے کسی ایسے سے ضائع ہوجائے جس سے احتراز ممکن تھا اقوال وفتاوٰی سخت مختلف ہے، مگر ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالک الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اس پر صورت مذکورہ میں مطلقا تاوان نہیں اور یہی مذہب ہے امام ہمام قاضی شریح وامام عطا وامام طاؤس وامام مجاہد وامام ابراہیم نخعی وامام حماد بن ابی سلیمان استاذ امامنا الاعظم وغیرہم اکابر تابعین اور امام زفر وامام حسن بن زیاد وغیرہم ائمہ دین کا، اور ایک قول میں امام شافعی نے بھی ایسا فرمایا اور وہ ایک روایت ہے امام احمد سے بلکہ کہا گیا امام محمد سے بھی اس کے مثل منقول ہوا، اور حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم اور امیر المومنین علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنھما سے بھی ایک روایت یونہی وارد ہوئی بلکہ امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ نے قول ضمان چھوڑکر اس طرف رجوع فرمائی بلکہ بعض علماء نے فرمایا یہ قول محل اجماع میں ہے ، امام اجل شریح رحمۃ اللہ تعالی علیہ سرکار مرتضوی کرم اللہ تعالٰی وجھہ کے قاضی تھےہزار ہاصحابہ تابعین کے حضورہمیشہ یہی حکم دیتے اور کوئی انکار نہ فرماتاکہ خود حضور پر نور حکم عدل خبیرمحمدرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث وارد ،اور بعینہ یہی حکم حضوروالا علیہ افضل الصلٰوۃ والثناء سے مروی اور انھیں تک ہی سب غایتوں کی غایت اور وہی ہیں سب نہایتوں کی نہایت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
 (ابوحنیفۃ) عن بشر الکرنی عن محمد بن علی عن ابیہ عن علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لاضمان علی قصار ولاصباغ ۳؎۔
ابوحنیفہ بشر الکوفی سے اور وہ اپنے والد سے انھوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وایت کیا حضورعلیہ  الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا : دھوبی اور رنگریز پر ضمان نہیں۔ (ت)
 (۳؎ جامع المسانید  الباب الثالث عشر درالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۴۹)
اور اسی پر جزم فرمایا : ملتقی ووقایہ ونقایہ وغرر واصلاح وتنویر وغیرھا متون میں اوریہی مقتضی ہے اطلاق قدوری وہدایہ وکنز ومجمع وغیرہامتون کا، غرض عامہ متون اسی پرہیں، اور اسی پر فتوٰی دیا امام فقیہ ابواللیث سمرقندی اور امام اجل قاضیخاں اور امام ظہیر الدین مرغینانی اور امام افتخار الدین طاہر صاحب خلاصہ وغیرہم اکابر معتمدین نے، بلکہ امام اجل ظہیر اول ا س کے قائل نہ تھے بعدہ اس طرف رجوع لائے اور اسی کو راجح ومختار ومعتمد و مفتٰی بہ ٹھہرایا، مضمرات وذخیرہ وابانہ وعون وتاتارخانیہ وفتاوٰی کبری و فتاوٰی بزازیہ ومحیط ووقایہ وملتقٰی واصلاح وتتمہ وتنویر ومنح ودرر وغیرہا جمہور ائمہ کے تصانیف معتمدہ میں، اور اس کی ترجیح مقتضٰی ہدایہ کا ہے اور یہی امام سے ظاہرالروایۃ ہے۔ عام معتبرات میں اسی پر فتوٰی دیا، اور اصحاب متون نے اسی پر جزم کیا، تو یہی مذہب ٹھہرا، ذرا چشم انصاف اس مذہب مذہب کی سطوت و شوکت ملاحظہ کرے۔
اماان شریحا یقول بہ(فمحمد) فی الاثار عن ابی حنیفۃ عن حماد عن ابراہیم ان شریحا لم یضمن اجیرا قط ۱؎۔(قلت) وارسلہ الامام فی المسند عن النخعی، واما عطاء وطاؤس فعزاہ الیہما فی الخلاصۃ والخیریۃ وغیرھما، والی مجاہد ایضافی الخلاصۃ والی ابراہیم فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار والی حماد فی غایۃ البیان عن مختصر الامام الکرخی، و الی زفروالحسن فیہا والایضاح وفی الہندیۃ ومجمع الانہر واما انہ قول الشافعی وروایۃ عن احمد فیستفاد من شرح العینی علی متن النسفی، وقد ذکر الاتقانی انہ الاصح عندھم نقل ذٰلک عن وجیزہم، وحکایتہ محمد ذکر ھا الامام قاضیخاں فی فتاواہ، واماروایۃ عن عمرو علی رضی اﷲ تعالٰی عنھما فالطوری فی شرح الکنز والسید احمد فی حاشیۃ الدر۔
لیکن بیشک قاضی شریح اس کے قائل ہیں، تو امام محمد نے آثار میں امام ابوحنیفہ انھوں نے حماد انھوں نے ابراہیم سے روایت کیا کہ قاضی شریح نے کبھی اجیر کو ضامن نہ بنایا،قلت (میں کہتا ہوں) اور اس کو امام ابوحنیفہ نے مسند میں بطور ارسال ابراہیم نخعی روایت کیا امام طاؤس اور عطاء ان دونوں کی طرف خلاصہ اور خیریہ وغیرھما منسوب کیا اور مجاہد کی طرف بھی خلاصہ میں اور ابراہیم کی طرف درمختار پر حاشیہ طحطاوی میں اور حماد کی طرف غایۃ البیان میں مختصر الاما م الکرخی سے منقول اور امام زفر وامام حسن کی طرف غایۃ البیان، ایضاح، ہندیہ اور مجمع الانہر میں منسوب ہے۔ لیکن امام شافعی کا قول ہے اور امام محمد سے ایک روایت ہے تو یہ نسفی کے متن پر عینی کی شرح سے مستفاد ہے اور اتقائی نے ذکر کیا کہ ان کے ہاں اصح ہے یہ بات انھوں نے ان کی وجیز سے نقل کی ہے، اور امام محمد سے اس نقل کو امام قاضیخاں نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے لیکن حضرت عمراور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت کو توطوری نے کنز کی شرح اور سید احمد نے حاشیہ درمختار میں ان دونوں سے روایت کیا۔
 (۱؎ کتاب الآثار لامام محمد رحمہ اللہ    باب ضمان الاجیر المشترک     حدیث ۷۸۰        ادارۃ القرآن کراچی    ص۱۷۳)
(قلت) ورأیت فی مسندالامام (ابوحنیفۃ) عن یونس بن محمد عن ابی جعفر محمد بن علی عن امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ کان لایضمن القصار والصباغ ۱؎ (واخری) زادفیہا والاالحائک ۲؎ واما رجوع علی ان ھذا فالطحطاوی عن الاتفانی عن شرح الکافی، (قلت) ای للامام شیخ الاسلام الاسبیجابی وقد رأیتہ فی غایۃ البیان نقلاعنہ واشار الیہ المولی بحرالعلوم فی فواتح الرحموت واما حلولہ محل الاجماع فالاتقانی ایضا حیث قال کان حکم شریح بحضرۃ الصحابۃ والتابعین من غیر نکیر فحل محل الاجماع ۱؎ اھ۔
قلت (میں کہتاہوں) میں نے مسند امام ابوحنیفہ میں یونس بن محمد انھوں نے ابو جعفر محمد بن علی انھوں نے امیرالمومنین علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دھوبی اور رنگریز اور دوسری روایت میں حجام کاذکر بھی ہےکہ آپ ان سے ضمان نہ لیا کرتے تھے، لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اس طرف رجوع کرنا تو اس کو طحطاوی نے اتقانی کےحوالہ سے شرح کافی سے نقل کیا ہے قلت (میں کہتاہوں) یعنی امام اشیخ الاسلام اسبیجابی کی شرح سے، اور بیشک میں نے اس کو غایۃ البیان میں ان سے منقول پایا اور بحرالعلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی طرف صرف اشارہ کیا ہے لیکن اس کا مرتبہ اجماع میں ہونا توا تقانی نے بھی کہا ہے جہاں انھوں نے بیان کیا کہ قاضی شریح کا فیصلہ صحابہ اور تابعین کی موجودگی میں ان کی طرف سےکسی انکار کے بغیر ہوا ہےتو یہ اجماع کےمرتبہ میں ہوا  اھ،
 (۱؎ جامع المسانید    الباب الثالث عشر    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۵۰)

(۲؎جامع المسانید    الباب الثالث عشر    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۵۰)

(۱؎ حاشیہ الطحطاوی بحوالہ اتقانی کتاب الاجارات    باب ضمان الاجیر    دارالمعرفۃ بیروت    ۳/۵۴)
قلت فیہ ان لاتکیر علی القضاۃ فی الاجتہادیات فالسکوت فی امثال المقام لایدل علی الوفاق ونقل الاتقانی نفسہ فقال قال شرح شیخ الاسلام الاسبیجابی فی شرح الکافی قبیل باب الرجل یستصنع الشیئ کانت المسئلۃ مختلفا فیہا بین الصحابۃ والتابیعن فابوحنیفۃ رجح اقوال البعض علی البعض ۲؎ اھ
میں کہتاہوں اس میں یہ اعتراض ہے کہ اجتہاد ات میں قاضیوں پر اعتراض نہیں ہوا کرتالہذا ایسے مقام میں سکوت تائید پر دال نہیں ہوگا جبکہ خود اتقانی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ شیخ الاسلام اسبیجابی نے شرح کافی میں پیشگی آرڈر پر شیئ بنوانے کے باب سے تھوڑا پہلے ذکر کیا ہے کہ اجیر کے ضمان کا مسئلہ صحابہ اور تابعین کے دور میں مختلف فیہ رہا ہے تو امام ابوحنیفہ نے ان کے اقوال میں بعض کو ترجیح دی ہے اھ۔
(۲؎ غایۃ البیان    )
واما انصوص الملتقی والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والکنز الغرر والتنویر والمنح والتاتارخانیۃ و البزازیۃ وفتوی ابی اللیث وقاضیخان وابن عبدالرشید وصاحب الذخیرۃ والابانۃ والعون فقد سمعت کل ذٰلک واما مجمع البحار فعز الیہ فی ردالمحتار اثری الفتوی وعن الامام الظہیری فی الخلاصۃ والخیریۃ والعلمگیریۃ والعمدۃ والعمادیۃ والمنح وغیرھا، ورجوعہ الی ھذافیہا الا الخبریۃ وعن المضمرات والذخیرۃ ایضا فی شرح النقایۃ وعن التتمۃ  والمحیط فی الایضاح شرح الاصلاح فی حاشیۃالطحطاوی وردالمحتار، واما ان ترجیحہ مقتضی صنیع الہدایۃ فلتقدیمہ القول وتاخیرہ الدلیل واماانہا ھی ظاھر الروایۃ عن الامام فالشامی وغیرہ فی العقود الدریۃ وغیرھا وامام الجزم بہ فی المتون والافتاء بہ فی عامۃ المعتنبرات حتی کان ھوالمذہب فقد سمعت نص المولٰی ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ التمرتاشی وتبعہ اٰفندی شیخی زادہ والمدقق الحصکفی،و اﷲ تعالٰی اعلم۔
لیکن ملتقی، وقایہ، نقایہ، اصلاح، کنز، غرر، تنویر، منح، تاتارخانیہ، اور بزازیہ کی نصوص اور ابواللیث قاضیخاں، ابن عبدالرشید ، صاحب ذخیرہ، ابانۃ، اورعون کے فتاوٰی تو آپ سن چکے ہیں، لیکن مجمع البحار تو اس کی طرف ردالمحتار میں فتوٰی منسوب کیاہے، اور امام ظہیری سے خلاصہ، خیریہ، عالمگیریہ، عمدہ، عمادیہ اور منح وغیرہ میں نقل موجود ہے، اور ان کا اس طرح رجوع کرنا خیریہ کے علاوہ تمام مذکورہ کتب میں موجود ہے اور مضمرات اورذخیرہ سے بھی شرح نقایہ میں منقول ہے اورتتمہ اور محیط سے ایضاح شرح اصلاح اور حاشیہ طحطاوی اور ردالمحتار میں منقول ہے، اورلیکن اس کی ترجیح تویہ ہدایہ کی عادت کہ بطور قول مقدم کرنا اور اس کی دلیل کو مؤخر کرنے کا مقتضی ہے، لیکن یہ کہ امام سے یہ ظاہر روایت ہے تو یہ شامی وغیرہ کی عقود الدریۃ وغیرہ میں ہے، لیکن اس پر متون اور فتوٰی کا جزم تویہ عام کتب میں موجود ہے حتی کہ اس کو مذہب کہا ہے، آپ اس پر ابوعبداللہ تمرتاشی کی نص سن چکے ہیں اور شیخی زادہ اور مدقق حصکفی نے ان کی اتباع کی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)

بالجملہ مذہب امام غایت درجہ قوت وجلالت وثبات ومتانت پر واقع ہے،
بحیث لاتزعزع جوانبہ صیحۃ صائح  ولاتزلزل ارکانہ صولۃ صائل وانا اقول: وﷲ التوفیق
 (ایسے کہ اس کے اطراف کو کسی کی چیخ نے متاثر نہ کیااور نہ ہی اس کے ستونوں کو کسی طاقتور کی طاقت نے جنبش دی، اور میں کہتاہوں حالانکہ توفیق اللہ تعالٰی ہی سے ہے۔ ت)

ممارس فن جب بہ نگان امعان ہمارے اس تلخیص عبارت وتحسین اشارت پر نظر کریں تو انشاء اللہ تعالٰی اس پر مہر نیمروز ماہ نیم ماہ کی روش روشن و بین ہوگا کہ یہاں مذہب امام رضی اللہ تعالٰی عنہ بوجوہ کثیرہ اور اقوال پر جو اس کے مخالف ومنافی ہیں ترجیح واضح رکھتاہے۔ اگرچہ وہ بھی مذیل بالافتاء والتصحیح ہوں کہ مطلقا اختلاف فتوٰی مستلزم تعادل واستواء نہیں۔

اولا عامہ متون نے اس پر جزم کیا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ متون شروع اور شروح فتاوٰی پر مقدم ہیں
وھذا یعرفہ کل من لہ معرفۃ فی الفقہ
 (اس کو فقہ کی معرفت والا ہرایک جانتاہے۔ ت)

 علامہ  زین بن نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں :
اذا اختلف المتصحیح والفتوی فالعمل بما وافق اطلاق المتون  اولی۱؎۔
جب تصحیح اور فتوٰی میں اختلاف پایا جائے تو پھر متون کی موافقت میں عمل اولٰی ہے۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق     کتاب الصلٰوۃ   باب فی قضاء الفوائت    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۲ /۸۶)
Flag Counter