Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
57 - 120
کتابُ الاجارۃ

(اجارہ کا بیان)
مسئلہ ۱۴۳: ا ز کرتولی مرسلہ حضرت مولوی رضاخاں صاحب یکم جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

بحضور میاں بھائی دام ظلھم العالی بجاہ النبی الکریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آمین الٰہی آمین!

صورت مسئولہ یہ ہے کہ بیع؁ ۲۵ ف  میں بعداختتام کار ربیع فصل سے خالی زمین کرکے چند کا شتکار ان مرزاپور ساکن ضلع سلن نگر نے زبانی استعفا دیا جس میں سے ایک شخص نے مجھ سے خود کہا کہ میں نہیں کروں گا بجواب اس کے میں نے کہاکہ توہم سے ناتہ توڑ رہا ہے دو روپیہ فارغخطا نہ کے دے دے، اس نے وہ بھی دے دئے، قاعدہ یہ ہے کہ تاوقتیکہ زمیندار کا شتکار کو بے دخل نہ کرائے یا وہ استعفا باضابطہ مقررہ نہ دے اس وقت تک نام کاشتکار خارج نہیں ہوسکتا، اور کاشتکار بلااخراج نام بصورت مداخلت زمیندار اگر چاہے تو دعوی مال اور فوجداری میں کرسکتا ہے؁ ۲۶ ف  کے شروع میں سب کو دوبارہ اطلاع دی گئی کہ چاہے زمین کرو یا پڑی رکھو لگان دینا ہوگا۔ اس پر بھی انھوں نے زمین کاشت کرنے کااقرار کیا، نہ کاشت کی،؁ ۲۶ خریف موجود؁ ۲۷  کی نالش کردی گئی آج ن مقدمات کی تاریخ ہے کل حضو رکے اقبال سے چار قطعہ نالشات (ما لعہ عہ/ ) روپیہ ملازم کو دئے گئے اور (لہ /) انشا ء اللہ العزیز انھیں دو چار یوم میں اور ملیں گے، یہ روپیہ مجھ کو جائز ہے یانہیں، بنظر احتیاط ناکارہ غلام دو عدد بہیلیاں قیمت( ۱۴ /) کو ہرشخص کو اس کا روپیہ اس کے ہاتھ میں دے کر اور یہ کہہ کر ہم اپنا معاملہ پاک کرنا چاہتے ہیں نصف بہیل تمھارے ہاتھ فروخت کرتے ہیں تم اس کو (للعہ)  پر خرید کرتے ہو سب نے بخوشی اپنے مطالبہ میں قبول کیا اور عمل بیع واقع ہوگیا، یہ کاشتکار رئیس کھیڑہ کی زمینداری میں آباد ہیں، ان سات کس مدعا علیہم کے ہمراہ ایک کارندہ یا تھنپت زمیندار اور ایک اس کا رفیق تھا، یہ صورت میں نے حضور میں اس بناء پر پیش کی کہ بجز اس کے کہ پٹواری مطیع اور نالشات دائر ہیں اور زیادہ دباؤ کی صورت نہیں، بیع خوشی سے عمل میں آئی کاشتکار سب کفار ہیں۔
الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

جان برادر بلکہ از جان ہزار جابہتر مولوی محمدرضاخاں سلمہ الرحمن وحفظہ فی کل آن آمین! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب تک زمیندار بے دخل نہ کرائےیا کاشتکار باضابطہ استعفا نہ دے زبانی استعفا کاشت چھوڑنا نہیں سمجھا جاتا یہاں تک کہ زمیندار مداخلت کرے تو اس پر مال وفوجداری دونوں میں دعوٰی ہوسکے، اور یہ قاعدہ خود ان کاشتکاروں کے علم میں بھی ہے اور باضابطہ استعفا نہ دیا تو ثابت ہوا کہ وہ اجارہ زمیں سے دستبردار نہ ہوئے، اگر ہونا چاہتے باضابطہ استعفا دیتے، پھر بھی اس میں شبہ رہتاکہ زبانی تو چھوڑ چکے تھے اگرچہ قانونا ان کا دعوٰی باقی رہتا مگر جب تم نے شروع سال میں یہ صاف کہہ دیا کہ لگان بہرحال دیناہوگا۔ اورانھوں نے سکوت کیا اگرچہ کاشت بھی نہ کی، تو یہ دوبارہ قبول اجارہ ہوگا اور لگان ان پر لازم آئی، یہ روپیہ بحمداللہ تمھیں بروجہ حلال ملا، اس کے بعد اس احتیاط کی حاجت بھی نہ تھی، اب کہ کرلی گئی وہ روپے اس بیع کے ہوگئے، لگان ان پر بدستور رہتا، مگر ظاہرا تم نے روپے لگان میں لے کر پھر ان کے ہاتھ میں دے کر بیع کی بہیلی لگان میں لے لینے سے لگان اداہوگیا، اور وہ بھی مطالبہ سے بری ہوگئے، بہرحال یہ روپیہ تمھارے لئے بفضلہٖ تعالٰی حلال طیب ہے، مولٰی عزوجل اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقہ میں دین و دنیا میں تھمارا اقبال دن دونا  رات سوایا کرتارہے۔ آمین!
مسئلہ ۱۴۴: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ محمد ظہور صاحب ۱۰ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مزدوری کرتاہے، دن روز ہ کی مزدوری میں جب کام کرتاہے تو بدرجہ کمی اور ٹھیکہ میں جب کرتا ہے تو کوشش اس امر کی کرتاہے کہ زیادہ ہو ایسی صورت میں اس کی روزی کیسی ہوئی؟
الجواب : کام کی تین حالتیں ہیں: سست، معتدل، نہایت تیز، اگر مزدوری میں سستی کے ساتھ کام کرتاہے گنہگار ہے اور اس پر پوری مزدوری لینا حرام، اتنے کام کے لائق جتنی اجرت ہے لے، اس سے جو کچھ زیادہ ملا مستاجر کو واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کود ے، ان کا بھی پتہ نہ چلے تو مسلمان محتاج پر تصدق کرے اپنے صرف میں لانا یا غیر صدقہ میں اسے صرف کرنا حرام ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں بھی کاہلی سے سستی کرتاہو، اور اگر مزدوری میں متعدل کام کرتاہے مزدوری حلال ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں حد سے زیادہ مشقت اٹھاکر زیادہ کام کرتاہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک تاجر ایک اجیر پیشہ ور کو معتبر ومتدین سمجھ کر سالہا سال اُجر ت پر کام بنانے کے لئے دیا وہ کاریگر ہمیشہ بہ دیانت تمام کام بنایا کیا، کبھی اس سے تقصیر واقع نہ ہوئی اب برسوں کے بعد ایک مال اس کی حفاظت سے گم ہوگیا، اس صورت میں اُس اجیر پر تاوان ڈالنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: ناجائز ہے،
فی الوقایہ لایضمن ماھلک فی یدہ وان شرط علیہ الضمان وبہ یفتی ۱؎، وفی الاصلاح والتنویر۲؎بلفظہ وفی النقایۃ کذٰلک الا قولہ وبہ یفتی وفی الملتقی المتاع فی یدہ امانۃ لایضمن ان ھلک وان شرط ضمانہ بہ یفتی ۱؎،
وقایہ میں ہے، اجیر کے قبضے سے گم شدہ چیز پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی لگائی ہو، اور اسی پر فتوٰی ہے اور اصلاح اور تنویر میں یہی الفاظ ہیں اور نقایہ میں یونہی ہے سوائے ''بہ یفتی'' کے ۔ اور ملتقٰی میں ہے اس کے قبضہ میں مال امانت ہے، ہلاک ہوجانے پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی ہو۔

(۱؎ شرح الوقایہ    کتاب الاجارۃ باب من الاجارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۳ /۳۰۶)

(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الاجارۃ   باب ضمان الاجیر        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۸۰)

(۳؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ    کتاب الاجارۃ    نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۱۳)
وفی الکنز المتاع فی یدہ غیر مضمون بالہلاک ۲؎، وفی الغرر لایضمن ماھلک فی یدہ وان شرط علیہ الضمان ۳؎ اھ وفی منح الغفار قد جعل الفتوی علیہ فی کثیر من المعتبرات وبہ جزم اصحاب المتون فکان ھوا لمذھب ۴؎، وفی الخانیۃ المختار فی اجیر المشترک قول ابی حنیفۃ ۵؎ وفیہا قال الفقیہ ابواللیث علی قول ابی حنیفۃ لایضمن وبہ ناخذ و الفتوٰی علی قول ابی حنیفۃ ۶؎ اھ، وفی الخلاصۃ من جنس القصار القاضی الامام یفتی بقول ابی حنیفۃ قال وانا افتی بہ ۷؎
اسی پر فتوٰی ہے اور کنز میں ہے اس کے قبضہ میں مال ہلاک ہوجائے تو مضمون نہیں ہے، اور غرر میں ہے اس کے قبضہ میں ہلاک ہونے پر ضمان نہیں اگرچہ شرط بھی لگائی ہو، اھ اور منح الغفار میں ہے کثیر معتبر کتب میں اسی پر فتوٰی ہے اور اصحاب متون نے اسی پر جزم کیا ہے تویہی مذہب ہے اور خانیہ میں ہے مشترک اجبیر کے متعلق مختار امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کا قول ہے اور اسی میں ہےکہ فقیہ ابوللیث نے فرمایا: امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر وہ ضامن نہ ہوگا۔ ھمارا یہی مختارہے، اور فتوٰی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر ہے۔ اھ ملخصا۔ اور خلاصہ کی جنس القصار میں ہے امام قاضی خاں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر فتوٰی دیتے ہیں، اور انھوں نے فرمایا میں اسی پر فتوٰی دیتاہوں۔
 (۱؂ملتقی الابحر      کتاب الاجارۃ       باب الاجارۃ الفاسد        موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۲ /۱۶۴)

(۲؎ کنز الدقائق        کتاب الاجارۃ        باب فی بیان احکام ضمان الاجیر    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۳۱۹)

(۳؎ الدارلحکام فی شرح غرر الاحکام      کتاب الاجارہ      باب من الاجارہ        میر محمد کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۳۵)

(۴؎ منح الغفار)

(۵؎ فتاوٰی قاضیخاں        کتاب الاجارۃ         باب الاجارہ الفاسدۃ         نولکشور لکھنو        ۳ /۴۴۱)

(۶؎فتاوٰی قاضیخاں        کتاب الاجارۃ           باب الاجارہ الفاسدۃ         نولکشور لکھنو    ۳ /۴۴۴

(۷؎ خلاصۃ الفتاوٰی       کتاب الاجارۃ    الفصل السادس        مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۳ /۱۳۶)
وفی التاتارخانیۃ عن الابانۃ اخذ الفقیہ ابواللیث فی ھذہ المسئلۃ بقول ابی حنیفہ وبہ افتی ۱؎ وفی الانقرویۃ قال القاضی فخر الدین الفتوی علی انہ لایضمن تاتارخانیہ ۲؎. اھ وفی البزازیۃ نوع القضاء القاضی افتی بقول الامام ۳؎ اھ، فیہا قال فی العون اخترت قول الامام ۴؎ اھ، وفیہا لوشرط الضمان علی المشترک ان ھلکت قیل یضمن اجماعا والفتوی علی انہ لااثرلہ واشتراطہ وعدمہ سواء لانہ امین ۵؎، اھ، و فیہا بُعَیْدَہ، فی مسئلۃ لایضمن وبہ یفتی ۶؎ اھ وفی الجامع الفصولین قال وفیہا علیہ قول البزازی ث (الفقیہ  الاامام ابواللیث) بہ ناخذ قال ھذ (صاحب الذخیرۃ) ۔
اور تاتارخانیہ میں الابانۃ سے منقول ہے کہ فقیہ ابوللیث نے اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول لیا ہے اور اسی پر فتوٰی دیا ہے، اور انقرویہ میں ہے قاضی فخر الدین نے فرمایا فتوٰی یہ ہے کہ وہ ضامن نہ ہوگا، تاتارخانیہ اھ، اور بزازیہ کی نوع القضاء میں ہے قاضیخاں نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر فتوٰی دیاہے اھ، اور اس میں یہ بھی ہے انھوں نے العون میں فرمایا میں نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے اھ اوراسی میں ہے اگر مشترک اجیر پر شرط ضمان لگائی تو بعض نے کہا بالاتفاق ضامن ہوگا، اور فتوٰی یہ ہے کہ اس شرط کا کوئی اثرنہ ہوگا شرط لگانا نہ لگانا برابر ہے کیونکہ امین ہے اھ، اور اسی میں ایک مسئلہ میں تھوڑا بعد فرمایا ضامن نہ ہوگا اسی پر فتوٰی دیا جائے گا اھ اور جامع الفصولین میں فرمایا اور اس میں اس پر بزازی کا ''ث'' یعنی فقیہ ابواللیث کا قول ہم نے یہی اختیار کیا ہے اور ''ہذ'' کہا یعنی صاحب ذخیرہ نے،
 (۱؎ الفتاوٰی التاتارخانیہ)

(۲؎ فتاوٰی انقرویہ     کتاب الاجارہ     باب فی ضمان الاجیر المشترک    دارالاشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان    ۲ /۳۲۵)

(۳؎ و ۴؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ    الفصل السادس نوع فی القصار    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۷۸)

(۵؎ و ۶؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ    الفصل السادس نوع فی القصار    نورانی کتب خانہ پشاور   ۵ /۸۸)

(۷ جامع الفصولین)
Flag Counter